Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419

Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Last updated: 8 December 2025

406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love by Afzonia Zafar

ھاں تو تمھارا نام کیا ہے اور تم کام کیا کرتے ہو حورم نے زیہان کی طرف دیکھتے ہوے کہا
اور زیہان بیچارےکو بمشکل ہارٹ اٹیک اتے ہوے بچا
اگر اسکو پتہ چل گیا نہ میں کون ہو تو میرا نام سن کے ابھی اسکی موت واقع ہوجاے گی لیکن میں تھوڑا چاہتا وہ بیچارہ پہلی مرتبہ زندگی میں پریشان ہوا تھا
ہاں تو میرا نام زیہان خان ہے اور میرا خود کا بزنس ہے زیہان نے مر ے لفظوں میں اپنا تعارف کروایا
ارے تم وہی تو زیہان خان نہیں جسنے کافی مرڈر کیے ہے لڑکیوں کے ریپ کرنے والوں کے ہے نہ حورم جوش سے بولی
اور زیہان بے چارے کا پاوں بے ساختہ بریک پر پڑا
ہاں میں وہی ہوں وہ مری سی اواز میں بولا کیا چیز ہے یہ جو مسلسل اسے جھٹکے پہ جھٹکے دیے جا رہی تھی اور گاڑی پھر سے سٹارٹ کی
سچ میں تمھیں پتہ ہے میں تمھاری کتنی بڑی فین ہو بلکہ میں ہی نہیں میری پوری فیملی تمھاری بہت بڑی فین ہے وہ جوش سے اسے بتاے جارہی تھی
اور زیہان کہ لگ رہا تھا وہ اج پاگل ہو جاے گا
لیکن شکر تھا کہ یو نیورسٹی ا گی تھی اس سے پہلے کہ حورم اترتی زیہان جلدی سے بولا
سنو اپنا نام تو بتاتے جاوں
حورم صدیق نام ہے میرا نام بتا کر جلدی سے باہر نکل گی
وہ کافی دیر تک مسکراتے ہوے اسکے پشت کو دیکھتا رہا اور اگے بڑھ گیا
وہ شاید زندگی میں پہلی مرتبہ دل سے مسکرایا ہوگا
اسنے اپنا فون نکالا اور ایک کال ملای
ہاں جاوید ایک لڑکی ہے حورم صدیق اس یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اسنے یو نیورسٹی کا نام بتایا ایک گھنٹے کے اندر اندر مجھے اسکی ساری انفارمیشن مجھے چاھیے اور تم اچھے سے جانتے ہو میں تمھیں کیوں دے رہا ہوں
جی بھای جانتا ہوں کیونکہ اپ مجھ پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہے اگے سے جاوید خوشی سے بولا اور شاید زیہان خان کی زندگی میں وہ واحد بندہ تھا جس پر وہ انکھیں بند کرکے بھروسہ کرتا تھا جسے وہ ملازم نہیں چھوٹا بھای مانتا تھا جس سے وہ اپنے مزاج کے خلاف نرمی سے بات کرتا تھا جو اسکی زندگی کی تلخ ترین حقیقت س واقف تھا
اور زیہان جو کہ ایک اہم کام سے نکلا تھا وہ سرے سے ہی بھول گیا لیکن وقت اب نکل چکا تھا لیکن فکر کسے تھی
اسنے گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف واپس مڑ گیا.