406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 9

Power of Love by Afzonia Zafar

حورم کی انکھ صبح اپنے اوپر وزن محسوس کر کے کھلی اس نے اپنے سینے پر دیکھا تو زیہان چہرے پر معصومیت لے کر بڑی شان سے سو رہا تھا اور وہ مکمل طور پر اسکے بازوں کے حصار میں تھی

حورم نے سچویشن کو سمجھتے ہی اتنی زور سے چینخ ماری کہ بیچارہ زیہان ہڑ بڑا کے اٹھا

کیا ہوا حورم تم ٹھیک ہو نہ زیہان نے پریشانی سے اسکی طرف دیکھا

اسکے اس طرح پریشان ہونے سے پہلے تو حورم تھوڑا شرمندہ ہوی لیکن پھر بید میں غصے سے بولی میں تو ٹھیک ہو تم یہاں میرے اوپر کیا کر رہے تھے

سو رہا تھا اور کیا کرتا زیہان نے اتنے معصومیت سے جواب دیا کہ بیچاری حورم کو لگا دنیا کی ساری معصومیت اس پر ہی ختم ہو رہی ہے

اچھااااا حورم نے بھنویں اچکا کر اچھا کو کافی لمبا کھینجا

ہاں زیہان معصومیت سے بولا

ہٹو پیچھے بے شرم انسان مجھے شاور لینا ہے حد ہے مطلب ایک ہی دن میں اپنا بے شرم پن دیکھا دیا اور ان چھچوری حرکتوں پر اتر اے کہتے ساتھ ہی بیڈ سی اتری اور واش روم میں گھس گی

پیچھے سے زیہان ڈھیٹ پن سے مسکرایا اور واپس بیڈ پر لیٹ کر اپنی اس خوبصورت زندگی کو محسوس کرنے لگا

کاش منیزے کی لایف میں بھی ایسا ہی کوی اجاے جو اسکا ہر درد سمیٹ لے اور اسے دنیا کی ہر سرد گرم سے محفوظ رکھے

زیہان نے دل سے دعا کی اور شاید یہ قبولیت کا وقت تھا

……………………………….

ای ایچ ایس ایجنٹ تمھارا مشن کہاں تک پہنچا ہے کرنل صاحب اپنے سامنے بیٹھے شخص کو مخاطب کیا جو مسلسل مسکراے جا رہا تھا

سر مشن کا تو پتہ نہیں لیکن اس دل تک میم منیزے پہنچ چکی ہے وہ کھوے کھوے انداز میں بولا

شرم کروں یہ کیا بکواس کر رہے ہو وہ شادی شدہ ہے اور اس وقت تم اسکے نانا کے سامنے بیٹھے ہو کرنل صاحب نے حقیقت اسکے سامنے رکھی

پہلی بات تو سر وہ شادی شدہ نہیں ہے وہ صرف اپکے پوتے کی منکوحہ ہے اور اپکا پوتا اس رشتے کو نہیں مانتا ہے دوسری بات وہ اب میری ہے اسکے لیے مجھے اگر پوری دنیا سے بھی لڑنا پڑا تو میں لڑوں گا اتنی میرے بازوں میں طاقت ہے اور دنیا کی کوی طاقت اب مجھے نہیں روک سکتی ہے

اوے کھوتے دے پتر شرم تو ڈب مر میں اسکا نانا ہوں جسکے سامنے تم بڑی بے شرمی سے کہہ رہے ہوں وہ میری ہے وہ اب میری ہے کرنل صاحب نے منہ بگاڑ کر اسکی نقل اتاری جس پر اسکا دلکش قہقہہ اتنی زور سے نکلا

کہ باہر کھڑی منیزے ٹھٹک کر رک گی وہ یونی جانے کے لیے تیار ہو کر کرنل صاحب سے نیچے انکے روم میں ملنے ای تھی جب جانی پہچانی اواز پر چونک کر رکی اور اندر کی باتوں کو سننے لگی

ہاہاہاہا بندے کو اتنا ہمت والا تو ہونا چاہیے نہ کہ اپنی محبت کے نانا کے سامنے اظہارِ پیار کر سکے

اور باہر کھڑی منیزے پر ساتوں اسمان ایک ساتھ گرے کیونکہ وہ اس بندے کی اواز کو پہچان چکی تھی یہ تو وہ تھا جو رات کو اسکے روم میں ایا تھا

اسکی سمجھ نہیں ارہا تھا اسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے وہ جس طرح ای تھی اسی طرح باہر نکل گی

منیزے اسی سوچوں میں تھی جب اسکی گاڑی یونی ا کر رکی

لیکن شاید اج کسی نے اسکا گاڑی میں نوٹ نہیں کیا تھا کیونکہ اس وقت یونی کے گیٹ میں اکا دکا لوگ کھڑے تھے وہاں عبیر بھی ا کر رکا اسے اس طرح سوچوں میں گم اتے دیکھا تو پریشانی سےاگے بڑھا لیکن اسنے اسکی گاڑی کو نہیں دیکھا وہ تو منیزے کی شکل کو دیکھ کر ہی پریشان ہو گیا تھا اگے پیچھے کا کوی خیال نہیں رھا تھا

منیزے کیا ہوا ار یو اوکے عبیر ایکدم سے اگے ایا اور منیزے بمشکل اس سے ٹکراتے ہوے بچی عبیر پر نظر پڑتے ہی اسے بے ساختہ حیدر شاہ یاد ایا

منیزے کو ایسا لگ رہا تھا وہ پاگل ہو جاے گی کچھ دنوں سے اسکی زندگی میں ہو کیا رہا تھا

آآآکچھ نہیں وہ بس ایسے ہی تھوڑی طبعیت ٹھیک نہیں ہ وہ رات کو اچھے سے نیند نہیں ای اس لیے شاید

کیا ہوا جب طبعیت ٹھیک نہیں تھی تو یونی کیوں ای کچھ کھایا چلوں میرے ساتھ کینٹین میں وہاں کچھ کھاتے ہے عبیر اسکی طبعیت کا سنتے ہی بے حد پریشان ہوگیا تھا اور منیزے کو اندر اے کا اشارہ کیا

منیزے ک لگا جیسے اس نے عبیر کی انکھوں میں اسنے کچھ الگ دیکھا جو دوستی کے رشتے سے بڑھ کر تھا اللہ پاک نے عورت کے اندر ایسی حس پیدا کی ہے جو مرد کے پڑتی ہر نظر کو پہچانتی ھے

منیزے کو اسکی نظروں میں ہمیشہ دوستی عزت اور احترام ہی نظر ایا تھا جسکی وجہ سے وہ بے فکر تھی لیکن اج اسے اسکی نظروں میں بہت کچھ الگ محسوس ہوا

یااللہ پاک یہ سب میرا وہم ہو میں ایک اچھا دوست نہیں کھونا چاہتی ہو اسنے انکھیں بند کر دل سے دعا کی لیکن شاید قسمت کو کچھ اور منظور تھا اسے بے ساختہ رونا ایا

اسے اس طرح انکھیں بند کرے کھڑے دیکھ کر عبیر اور پریشان ہوگیا منیزے مجھے اپکی طبعیت سچ میں ٹھیک نہیں لگ رہی ہے عبیر نے اس دفعہ اسکا کندھا ہلا کر اسے پریشانی سے مخاطب کیا

نہیں میں ٹھیک ہو چلوں اندر چلوں منیزے زبردستی مسکراتی ہوی اگے بڑھ گی عبیر سر ہلاتا ہوا منیزے کےپیچھے گیا

عبیر تم سے ایک بات پوچھوں وہ لوگ کلاس میں اکر بیٹھے تھے جب منیزے اس سے مخاطب ہوی

ہاں ہاں ضرور پوچھوں عبیر نے اپنے مخصوص نرم لہجے میں اسے اجازت دی

تمھارا کوی بڑا بھای ہے منیزے نے الجھے لہجے میں پوچھا

نہیں تو میں اکلوتا تھا اپنی ممی بابا کا عبیر نے نرمی سے جواب دیا

تھا مطلب منیزے نے الجھ کر پوچھا مطلب میری ماں اور بابا کی بچپن میں ڈیتھ ہوگی تھی

اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ٹیچر کلاس میں داخل ہوی اور لیکچر دینا سٹارٹ کر دیا

…………………………..

حورم شاور لے کر باہر نکلی وہ انہی رات والے کپڑوں میں تھی زیہان نے اسے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا تھوڑی دیر بعد وہ کھانے کی ٹرے لے کر اندر ایا

دیکھا تو حورم اپنے لمبے بالوں میں برے طریقے سے الجھی ہوی تھی اور بس رونے کی تیاری تھی

زیہان اسے دیکھ کر مسکرایا اور کھانے کی ٹرے کو سایڈ پر رکھ کر اسکے ہاتھوں سے برش لے کر کرنے لگا اور حورم بس شیشے میں عکس کو دیکھتی رہ گی جو نرمی سے چہرے پر مسکراہٹ لیے اسکے بالوں میں کنگھی کر رہا تھا

زیہان کو بے ساختہ منیزے یاد اگی وہ بھی اپنے لمبے بالوں اسی طرح الجھ جاتی تھی اور روتے ہوے زیہان کے پاس اتی تھی اسکے بالوں کی گروتھ بہت جلدی ہو جاتی تھی لیکن پچھلے کچھ سالوں سے وہ اپنے بالوں کو کٹوا دیتی تھی

جس پر زیہان ہمیشہ اس سے ناراض ہو جاتا تھا لیکن وہ اپنی معصوم شکل سے اسے منا لیتی تھی

اسکے بالوں کو اچھے سے کنگھی کرکے اس اسے کھانا دیا پھر اسکے گال پر اور دوسرے زخموں میں دوای لگای اور اسے کپڑے دے کر باہر نکل گیا

………………………

منیزے نے بس پہلے دو لیکچر لیے لیکن پھر عبیر کو طبعیت خرابی کا کہہ کر گھر کے لیے نکل گی وہ اپنی سوچوں میں اسقدر مگن تھی کہ سایکل ک جھٹکا لگنے سے اپنی سوچوں سے باہر نکلی

اسنے کوفت سے نیچے اتر کر دیکھا تو اسکی سایکل پنکچر ہو گی تھی

منیزے نے برا سا منہ بنایا اور پیدل ہی سایلکل کے ہینڈل پکڑ کر چلنے لگی

جب ایکدم سے پیچھے سے کسی نے اسکے منہ پر رومال رکھا اور وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر گرنے لگی تھی