Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 1
Rate this Novel
Power of Love Episode 1
Power of Love by Afzonia Zafar
سر پلیز اخری دفعہ معاف کردے افس ورکر اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑایا لیکن اس بے حس کو کوی فرق نہیں پڑا
حیدر شاہ کی ڈکشنری میں سوری ورڈ ھے ھی نہیں وہ سختی سے بولا
سب جانتے تھے حیدر شاہ جتنا اپنی عمر سے بڑے لوگوں کے لیے نرم تھا اتنا ہی اپنی عمر سے چھوٹے لوگوں کے لیے بے رحم تھا اج تک کسی نے اسے ہنستے ہوے نہیں دیکھا
اج کے بعد تم مجھے اس افس میں نظر نہ اوں
اس بیچارے کی غلطی صرف اتنی تھی کہ وہ اج اہم میٹنگ میں فایل لانے میں دس منٹ لیٹ ہوگیا تھا ![]()
get out and i dont want to see u again in my office
یہ کہ کر وہ اپنی فایل میں جھک گیا جسکا صاف مطلب تھا کہ دفعہ ہو جاے
اسکا مطلب سمجھ کر وہ اسکے افس سے نکل گیا کیونکہ وہ اپنا فیصلہ بدل لے ایسا ہو ہی نہھیں سکتا ![]()
اسکے جانے کے بعد حیدر نے ایک تصویر نکالی اور اسے دیکھ کو مسکرایا ![]()
اگر اس وقت حیدر شاہ کو کوی مسکراتا ہوا دیکھ لیتا تو وہ پکا بیہوش ہو جاتا
………………………………………
منیزے جب یونیورسٹی میں داخل ہوی تو ایک جگہ جھرمٹ سا لگا دیکھا پھر اسے روکی نظر ایا جو اس یونیورسٹی کا سب سے زیادہ بدمعاش لڑ کا تھا
اور ہر انے والے نے بندے پر اپنا خوف بیٹھاتا تھا
وہ غصے سے اسکی جانب بڑھی
اب پتہ نہیں کس بیچارے کی شامت ای ہے
وہ اگے بڑھی اور دیکھا کہ وہ کوی لڑکا تھا جس کا چہرہ نیچے کی طرف جھکا ہوا تھا
روکی لگتا ہے اج پھر تمھارا مار کھانے کا ارادہ ھے منیزے غصے سے بولی
روکی نے اسکی طرف غصے سے دیکھا اور اس پر نظر پڑتے ہی روکی نے برا سہ منہ بنایا کیونکہ یونیورسٹی میں وہ واحد لڑکی تھی جو غریب ہونے کے ساتھ اس ڈرتی بھی نہیں تھی اور ایک دو دفعہ اسے مار بھی چکی تھی
روکی نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلا گیا کیونکہ اسے پتہ تھا اب اسکی دال نہیں گلنے والی
روکی کے جاتے ہی سارے ادھر ادھر چلے گے
سنو تمھارا نام کیا ہے
وہ اگے بڑھی اور اس لڑکے سے نرمی سی بولی
اس لڑکے نے چہرہ اوپر اٹھایا اور مشکور نظروں سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جسنے بلو جینز کے اوپر بلیک ٹی شرٹ اور اسکے اوپر لڑکوں والی وایٹ شرٹ پہنی ہوی تھی جو اسکی گوری رنگت پر بے انتہا جچ رہی تھی
اسنے بے سا ختہ اپنے کپڑوں پر نظر ڈالی اسکی بھی سیم ڈریسنگ تھی جبکے منیزے کا ابھی تک اس طرف دھیان نہیں گیا تھا
اوے کھمبے تم سے پوچھ رہی ہو نام کیا ہے تمھارا وہ کب سے اسے دیکھ رہی جو گہری سوچ میں کھڑا تھا
اسکے بولنے پر وہ ہڑبڑایا
عب۔عبیر نام ہے وہ ہکلا کر بولا
ہہمم کو نسا سمیسٹر ہے وہ اس دفعہ نرمی سے بولی جو گوری رنگت انکھوں پر بڑا سا چشمہ سلکی بالوں نے ماتھے کو کور کیا ہوا تھا اور عنابی لبوں سے خون کی لکیر بہہ رہی تھی اسکے جیسی ڈریسنگ میں تھا اور بھت کیوٹ لگ رہا تھا
میرا سیکنڈ سمیسٹر ہے جی وہ ادب سے بولا
اچھا تم تو میری کلاس میں ہو یہ پکڑوں اور میرے اور میرے ساتھ چلوں اسنے رومال اسکے ہاتھ میں پکڑایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر کلاس کی طرف چل دی
……………………………….
حورم میں کیا کروں تمھارا
سارہ بیگم غصے سے بولے
اب کیا کر دیا ھماری لاڈلی نے صدیق صاحب پیار سے حورم کی طرف دیکھ کر بولے
اس سے ہی پوچھیے سارہ بیگم ابھی بھی غصے میں تھی
چلو گڑیا تم بتاو
رکو اپی میں بھی ا رھا ہو سننے کے لیے روحان جو ماں کی نظروں میں شریف اور ماں کا لاڈلا تھا جبکے باپ کے لیے بگڑا ہوا تھا اور حورم کا جڑواں بھای تھا
ان دونوں میں صرف ایک منٹ کا گیپ تھا
لیکن پتہ کسی کو بھی نہیں تھا کہ بڑا کون اسلیے دونوں اپنے اپ کو چھوٹا ثابت کرنے کے لیے روحان حورم کو اپی بلاتا تھا اور حورم بھای لیکن یہ بس دوسروں کے اگے گھر میں تو کبھی نام بھی نہیں لیتے
اور دونوں صدیق صاحب کی جان تھے صدیق صاحب خود پاکستان اور دوسری کنٹریز کے جانے مانے بزنس مین تھے اور اپنی فیملی کے ساتھ خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے
ہاں اب بتاوں اج تم نے کیا کیا روحان اتنے شوق سے پوچھ رھا تھا لیکن کندھے پر پڑنے والے تھپڑ کی وجہ سے چپ ہوگیا
جو کہ سارہ بیگم نے مارا تھا
پاپا اج میں نے کچھ خاص نہیں کیا اپکو تو پتہ ہے ماما کو زکام ایا ہے ماما کچن میں اپنے دوپٹے سے ناک صاف کررہی تھی
میں نے ان کی تصویر لے لی اور فیملی گروپ میں سینڈ کر دی بس حورم یہ بتا کر چپ ہوگی
جبکے روحان اور صدیق صاحب کا ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں منہ لال ہو گیا تھا
بس اگے بھی بتاو حورم سارہ بیگم غصے سے بولی
اور پاپا میں نے ماما تب سورہی تہی تب میں نے ماما کے بالوں میں ببل لگادی پھر مجھے پتہ تھا ماما اپنے بالوں کو قینچی سے کاٹے گی تو میں نے قینچی میں بھی ایلفی لگا دی اور ماما نے تب بال کاٹے تو قینچی بھی بالوں میں چپک گی وہ جوش سے بتا رہی تھی
اور اگے کیا کیا وہ بھی تو بتاو سرہ بیگم نے کہا
اور ہاں پاپا میں نے ان سب کی وڈیو بیڈ کے نیچے چھپ کر بنای تھی وہ بھی سب کو سینڈ کردی
حورم نے خوش ہوتے ہوے بتایا
اور ٹوٹ ان دونوں کا کنٹرول اور ہنس ہنس کر ان دونوں کا برا حال ہو گیا اور حورم بھی اپنے کارنامے پر خوش ہوی
انھیں ہنستا دیکھ کر سارہ بیگم غصے سے واک اوٹ کر گی
……………………….
AHS09 agent
yes sir
کرنل صاحب کے بولنے پر ای ایچ ایس ایجنٹ بولا
جو کام میں تمھیں سونپ رہا ہوں وہ تم سے بہتر اور کوی نہیں کر سکتا ہے
جی سر میں یہ کام بہت اچھے سے نبھاوں گا وہ مسکراتے ہوے بولا لیکن یاد رکھنا کپٹن وہ ارمی والوں سے نفرت کرتی ہے
ہاہاہا سر اسکے بارے میں ایسی کوی بات نہیں ھے جو مجھے نہ پتہ ہو وہ فخر سے ہنستے ہوے گویا ہوا
ہممم تو ٹھیک ہے کل س تم اپنے مشن پر ورک کر سکتے ہو
کرنل صاحب نے اسے اجازت دی
جی سر اور ا ان شاء اللہ اپ مجھ سے مایوس نہیں ہوگے
……………………………………………
زیہان خان جسکے نام سے موت بھی کانپ جاے تم نے اسکے کے ساتھ غداری کی ہے وہ اپنے نوکر کو دیکھ کر غرایا
سسس سر ممم مجھے ممعاف
اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتا
ٹھاہ کی اواز سے گولی چلی اور وہ وہی ڈھیر ہو گیا
غداروں ک لیے میرے پاس کوی معافی نہیں
اسکی سخت اواز سن کر اسکے سبھی ملازم کانپ گے
زیہان خان جو کے جانا مانا بزنس مین ہںونے کے ساتھ مشہور غنڈہ بھی تھا
اگر اسے پتہ چلے کسی مرد نے عورت کے ساتھ ظلم کیا ہے تو وہ اسے ذمین کے کسی بھی کونے سے نکال کر اتنی بے رحمی سی موت دیتا کے دیکھنے والوں کی روح تک کانپ جاتی
اسکی زندگی میں صرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا خوشی لفظ کا نام و نشان تک نہ تھا
اسنے اج تک کالے رنگ کے علاوہ کوی اور رنگ نہ پہنا تھا
