Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 43
Rate this Novel
Power of Love Episode 43
Power of Love by Afzonia Zafar
حورم نے اپنے منہ کو ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ بالکل ٹھیک بلکہ ارمان نے ٹریگر دبایا تو گولی بھی اسکے اندر سے نہیں نکلی
ہا ہاہاہا تم کیا سوچ رہی ہوں اتنی اسان موت دے دوں گا تمھیں
ارمان نے تمسخرہ ہنسی ہنستے ہوے کہا
میں تمھیں اس سے بھی بدتر موت دوں گا
جیسی زیہان نے میرے چچا جمعیل کو دی تھی اتنا کہ وہ پہچانا نہیں جارہے تھے وہ
لیکن میں تم سے پیار کرتا ہو اسی لیے تمھیں تو نہیں ماروں گا لیکن تمھاری موت کی خبر ثبوت کے ساتھ زیہان تک پہنچے گی
اور وہ تڑپ تڑپ کے مرے گا
یہ لاش دیکھ رہی ہو ارمان نے اگے بڑھ کر لاش کے اوپر سے کپڑا اٹھایا
جس کے اوپر حورم کا ابھی تک دھیان نہیں گیا تھا
لاش دیکھتے ہی حورم کی چینخ نکلی کیونکہ اس لاش کا چہرہ بری طرح سے جلا ہوا تھا
لیکن حیرت کی بات یہ تھی کیونکہ اسنے ہوبہو حورم جیسے کپڑے اور حجاب کیا ہوا تھا
تمھارے گھر کے ادھے نوکروں کو میں نے خریدا ہوا تھا
جو مجھے تمھاری پل پل کی خبر دیتے رہتے تھے
لیکن یہ اتنا بھی اسان نہیں تھا اخر کو وہ ایک ارمی افیسر ھے کیپٹن زیہان شاہ
خیر ابھی تفصیل بتانے کے لیے میرے پاس زیادہ وقت نہیں ھے
ارمان کے لہجے میں زیہان کے ڈر کا صاف پتہ چل رہا تھا
جبکے حورم کو بے پناہ خوشی ہوی زیہان کے ارمی میں ہونے کا اسکا سر فخر سے بلند ہو گیا
تبھی اسنے اپنے ادمیوں کو اواز دے کر اندر بلایا
چار پانچ موٹے موٹے سانڈ اندر داخل ہوے
اسے حفاظت سے ایرپورٹ لے جاوں اور ہاں اگر کوی ہوشیاری کریں تو وہی بیہوش کر دینا
ارمان نے اپنے ادمیوں کو حکم دیتے ہوے کہا
تبھی ان میں سے ایک سانڈ اگے بڑھا اور حورم کا بازو پکڑنے لگا
ابے رک لڑکی کو ہاتھ نہیں لگانا اگر اس زیہان کو پتہ چلا نہ تو ہاتھ سلامت نہیں چھوڑے گا
ارمان کا ڈر وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا تھا
حورم انکے ساتھ شرافت سے چل لیکن اسکے زہن میں مسلسل پلینگ چل رہی تھی
وہ لوگ باہر کار کے پاس اچکے تھے
حورم نے اردگرد دیکھا تو اس پاس گھنا جنگل تھا مطلب وہ اسانی سے بھاگ سکتی تھی
تبھی دو سانڈ اندر بیٹھے ایک کار کی دوسری طرف گیا اور جبکے چوتھا کار کا دروازہ کھولے اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کررہا تھا
ان سب کے پاس اس وقت گن موجود تھی لیکن اسے اتنا تو یقین تھا کہ وہ لوگ اسے نہیں مارے گے
حورم نے پوری طاقت کے ساتھ اس موٹے سانڈ کو دھکا دیا اور فل سپیڈ سے جنگل کی طرف بھاگی
لیکن ساتھ میں اپنی چوڑیاں بھی نکالتی گی کیونکہ انکے شور سے وہ لوگ اسے اسانی سے پکڑ سکتے تھے
اتنے میں وہ سانڈ سمبھنلتا اور باقی کے باہر نکلتے تب تک حورم اس جنگل میں داخل ہو چکی تھی
وہ چاروں اسکے پیچھے بھاگے لیکن اندھیرا اتنا تھا کو ہ لوگ حورم کو ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہرے
ادھا گھنٹہ مسلسل بھاگنے کے بعد حورم کو سامنے سے سڑک نظر ای لیکن حورم کے حواس کھو رہے تھے
حورم تیزی سے سڑک پر ای لیکن ایکدم سڑک پر انے کی وجہ سے ایک تیز رفتار گاڑی اسے کچلتی ہوی اگے بڑھ گی
اسکے بعد حورم کو کچھ پتہ نہیں چلا وہ کہاں ہے اور اسکے ساتھ کیا ہورہا ھے
حمنہ بیگم اج پھر ہوسپٹل جارہی تھی
وہ اور ویرا گھومنے کے لیے پاکستان ای تھی تبھی کسی نے ویرا کا کڈنیپ کرکے اسکا منہ جلا کر پھینک دیا
پولیس نے ویرا کو ڈھونڈ کر حمنہ بیگم کو اطلاع کی تھی
حمنہ بیگم پر تو قیامت ٹوٹ پڑی انکی زندگی میں ویرا کے علاوہ کوی نہیں تھا
ویرا باہر کے ماحول میں بھی رہ کر اتنی معصوم اور پاکیزہ تھی لیکن کسی درندے نے اسکی معصومیت کی پرواہ کیے بغیر بری طرح سے نوچ ڈالا اور
اس انسان کی درندگی کو نہ سہتے ہوے
وہ اپنی جان کی بازی ہار چکی تھی
اور کل اسکی لاش ہوسپٹل سے ہی غایب ہوگی پولیس اپنی پوری کوشش کررہی تھی ویرا کو ڈھونڈنے کی لیکن اسکا کچھ اتا پتہ نہیں تھا
حمنہ بیگم نے سڑک پر پڑی لڑکی کو جلدی سے اپنے ڈرایور کی مدد سے گاڑی میں لٹایا اور ہوسٹل لے گی
ایک دن بعد حورم کو ہوش ایا تھا تب تک حمنہ بیگم اس انجان لڑکی کے لیے ہوسٹل میں ہی رہی تھی
اپکی پیشنٹ کو ہوش ا گیا ہے نرس نے حورم کے ہوش میں انے کی اطلاع دی تو
حمنہ بیگم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اندر ای سی یو کی طرف بڑھ گی تاکہ اس سے اسکے گھر والوں کا پتہ پوچھ کر اسکے گھر والوں کو انفارم کرسکے
ماما جیسے ہی حمنہ بیگم اسکے پاس کھڑی ہوی حورم نے انکھیں کھول کر کہا
حمنہ بیگم ششدر رہ گی کیونکہ اسکی انکھوں کا کلر بالکل ویرا جیسا تھا اور وہی معصومیت اسکے چہرے پر نظر ارہی تھی
حمنہ بیگم بے ساختہ سسک اٹھی تو کیا اللہ نے اگر بیٹی واپس لی تھی تو دوسری دے دی تھی
اپ میری ماما ھے نہ حورم نے کسی چار سال کے بچے کی طرح ان سے پوچھا
حمنہ بیگم خود اتنی بڑی ڈاکٹر تھی انھیں یہ جاننے میں بالکل بھی دیر نہیں لگی کہ یہ لڑکی اپنی یاداشت کھو چکی ھے
ہاں حمنہ بیگم نے اپنی تڑپتی ممتا کی اواز کو سنتے ہوے کہا
پھر دو دن بعد حمنہ بیگم اسے انٹارجینا لے گی او ر اپنے ہوسپٹل میں اس کا علاج کیا
اسکی رپورٹ دیکھ کر پتہ چلا تھا کہ حورم کی یادداشت ہمیشہ کے لیے نہیں گی تھی اسکی یادداشت کبھی بھی ا سکتی تھی
حمنہ بیگم نے حورم کو یہی بتایا تھا کہ ایک ماہ پہلے اسکے ایک حادثہ ہوا تھا جسکی وجہ سے اسکی یادداشت چلے گی تھی
لیکن وہ حادثہ اتن بڑا تھا جس میں وہ کومے میں چلی گی اور سکا منہ جل گیا اسی لیے اسکی سرجری کرنی پڑی
حورم نے بھی اس بات پر یقین کر لیا کیونکہ اسکی ساری تصویروں میں اسکی انکھیں گرین ہی تھی
حمنہ بیگم کی کافی زیادہ پہچان تھی اسی لیے دوبارہ سے حورم کے ڈاکومنٹس وغییرہ ویرا کے نام سے بنواے
حمنہ بیگم نے دن رات محنت کرواکر حورم کا میڈیکل کمپلیٹ کیا
کیونکہ ویرا بھی میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی
اور خوش قسمتی سے حورم بھی میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی اسی لیے جب حورم دو تین دفعہ کچھ پڑھتی تو اسے سب یاد اتا جاتا
اور اسی طرح حورم ایک ہارٹ سپیشلسٹ بنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے معاف کردوں حورم بیٹا میں خود غرض ہوگی تھی
وہ سب اس وقت حمنہ بیگم کے لاونج میں بیٹھے تھے
سب کچھ بتانے کے بعد اینڈ پہ حمنہ بیگم روتے ہوے بولی
حورم تڑپ کر اٹھی اور حمنہ بیگم کو اپنے گلے لگایا
اپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ماما میں اب بھی اپکی ویرا ہی ہو
اپ نے جو کیا میرے بھلے کے لیے ہی کیا
حورم حمنہ بیگم کو چپ کرواتے ہوے بولی
اور یہ بات سچ ہی تھی حمنہ بیگم نے ایک ماں سے بڑھ کر اسکا خیال رکھا
ایک سگی ماں سے زیادہ پیار کیا
اسے اگر چھوٹی سی بھی چوٹ لگ جاتی تو حورم سے پہلے حمنہ بیگم رونا شروع ہو جاتی تھی
جی بالکل اور میں اپکا بیٹا روحان جلدی سے اٹھ کر حمنہ بیگم کے دوسری سایڈ پر بیٹھ گیا
اور انکے گلے میں بازو ڈالی
زیہان بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور حمنہ بیگم کے قدموں میں بیٹھتے ہوے بولا
اور میں اپکا داماد اور بیٹا دونوں مجھے ماں کا پیار محسوس کیے سالوں گزر گے ھے
لیکن اب میرے پاس بھی ماں ھے کیا اپ مجھے اپنا بیٹا بناے گی
زیہان نے انکا ہاتھ عقیدت سے چومتے ہوے کہا
حمنہ بیگم نے روتے ہوے اثبات میں سر ہلایا اور زیہان کے ماتھے پر بوسہ دیا
جس پر روحان اور حورم دونوں نے منہ بنایا
حمنہ بیگم اج بے حد خوش تھی کیونکہ انھیں تین تین بچے مل چکے تھے
اگر اپ مجھے اپنا بیٹا سمجھتی ھے تو کل کی ہماری فلایٹ ھے اور اپ ہمارے ساتھ پاکستان چلے گی
روحان نے حمنہ بیگم کو اموشنل بلیک میل کرتے ہوے کہا
جس پر پہلے تو انہوں نے انکار کردیا کیونکہ انکا یہاں پر ہوسپٹل تھا وہ کیسے ایسے سب کچھ چھوڑ کر جا سکتی تھی
لیکن پھر ان تینوں کے بے حد اصرار پر وہ ہاں کرتے ہی بنی
جبکے روحان اور زیہان نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بہت جلد پاکستان میں انکے ہوسپٹل کی برانچ اوپن کرے گے
اسی لیے وہ سب پاکستان جانے کی تیاری کرنے لگے تاکہ سب گھروالوں کو سرپرایز کر سکے
اور انھیں یقین تھا یہ سرپرایز اتنا بڑا ہو گا وہ سب زندگی بھر اسے نہیں بھولے گے
