Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 22
Rate this Novel
Power of Love Episode 22
Power of Love by Afzonia Zafar
دو تین دن ہو چکے تھے حورم کو یہاں اے ہوے لیکن یہاں کچھ بھی کرنے کو نہیں زیہان کی طرف سے بھی مکمل خاموشی تھی روحان بھی روز اجاتا تھا
منیزے خود پہلے ہوسپٹل اور اب گھر میں پڑے پڑے بور ہو گی تھی
ان دونوں نے مل کر شاپنگ ر جانے کا فیصلہ کیا لیکن مسلہ یہ تھا کہ کوی انھیں باہر نہیں جانے دے رہا تھا
حورم کو اچانک وہ وڈیو یاد ای جو منیزے نے بنای تھی
منیزے وہ وڈیو دوں شاید وہ کام اجاے
حورم نے پاس بیٹھی منیزے کو مخاطب کیا جو موبایل میں گھس کر پتہ نہیں کیا کر رہی تھی
ہاں یہ لوں منیزے نے موبایل میں اس وڈیو کو نکال کر حورم کو دی
حورم نے مسکراتے ہوے وہ موبایل پکڑا اور زیہان کے کمرے کی طرف بڑھی
زیہان کمرے میں بیٹھا جمعیل کی حالت کا پوچھ رہا اور اس کی نگرانی پر زبیر کو لگایا ہوا تھا
کیونکہ وہ چاھتا تھا وہ جمعیل کو ایسی موت دے وہ بھی اپنے ہاتھوں سے تاکہ اسنے جو بچپن میں اپنی فیملی سے وعدہ کیا تھا اسے پورا کر سکے
وہ انہی سوچوں میں تھا جب حورم اسکے کمرے میں داخل ہوی
زیہان ہمیں شاپنگ پر جانا ہے ہم گھر پر بور ہو رہے ہے حورم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بہادری سے اپنا مدعا سامنے رکھا
زیہان کو کبھی کبھی اتنی حیرت ہوتی تھی حورم پر کہ جس بندے کے نام سے لوگ کانپ جاتے ہیں حورم کتنی بہادری سے ایک تو تم کہہ کر بات کرتی تھی اور دوسرا اسے حکم بھی دیتی تھی
اور زیہان تو اسکے اسی انداز پر ہی تو فدا تھا
حورم ابھی گھر سے باہر نکلنا ٹھیک نہیں ہے منیزے کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے
زیہان نے کمزور سی دلایل دی
اچھا ٹھیک چلو کسی نہ کسی طرح ٹایم تو گزارنا ہے چلو میرے پاس ایک وڈیو ہے اسے میں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیتی ہو
تم وڈیو کو دیکھنا پسند کروں گے حورم نے موبایل کی سکرین پر وڈیو کو پلے کرکے اسکی طرف موبایل کر دیا
زیہان کو وڈیو میں تو کوی انٹرسٹ نہیں تھا لیکن پھر بھی اسنے سکرین کی طرف دیکھا
سکرین کی طرف دیکھتے ہی زیہان کے طوطے اڑ گے مطلب وہ اسکی ہی وڈیو کو اپلوڈ کرنا چاہتی ھے
وڈیو میں اسکا سرخ چہرہ صاف نظر ا رہا تھا مطلب اسکی تو عزت کا کچرہ ہو جانا تھا
حورم دیکھوں تم ایسی ویسی کوی حرکت نہیں کروں گی زیہان نے کہتے ساتھ ہی موبایل کو جھپٹنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی اسی کی بیوی تھی
جلدی سے موبایل کو اپنے پیچھے کر لیا ہاں تو جو میں کہتی ہو وہ کرتے جاو پھر شاید میں میں کچھ سوچ سکتی ہو
حورم زیہان کی حالت کے مزے لیتی ہوی بولی
جبکے زیہان تو صرف یہ سوچ رہا تھا اگر یہ وڈیو عبیر کے ہاتھ یہ پھر اسکے میس کے کسی بھی بندے کے ہاتھ لگ گی تو انہوں نے ویسے ہی اسکا مزاق بنا کر مار دینا ہے
جو بندے اج تک اسکے سامنے بولے نہیں انہیں اسکے اوپر ہسنے کا موقع مل جاے گا
ٹھیک ہے بتاو کیا کرنا ہے زیہان نے ہار مانتے ہوے بولا
نانو کو مناو باہر جانے کے لیے اپنا کریڈٹ کارڈ دو بس ابھی کےلیے اتنا کافی ہے حورم نے اتنے اٹیٹیوڈ سے کہا کہ زیہان اسکے چہرے کو بس دیکھتا ہی رہ گیا
ہمم ٹھیک ہےتم لوگ تیار ہو جاو میں نانو سے بات کرتا ہو
حورم نے خوشی سے منیزے کے پاس گی اور اسے خوشخبری سنای جسے سنتے ہی منیزے خوشی سے اچھل پڑی
حورم وہ اجالا کو بھی بلا لے وہ لڑکی مجھے بہت اچھی لگی اوپر سے پتہ نہیں اسے دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوتا ہے
منیزے نے سوچتے ہوے حورم سے کہا حورم نے جلدی سے اثبات میں ہلایا وہ لڑکی خود بہت معصوم اور بہت اچھی لگی تھی
حورم کے پاس اجالا کا فون نمبر تھا اسیلے اسنے اجالا کو فون کیا اجالا نے تھوڑا سہ سوچ کر ہاں کر دیا اور انہیں مال میں ملنے کا کہ دیا
حورم نے اسے مال کا نام بتا دیا تھا اسی لیے اب بس وہ زیہان کا انتظار کر رہی تھی
اتنے میں ایک ملازم ایا منیزےبی بی اور حورم بی بی اپ اجاوں زیہان نے اپ دونوں کو نیچے بلایا ہے
وہ دونوں نیچے گے تو زیہان اور عبیر بڑی سنجیدگی سے کچھ ڈسکس کر رہے تھے
ان دونوں کو نیچے اتے دیکھ کر دونوں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجالی منیزے نے تو کچھ نوٹ نہیں کیا لیکن حورم کی جاسوسی کی حس جاگ چکی تھی
اسے اس دن بھی عبیر میں کچھ عجیب لگا اور ابھی اسکے چہرے پر مضبوطی کے اثرات دیکھے لیکن پھر وہی ڈرپوک سے مسکراہٹ لیے تاثرات کو سجا لیا لیکن ایک جو بات اسے اسکی پسند ای تھی اسکی نظروں میں منیزے اور حورم دونوں کے لیےبے تحاشہ عزت اور احترام ہوتا تھا
اسی لیے حورم بے فکری سے اسکے اس پاس پھرتی تھی اور اوپر سے کل عبیر نے سب کے سامنے اسے اپنی چھوٹی بہن کہا تھا کیونکہ اسکی کوی بہن نہیں تھی
اور منیزے اور زیہان ہر وقت بہن بھای کے پیار کا عملی نمونہ بن کر پھرتے تھے اسی لیے عبیر کو بھی بہن کی ضرورت تھی اور حورم کی معصومیت اسے پے حد بھای تھی
حورم نے اب کی دفعہ عبیر کی جاسوسی کرنے کا فیصلہ کیا اور ویسے اب فن کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا
منیزے اور حورم عبیر تم دونوں کی سیفٹی کے لیے تمھارے ساتھ جاے گا زیہان نے عبیر کی طرف اشارہ کیا
منیزے اتنی زور سے ہنسی بھای یہ اپنی حفاظت کرلے یہ ہی کافی ہے منیزے نے ہنستے ہوے کہا اسکی بات پر زیہان بھی عبیر کی طرف دیکھ کر اتنی ہی زور سے ہنسا
جبکے حورم کو ہنسی تو ضرور ای تھی لیکن پھر عبیر کی
معصوم شکل کی طرف دیکھا
تم دونوں میرے بھای کا ایسے مزاق نہیں بنا سکتے ہو ٹھیک ھے اور زیہان تم بڑے بہادر بنتے ہو تمہاری بہادری ابھی دس منٹ پہلے میں دیکھ چکی ہو
حورم نے ایک ساتھ دونوں سے حساب برابر کیا اور پھر عبیر کی طرف دیکھا جسکی ایک ساتھ پوری بتیسی ایک ساتھ نکل گی تھی
اور منیزے کا منہ بن چکا تھا جبکے زیہان بس یہ سوچ رہا تھا اخر یہ حورم چیز کیا ہے جو ہر تھوڑی دیر بعد اسکی بولتی بند کر رہی تھی
منیزےمنہ بناتے ہوے اگے بڑہی اسکے پیچھے پیچھے وہ بھی باہر نکل گے
وہ لوگ کار میں بیٹھے گیٹ سے باہر نکل کر مال کے راستے پر نکل گے عبیر کار ڈرایو کر رہا تھا اسکے ساتھ حورم بیٹھی تھی جبکے منیزے نے پیچھے بیٹھ اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگا لی تھی
حورم سامنے دیکھ رہی تھی جب اسکی نظر عبیر کے مضبوط ہاتھوں پر پڑی پھر اسنے اسکے چہرے کی طرف دیکھا
وہ بے شک ایک بھر پور مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا وہ کسی بھی لڑکی کا ایڈیل ہو سکتا تھا
حورم بہت باریک بینی سے اسکا جایزہ لے رہی تھی گوری رنگت ماتھے پر بکھرے بال کالی انکھوں پر بڑا سا چشمہ جسے وہ بار بار سہی کر رہا تھا کلین شیو پتہ نہیں کیوں لیکن اسے ابھی لگا تھا جیسے یہ حلیہ اسکی ذات کا حصہ نہیں ہے
اسنے ابھی تک عبیر کو کھلی شرٹس میں ہی دیکھا
تو عبیر اگر یہ تمھارا سچ نہیں ہے تو میں تمھارے سچ کو جان کر رہوں گی اگر یہی تمھارا سچ ہے تو پھر تو بہت غلط بات ہے حورم اپنے دل ہی دل میں عبیر سے مخاطب ہوی
عبیر کب سے حورم کی تیز نظروں کو اپنے اوپر محسوس کر رہا تھا اور اسی ڈر سے عبیر اپنے چشمے کو بار بار سہی کر رہا تھا
عبیر ایک بات پوچھوں تم سے حورم نے عبیر سے پوچھا
ہاں پوچھوں عبیر نے اجازت تو دے دی لیکن اس چھوٹی سی تیز مرچی کو دیکھ کر وہ سہی معنی میں گھبرا گیا تھا
زیہان نے اپنے لیے بیوی بھی اپنے جیسی ہی تیز چن کر ڈھونڈی ہے جو اسکی ہی واٹ لگانے کے چکر میں تھی عبیر جو کبھی موت سے
نہیں ڈرا جس کے دشمن اسکانام سنتے ہی پناہ مانگتے تھے
اپنی اس چھوٹی سی بہن سے ڈر گیا
تم تو شروع سے ہی لنڈن میں تھے نہ حورم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
ہاں عبیر کی اہستہ سی اواز نکلی
تو تم نے کچھ کام بھی نہیں کیا ہو گا کیونکہ پیسے کی تو تمھارے پاس کوی کمی نہیں ھے ہیں ناں
ہاں عبیر نے اثبات میں سر ہلایا
تو تمھارے ہاتھ اتنے مضبوط کیسے ہے جیسے دیکھوں روحان بھی کوی کام نہیں کرتا اسکے ہاتھ بھی بالکل نرم ہے لیکن اور اوپر سے تم ہم سے کم از کم پانچ چھے سال تو بڑے ھوگے ھی
پھر بھی تم ابھی صرف سیکنڈ سمیسٹر میں ہی ہو حورم نے عبیر کی پھونک نکالنے میں کوی قصر نہیں چھوڑی
وہ تو شکر تھا منیزے نے ہینڈ فری لگای ہوی تھی اور دوسرا مال ا گیا تھا
حورم وہ مال اگیا ابھی بھی یہی بیٹھنے کا ارادہ کیا منیزے نے اسے اسی طرح بیٹھے عبیر کو گھورتے دیکھ کر کہا
ہاں چلو حورم بھی منیزے کے کہنے پر جلدی سے اتر گی عبیر نے گہرا سانس لیا اور انکے پیچھے گاڑی کو پارکنگ میں لاک کرکے چل پڑا
حورم اور منیزے کافی اگے تھی جب اسکی نظر منیزے کے سایڈ سے نکلتے لڑکے پر پڑی جس نے جان بوجھ کر اپنا ہاتھ منیزے کے کمر سے لگایا
منیزےنے پلٹ کر ایک زور دار تھپڑ اسے مارا اور انگلی سے اسے وارن کرکے اگے بڑھ گی
یہ سب دیکھ عبیر کی انکھوں میں مرچیں سی بھر گیں اسکی انکھیں اتنی سرخ ہو چکی تھی جیسے ان میں سے ابھی اگ نکلنا شروع ہو جاے گی
عبیر نے ماتھے کی رگ کو ہاتھ کی دو انگلی سے دبایا جو خطرناک حد تک پھول چکی تھی اور پھٹنے کے قریب تھی اسکا دل کیا کو وہ ابھی اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دے
وہ اپنے غصے کو دباتا ہوا اس لڑکے کی طرف بڑھا اسکی گردن پر اتنے زور سے ہاتھ رکھا کہ اس لڑکے کو اپنی گردن ٹوٹتی ہوی محسوس ہوی
بھای کیا بات ہے چھ۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکے کی باقی باتیں منہ میں ہی رہ گی جب اسکی نظریں عبیر کی سرخ انگارہ انکھوں پر پڑی
سایڈ پر چلو عبیر نے اسکی گردن پر اور زور بڑھایا وہ لڑکا ڈر کی وجہ سے اسکے ساتھ شرافت سے چل پڑا
حورم اور منیزے جیسے ہی اندر داخل ہوی انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن عبیر کہی بھی نہیں تھا
اس سے پہلے کہ وہ دونوں باہر جاکر عبیر کو ڈھونڈتی اس سے پہلے ہی انھیں اجالا اپنی طرف اتے دیکھای دی
اجالا کو دیکھتے ہی منیزے کو ڈے ساختہ پری کی یاد ای اگر اج وہ زندہ ہوتی تو اجالا کے جتنی ہوتی
