Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 26
Rate this Novel
Power of Love Episode 26
Power of Love by Afzonia Zafar
منیزے رہنے دوں بیچارے کو دیکھوں تو بیچارے کو کتنی شرم ا رہی ہے تم اسے ایسے ہی پریکٹس کروا دوں
حورم نے ہنسی کنٹرول کرتے ہوے کہا
جبکے بیچارے عیر نے حورم کو مشکور نظروں سے دیکھا
تو چلوں جکی پرییکٹس سٹارٹ کرتے ہیں منیزے نے گلوز اسکی طرف پھینکے
جبکے حورم اور پریشے مزے سے وہاں رکھی چٸر پر بیٹھ گی اور سامنے دیکھنے لگی جیسے کوی سچ میں ٹی وی شو چل رہا ہو
عبیر ن بے بسی سے اوپر دیکھا اور دل میں کہنے لگا
یااللہ اج بچا لے میری توبہ اگر میں کسی کے ساتھ چھوٹا سا مزاق بھی کروں
اوپر کیا دیکھ رہے ہو ادھر میری طرف دیکھوں بللکہ میری انکھوں میں دیکھوں
منیزے نے عبیر کو اوپر کی طرف دیکھتے ہوے کہا
ہمیشہ اپنے دشمن کی انکھوں میں دیکھ کر وار کرنا چاھیں منیزے نے اسے لڑای کا پہلا اصول سمجھاتے ہوے کہا
لیکن اپ تو میری دشمن نہیں ہو وہ دونوں اس وقت باکسنگ بیڈ پر کھڑے ہوے تھے
تو میں نے کونسا کہہ ہی دیا عبیر میں تمہاری دشمن ہو اور میری انکھوں میں دیکھ کر بات کروں حد ہے مطلب میں تو تمھیں بس رول سکھا رہی تھی
منیزے نے اسکی اچھی خاصی طبعیت صاف کی
عبیر نے جان بوجھ کر بیچاری سی شکل بنای
ہاں تو ایسا کروں پوری طاقت سے پنچ میرے چہرے پر مارو منیزے نے عبیر سے تھوڑی دور جھکتے ہوے کہا
جبکے عبیر نی حیرت سے اپنے سے دو فٹ چھوٹی منیزے کو دیکھا جسے اگر اسکا ایک مکا لگ جاتا تو وہ پوری زندگی اٹھنے کے قابل نہیں رہتی لیکن وہ کیسے منیزے کو درد دینے کا سوچ بھی سکتا ہے
سوچ کیا رہے ہو ماروں ڈرو مت میں تمھیں نہیں مارو گی منیزے نے عبیر کو حوصلہ دیتے ہوے کہا
جبکے منیزے کی بات پر حورم اور پریشے کی ہنسی نکل گی اور عبیر نے اتنی مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا یہ بات وہی جانتا تھا
ہاں عبیر بھای ڈرنا نہیں ہے پریشے نے ہنستے ہوے کہا
عبیر نے جان بوجھ کر منیزے کی دوسری طرف مکا جو اسکے چہرے کے ساتھ بھی ٹچ نہیں ہوا اور شو ایسے کروایا جیسے کتنے دھیان سے اسنے مکا مارا ہو اور ایک سایڈ پر گرنے کی ایکٹنگ کی
عبیر کے اس بھونڈے سے مکے پر تینوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا اور اوپر جس طرح عبیر منہ کے بل گرا تھا تینوں کا ہنس ہنس کر حال ہی برا ہو گیا
پھر منیزے نے کافی دیر تک اس پنچ مارنا سکھایا لیکن اسے پنچ مارنا نہیں ایا
چلو اب میں تھک گی ہو اب صرف تم پریکٹس کروں گے
عبیر نے سکھ کا سانس لیا کم از کم یہ تو ٹینشن نہیں ہوگی کہ کہی غلطی سے بھی منیزے کو تھوڑی سی بھی نہ لگ جاے
ورنہ وہ جتنی اسکے اوپر محنت کر رہی تھی وہ نہ چاھتے ہوے بھی سیکھ جاتا حالانکہ وہ فایٹنگ میں سب سی ایزی والا پنچ مارنا سیکھا رہی تھی
وہ ریسلنگ بیڈ سے بیچے اتر کر اے منیزے بھی حورم اور پریشے کے ساتھ جا کر بیٹھ گی
چلو عبیر اب اس میں پوری طاقت سے پنچ ماروں حورم ے عبیر کو کہا
عبیر نے اثبات میں سر ہلایا اور پنچنگ بیگ کے اگے کھڑا ہو گیا
عبیر ںے دور سے مکا تو اتںی زور سے لایا لیکن بیگ میں مارتے ہوے اسے بالکل ہلکے سے ہی مکا مارا جس سے وہ بیس کلو کا پنچنگ بیگ اپنی جگہ سے بالکل بھی نہیں ہلا
وہ تینوں جوانکھیں پھاڑ کر عبیر کو اتی طاقت سے مکا مارتے ہوے دیکھ رہی تھی وہ لا تو اتنے زور سے رہا تھا کہ بھای پنچنگ بیگ بھی ڈر گیا ہوگا کہ اب اسکی خیر نہیں
لیکن جب عبیر نے مکا مارا اور پنچنگ بیگ بالکل بھی نہیں ہلا
تینوں نے ایک ساتھ عبیر کو دیکھا اور پھر جو ان تینوں کے جناتی قہقہے نکلے
تینوں ہنستے ہوے نیچے لیٹ گی جبکے جبکے بیچارے عبیر نے ان تینوں کو اتنی بری طرح سے ہنستے دیکھ کر خجالت سے سر کھجایا
اندر اپنے کمرے میں بیٹھا زیہان جو کب سے عبیر کے ناٹک کو دیکھ رہا تھا
لیکن اس دفعہ جو اسنے کیا تھا زیہان کا خود کا ہنس ہنس کر پیٹ میں درد ہو گیا
پھر ان تینوں نے باقی کا کام کل پہ چھوڑا اور اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی جب عبیر نے پورا زور لگا کر اس میں پنچ مارا وہ اتنی دور گیا کہ واپس لوٹنا ہی بھول گیا
حورم جو سب سے اینڈ پر اس کمرے سے باہر نکل رہی تھی وہ عبیر کو کچھ کہنے کے لیے پیچھے مڑی لیکن پنچنگ بیگ اتنی دور اڑ رہا تھا
اسے پیچھے مڑتا دیکھ کر عبیر بھی گھبرا گیا تھا لیکن پھر اپنے اپ کو نارمل کیا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا اور بالکل حورم کے پاس سے نکلا
کچھ تو گڑ بڑ ہے عبیر بے شک میں نے تمھیں اپنا بھای مانا ہے لیکن منیزے میرے بہن ہے اگر سچ میں کچھ گڑ بڑ ہوی تو میں تمھیں گنجا کر دوں گی
حورم عبیر کے نکلتے ہی زور سے بڑبڑای
جبکے روم کے باہر کھڑا عبیر اپنے سلکی بالوں کو چھوتا اور اپنے اپ کو گنجا تصور کرتا أَسْتَغْفِرُ اللّٰه بول کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا
عبیر یہ تیری بہن تو بہت خطرہ ہے بچ لے اب تو اس سے عبیر خود سے ہی بولا اور پھر فریش ہونے واش روم میں چلا گیا
پھر بغیر شرٹ کے ہی باہر نکل کر سو گیا کیونکہ اسے اور زیہان کو ہی شروع سے ہی بغیر شرٹ کے سونے کی عادت تھی دونوں کو ہی شرٹ میں بالکل بھی نیند نہیں اتی تھی
ابھی اسے سوے ہوے تھوڑی ہی دیر ہوی تھی جب اسکے فون کی بیل بجی
عبیر نے انکھیں مسلتے ہوے نمبر کو دیکھا
نمبر کو دیکھتے ہی اسے خوش گوار حیرت ہوی اور جلدی سے کال اٹھای
نینا اج اتنے دنوں بعد تمھیں اپنے دوست کی یاد کیسے اگی
عبیر نے کال اٹھاتے ہوے ساتھ ہی شکوہ کر ڈالا نینا سے اسکی دوستی لنڈن کے سکول میں ہوی تھی
پھر کالج اور یونیورسٹی میں بھی ساتھ ہی پڑھے عبیر نینا کی دل سے عزت کرتا تھا
لیکن وہ صرف اسے اپنی دوست مانتا تھا یہ بات نینا بھی جانتی تھی کہ وہ صرف اسے اپنی دوست ہی مانتا ہے لیکن وہ اسے اندر ہی اندر بے حد چاھںے لگی تھی
لیکن اس بات سے عبیر بالکل انجان تھا نہ ہی یہ بات نینا کو پتہ تھی کہ عبیر ایک ارمی افیسر ہے
عبیر تمھیں میں کیسے بھول سکتی ہو تمھیں تو پتہ ہی ہے کہ اجلکل میں نے ڈیڈ کا بزنس سمبھالا ہوا ہے بس اسی میں بزی تھی نینا نے بڑے پیار سے اسے جواب دیا
لیکن میرے پاس تمھارے لیے ایک سرپرایز ہے کہ میری کل کی فلایٹ ہے پاکستان کی اور میں کچھ دنوں کے لیے تمھارے پاس ارہی ہو
نینا نے خوشی سے اسے بتایا جبکے اسکی بات پر عبیر بھی خوش ہو گیا ریلیی چلوں میں تمھیں بتانے ہی والا تھا لیکن میرے پاس تمھارے لیے سرپرایز ہے
عبیر کو لگا تھا کہ وہ اسکی شادی کا جان کر خوش ہو جاے گی لیکن وہ انے والے کل سے بالکل انجان تھا
پھر وہ قافی دیر تک عبیر سے سرپرایز کا پوچھتی رہی لیکن عبیر نے اس نہیں بتایا
پھر عبیر نے کال رکھ دی اور سونے کے لیے لیٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورم کافی دیر سے زیہان کے روم کے باہر اسی کشمکش میں کھڑی تھی کہ وہ جاے یہ نہ جاے
پھر اسنے اخر کار نہ جانے کا فیصلہ کیا اور منیزے کے روم کی بڑھنے کے لیے پیچھے پلٹی اس سے پہلے کے وہ اپنا قدم اگے کی طرف بڑھاتی
زیہان نے اچانک دروازہ کھولا اور حورم کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اپنی بانہوں میں اٹھایااور روم کے اند سے دروازہ لاک کیا
جبکے حورم پھٹی انکھوں سے اسے دیکھتی رہ گی
زیہان نے حورم کو اہستہ سے بیڈ پر لٹایا پھر اسکے ساتھ ہی لیٹ کر پہلے نرمی سے اسکے حجاب کو کھولا کیونکہ حورم یہاں بھی ملازموں کی وجہ سے سارا دن حجاب میں ہی رہتی تھی
پھر اپنی شرٹ اتاری اور اپنی شرٹ کو ایک سایڈ پر رکھی
زیہان کے شرٹ اتارنے پر حورم ہڑبڑا کر اٹھی
زیہان نے حورم کو کندھوں پہ زور دے کر واپس بیڈ پہ لٹایا شش کچھ نہیں کر رہا میں بس مجھے خود کو محسوس کرنے دوں اور ساتھ ہی اسکے اوپر جھک کر اسکی پیشانی پر اپنی پیشانی ٹکا دی اور اسے محسوس کرنے لگا
زززیہان ہٹوں پپیچھے اور اااپنی شرٹ پہنوں بے شرم کہی کے حورم اسکی قربت میں کپکپاتے لہجے میں بولی
زیہان نے اسکی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے پھر باری باری اسکی انکھوں پر ہونٹ رکھے اور پھر چہرہ اوپر کرکے حورم کے چہرے کی طرف دیکھا
جو انکھیں بند کر کے سرخ چہرے کے ساتھ گہرے سانس لے رہی تھی
زیہانکی نظر اسکے گلے میں موجود تل پر پڑی
بس یہاں اکر زیہان کا ضبط جواب دے گیا
وہ پوری شدت کے ساتھ اسکی شہ رگ پر موجود تل پر جھکا اور اسکے گلے میں اپنا لمس چھوڑنے لگا
زیہان اگر تم ایسا کروں گے تو میں چلی جا۔۔۔۔زیہان اسکے ہونٹوں کی پوری طرح سے قید میں لے چکا تھا
جبکے حورم کو سہی معنی میں اب احساس ہوا کہ اسے یہاں اکر کتنی بڑی غلطی کی ہے
زیہان نے کافی دیر بعد اسکے ہونٹوں کوازادی دی پھر انکھیں بند کرکے اپنے بے لگام جزباتوں کوبڑی مشکل سے کنٹرول کیا
زیہان اسکے سیںنے پر سر رکھا اور اسکی قمر پر پکڑ کو مضبوط کرکے انکھیں بند کرلی
حورم نے اسی پر شکر کیا کہ کم از کم اسنے اسکی جان تو چھوڑی پھر خود نے بھی اپنی انکھیں بند کر لی
ساری رات حورم کروٹ کینے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ بھی کسی جن کی طرح اس پر حاوی تھا نہ تو خود کروٹ لے رہا تھا نہ اسے لینے دے رہا تھا
جبکے اس دیکھ کر کوی بھی کہہ سکتا تھا کہ وہ بہت گہری نیند میں سو رہا تھا
حورم ساری رات سوی جاگی کیفیت میں رہی
صبح کی اذان کے وقت حورم کی انکھ کھلی اسنے رونی شکل بنا کر زیہان کو دیکھا جورات والی ہی پوزیشن میں بڑی ارام سے سو رہا تھا
اسنے اپنا اپ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن اسکی مضبوط گرفت کے اگے ہار گی
زیہان چھوڑو مجھے نماز پڑھنی ہے حورم نے روہانسی اواز میں کہا
زیہان نے کسمساتے ہوے اخر کار چھوڑ ہی دیا
حورم نے ساختہ شکر کا کلمہ پڑھا اور اپنی دکھتی کمر کے ساتھ واش روم میں وضو کرنے چلےگی
جبکے اسکے جانے کے بعد زیہان بھی کھڑا ہوا اور کبرڈ سے اپنی نماز ولی ٹوپی نکالی اور نماز پڑھنے چلا گیا
حورم وضو کرکے کے باہر نکلی تو زیہان کمرے میں نہیں تھا اسنے بند ہوتی انکھوں سے بمشکل ہی نماز ادا کی
اور بیڈ پر پھیل کر سو گی زیہان نماز پڑھ کر واپس ایا تو حورم کو ایسیے پھیل کر سوتے دیکھ کر چہرے پر خوبخود مسکراہٹ اگی
وہ صوفے پہ ہی لیٹ کر سوگیا اسے پتہ تھا حورم کی نیند پوری نہیں ہوی تھی
زیہان گہری نیند میں تھا جب اسے لگا جیسے برف کا ٹھنڈا پانی اسکے اوپر گرا ہوا ہو
وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور سامنے کھڑی حورم کو سرخ انکھوں سے گھورنے لگا
حورم کو وقت پر ہی خطرے کا احساس ہو گیا حورم نے بھاگنے کی تیاری کی جب زیہان نے اسکا بازو پکڑا
