406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 17

Power of Love by Afzonia Zafar

زیہان کو ہوش ا گیا تھا اور کرنل صاحب کی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا اجالا جو عجیب سی کیفیت میں تھی اسے کل سے ہی لگ رہا تھا جیسے کوی اسکے اپنا ہو اسلیے اس نے کل سے گلے سے کچھ نہیں اتارا تھا زبیر نے اسے اتنا کہا لیکن وہ نہیں مانی

حورم اور اجالا روم سے باہر گی اور سب کے پاس جا کر کھڑی ہوگی تھی جب ڈاکٹر نے زیہان کے ہوش میں انے کی خبر دی حورم کی خوشی کی انتہا۶ نہیں رہی

جب زور دار چکر ایا اور دھڑام سے نیچے گری اور بیہوش ہوگی روحان نے حیرت سے حورم کو دیکھا اس سے پہلے روحان جھک کر اٹھاتا پیچھے سے ایک بار پھر دھڑام سے گرنے کی اواز ای

دیکھا تو اجالا میڑم زمین کو سلامی پیش کررہی تھی روحان نے انکھیں پھاڑ کر نظریں گھما۶ کر دونوں کو دیکھا پریشان تو سب ہی ہوگے تھے اتنے میں زبیر نے اجالا کو گود میں اٹھالیا

اور روحان نے حورم کو اٹھالیا اور ڈاکٹر کے روم کی طرف بڑھے ڈاکٹر نے چیک اپ کرکے بتایا کہ نہایت ہی کمزوری کی وجہ سے دونوں بیہوش ہو گی ہے اور انکے ہوش میں اتے کچھ انرجی والا کھانا دیا جاے

زیہان نے ہوش میں اتے ہی سب سے پہلے عبیر اور منیزے کا نام لیا کرنل صاحب کو اس سے ملنے کی اجازت مل گی تھی نانو منیزے اور عبیر کیسے ہے

وہ دونوں ٹھیک ہے بس یار تو جلدی سے کھڑا ہو جا۶ تم لوگوں نے مجھے مارنے کی کسر نہیں چھوڑی ہے

اپ ملے ان دونوں سے زیہان نے پھر سے پوچھا ہاں ابھی مل کر ایا ہو وہ ٹھیک ہے دونوں تم فکر مت کروں کرنل صاحب نے زیہان کو پرسکون کرنا چاھا

لیکن وہ بھی زیہان تھا جو انسان کو اسکی انکھوں کے ذریعے اندر تک پڑھ لیتا تھا مجھے سچ سننا ہے نانو میں بچا نہیں ہو جسے اپ بیوقوف بنا لے وہ پھر سے پرانے والا زیہان بن گیا تھا لیکن لہجے میں نقاہت صاف ظاہر ہو رہی تھی

کرنل صاحب بے بس ہوگے تھے منیزے کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن عبیر کی حالت ٹھیک نہیں ہے اسکی ڈاکٹرز نے ہارٹ سرجری کی ہے لیکن ابھی تک اسکی حالت میں کوی سدھار نہیں ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کوی معجزہ ہی ہو سکتا ہے

ڈاکٹرز کا کہنا ہے وہ خود جینا نہیں چاہتا ہے اگر اسنے رات تک اپنی بوڈی میں کوی رسپونس نہیں دیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے کرنل صاحب روتے ہوے بتارہے تھے

جہاں منیزے کی خطرے سے خالی طبعیت کا سن کر بے حد پر سکون ہوا

جبکے زیہان اس سب کا قصوروار خود کو سمجھ رہا تھا اگر وہ اسے اتنی باتیں نہیں سناتا تو وہ مرنے کی خواہش نہیں کرتا وہ ایک بہادر نوجوان تھا اپنوں کے بے یقینی انسان کو کہاں پہنچا دیتی ہے

لیکن زیہان سب سے زیادہ بھروسہ بھی تو اس پہ کرتا ہے وہ یہ بات کیوں بھول گیا تھا

جو بڑے سے بڑے خطرے کو بایںں ہاتھ سے کھیل لیتا تھا اج زیہان کی بے اعتباری نے زندگی کی رمق چھین لی تھی اسنے تو اپنا وعدہ نبھایا تھا اسنے منیزے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی تھی

نانو مجھے عبیر سے ملنا ہے ابھی کہ ابھی زیہان نے ضدی لہجے میں کہا زیہان پاگل ہو تم اٹھ نہیں سکتے ہو کیسے تمھاری خود کی حالت ٹھیک نہیں ڈاکٹر نے زیادہ بولنے سے بھی منع کیا ہے میں ایسا نہی کر سکتا ہو

میں لیٹے لیٹے ہی چلا جاوں گا اسٹریچر پر لیکن نانو اگر اپ نے میری بات نہیں مانی تو میں اپنے زخموں کی پرواہ نہیں کروں گا اور اپ جانتے ہے مجھے کوی روک نہیں سکتا ہے

اسنے کرنل صاحب کو دھمکی دی جو کام بھی کر گی تھی ٹھیک ہے میں بات کرتا ہو ڈاکٹر سے لیکن اگر انہوں نے منع کیا تو مجھ سے مت کہنا جبکے وہ خود بھی جانتے تھے کہ وہ ڈاکٹر کو منا لے گے

اور ایسا ہی ہوا کرنل صاحب نے منا ہی لیا جب ایک نرس اور دو بواے اندر اے اور اسے بیڈ سے اسٹریچر پر ڈالا اور عبیر کے روم کی طرف لے گے

زیہان کو جب روم میں لے گے تو اسکوں دھچکا لگا وہ شرارتی سہ لڑکا چپ سادھ کر مشینوں سے جکڑا ہوا تھا

اسکوے اسٹریچر کو بالکل اسکے بیڈ کے ساتھ لگا کر سب باہر نکال گے

زیہان نے ہاتھ بڑھا کر عبیر کے ہاتھ کو پکڑا اسے تکلیف تو ہوی لیکن وہ تکلیف اتنی نہیں تھی جو اج اسے چپ دیکھ کر ہوی تھی عبیر چپ کرکے کہ بیٹھ جاے ایسا نہیں ہوسکتا تھا لیکن اج وہ چپ پڑا تھا بلکل چپ

عبیر دیکھ نہ اٹھ جا یار دیکھ ایسے مت تنگ کر تو میری ہر بات مانتا ہے نہ ایک اخری بات مان جا۶ میں مر جاوں گا تیرے بغیر یار مر جاوں گا زیہان روتے ہوے بول رہا تھا

تو کہتا تھا نہ ہم ایک ساتھ مرے گے تو یار تو ایسا کیوں کر رہا ہے دیکھ اگر تو اب بھی نہیں اٹھا نہ میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا زیہان کے زیادہ بولنے سے اسکے ٹانکوں میں درد ہونا شروع ہو گیا تھا

دیکھ نہ میں تیری ساری باتیں مانوں گا اٹھ جا میں تجھے کبھی کچھ نہیں کہوں گا تو جو کہے گا میں کروں گا میں اب منیزے سے زیادہ تیری سایڈ لوں گا اٹھ جا ورنہ اج میں مر جاوں گا تو جانتا ہے نہ میں نے وہ سب غصے میں بولا تو اخری بار معاف کردے اج کے بعد تجھ سے کچھ نہیں کہوں گا تو جانتا ہے نہ تو جان ہے میری پھر ایسا کیوں کر رہا ہے تو

اس سے اگے زیہان سے بولا نہیں گیا اور جیسے اپنے بچپن میں رویا تھا ویسے پھوٹ پھوٹ کے رو دیا

بس کر پگلے اب رولاے گا کیاعبیر اکسجن ماسک کو دوسرے ہاتھ سے ہٹاتے ہوے دھیمی اواز میں بولا بولا جبکے اسکا دوسرا ہاتھ ابھی تک زیہان کی گرفت میں تھا

زیہان نے حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے اسکی طرف دیکھا جو اسکی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا

سالے دیکھ میں تجھے گلے بھی نہیں لگا سکتا ہو زیہان خوشی کی انتہا سے بولا اسے لگ رہا تھا جیسے اللہ نے اسے اس دنیا کی سب سے بڑی خوشی دی ہو وہ اس وقت اپنے اپ کو ہواوں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا

اوہ بھای رہنے دے کیوں میری عزت لوٹنا چاھتا ہے یہ کام اپنی بیوی کے ساتھ ہی کرنا مجھے معاف ہی رکھ عبیر دھیمی اواز میں بولا

زیہان منیزے ٹھیک ہے نہ پلیز مجھے کچھ برا مت بتانا عبیر نے دھیمی اواز میں درد کی وجہ سے انکھیں بند کرتے ہوے کہا

اس سے پہلے زیہان کوی جواب دیتا کرنل صاحب دروازہ کھول کر خوشی سے کپکپاتی اواز میں بولے منیزے کو ہوش ا گیا۔۔۔۔۔۔عبیر کی کھلی انکھوں کو دیکھ کر کرنل صاحب کو بریک لگی

اور وہی سجدے میں گر گے اللہ پاک تیرا شکر ہے میں تیرا احسان کیسے چکاوں تونے مجھے ایک دفعہ پھر سے زندگی دی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ تینوں ٹھیک ھے سب کی خوشی کی انتہا نہیں رہی حورم اور اجالا اب مزے سے جوس پی رہی تھی جبکے روحان ان دونوں کو کب سے الجھن بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا

کرنل صاحب کب سے روحان کو انکی طرف دیکھنے کو نوٹ کر رھا تھا اتنے میں حورم بولی

ندیدے بھوکے نیت لگانے کا ارادہ ہے اگر زیادہ بھوک لگ رہی ہے تو کینٹین سے لے ا یوں ہمارے جوس پر اپنی گندی نظر مت ڈال حورم نے اچھی خاصی طبعیت صاف کی

لیکن وہ بھی اسی کا بھای مجال ہے جو ایک سیکنڈ کے لیے بھی اپنی نظروں کا زاویہ بدلا ہو

بیٹا کوی پرابلم ہے اس دفعہ کرنل صاحب نے نرمی سے پوچھا جس پر روحان نے ہاں میںوسر ہلایا بدلے میں سب نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

نانو مجھے ایک بات سمجھ نہیں ای یہ دونوں ایک ساتھ بیہوش کیسے ہوی روحان نے اتنی معصومیت سے پوچھا کہ ایکدم سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ گیا

اتنے میں نوکر نے مٹھای کو لے انے کی اطلاع دی

کرنل صاحب روحان اور زبیر نے پورے ہںوسپٹل میں مٹھای بانٹی

جبکے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ عبیر کا بچنا ایک معجزہ ہوا ہے