406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 23

Power of Love by Afzonia Zafar

عبیر اس لڑکے کو ایک سایڈ پر پارکنگ کے اینڈ پر لے گیا جہاں بھیڈ نہ ہونے کے برابر تھی

اسنے ابھی تک اپنے غصے کو کیسے کنٹرول کیا ہوا تھا یہ بات صرف وہی جانتا تھا

اسنے اس لڑکے کو لے جاتے ہی اسکا سر وہاں کھڑی ایک گاڑی میں پوری طاقت سے مارا

اتنا کے اسکے سر سے خون پانی کی طرح نکلنا شروع ہوگیا لیکن عبیر نے اسی پر ہی بس نہیں کی ایک بعد ایک مارتا ہی گیا اسکے سر کو

گاڑی کا وہ حصہ اندر تک چلا گیا تھا لیکن اسکے سر پر تو جنون سوار تھا

اس لڑکے میں اتنی بھی ہمت نہیں بچی تھی کہ وہ اپنا بچاو کر سکے وہ زمین پر ے جان ہو کر گر چکا تھا اس لڑکے کی چینخوں کی وجہ سے ارد گرد لوگ جمع ہو رہے تھے لیکن عبیر کو کسی چیز کی کوی پرواہ نہیں تھی

عبیر کی نظر اسکے ہاتھ پر پڑی جس سے اسنے منیزے کو چھوا تھا

لیکن اس لڑکے کی قسمت شاید اچھی تھی کہ اج عبیر کے پاس اسکے ہاتھ کو کاٹنے کے لیے کچھ نہیں تھا

عبیر نے اپنے جوتے کی ایڈی کو اسکے ہاتھ پر بے دردی سےمسلا اور مسلتا ہی گیا اتنا کہ اسکے ہاتھ کی شکل بری طرح سے بگڑ چکی تھی اسکا ہاتھ مکمل طور پر کچلا جا چکا تھا

اسے وہی تڑپتا چھوڑ کر اپنا چشمہ اٹھایا اور شاپنگ مال کی طرف بڑھا اور اپنے اپ کو نارمل کرنے کی کوشش کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان بیٹا اج وہ لڑکی اس شاپنگ مال گی ہے اچھا موقع ہے لڑکی کو اٹھوا لیتے پھر مزے کرنا اور اچھی بات تو یہ ہے اج بھی اس لڑکی کے ساتھ کوی گارڈ نہیں ہے

وہ لوگ اس شاپنگ مال کے اگے کھڑے تھے جہاں حورم اور منیزے ابھی اندر گی تھی

نہیں ڈیڈ اس طرح مزہ نہیں اے گا سنا ہے وہ لڑکی کسی ڈرتی نہیں ہے میں اسکی انکھوں میں خوف دیکھنا چاہتا ہوں

ارمان خباثت سے بولا جس پر اسکے باپ نے مسکراتے ہوے بھر پور ساتھ دیا

ابھی میں اسکا ایک ٹریلر خود دیکھ کر اوں گا ارمان نے پوکٹ سے رومال نکالا اور منہ پر باندھ کر شاپنگ مال کی طرف بڑھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبیر پاگلوں کی طرح منیزے کو ڈھونڈ رہا تھا اسے نہیں پتہ وہ کب اسکے عشق میں دیوانہ ہو گیا

اسے اتنا برداشت نہیں ہوتا کوی اس چھوے یہاں تو پھر کسی نے اس چھوا تھا

مال میں لڑکیاں حسرت سے اس خوبرو مرد کو پریشان دیکھ رہی تھی

عبیر کی نظر ایک شاپ پر پڑی جہاں وہ تینوں کسی بات پر کھڑی ہوکر ہنس رہی تھی

اسے دیکھ کر عبیر کے تپتے دل کو ایک دم سے ٹھنڈک ملی تنے ہوے اثرات ایک دم سے نارمل ہو گے

اسکے مسکراہٹ کو دیکھ کر خود بخود اسکے ہونٹ مسکرا اٹھے

وہ اسکی طرف بڑھنے لگا تھا جب اسکے دماغ میں اسے تنگ کرنے کا خیال ایا

وہ پیچھے مڑ کر ایک جینٹس شاپ میں چلا گیا وہاں سے پینٹ کوٹ خریدا اور واش روم میں چینج کیے

اپنی انکھوں سے بلیک لینز نکالے جس سے اسکی خوبصورت گرے ایز واضح ہوگی وہاں موجود شیشے میں دیکھ کر اپنے ماتھے پر پڑے بالوں کو اوپر اچھے سے سیٹ کیا

وہ مکمل تیار ہوچکا تھا لیکن اب مسلہ یہ تھا اسکے پاس نکلی بریڈ نہیں تھی

اسنے باہر نکل کر وہاں موجود لڑکے سے داڑھی کا پوچھا جس پر اسنے ہاں میں سر ہلایا

تھوڑی دیر بعد وہ لڑکے نکلی داڑھی کے ساتھ موجود تھا عبیر کے چہرے پر پہلے بالکل ایسی ہی داڑھی رھی لیکن پھر زیہان نے اسے اور شریف دیکھنے کے لیے کلین شیو کا مشورہ دیا

جو اسے بھی پسند ایا اسی لیے اسے کلین شیو کرلی لیکن جب بھی وہ منیزے کو ملتا تھا وہ نکلی بریڈ لگا کر ہی ملتا تھا جسکی وجہ سے منیزے کو اسکے اوپر زیادہ شک نہیں ہوا

عبیر واش روم میں گھس گیا اور داڈھی کہ اچھے سے سیٹ کیا وہ دیکھنے سے بالکل ایسی لگ رہی تھی جسے ہلکی ہلکی داڑھی ہو جو اسکی وجاہت کو مزید بڑھا رہی تھی

وہ اب مکمل طور پر حیدرشاہ کے روپ میں تھا وہ خود نہیں جانتا تھا وہ ایسے کیوں کر رہا ہے لیکن اسے منیزے کو تنگ کرنے میں مزہ اتا تھا

وہ باہر نکلا اور اپنی مخصوص چال چلتا ہوا اگے بڑھا جب ایک ماڈرن سی لڑکی اسکے پاس ای

ہاے ہینڈسم بواے کین ای گیٹ یور نمبر اس لڑکی نے اتنی ادا سے کہا کہ کوی بھی لڑکا ہوتا تو کبھی بھی نہ نہیں کرتا

لیکن وہ عبیر حیدر شاہ تھا جو اج تک ایسی ہزاروں لڑکیوں کو اپنے پاوں کے نیچے روندتے ہوے ایا تھا

نو عبیر نے اپنے سخت لہجے میں کہا اور ایک سایڈ سے نکل گیا پیچھے سے وہ لڑکی اپنی بے عزتی پر پاوں پٹختی رو گی

منیزے جو ٹرایل روم کی طرف بڑھ رہی تھی اچانک سے کسی کے کھچنے پر چینخ نکلی لیکن اس سے پہلے ہی سامنے والے نے سختی سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا اور ایک ٹریل روم کی دیوار کے ساتھ لگایا اور دروازہ بند کر دیا اور اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں سختی سے پکڑ لیا

منیزے نے انکھیں پھاڑ کر سامنے موجود شخصیت کو د یکھا اسے دیکھتے ہی منیزے کو بے انتہا غصہ ایا مطلب وہ اتنا ڈھیٹ تھا اپنی اتنی انسلٹ کروانے کے بعد بھی اسکے سامنے اگیا

لیکن مجبوری یہ تھی وہ مکمل طور پر اسکی قید میں تھی

ہاتھ ہٹا رہا ہو جیخنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ میرے پاس اور بھی بہت طریقے ہے چپ کروانے کے حیدر اپنی گھمبیر اواز میں بولا

منیزے کا دم گھٹ رہا تھا اسی لیے اسے اثبات میں سر ہلایا

دیکھوں میرے ہاتھوں کو چھوڑوں اور پیچھے ہٹوں کیونکہ میرا شوہر بھی میرے ساتھ ایا ہے اگر اسے پتہ چل گیا نہ تو وہ تمھیں نہیں چھوڑے گا

عبیر کو پہلے تو اپنی اس چھوٹی سی بیوی پر بہت سارا پیار ایا لیکن پھر ہنستے ہوے بولا

وہ ڈرپوک جس سے اپنا چشمہ سمبھنلتا نہیں ہے وہ حیدر شاہ سے کیا پنگا لے گا میرا اگر ایک مکا بھی اسے پڑا نہ تو بیچارہ زنطگی بھر نہیں اٹھے گا

مطلب حد ہے یہ دن بھی دیکھنے پڑ گے بیچارے حیدر شاہ کو خود کی ہی انسلٹ کرنی پڑ رہی ہے اسنے دل ہی دل میں سوچا

وہ تمھاری طرح نہیں جو اپنے دوست کی بہن پر بری نظر رکھے وہ شریف ہے اور ہمیشہ اسکی نظروں میں لیے عزت اور احترام ہوتا ہے ایک عورت پیار کرنے ولے کو تو بھول سکتی ھے لیکن ایک عزت کرنے والے کو کبھی نہیں بھول سکتی اور وہ بھی اس شخص کو جو اسکا محرم ہو

اس سے پہلے وہ حیدر کو کچھ اور سناتی حیدر نے اسکے دونوں ہاتھوں کو چھوڑا ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا اور دوسرا اسکی گردن میں ڈالا اور دل کی اواز پر لبیک کہا

اور اسکے لبوں کو سختی سے اپنے لبوں میں قید کرلیا

منیزے اس اچانک حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی اسکی بازوں پر مکے برسانے لگی لیکن اسکے نازک مکے اسکا کیا بگاڑ رہا تھا

منیزے جس سے پوری یونیورسٹی کے لڑکے دور رہتے تھے اور اس ڈرتے تھے اج ایک شخص باربار مار کھا کر بھی اسکے سامنے ا رہا تھا

بے بسی اور غیر محرم کے لمس پر مںیزے کی انکھوں سے انسو نکلنے لگے

اسکے انسوں محسوس کرکے عبیر اہستہ سے اسکے ہونٹوں کو ازاد کیا اور خود پر غصہ ایا کیونکہ اسکا ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں تھا وہ تو بس مںیزے کو تنگ کرنے کے لیے ایا تھا

لیکن اپنی ملکیت کا احساس اسکے ہلتے لبوں کا دیکھ کر وہ اپنا اپ بھول گیا

عبیر نے نرمی سے ہونٹوں سے اسکے انسو چننے چاہے لیکن منیزے نے نفرت سے منہ موڑ لیا

عبیر نے اہستہ سے منیزے کو چھوڑا اور باہر نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم کب سے منیزے کو ڈھونڈ رہی تھی پھر اجالا کی طرف بڑھانے لگی جب کسی نے اسکے منہ پر ہاتہ رکھا اور ٹرایل روم کے اندر لے گیا

حورم نے اپنی پوری طاقت سے اسکا ہاتھ اپنے منہ پر ہاتھ ہٹایا اور یچھے مڑ کر دیکھا کو کس نے یہ ہمت کی ہے

لیکن سامنے کوی انجان بندے کو دیکھا اور پوری طدقت لگا کر سامنے والے کے چہرے پر تھپڑ مارا اسے اتنا تو یقین تھا کہ رومال کے اندر اسکے منہ پر اسکی انگلیاں ضرور چھپ گی ہوگی