Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 38
Rate this Novel
Power of Love Episode 38
Power of Love by Afzonia Zafar
زیہان نے ویرا کا ہاتھ پکڑا اور ایک انسو اسکی انکھ سے نکلا
ویرا نے غصے سے سامنے بیٹھے وجاہت سے بھر پور شخص کو دیکھا
اس سے پہلے کہ ویرا اپنے ہاتھ کا نشان سامنے بیٹھے شخص پہ چھوڑتی اسکی اگلی حرکت پر ششدر رہ گی
زیہان نے ویرا کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دے کر اسے اپنی طرف کھینچا
اور دوسرے ہاتھ سے اسکا ماسک کھینچ کر اتارا
اپنے سامنے حورم کو سہی سلامت دیکھ کر دل میں لگی پانچ سالوں کی اگ پر ٹھنڈک پڑ گی
زیہان نے اسے کھینچ کر گلے لگایا
حورم کہاں چلے گی تھی پتہ بھی ہے میں نے کہاں کہاں ڈھونڈا سب نے کہا تم مرگی ہو ایسے کیسے بھلا تم مجھے چھوڑ سکتی ہو میرے پیار کی طاقت ہے جو مجھے یہاں تمھارے پاس کھینچ لای
زیہان اسے گلے لگاے بہتی انکھوں سے اپنی کہے جارہا تھا
جبکے ویرا ساکت دھڑکنوں سے صرف اسے سن رہی تھی
ویرا نے غصے سے اپنے اپ کو چھڑوایا اور پیچھے ہوتے ہی ایک زوردار تھپڑ زیہان کے منہ پر جڑ دیا
زیہان نے حیرت سے حورم کی طرف دیکھا لیکن اسکی انکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کر اندر تک ٹوٹ گیا
تمھاری ہمت کیسے ہوی مجھے چھونے کی اور اول فول کہے جارہے تھے میں کوی حورم نہیں ویرا ہو بدتمیز نہ ہو تو
ویرا جیسے ہی پیچھے مڑنے لگی زیہان نے ایک بار پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ کر پھر سے گلے لگایا
نہیں حورم تمہیں پہچاننے میں کیسے غلطی کر سکتا ہو زیہان اسکی دھڑکنوں کا محسوس کرتا پختہ یقین سے بولا
روحان جو اس نرس کو کینٹین میں ہی چھوڑ کر واپس ا رہا تھا
جیسے ہی دراوزہ کھولا زیہان کو اس طرح کسی لڑکی سے گلے دیکھ کر گڑبڑایا
بھای یہ حورم نہیں ہے جس کے گلے اپ۔۔۔۔۔۔ اگلی بات اسکے منہ میں ہی رہ گی
جب ویرا نے روحان کی اواز کو سنتے ہی زیہان کو جھٹکا دے کر پیچھے کیا اور روحان کی طرف دکھ کر غصے سے شروع ہوگی
لے جاے اپنے اس سایکو بھای کو پتہ نہیں کونسا دماغی دورہ پڑا ہے اسے کسی مینٹل ہوسپٹل میں ایڈمیٹ کرواے
ویرا بولے جا رہی تھی جبکے روحان بالکل ساکت نظروں سے حورم کو دیکھ رہا تھا
لیکن اسکے غصے کی وجہ وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا مطلب اسے وہ سب یاد نہیں تھے
اگر یہ حورم ہے تو وہ کون تھی ??? لیکن یہ تو کنفرم تھا کہ وہی حورم تھی اسکی حورم اسکی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا
اسکا دل کیا وہ بھاگ کر حورم کو اپنے گلے لگا لے لیکن زیہان کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسنے جلدی سے اپنا اارادہ چینج کیا
سوری ڈاکٹر ایکچلی وہ میرے بھای کو نہ ایک بہت ہی خطرناک بیماری لگی ہے اسی وجہ سے ادھر ادھر نکل جاتے ھے
روحان نے زیہان کا ہاتھ پکڑتے ہوے کہا جس پر دونوں نے ہی سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
وہ عشق کی بیماری لگی ہے اصل میں یہ جس سے پیار کرتے ہے نہ وہ انسے کچھ دیر کے لیے تھوڑی دور چلے گی ھے اسی وجہ سے ہر لڑکی میں وہی لڑکی نظر اتی ھے
روحان نے زیہان کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کی طرف کھینچتے ہوے بولا
لیکن اسکی بات سن کر ویرا غصہ چھوڑ کر ہمدردی سے زیہان کی طرف دیکھنے لگی
اتنے میں ہی ڈاکٹر حمنہ کیبن میں داخل ہوی
کیا ہوا ینگ بوایز ابھی تک بینڈیج نہیں کروای ویرا بیٹا کوی پرابلم ہے کیا
حمنہ بیگم نے ان دونوں کو اس طرح چپ کھڑے دیکھ کر ویرا سے پوچھا
نہیں موم ایکچلی انکی طبعیت زیادہ خراب ہو گی ھے اسی لیے انکا بھای انھیں گھر لے کر جا رہا ھے ویرا نے اصل بات کو گول کرت ہوے کہا
جبکے ویرا کے موم کہنے پر دونوں نے حیرت سے حمنہ بیگم کو دیکھا مطلب سچای یہ بتا سکتی ھے دونوں کے زہن میں ایک ہی بات ای
اوکے اللہ حافظ ہم چلتے ہے روحان نے جلدی سے زیہان کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف لے گیا
جبکے حمنہ بیگم نے حیرت ان پاگل لڑکوں کو دیکھا جبکے ویرا نے اپنا سر جھٹکا اور اپنے گلوز وغیرہ اتارنے لگی
روحان پاگل ہوگے ہو کیا مجھے کیوں لے کر مجھے حورم کو اپنے ساتھ لانا تھا زیہان نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور واپس اندر جانے لگا
بھای پہلے میری بات سنے کیا مجھے خوشی نہیں ہوی حورم کو زندہ دیکھ کر اج مجھے لگ رہا ھے جیسے میں نے دنیا جیت لی ہو
لیکن کیا اپ نے نہیں دیکھا کہ حورم ہمیں نہیں پہچان رہی ھے
اسکی انکھوں میں صاف ہمارے لیے اجنبیت تھی جسکا مطلب صاف ہے کہ حورم ہمیں بھول چکی ھے مطلب اسکی یاداشت جا چکی ھے
اگر ہم ابھی حورم کو اپنے ساتھ زبردستی کرکے لاتے کیونکہ ویسے بھی حورم نے ہمارے ساتھ تو انا نہیں اتا تھا اور وہ اسکی ماما بنی ہوی ھے
کیا وہ ایسے ہی ہمیں حورم کو لے جانے دیتی اور ہمارے پاس کوی پروف نہیں ہے جس سے ہم ثابت کرسکے کہ یہی حورم ھے اور اگر یہاں کی پولیس نے ہمیں پکڑ لیا پھر ہم گے کام سے
یہ پاکستان نہیں ھے جسکی پولیس کو پیسے دیکر کام کروالے ہمیں کچھ ایسا کرنا ھے جس سے حورم کی یادداشت واپس اے
روحان نے زیہان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے معاملے کی گھمبیرتا سمجھای جو زیہان جزبات کی رو میں بہہ کر بھول رہا تھا
زیہان نے اپنی ماتھے کی پھولی ہوی رگ کو مسلا مجھے کچھ نہیں پتہ بس مجھے حورم چاہیے زیہان نے بے بسی سے کہا
بس کچھ دن اور صبر کرنا ہے پھر ہماری حورم ہمارے پاس ہوگی روحان نے اوپر کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوے کہا اور پھر زیہان کو لے کر گاڑی میں بیٹھا اور ہوٹل کی طرف روانہ ہو گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی اپنی نیند پوری کرکے اٹھا تو اس وقت رات کے دو بج رہے تھے ہادی نے ٹایم دیکھا اور اپنے مشن پر ورک کرنے کا سوچا
لیکن پہلے پیٹ پوجا کرنے کا سوچا وہ جلدی سے کچن میں گیا اور فریج کھول کر دیکھا لیکن اسکی خوش قسمتی فریج میں چکن رول رکھے ہوے تھے
ہادی نے جلدی سے اسے اون میں گرم کیا اور کھا کر ٹیرس پر ایا جہاں سے ہادی کا روم جس پر اجکل منیزے کا قبضہ تھا صاف نظر ارہا تھا
ہادی نیچے گیا اور اسکے فلیٹ کے بالکل سامنے کھڑا تھا
ہادی پایپ کے ذریعے اوپر چڑھا پھر اپنی پوکٹ سے کارڈ نکال کر اسکے روم کی کھڑکی کا لاک کھولا اور پھر اہستہ سے شیشہ کھول کر اندر داخل ہوا
ہادی اہستہ سے بیڈ کی طرف بڑھا اسے پتہ تھا منیزے کی نیند بہت پکی تھی
ہادی بالکل بیڈ کے پاس اکر کھڑا ہو گیا جہاں منیزے نایٹ بلب کی روشنی میں ہلکا ہلکا اسکا چہرہ نظر ا رہا تھاا
پانچ سالوں بعد وہ اسے چھونے جارہا تھا
ہادی نے جھک کر ایک ہاتھ سے اسکے منہ پر بکھرے بالوں کو پیچھا کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا
اس سے پہلے ہادی منیزے کے بالوں کو پیچھے کرتا تبھی منیزے نے پٹ سے اپنے انکھیں کھولی اور اسکے بڑھے ہوے ہاتھ کو پکڑا اور بیڈ پر گرایا اور خود اسکے چڑھ کر ایک ہاتھ اسکے اسکا گلا دبایا
ہادی اس سب کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھا اور حیرت سے پھٹی انکھوں سے منیزے کو دیکھنے لگا
کون ہو تم کس کے کہنے پر یہاں اے ہو منیزے کی انکھ پوری طرح سے نہیں کھلی تھی اسی لیے سامنے والے کو دیکھے بنا ہی شروع ہوگے اور اسکے گلے پر اپنی گرفت اور مضبوط کی
ہادی کو اسکا انداز بالکل ایک ایجنٹ کی طرح لگا اوپر سے صرف محسوس کرنے سے ہی اسکی انکھ کھل گی
ہادی نے ایک ہاتھ منیزے کی کمر میں ڈالا اور اپنی گرفت کو مضبوط کو مضبوط کیا اور اسے دوسری طرف گرایا
اب منیزے بالکل ہی زیہان کے نیچے تھی اور منیزے کے دونوں ہاتھوں کو اپنے کنٹرول میں لے کر اسکے اوپر جھکا
اتنی جلدی بھول گی بے بی ہادی بالکل ہی اسکے کان کے پاس جاکر سرگوشی میں بولا
منیزے کی نیند ااسکی اواز سنتے ہی غایب ہو گی
ہادی منیزے کے ہونٹوں سے ہلکی سی اواز نکلی
ہاں بے بی ویسے ماننا پڑے گا بلی شیر کی طرح بہادر ہو گی ھے خیر تو ہے کہی کوی گڑبڑ تو نہیں جسکا مجھے پتہ نہیں ھے
ہادی کے داد دینے والے انداز میں کہا لیکن بعد میں شکی نظروں سے اسکی طرف دیکھا
ہٹوں میرے اوپر سے گھٹیا انسان تمھاری ہمت کیسے ہوی یہاں انے کی اور میری روم میں انے کی منیزے اسکے شک پر گڑبڑای اور اسے اٹھنے کا کہا
میں تمھیں لینے ایا ہو چلو گھر چلتے ہے اور کتنی سزا دوں گی میری تو غلطی بھی کوی نہیں تھی لیکن تمھارے فیصلے کو مانا
لیکن کیا تم نے ایک بار بھی پوچھا میری اصلیت کیا ہے کیوں میں نے یہ سب کیا
ہادی اہستہ سے منیزے سے بولا اس سے پہلے کہ منیزے اگے سے اسے گالیاں دیتی جس کا ہادی کو بخوبی اندازہ تھا
ہادی نے اچانک ہی اسکے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور انھیں اپنی گرفت میں لے لیا
ہادی کی اس اچانک حرکت پر منیزے کا دل سو کی سپیڈ سے دھڑکنیں لگا وہ بالکل بھی مزاحمت نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ مکمل طور پر ہادی کی قید میں تھی
ہادی پوری شدت سے اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے چکا لیکن چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا
یہاں تک کے منیزے کا سانس بند ہونے لگا اور وہ زوردار مزاحمت کرنے لگی لیکن فایدہ کوی نہیں تھا
ہادی نے اپنی مرضی سے ہی اسکے ہونٹوں کو ازاد کیا منیزے گہرے سانس لینے لگی
ہادی نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور جلدی سے اٹھ کر کھڑکی کے ذریعے نیچے کود گیا کیونکہ اسے پتہ تھا منیزے اب اسے چھوڑنے والی نہیں تھی
بھاگ کہاں رہے ہو ڈرپوک ادھر تمھیں میں بتاتی ہو منیزے کھڑکی میں کھڑی ہو کر چلای
تم سے نہیں بھاگ رہا اپنے جزباتوں سے بھاگ رہا ہو کہی تمھیں جلدی ہی ماما بنانے پر مجبور نہ کر دے ہادی نے چلا کر بے باکی سے کہا
جس پہ منیزے نے سٹپٹا کر جلدی سے کھڑکی کو بند کیا اور پردے برابر کرکے اپنی سانسیں بحال کرنے لگی
اسے تو مزہ اب میں چکھاوں گی منیزے نے اپنے دماغ میں پلین بناتے ہوے غصے سے بڑبڑای
