Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 12
Rate this Novel
Power of Love Episode 12
Power of Love by Afzonia Zafar
منیزے نے حورم اور روحان کے ساتھ بہت اچھا دن گزار کر یونی سے باہر نکلی اپنی سایکل کی طرف بڑھی جبکہ حورم اور روحان اپنی اپنی کار میں گھر کی جانب روانہ ہوگے تھے
ابھی اسنے سایکل کی طرف بڑھی جب زیہان نے اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا
بھای اپ ادھر کیا بات ہے اج اپ مجھے لینے اے ہے منیزے اپنی سایکل کو وہی پارکنگ میں چھوڑ کر زیہان کے باس جاکر بولی
زیہان نے اسکے لیے کار کا دروازہ کھولا اوں بیٹھوں کار میں بتاتا ہو زیہان اسکی بات سن کر مسکرایا جبکے منیزے کار میں بیٹھ چکی تھی زیہان گھوم کر اپنی جانب کار کا دروازہ کھولا اور گاڑی اسٹارٹ کی
اج میں اپنی جان کے ساتھ لنچ کروں گا کیونکہ میں دو تین دنوں کے اوٹ اف کنٹری جارہا ہو سوچا اپنی جان کے ساتھ کچھ ٹایم گزار لوں
بھای اپ پھر جا رہے منیزے منہ بناتے ہوے بولی
ہاں میری جان بس دو یہ تین دن کے لیے اسکے بعد تو ا ہی جاوں گا
زیہان اسکے منہ پھلانے پر مسکرایا
اتنے میں ریسٹورنٹ بھی ا گیا یہ وہی ریسٹورنٹ تھا جس میں کل حیدر شاہ اسے لایا تھا وہ لوگ اندر گیے تو سجاوٹ ایسی ہی تھی لیکن فرق یہ تھا کل پورا ہوٹل خالی تھا لیکن اج لوگوں سے بھرا ہوا تھا
بھای یہ ریسٹورنٹ کیوں سجا ہوا ہے منیزے نے اپنے لہجے کو نارمل بناتے ہوے کہا
وہ یہ حیدر کے ایک دوست کا ریٹورنٹ ہے تو اس سے ہی کل مجھے پتہ چلا کہ اس ریسٹورنٹ کی کل اینیورسری تھی جسکی خوشی میں اس پورے ہوٹل کو سجایا گیا تھا
زیہان اسے اور بھی کچھ بتارہا اس ہوٹل کے فیورٹ فوڈ وغیرہ کے بارے میں جسے منیزے غور سے سن رہی تھی لیکن وہ اندر سے پوری طرح الجھ چکی تھی
وہ لوگ اندر جاکر ایک ٹیبل پر بیٹھ گے جب منیزے زیہان سے مخاطب ہوی بھای اپکو پتہ اج میرے دو اور دوست بنے وہ دونوں بہن بھای تھے
بھای وہ لڑکی میری ہی عمر کی تھی اور اتنی خوبصورت تھی ایک پل کے لیے تو مجھے لگا کہ اپ نے شادی کرنے میں بہت جلدی کر لی ہے خیر وہ بھی اچھی ہی ہوگی
منیزے اتنی معصومیت سے بولی زیہان اسکے منہ کو دیکھ کر ہنس پڑا
ویسے بھای مجھے نہ ابھی بھابی سے جلن ہو رہی ہے کہی اپ اسے مجھ سے زیادہ نہ پیار کرنے لگ جاو تب زیہان نے منیزے کا ہاتھ پکڑ کر کہا
منیزے تم میری جان ہو میں اس دنیا میں اگر سب سے زیادہ کسی سے پیار کرتا ہو نہ تو وہ تم ہو تمھای جگہ میری زندگی میں کوی نہیں لے سکتا ہے زیہان نے اسے محبت سے سمجھایا جس پر منیزے کو تسلی ہوی کیونکہ زیہان کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا
وہ لوگ ایک بھر پور ٹایم گزار کر گھر واپس اے اتنے میں فلایٹ کا ٹایم ہو چکا تھا تھا وہ کرنل صاحب سے مل کر اور منیزے کو گھر چھوڑ کر اس سے اپنا بہت زیادہ خیال رکھنے کا کہہ کر ایر پورٹ چلا گیا
اسکا ارادہ حورم سے بھی ملنے کا تھا وہ اسکےروم میں گیا تو تھا لیکن شاید وہ اس وقت یونی میں تھی پھر وہ منیزے کو لینے چلا گیا لیکن پھر منیزے کے ساتھ ٹایم گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن ایسے ہی گزر گے لیکن عبیر کا نہ ہی کوی فون ایا اور جب منیزے نے اسے کال کی تو اسکا فون بھی بند جا رہا
منیزے کو اسکے گھر کا بھی نہیں پتہ تھا اس لیے وہ پریشان ہوے کے سوا اور کر بھی کیا سکتی تھی
لیکن اس دوران اسکی روحان اور حورم سے اچھی خاصی دوستی ہو گی تھی
وہ اس وقت اپنے کمرے میں لیٹ کر عبیر کے بارے میں سوچ رہی تھی جب اسکے فون پر کسی کی کال ای جسے منیزے نے بغیر دیکھے ہی اٹینڈ کر لیا
اسنے جیسے ہی کال اٹینڈ کی روکی کی بے حد گھبرای ہوی اواز ای منیزے میری مدد کروں میرے پاپا کو ہارٹ اٹیک ایا ہے اس وقت میرے پاس نہ تو کوی گاڑی ہے اور نہ ہی پیسے
پلیز میری مدد کروں روکی روتے ہوے بول رہا تھا روکی تم ایسا کروں کہ اپنے گھر کا ایڈریس بھیجوں میں دس منٹ میں کار لے کر اتی ہو
منیزے اسکی بات سن کر اتنی پریشان ہو گی تھی اسنے نہ یہ سوچا کہ روکی کے پاس اس کا نمبر کیسے اور اس کیسے پتہ چلا کہ منیزے کے پاس پیسے ہونگے جبکہ روکی خود ایک اچھی خاصی فیملی سے بلونگ کرتا تھا
منیزے کو بس اتنا پتہ تھا کہ روکی نے اسے مصیبت میں یاد کیا ہے اور ابھی اس وقت عصر کا وقت تھا
منیزے جلدی سے کرنل صاحب کے روم میں گی نانو میرے دوست کے بابا کو ہارٹ اٹیک ایا ہے میں بس شام کو ا جاوں گی اور میں ڈرایور کو ساتھ لے کر جارہی اپ پریشان مت ہونا
ٹھیک ہے جلدی انا کرنل صاحب شاید کسی فایل پر کام کر رہے تھے اسلیے منیزے کی بات غور سے نہیں سنی انہیں بس یہ سنای دیا کہ وہ ڈرایور کے ساتھ جارہی تھی اور شام تک ا جاے گی
اور ویسے بھی وہ ڈرایور کے ساتھ جارہی تھی اس لیے وہ بے فکر ہو گے تھے
منیزے پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر ڈرایور کو رستہ سمجھا رہی تھی لیکن وہ راستہ تو شہر کے باہر جا رہا تھا
بی بی جی مجھے کچھ غلط لگ رہا ہے شہر کے باہر کون رہتا ہے ویسے بھی شام ہو رہی ھے ہم گھر واپس چلتے ہے
چاچو ایسا ہی کچھ مجھے لگ رہا ہے لیکن اسکا باپ زندگی اور موت کے بیچ ہے باپ کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے مجھے پتہ ہے اگر ہماری وجہ سے کسی کی زندگی بچ جاتی ہے تو ہمیں اس سے ثواب ہی ملے گا
منیزے نے ڈرایور چچا کو بتایا جس پر وہ بھی سمجھ کر اسکے بتاے ہوے راستے پر چلنے لگا
جب اچانک ہی انکی گاڑی الٹی شاید ٹایروں میں گولی لگی تھی
بی بی جی اپ ٹھیک تو ہے ڈرایور الٹی ہوی گاڑی سے جلدی سے باہر نکل کر ایا جہاں منیزے کے سر سے بے تحاشہ خون نکل رہا تھا جبکے ڈرایور چچا کے سر سے خود بھی خون نکل رہا تھا
لیکن انھیں منیزے کی زیادہ فکر تھی جو اسکے بھروسے اسکے ساتھ ای تھی
چچا نے مشکل سے دراوزہ کھول کر منیزے کو کھنچ کر باہر نکالا منیزے ابھی تھوڑے ہوش میں ہی تھی لیکن اسکے دونوں ہاتھوں میں کانچ گھسنے کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا
بی بی جی اپ ایک منٹ روکے میں صاحب کو فون کرتا ہو اس سے پہلے ڈرایور چچا جیب سے فون نکال کر کرتے ایک گولی جو نجانے کہاں سے ای تھی انکے دماغ میں لگی اور وہ وہی ڈھیر ہوگے تھے
منیزے نے خوف سے ادھر ادھر دیکھا جب دور سے کچھ ادمی ہاتھوں میں گن لیے اگے بڑھے
