406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 32

Power of Love by Afzonia Zafar

روحان نے کل سے کچھ کھایا ھے یہ نہیں صدیق صاحب نے کوی بک پڑھتی سارہ بیگم سے پوچھا

نہیں میں نے ا سے اتنا منایا لیکن نہ تو اسنے کچھ کھایا ھے نہ ہی کچھ پیا ھے سارہ بیگم نے صفای سے جھوٹ بولتے ھوے کہا

ورنہ س تو یہ تھا رات کو تین بجے سارہ بیگم نے روحان کو کھانا کھاتے ہوے پکڑا تھا

اور صبح اسکی روم کی صفای کرتے ہوےاسکے روم سے لیز اور بسکٹ وغیرہ کے اتنے سارے پیکٹس ملے تھے

پھر روحان نے سارہ بیگم کو منایا وہ خود بھی چاہتی تھی کہ روحان کا نکاح اس لڑکی سے ھو جاے

چلے اپ تیاری کریں اج شام کو ہم کرنل صاحب سے رشتہ مانگتے چلے ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم کا بخار تقریبا اتر چکا تھا لیکن جب سے روحان نے اسے اپنے اور پریشے کے رشتے کے بارے میں بتایا تھا

اسکا تو سارہ بخار ہی اتر گیا خوشی سے

پریشے کو کل ہی زبیر لے کر جا چکا تھا لیکن وہ حورم سے نہیں مل سکی تھی

صدیق صاحب نے جب فون کال کرکے جب پریشے کے بارے میں کہا تو کرنل صاحب نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ پریشے پر ہم سے زیادہ زبیر کا حق ھے

اسی لیے ہم سب مل کر پریشے کا رشتہ لے کر جاے گیں اگر اسنے کردی تو ٹھیک ورنہ ہماری طرف سے تو ہاں ہی ھے

اس وقت سارے زبیر کے گھر میں موجود تھے پریسے تو خوشیی سے پھولے نہیں سما رہی تھی

کہ سارے اسکے گھر میں اے ھیں لیکن ابھی تک اسے وجہ نہیں پتہ تھی کہ کیوں اے ہیں

کرنل صاحب اور صدق صاحب نے جب زبیر سے بات کی تو بھلا اسے کیا اعتراض ہو سکتا تھا اسی لیے جس دن پارٹی تھی اسی دن دونوں کا نکاح رکھا تھا

اور اسی خوشخبری کے ساتھ سارے گھر اے اور روحان کو خوشخبری دی اسکا تو خوشی سے براحال ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ولا اور صدیق ولا میں دونوں طرف نکاح اور پارٹی کی تیاریاں چل رہی تھی

لیکن اس سب میں منیزے اور حورم نے جتنے بری طرح سے نینا کو تنگ کیا کبھی اسے تیز مرچوں والا کھانا دے دیتے تو کبھی اسکے سٹیٹنر میں گلو لگا دیتے تو کبھی نایٹ کریم میں کاجل ملا دیتے

اور نینا کی چیخیں پورے گھر میں گونجتی اور سارے بجاے حورم اور منیزے کو ڈانٹنے کے خود ہنس ہنس کر انجواے کرتے

کرنل صاحب بے حد خوش تھے کہ حورم کے ا جانے سے ایک تو منیزے اپنے خول سے باہر نکل گی تھی اور دوسرا جس گھر میں ہر وقت سناٹا ہوا رہتا تھا

اب ہر وقت اس گھر ہنسی کی اواز گونجتی تھی زیہان کا تو گھر سے باہر ہی جانے کو دل نہیں کرتا تھا

ان دونوں نے اپنی چھٹیاں پریش کے نکاح کی وجہ سے بڑھوا لی تھی

جبکے جمیل ابھی تک ہو سپٹل میں انڈراوبزرویشن میں تھا

کوی ایسی صبح نہیں تھی جس دن زیہان نے حورم کو تنگ نہ کیا ہو اور

نہ ہی کوی ایسی شام تھی

جس میں منیزے کے ہاتھوں عبیر کی درگت بنی ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخر وہ دن بھی ا گیا جسکو سب سے بے صبری سے انتظار تھا

اتنے دنوں سے نینا بالکل تنگ ا چکی تھی ان دونوں لڑکیوں سے اور عبیر کے پیار سے جو منیزے کو دیکھتے ہی امڈ اتا تھا

اور جس طرح منیزے کہتی بالکل اسی طرح کرتا اج اسنے فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اج وہ عبیر کی ساری سچای منیزے کو بتادے گی

اور ان دونوں کو بہت دور کر دے گی اور اسی خوشی میں وہ جلدی جلدی تیار ہونے لگی اسے اس لمحے کا بے صبری سے انتظار تھا

جب وہ منیزے کی انکھوں میں عبیر کے لیے نفرت دیکھے گی اور جب عبیر مکمل طور پہ ٹوٹ جاے گا تو نینا اگے بڑھ کر اسے سمبھالے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اہستہ سے بیڈ سے اٹھا اس نے دیکھا حورم ابھی تک سو رہی تھی

اسکو تو میں بتاتا ہوں مجھ سے پنگا از نوٹ چنگا زیہان خود سے بڑبڑایا

وہ جلدی سے ڈریسنگ کے اگے ایا اور اسکا ہیر ڈرایر اٹھایا اور اسکے اندر جلدی سی پاوڑر ڈالا اور ڈرایر کو اچھے سے صاف کیا تا کہ حورم کو پتہ نہ چلے

اور جلدی سے جا کر بیڈ پر لیٹ گیا

تھوڑی دیر بعد حورم کی انکھ کھلی تو سب سے پہلے تو اسنے اپنی دوسری طرف دیکھا تو ذیہان ارام سے سو رہا تھا وہ اتنے ارام سے سو جاے ایسا ہو نہیں سکتا اسن ادھر ادھر مشکوک نظروں سے دیکھا لیکن اسے کہی بھی گر بڑ نہیں لگی

وہ اٹھ کر واش روم گی ادھر بھی ایسے ہی مشکوک نظروں سے دیکھا لیکن ادھر بھی کوی گربڑ نہیں تھی

حورم نے شاور لیا اور باہر ای ڈریسنگ کے اگے ا کر اسن اپنے بالوں کو ٹاول سے ہٹایا اور ڈرایر کا سوںچ لگایا اور کا منہ اپنی طرف کرکے بٹن اون کیا اور یہ ساری پاوڈر گی حورم کے منہ پر اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی زیہان کا چھت پھاڑ قہقہ سنای دی

Oh my god horam look at your face😂 oh my god

ذیادہ ہسنے کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا

حورم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور غصے سے بولی

just wait and watch my ugly hubby

اگلی کہنے پر زیہان کی ہنسی پل بھر میں غایب ہوی جو اسکے خوب صورت چہرے کو اگلی کہہ رہی تھی

لیکن حورم کی شکل دیکھ اسکی ہنسی پھر سے نکل گی

کیونکہ وہ اس وقت کسی اتمہ سے کم نہں لگ رہی تھی

اسے اس طرح ہنستے دیکھ کر وہ غصے سے واش روم میں بند ہوگی

پیچھے زیہہان نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا جسکی وجہ سے اسکی اتنی بدصورت زندگی اتنی خوبصورت ہو گی جہاں پھلے خون ہی خون اب وہاں خوبصورت ہنسی کی اوازے تھی وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا لیکن کیا یہ خوشیاں ہمیشہ رہنے والی تھی یہ پھر ……..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحان اج جتنا خوش تھا اسکا کوی حساب نہیں تھا

لیکن پھر بھی پتہ نہیں اسکا دل اتنا کیوں گھبرا رہا ہے

روحان کا بس نہیں چل رہا تھا کسی طرح اڑ کر وہ حورم کے پاس پہنچ جاے

لیکن نہ تو سکے بابا حورم کو لا رہے تھے نہ ہی منیزے اور عبیر حورم کو انے دےرہے تھے

روحان جلدی سے تیار ہوا کیونکہ پہلے ان دونوں کا نکاح ہونا تھا پھر بعد میں پارٹی شروع ہونی تھی یہ روحان ہی کی ضد تھی

اسی لیے ان لوگوں کو پہلے زبیر کے گھر جانا تھا پھر بعد میں شاہ ولا جانا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منیزے جلدی سے تیار ہو کر حورم کے کمرے کی طرف بڑھی

دروازہ نوک کرکے اندر داخل ہوی لیکن حورم ابھی تک شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بالوں کو بری طرح س کنگی کر رہی تھی

حورم یہ کیا تم ابھی تک تیار نہیں ہوی اور بالوں پہ اتنا ظلم کیوں کر رہی ہو ادھر تو میں کنگی کرتی ہو تمھارے بالوں کو پاگل

حورم نے رونی شکل بنا کر منیںزے کو دیکھا اور کنگی اسے پکڑا دی

ویسے تم کیوں اتنی جلدی تیار ہو گی ابھی تو ٹایم ہے

حورم نے منیزے کو شیشے میں سے دیکھا جو اسمان سے اتری ہوی کوی حور لگ رہی تھی

حورم اور منیزے کے سیم بلیک کلر کا شرارہ تھا جبکے نینا نے جان بوجھ کر لہنگا لیا تھا

وہ کیا ہے نہ جب تک باجی کو تنگ نہ کر لے تب تک ایسا لگتا ھے دن کی شروعات ہی نہیں ہوی منیزے نے شرارت سے حورم کی طرف دیکھتے ہوے کہا

جس پر دونوں کے ایک ساتھ قہقہ لگایا

واش روم سے باہر نکلتے ہوے زیہان نے ان دونوں کے باتیں سنی اور نفی میں سر ہلایا کہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا

مطلب اج پھر نینا کی چینخیں سننے کو ملے گی

زیہان نے کھڑے ہو کر حورم کی طرف دیکھا پتہ نہیں اسے کچھ ایسا لگ رہا تھاجیسے کچھ برا ہونے والا ہے

لیکن پھر سر کو جھٹکتے ہوے منیزے کی طرف بڑھا

اج تو میرے گڑیا بہت پیاری لگ رھی ھے زیہان نے اگے منیزے کو گلے لگایا

جس پر منیزے نے مسکراتے ہوے تعریف وصول کی

بھای جب اپکی بیوی تیار ہو گی نہ تو اپکو سب سے زیادہ پیاری اپنی بیوی لگے گی میں تو کیا اپکو کوی بھی نظر نہیں اے گا

اسکی بات پر زیہان ہلکا سہ مسکرایا اور کمرے سے باہر نکل گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان ساری تیاری ہو گی نہ اج تمھارا کام ہو جاے گا

جی ڈیڈ سب کام ہو گیا اج حورم میری ہو جاے گی کسی نے بھی نہیں سوچا ہو گا کیسے

کسی کے تو خیالوں میں بھی نہیں ہو گا اج میں کیا کرنے والا اسکے چہرے پر مکروہ ہنسی تھی اور انکھوں میں شیطانی چمک