Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 4
Rate this Novel
Power of Love Episode 4
Power of Love by Afzonia Zafar
ماما اپ کے لیے میں نے خود نے کیک بیک کیا ہے بلکہ صرف اپکے لیے ہی نہی روحان اور پاپا کے لیے بھی
اسپیشلی اپ کے لیے کیونکہ اپ مجھ سے اس دن والی بات پر ناراض ہو نا دیکھیے صبح سے اپ سب کے لیے میں نے اتنی محنت سے کیک بیک کیا ہے اپ سب ادھر بیٹھوں میں کیک اور نایف لے کر اتی ہوں
حورم سب کو معصومیت سے کہہ کر لاونج میں بٹھا کر کچن کے طرف چلے گی
سارہ بیگم کو اس وقت اپنی بیٹی پر حد سے زیادہ پیار ایا
دیکھا وہ شرارت کے ساتھ ہمارا کتنا پیار کرتی اپ ناجاٸز اسے اتنا ڈانٹتی ھے صدیق صاحب سارہ بیگم کی طر ف دیکھتے ہوے بولے
ہاں لیکن اپکو پتہ بھی میں اس دنیا میں سب سے زیادہ اپنے دونوں بچوں سے ہی پیار کرتی وہ روحان کی طرف دیکھتے ہوے بولی
بیگم صدیق صاحب ناراضگی سے بولے
ہاہاہاہا اپ سے بھی کر تی ہوں
جبکے روحان خاموشی سے بیٹھا حورم کی سا زش کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
ایسا ہو ہی نہیں سکتا حورم بغیر کسی شرارت کے ایسا کو اچھا کام کرے اور وہ بھی اتنے پیا ر سے
اتنے میں حورم نے کیک لا کر ٹیبل پر رکھا اپ لوگوں نے اسی چھیڑنا نہیں ہے میں پلیٹ لے کر اتی ہوں وہ کچن کی طرف چلے گی
روحان جلدی سے اٹھا اور کیک کو اچھی طرح سے لیکن کیک میں کوی خرابی بھی نہیں تھا بلکے کیک کو بہت اچھے سے ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا
اسنے جلدی سے کیک کے اوپر لگی کریم کو چیک کیا لیکن وہ بھی میٹھی تھی اور بالکل نارم تھی
روحان صدیق صاحب نے تنبیہ انداز میں پکارا
پاپا پتہ نہیں یہ سب کچھ ہضم نہیں ہورہا ہے
روحان فوراً پیچھے ہٹ کر معصومیت سے بولا
اسکے معصوم انداز پر صدیق صاحب نے بمشکل ہنسی ضبط کی
اتنے میں حورم بھی ا گی
اسنے کیک کاٹا اور اسکے چار پیس کرکے اپنی اور سب کو پلیٹس میں ڈال کر اور صوفے پر اکے بیٹھ گی
اور ایک چھوٹا سہ بایٹ لیا
روحان ابھی تک اسے دیکھ کر اور سارہ بیگم بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی
اس سے پہلے وہ لوگ بھی کھانا شروع کرتے حورم بول پڑی ایک منٹ ایک منٹ میں سیلفی لیتی ہو ہم سب ایک ساتھ منہ میں ڈالے گے سب نے ہاں میں سر ہلایا
اب تو روحان کا بھی شک ختم ہوچکا تھا اسے کیک کھاتے دیکھ کر
ہمم اوکے اسنے موباٸل اون کیا اور کیمرہ اون کیا اور فوٹو موڈ کی بجاے اسنے ریکوڈنگ شروع کر دی جس پر کسی نے دھیان نہں دیا
اوک ون ٹو تھری…………… گو
حورم نے جیسے ہی کہہ حورم سمیت سب نے اپنے منہ میں کیک ڈالا
آ آآآآآآ اور یہ نکلی روحان اور سارہ بیگم کی چینخ
پانی پانی دونوں پانی مانگ رہے تھے
حورم ہنستی ہوی اٹھی اور شرافت سے دونوں کو جلدی سے پانی دیا
صدیق صاحب اور حورم کا ہنس ہنس کر برا حال تھا
ہوا یہ تھا جب حورم کیک بیک کر رہی تھی تو اسکے دماغ میں شیطانی ایڈیا ایا
اسنے ہاف کیک میں دس چمچ مرچے ایڈ کی اسے پتہ روحان اتنی اسانی سے اس پر یقین نہیں کرے گا اس لیے پہلے ان کے سامنے کھایا اور صدیق صاحب کو اسنے پہلے ہی بتا دیا تھا
جس پر انہوں نے دل کھول کر ساتھ دیا تھا
حورم اور صدیق صاحب کی ٹیم تھی جبکے روحان اور سارہ بیگم کی ٹیم تھی
لیکن وہ بیچارے اسکے شیطانی دماغ کے اگے ہمیشہ پیچھے رہ جاتے تھے
اب حورم اگے اگے تھی جبکہ روحان اور سارہ بیگم اسکے پیچھے سوں سوں کرتے بھاگ رہے تھے
لیکن حورم کی سپیڈ دیکھنے کے لایق تھی
جبکے صدیق صاحب ہنستے ہوے ساتھ اپنا کیک بھی کھا رہے تھے ساتھ انکی وڈیو بھی بنا رہے تھے
……………………………..
عبیر منیزے کے منہ سے بے ساختہ نکلا
لیکن حیدر اسےایک نظر دیکھے بغیر اگے کرنل صاحب کی طرف بڑھ گیاجسے اسنے سنا ہی نہ ہو
بلیک افس سوٹ پہنے جس میں چوڑا سینہ اور کسرتی بازو نمایا ہورہے تھے بالوں کو اوپر جیل سے نفاست سے کیا ہواتھا دایں بازو میں بے انتہا قیمتی گھڑی پہنی ہوی جسکی قیمت کوی بھی بتا سکتا تھا با وقار چال چلتا ہوا ان کی طرف بڑھ گیا
وہ ہوبہو تو نہیں لیکن کافی حد تک عبیر کی طرح لگ رہا تھا لیکن عبیر کی انکھں کالی تھی جبکے حیدر کی انکھیں گرے کلر کی تھی
گڑیا یہ کوی عبیر نہیں بلکہ حیدر شاہ ھے شاہ انڈسٹریز کمپنی کا اونر جو اس وقت نہ صرف پاکستان میں بلکے دوسری کنٹریز میں نمبر ون کمپنی میں سے ایک ہے
جو سال کے دس میں تو باہر گزارتا ہے
اور ساتھ میں میرا اکلوتا دوست لیکن اس نے ابھی مجھے دیکھا نہیں ھے اسکا مجھے دیکھنے پر ریکشن دیکھنا
وہ ارام سے بیٹھ کر حیدر کی طرف دیکھنا شروع ہوگیا اور انتظار کرنے لگا جو کرنل صاحب سے انکی طبعیت ایسے پوچھ رہا تھا جیسا انھیں کتنے اچھے سے جانتا تھا اسکے لہجے میں انکے لیے ب تحاشہ فکر تھی
جب کرنل صاحب نے اسے پیچھے کی طرف اشارہ کیا
اسکی پہلی نظر زیہان پر پڑی وہ بے یقینی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
جبکے زیہان اسے ارام سے بیٹھا دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگے کیا ہونے والا ہے
وہ اسکی طرف خوشی سے بڑھا اور اسے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کرکے زور گلے لگایا
منیزے نے نوٹ کیا کہ اسکے اواز کافی حد تک عبیر سے ملتی ہے لیکن عبیر کی اواز میں میں ہر وقت نرم اور وہ بہت دھیمے انداز سے بولتا تھا
جبکے حیدر ک اواز میں رعب اور تھوڑا سا اسکی اواز میں بھاری پن تھا وہ بہت باریک بینی سے اسکا جاٸزہ لے رہی تھی
جگر تو یہاں تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں میں بتا نہیں سکتا مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے اسکے چکر میں۔۔۔۔۔۔۔۔
آآآ اس سے پہلے وہ کچھ بولتا زیہان نے اسے زور سے چٹکی کاٹی اور پیچھے ہٹ کر منیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا
یہ اس سے ملوں یہ میری بہن منیزے حیدر نے منیزے کی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا روی روٸ سی انکھیں جن میں اسے اپنا اپ ڈوبتہ ہوا محسوس ہوا گلابی ہونٹ جن پر اسکی نظر ٹھہر سی گی
اور منیزے اسکے بارے میں تو میں تمھیں بتا چکا ہوں
حیدر نے جلدی سے خود پر قابو پایا
او منیزے کی طرف ہاتھ بڑھا کر ہاے کہہ جسے منیزے نے سر ہلا کر تھام لیا
اور الجھن بھری نظروں سے منیزے کے کپڑوں کی جانب دیکھا
جسے دیکھ کر کہی سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اتنی ہای فاے فیملی سے بلونگ کرتی ھے
زیہان سمجھ گیا تھا کے وہ کیا پو چھنا او رھا تھا سمجھ تو منیزے بھی گی تھی لیکن وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہی
وہ کیا ہے نہ جگر میری بہن کو دولت کا شو آف کرنے کا نہ تو پسند ہے نہ ہی وہ ایسا کرتی ہے زیہان نے اسے وجہ بتای جس پر حیدر نے سر ہلایا
بھای ایک منٹ میں ابھی اتی ہوں وہ فون کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر باہر نکل گی
اسنے جلدی سے عبیر کو فون کیا جسے اسنے پہلی ہی بیل پر اٹھا لیا
منیزے تم ٹھیک تو ہو اتنی جلدی میں وہاں سے کیوں ا گی تھی
وہ اپنے مخصوص نرم اور ٹھہرے لہجے میں پریشانی سے بولا
ہمم اچھا تم کہاں ہو اسنے تھوڑا سہ دروازے کے اندر جھانکتے ہوے بولی اور حیدر کی طرف دیکھتے ہوے بولی
جو ہاتھ کے اشارے سے زیہان کو ہنس ہنس کر کچھ بتا رہا تھا اسے بس اسکا ادھا چہرہ نظر ارہا تھا نہ تو اسکے ہاتھ میں موبایل تھا نہ ہی وہ ایک منٹ کے لیے بھی چپ ہوا تھا
وہ سیدھی کھڑی ہو ی اور باہر کی جانب دیکھنا شروع کر دیا
ہاں میں بس اسٹینڈ پر کھڑا ہو بس کا انتظار کر رھا ہوں
منیزے نے غور کیا تو پیچھے سے بایک کےہارن کی اور دوسرے شور کی بھی اواز ا رہی تھی جبکہ ہوسپٹل میں اس وقت مکمل طور پر خاموش تھی
اچھا میں تمھیں کل بتاتی ھوں اچھا باے
منیزے نے فون بند کردیا اور اندر چلے گی
جبکے حیدر اسے اندر اتے دیکھ کر مبہم سہ مسکرایا
