Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 44
Rate this Novel
Power of Love Episode 44
Power of Love by Afzonia Zafar
ہادی نے انھیں انکے فلٹ کے سامنے ڈراپ کیا اور خود اپنے فلیٹ کی طرف گاڑی موڑ لی
ہادی نے کچھ سوچتے ہوے گاڑی گھر کی بجاے بازار کی طرف موڑ لی
پھر وہاں سے کچن کا سامان اور ڈیکوریشن کا سامان خرید کر فلیٹ کی طرف گاڑی موڑ لی
ہادی نے گھر ا کر سارے گھر کو سجایا پھر کچن میں اکر کیک بیک کیا یہ سب کرتے ہوے اسے صبح سے شام ہوگی تھی کیونکہ اج حورم منیزے اور روحان کا برتھ ڈے تھا
لیکن اسنے صرف میسج کرکے روحان کو وش کیا اسے پتہ تھا کہ روحان کبھی بھی اپنا برتھ ڈے نہیں مناے گا
ہادی نے اپنے کپڑے چینج کیے اور اوپر ٹیرس پر اگیا
اور فون نکال کر منیزے کے نمبر پر کال کی
کیا ھے منیزے نے کال اٹھاتے ہی لٹھ مار انداز میں کہا
من۔منیزے سامنے والے فلیٹ میں جج۔جلدی او میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی نے اگے سے کال کاٹ دی اور مسکراتے ہوے سامنے فلیٹ کو دیکھنے لگا
ایک منٹ بعد ہی اس میں سے منیزے بوکھلاتی ہوی بھاگتی نکلی
ہادی نے مسکراتے ہوے دیکھا اور جلدی سے نیچے اتر گیا اور پورے فلیٹ کی لایٹس اف کردی
منیزے جو ہادی کو سنانے کا پورا ارادہ رکھتی تھی لیکن اگے سے ہادی کی نقاہت سے بھر پور اواز پر اسکی جان ہی نکل گی
ہادی کا سوچتے ہی وہ جلدی سے اپنے کمرے سے نکلی اس وقت اسکے پاوں میں جوتا تک نہیں تھا
سامنے دو تین فلیٹ لیکن دو کے مالک کو وہ جانتی تھی ابھی کل ہی اسکے مالک سے بات ہوی تھی
جبھی اسکے پاوں میں کانچ چھبا شاید کسی شرابی نے بوتل کو سڑک پر پھینکا ہوا تھا جسکے ٹکڑے اردگرد پھیل ہوے تھے
منیزے درد کی پروا کیے بغیر اس فلیٹ کی طرف بھاگی
دروازہ پر ہاتھ رکھا تو تو دروازہ اگے سے کھلتا چلا گیا
منیزے اگے بڑھی تو پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
وہ اہستہ سے چلتی ہوی اگے بڑھی اور ساتھ ساتھ ہادی کو اواز بھی دے رہی تھی
تبھی اس لگا اسکے پاوں کے نیچے نرم و نازک پھول کی پتیا ہو اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتی
ایکدم سے ساری لایٹس ان ہوی
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہاتھ سویچ بورڈ کے پاس کھڑا ہو کر بولا
اور اہستہ قدموں سے منیزے کی طرف بڑھا
منیزے نے ارد گرد دیکھا پورا گھر پھولوں سے سجا ہوا تھا
او جہاں وہ کھڑی تھی وہ گلاب کے پھولوں کی روش تھی جو سیدھی اس ٹیبل تک جارہی تھی
جہاں کیک رکھا ہوا تھا اور اسکے اوپر اتنے زیادہ بالون لگے ہوے تھے
منیزے نے ہادی کی طرف دیکھا جو بالکل صحیع سلامت اسکے پاس اکر کھڑا ہو گیا تھا
منیزے کی انکھوں سے انسو ٹوٹ کر گرا
تم نے اج پھر مجھ سے جھوٹ بولا میری جان نکل گی تھی یہ تک نہیں سوچا جا رہا تھا اگر تمھیں کچھ گیا تو میں کیا کروں گی
منیزے روتے ہوے اسکے سینے پر مکے مارتے ہوے بولی
ہادی نے منیزے کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور کھینچ کر گلے لگایا
پانچ سال پہلے کس اذیت میں چھوڑ کر گی تھی مجھے
کیا میری منیزے کو اپنے عبیر پر اتنا بھی یقین نہیں تھا
عبیر نے روتی ہوی منیزے کو قابو میں کرتے ہوے کہا
یقین تھا سب پتہ تھا مجھے نینا جھوٹ بول رہی ھے زیہان بھای نے مجھے سب بتا دیا تھا مجھے جب نینا نے بتایا تھا مجھے تب بھی اسک اوپر یقین نہیں ایا تھا
منیزے کے کہنے پر عبیر نے حیرت سے منیزے کے چہرے کو بالکل اپنے سامنے کیا
تو پھر یہ پانچ سال کی اتنی بڑی سزا کیوں جب کے تمھیں پتہ تھا میں بے قصور تھا
مجھے یہ پتہ تھا کہ نینا جھوٹ بول رہی ھے کہ تم اس سے پیار کرتے ہو لیکن تم ہی حیدر شاہ ہو یہ نہیں پتہ تھا
تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا یہ سوچ اتے ہی کہ مجھے ایک غیر محرم نے چھوا ہے مجھے راتوں کو نیند نہیں اتی تھی
پھر ایرپورٹ پر بھای نے مجھے بتایا کہ تم ایک سیکریٹ ایجنٹ ہو اسی لیے یہ سب کیا
میں چاہتی تو تبھی واپس اسکتی تھی
لیکن میں تمھارے نزدیک رہ کر اپنے مقصد کو بھول رہی تھی میرے بابا مجھے ڈاکٹر بنانے چاہتے تھے لیکن میں دن رات بس تمھارے بارے میں سوچتی تھی
ڈاکٹر بننے کے لیے دن رات کی محنت چاھیے مجھے پتہ میں تمھارے نزدیک رہ کر کبھی بھی ڈاکٹر نہیں بن پاوں گی اور اگر تمسے کہوں گی
تو تم مجھے اپنے سے دور جانے نہیں دوں گے اسی لیے ورنہ منیزے کو اپنے عبیر اپنے سے زیادہ یقین ہے
منیزے کے اتنے یقین پر عبیر کے دل میں لگی برسوں کی اگ کو ٹھنڈک مل گی کہ اسکی منیزے کواس پر یقین ھے
چلو جو ہوا سو ہوا اب ہم ایک اچھی لایف گزارے گے جہاں دس بچے ہو گے اور ہماری فیملی ہوگی
منیزے نے حیرت سے انکھیں پھاڑ کر عبیر کی طرف دیکھا لیکن عبیر نے کیک کے اوپر سے ہلکی سی چاکللیٹ اپنی انگلی پہ لگای
اور اسے منیزے کے ہونٹوں پر لگا دی اوع چھک کر اسی چاکلیٹ کے اوپر اپنے لب رکھ دیے اور دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر کو چکڑا اور اسے تھوڑا سہ اوپر اٹھایا
کافی دیر بعد ہادی نے جب اسکے ہونٹوں کو ازادی دی تو اسکے ہونٹوں سے ہادی مکمل طور پر صفایا کر چکا تھا
ہادی نے اہستہ سے منیزے کو نیچے اتارا تو درد کی وجہ سے ایک سسکی اسکے منہ سے نکلی
ہادی نے پریشانی سے منیزے کو دیکھا جواپنے پاوں کوگھور رہی تھی
ہادی نے اسکے ننگے پاوں کو دیکھا اور پھر کرسی پر بیٹھا کر نیچے بیٹھ کر اسکے پاوں کو اوپر کر کے دیکھا
ہادی کیا کررہے ہو اٹھوں نیچے سے منیزے نے اسے اپنے پاوں میں بیٹھتے دیکھ کر کہا
چپ اتنی چوٹ لگی ھے اور تمنے مجھے بتایا بھی نہیں ہادی نے تیز اواز میں منیزے کو ڈانٹا اور خود اٹھ کر کچن سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر ایا
اور اچھے سے منیزے کے پاوں کا زخم صاف کرکے پٹی کی
چلو اب اٹھو اور کیک کاٹو اتنی محنت سے بنایا ھ ہادی نے منیزے کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا
منیزے نے کیک کاٹا اور ہادی کی طرف ٹکڑا بڑھایا
ہادی نے کیک کو ٹکڑے کو ہاتھ میں پکڑا اور منیزے کو منہ کھولنے کا اشارہ کیا
منیزے نے منہ کھولا تو ہادی نے کیک ادھا اسکا منہ رکھا جبکے ادھا کیک باہر تھا
اس سے پہلے کے منیزے کیک کو پورا منہ میں لیتی ہادی نے منیزے کی تھوڑی کو پکڑ کر چہرہ اور کیا اور ادھے ٹکڑے کو کھایا
جیسے ہی اسکے ہونٹوں نے منیزے کے ہونٹوں کو ہلکا سہ چھوا ایک کرنٹ سہ منیزے کے جسم میں سرایت کر گیا
منیزے نے جلدی سے باقی کے کیک اپنے گلے سے اتارا اور دوسری طرف اپنا رخ موڑ لیا
شرم سے اسکا پورا چہرہ لال ہو گیا تھا
ہادی نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا اور جھک کر اسکے کندھے پر تھوڑی رکھی
تمھارا مشن کمپلیٹ ہو گیا ھے منیزے اب تم واپس گھر کب جاوں گی کیونکہ تمھیں لے بغیر تو میں جانے سے رہا
بس دو دن بعد منیزے نے مختصر سے جواب دیا
ہادی نے منیزے کے کندھے سے شرٹ ہٹا کر اسکی گردن میں اپنے لب رکھے
تت تم نے مم میرا گفٹ نہیں دیا
منیزے ہادی کے بڑھتے لمس سے گھبراتے ہوے بولی
ہادی نے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور جیب میں سے ڈبی نکال کر گھٹنوں پر بیٹھا
اور ڈبی کو کھول کر اسکے سامنے کیا جس میں ڈایمنڈ کی بے تحاشہ خوبصورت انگھوٹی جگمگا رہی تھی
جبکے منیزے ابھی تک حیرت سے انکھیں کھول کر ہادی کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہی تھی
منیزے کو اج ہادی کا ایک الگ ہی روپ نظر ارہا تھا
کیا تم میرے ساتھ بوڑھا ہونا قبول کروگی ہادی کے الگ انداز پر منیزے کی زور سے ہنسی نکلی اور اثبات میں سر ہلا کر اپنا ہاتھ اگے کردیا
ہادی نے مسکرا کر اسے انگلی پہنای اور اسکے ہاتھ پر عقیدت سے بوسہ دے کر اٹھا
تبھی منیزے کے موبایل کی رنگ ٹون بجی منیزے نے پوکٹ سے موبایل نکال کر دیکھا تو یشفہ کی کال تھی
منیزے نے ایک دم اپنے سر پہ ہاتھ مارا اسے پتہ تھا اب یشفہ کو ڈر لگ رہا ہو گا
ہادی میں جا رہی ہو وہ یشفہ کو ڈر لگ رہا ہوگا
منیزے نے جلدی سے اپنے قدم پیچھے کی طرف موڑے
رکو ہادی نے منیزے کا بازو پکڑ کر روکا یہ میرے جوتے پہن لو
ہادی نے اپنے پاوں سے جوتے نکالے
منیزے نے ایک نظر ہادی کو دیکھا پھر یشفہ کا سوچ کر جلدی سے جوتے پہنے اور اگے بڑھی
لیکن یہ کیا جوتے پیچھے ہی رہ گے منیزے کے پاوں جوتے کافی زیادہ کھولے تھے
اسی لیے اسکے پیر ہی باہر ا گے
ہادی نے مسکراتے ہوے منیزے کو گود میں اٹھایا اور ننگے پاوں ہی باہر کی جانب تیزی سے چل دیا
ہادی میں چل سکتی ہو اتنی چھوٹی چوٹ کیپٹن منیزے حیدر شاہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی منیزے نے اسکے یوں اٹھانے پر منہ بگاڑ کر کہا
جبکے اپنے کا حوالہ سنتے ہادی کے چہرے پر مسکراہٹ ا گی
اور منیزے کو گیٹ کے باہر اتارا
منیزے جلدی سے نیچے اتری اور بغیر ہادی کو اندر انے کی دعوت دیے اندر بھاگ گی
پیچھے سے ہادی مسکراتے ہوے پلٹ گیا
