406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 7

Power of Love by Afzonia Zafar

زیہان نے ایک نظر کرسی پر بیہوش پڑی حورم پر نظر ڈالی اسکی نظر اسکے پھٹے ہوے بازوں پر پڑی جہاں زخم کے نشان اسکی صاف و شفاف بازوں پر صاف نظر ارہے تھے

اور ایک نیچے تڑپتے ہوے ان دونوں پر ڈالی جنہوں نے اسکی محبت اسکے جنون کو ہاتھ لگانے کی دنیا کی سب سے بری نظر ڈالی

اسنے اپنے شوز کی ایڑھی کو تھوڑا سہ باہر نکالا اور شوز کی ایڑھی باہر نکل گی

اسکے اندر دو بلیڈ اور چند چھوٹے چھوٹے کیل تھے جنھیں وہ ایمرجنسی کے وقت استمعال کرتا تھا

اگر میں نے تم دونوں کو گولی سے اڑایا تو مجھے سکون نہیں ملے گا وہ میری محبت ہے جسے چھونے کی غلطی تم لوگ غلطی سے کرچکے ہوں

وہ تڑپتے ہوے اس سے معافی مانگ رہے تھے لیکن اس وقت وہ مکمل طور پر بے حس بن چکا تھا

وہ نیچے ایا اور اس ادمی کے کے ہاتھ کو پکڑ ا جس نے حورم کو تھپڑ مارا تھا اپنی ایڑھی سے چند کیل نکالے ادھر ادھر نظر دوڑای دور اسے اینٹ کا ٹکڑا نظر ایا اس ٹایم اسنے اسی سے ہی کام چلانے کا ارادہ کیا زیہان اٹھا اور اس اینٹ کے ٹکڑے کو پکڑ کے لا یا اور پھر سے اس ادمی کے ہاتھ کو پکڑا

اس ادمی کا پہلے ہی اتنا خون نکل چکا تھا کہ اسکے اندر مزاحمت کرنے کی ہمت باقی نہیں رہی

زیہان اسکی طرف دیکھ کر سرخ انکھوں سے طنزیہ مسکرایا اور کیل اسکے ہاتھ پر رکھ کر زور سے ماری اور اسکی چینخیں پوری گودام میں گونجی پھر زیہان نے ایک پر ہی بس نہیں کیا اسکے پاس جتنی بھی کیلیں تھی اسکے دونوں ہاتھوں میں گھسا دی جسکی وجہ سے وہ درد کی وجہ سے بیہوش ہوگیا

لیکن زیہان کو پھر بھی صبر نہیں ملا وہ دوسرے کی طرف بڑھا جسں نے حورم کی بازوں کو پھاڑنے کی غلطی کی تھی

وہ خوف کی وجہ سے پہلے سے ہی ہاتھ جوڑنا شروع کر دیے اور پیچھے کی طرف کھسکنا شروع کر دیا صاحب جی صاحب جی معاف کردوں غلطی ہوگی معاف کردوں

نہیں یار اگر تجھے معاف کر دیا نہ تو سکون نہیں ملے گا اور اسکے ہاتھ کو پکڑ کے بلیڈ سے انگلیاں کاٹنی شروع کردی خون کے سارے چھنینٹے زیہان کے کپڑوں پر گر رہے تھے لیکن جب تک اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں نہ کاٹ دی زیہان کو سکون نہیں ملا

لیکن شاید اس بندے میں برداشت کی حد زیادہ تھی اسلیے وہ ابھی تک بیہوش نہیں ہوا تھا

زیہان نے اپنی دونوں گن اٹھای اور ساری گولی ان دونوں کے سینے میں اتار دی اسکے سینے میں شاید تھوڑا سہ سکون ملا تھا

زیہان نے حورم کو گود میں اٹھایا اور باہر کی طرف اپنی گاڑی کی بیک سیٹ پر اسے احتیاط سے لٹایا

اور اپنا بلیک کوٹ اتار کر اسکے بازوں پر ڈالا اور اپنے فلیٹ کی طرف گاڑی موڑ لی ابھی دن کے چار بج رہے تھے جبکے حورم یونی سے تین بجے نکلی تھی

زیہان کے کالے کپڑوں کا یہ فایدہ ہوا تھا کہ اس پر خون نظر نہیں ا رہا تھا زیہان نے گاڑی اپنے فلیٹ کے سامنے روکی وہ اسے گھر نہیں لے کر گیاتھا وہ نہیں چاہتا تھا حورم کو اس حالت میں کوی بھی دیکھ کر بات بناے

گارڈ نے گیٹ وا کیا تو زیہان گاڑی اندر لے گیا

اندر جاکر پہلے خود گاڑی سے باہر نکلا پھر حورم کو نکالا اور گود میں اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

اسے اچھے سے بیڈ پر لٹایا اس پر کمبل ڈالا اور اپنا فون نکال کر کرنل صاحب کو فون کیا اسے پتہ تھا کہ انکی طبعیت ٹھیک نہیں ھے پھر بھی انھیں انے کے لیے کہا اور فون بند کرکے انکے انے کا ویٹ کرنے لگا

کرنل صاحب جانتے تھے کہ بات بڑی ہے ورنہ زیہان کبھی بھی اس طرح ضد نہیں کرتا اسلیے منیزے کو بتاے بغیر ڈرایور کے ساتھ زیہان کے فلیٹ پہنچے

وہاں زیہان پہلے سے انکا انتظار کر رہے تھے اس طرح اسے انتظار کرتا دیکھ کر کرنل صاحب اور پریشان ہوگے

زیہان ے احتیاط سے کرنل صاحب کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا اور انھیں اپنے کمرے کی طرف خاموشی سے لے گیا

بیڈ پر موجود لیٹی ہستی کو دیکھ کر کرنل صاحب کے ہوش اڑ گے حورم بیٹی اس حالت میں تمھارے پاس کیسے کرنل ڈرتے ہوے بولے

نانو اپ حورم کو کیسے جانتے ہے زیہان الجھن سے بولا

یہ تمھارے مرحوم باپ کے دوست کی بیٹی ہے یہ روحان اور منیزے ایک ہی دن ایک ہی ہوسپٹل میں پیدا ہوے تھے

لیکن یہ اس حالت میں تمھارے پاس کیسے کہہی اسکے ساتھ کچھ غلط ۔۔۔۔۔۔۔

نہیں اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا ہے نہ میں کبھی ہونے دوں گا زیہان سرخ انکھوں سے بولا

کرنل صاحب سب سمجھ گے تھے اس لیے انہوں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا زیہان اسے ہوش میں لوں تھوڑی دیر بعد میں تم لوگوں کا نکاح ہے میں مولوی کا انتظام کرتا ہوں

نکاح کا سن کر زیہان کا دل خوشی سے جھومنا شروع ہوگیا لیکن پھر سوچا میری بھی کوی عزت ہے ایسے کیسے منہ اٹھا کر بے شرموں کی طرح ہاں کردوں

لیکن نانو میں ایسے کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ بس کر ڈرامے باز تیری خوشی تیرے چہرے سے صاف نظر ارہی ھے ایا بڑا لیکن نانو ایسے کیسے کا بچہ کرنل صاحب نے اسکی بات بیچ میں سے اچک کر اسکی نقل اتار کا ڈانٹا اور باہر کی طرف چلے گے

زیہان منیزے کے روم میں گیا وہاں سے ایک منیزے کا اچھا سہ سوٹ نکالا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

جہاں حورم اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی حورم وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا حورم نے ایک نظر اسے دیکھا اور روتے ہوے اسکے سینے سے لگ گی

حورم جانتی تھی کہ زیہان نہ صرف اسکا بلکہ ہزاروں لڑکیوں کا محافظ تھا حورم نے اسے گودام میں ہوش اتے ہوے ہی دیکھ لیا تھا اس لیے اتنی دلیری سے انکا سامنا کر رہی تھی

اسکے سینے سے لگتے ہی زیہان کو لگا جیسے کوی ٹھنڈک مل گی ہوں اسنے اہستہ سے علیحدہ کیا حورم یہ کپڑے پکڑوں اور انھیں واشروم میں جاکر چینج کر کے او اٹھوں شاباش زیہان نے اسے کپڑے پکڑاے اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا

حورم نے سر ہلایا اور کپڑے پکڑ کر واش روم چلے گی واش روم کے شیشے میں حورم اپنا عکس دیکھ کر رو دی میں گھر میں کیا کہوں گی

پھر اپنے اپکو سمنبھالا اچھے سے منہ ہاتھ کو دھویا کپڑے چینج کیے اور حجاب باندھ کر باہر اگی

باہر ای تو کرنل صاحب کمرے میں تھے جبکے زیہان باہر گیا ہوا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیہان کو کرنل صاحب نے باہر بھیج دیا تھا

زیہان نے باہر اکر فون نکالا اور منیزے کو کال کی

بھای نانو گم ہوگے ہے وہ کہی بھی نہیں مل رہے ھے

کال اٹھاتے ہی منیزےپریشانی سے بولی جس پر زیہان کا بے ساختہ قہقہہ نکلا

منیزے نے بے ساختہ دل میں ماشاءاللہ بولا بھا ی خیریت ہے اج بڑے خوش نظر ارہے ہے کیونکہ زیہان بڑی سے بڑی بات پر بھی زیادہ تر مسکراتا تھا

پھر زیہان نے اسے اپنی پہلی ملاقات کے علاوہ اسے سب کچھ بتادیا گڑیا میں بہت جلد تمھیں تمھاری بھابی سے ملواوں گا ابھی تم ارام کروں نانو کو میڈیسن میں کھلا دوں گا

…………………………

کرنل صاحب نے پتہ نہیں کیا کہہ تھا حورم نکاح کے لیے تیار ہوگی تھی زیہان کی تو خوشی کا ٹھکانہ ہی نہیں تھا

زیہان کی طرف سے حیدر گواہ کے طور پر شامل ہوا تھا اس وقت حیدر کی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا فاینلی اسکا دوست اسکا جگر شادی کے لیے تیار ہوگیا تھا ورنہ اسے شادی کے لیے منانے کے لیے سب کیا کیا نہیں کیا تھا

اور اب دیکھوں کیسے دانت ہی اندر ہی نہیں جارہے تھے حیدر اسے بس گھور کر رہ گیا اور دل میں اسکی خوشیوں کی دعا کی

………………………………

نکاح کے بعد سب سے مل کر اور حیدر اور کرنل صاحب کو رخصت کرے اپنے روم کی طرف بڑھا

اج وہ بے تحاشہ خوش تھا وہ اندر گیا تو حورم بیڈ پر بیٹھ کر رو رہی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ رو رہی ہوگی لیکن حورم نے بہت ہمت سے کام لیا تھا

اسنے دروازے کو تھوڑا زور سے لاک کیا تاکہ حورم کو اسکی موجودگی کا پتہ چل جاے

اور وہی ہوا ییہہ یہ در دروازہ کیوں بند کر رہہے ھھے حورم دروازے کی اواز سن کر ہکلا کر بولی

زیہان کا ایسا ویسا کوی ارادہ نہیں تھا کچھ کرنے لیکن اسے ڈرتے دیکھ کر اسکے اور قریب ایا

حورم جلدی سے بیڈ سے کھڑی ہوگی اور پیچھے کی طرف قدم بڑھاے لیکن اسکا رخ ابھی تک زیہان کی جانب تھا

زیہان ایک ہی جست میں اس تک پہنچا اور حورم نے پیچھے ہونا چاہا لیکن پیچھے کمینی دیوار ا گی تھی

زیہان نے اپنے دونوں بازو حورم کے اردگرد رکھ کر اسکا راستہ بند کیا اور اسکے بے حد نزدیک ہو کر کھڑا ہوگیا

کک کیا کر رہے ہو تم پیچھے ہٹوں حورم نے اسکی قربت سے گھبرا کر کہا

وہ میں کہہ رہا تھا اپنے گھر کال کرکے کہوں کے اج تم گھر نہیں اوں گی کیونکہ تمھارے چہرے پر نشان صاف نظر ارہے ہے زیہان نے بول کر اسکا حجاب کی پن ہٹای اور اسکا حجاب کھولا

حورم تم کیوں اس سے اتنا گھبرا رہی ہوں یہ تمھیں کھا تھوڑی جاے گا اور زور سے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا زیہان اسکے لیے تیار نہیں تھا پیچھے بیڈ پر جاکر گرا اور داد دیتی نظروں سے حورم کو دیکھا

اب میرے پاس مت انا اور میں نے فون کرکے کہہ دیا ہے اور ہمارے نکاح کا بھی میرے بابا کو پتہ ہے

زیہان کے سر سے منوں بوجھ اتر گیا اسے پہلی جیسی حالت میں واپس دیکھ کر

حورم جیسے ہی کہہ کر پیچھے کی طرف مڑی حجاب نیچے گر گیا کیونکہ حجاب کی پن ک زیہان نے ہٹا دیا تھا

وہ نیچے جھک کر جیسے ہی حجاب کو اٹھانے لگی زیہان پھرتی سے اگے بڑھا اور ایک ہاتھ اسکی کمر پر رکھ کر سیدھا کیا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے بالوں کا جوڑا کھولا

حورم کو کچھ سمجھ ہی نہیں ایا اسکے ساتھ ہوا کیا ھے

اسنے کچھ بولنے کے لیے جیسے ہی لب کھولے زیہان نے اس سے پہلے ہی اسکے لبوں کو نرمی سے اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا

حورم کی انکھیں پھٹی کے پھٹی رہ گی

لیکن زیہان کے ہونٹوں کے نرمی صرف ایک پل کی تھی اسکے عمل میں اہستہ اہستہ شدت ارہی تھی اور اسکی کمر پر پکڑ میں بے حد مضبوطی اگی تھی

حورم کی سانسیں پوری طرح سے زیہان کی سانسوں سے الجھ گی تھی حورم کو لگا وہ گی اوپر تب اسںے زیہان کے کندھوں پر مکے برساے تب جاکے وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا

حورم کا تنفس بری طرح سے پھول چکا تھا لیکن شاید زیہان نے اسے مارنے کی قسم کھای ہوی تھی لیکن اس دفعہ اس کا نشانہ اسکے گلے میں موجود تل تھا

وہ پوری شدت سے اسکے گلے میں جھکا اور اسکے گلے میں جا بجا اپنے لمس کو چھوڑنے لگا