Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 31
Rate this Novel
Power of Love Episode 31
Power of Love by Afzonia Zafar
پاپا مجھے اپ سے بات کری ھے روحان صدیق صاحب کے بالکل پاس بیٹھتے ھوے بہت ہی محبت سے گویا ہوا
ہاں بولو صدیق صاحب نے روحان کی طرف دیکھتے ھوے کہا کیونکہ انھیں پتہ تھا اسے ضرور کوی کام ہے ورنہ وہ اور ایسے ناممکن
پاپا مجھے اور کو ہر چیز ایک ساتھ اور ایک جیسی ملی ہے نہ روحان نے بہت ہی چالاکی سے اپنی بات کا اغاز کیا
صدیق صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اتنے میں میں سارہ بیگم نے چاے کا کپ صدیق صاحب کی طرف بڑھایا اور خود روحان کے ساتھ بیٹھ گی
تو پاپا حورم اب ترقی کر گی ھے مطلب اسنے بھی شادی کر لی ہے تو میں بھی شادی کرنا چاہتا ہو
تو تمھارے کہنے کا مطلب ہے اب تمھیں بھی زیہان سے شادی کرنی ہے صدیق صاحب نے روحان کی اس ساری بات کا مطلب نکالتے ہوے کہا
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه پاپا میں نے ایساکب کہا روحان اپنی جگہ سے بدکتا ہوا بولا
تو کیا کہنے کا مطلب ہے تمھارا سارہ بیگم اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوے بولی
میں زیہان پھای سے تو نہیں لیکن اسکی بہن سے شادی کرنا چاہتا ہو
روحان نے سیریس انداز اپناتے ہوے کہا
روحان تم ابھی چھوٹے ھو ایک لڑکی کی زمہ داری تم نہیں اٹھا سکتے ھو اور کیا کہوں میں کرنل صاحب کو کہ میرا بیٹا صرف اپنی بہن حورم کی نقل اتارتا ھے اس دفعہ صدیق صاحب بھی سیریس ہوتے بولے
نہیں پاپا میں بس ابھی نکاح کروں گا اور رخصتی اپ جب کروا دینا جب میں کچھ بن جاوں گا
روحان میں نے اج تک تمھاری ساری باتیں مانی ھے بٹ سوری بیٹا میں اپکی یہ بات نہیں مان سکتا ہو صدیق صاحب نے بالکل سیریس ہوتے کہا
تو ٹھیک ھے پاپااپ جب تک بات نہیں کروں گے میں تب تک نہ کچھ کھاوں گا نہ کچھ پیوں گا روحان نے ضدی لہجے میں کہا
بیٹا میں بھی تم لوگوں کا باپ ہو سب جانتا ہو تم اور حورم کبھی بھی کھانے کے بغیر نہیں رہ سکتے ہو صدیق صاحب نے مسکراتے ہو کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلے گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیہان اپنے کمرے میں ایا تو حورم کمبل کو اوپر تک لیے سو رہی تھی
زیہان نے حیرت سے دیکھا کیونکہ وہ عموما اس وقت منیزے اور پریشے کے ساتھ ہوتی ھے
اج میرا چھوٹا بومب اتنی جلدی کیسے سو گیا زیہان مسکراتے ہوے بیڈ کی طرف بڑھا
اور کمبل کو ہٹا کر خود بھی ساتھ لیٹ گیا حورم نے دوسری طرف کروٹ لی ہوی تھی اس لیے زیہان نے اسکا رخ اپنی طرف کرکے اپنے حصار میں لیا
لیکن حورم کو چھوتے ہی وہ بری طرح ٹھٹکا کیونکہ اسکا پورا جسم کسی انگارے کی طرح جل رہا تھا اور اسکی رنگت بے حد سرخ پڑ چکی تھی
حورم اٹھو ایم ریلی سوری میری وجہ سے تمھیں اتنا تیز بخار گیا
حورم اٹھو پلیز ایک مرتبہ اپنی انکھیں کھولو زیہان کی جان پر بن ای اسکا اتنا تیز بخار دیکھ کر
وہ جلدی سے اٹھا اور کبرڈ سے اپنی سرٹ نکالی اور اسے پھاڑ کر دو تین پٹی بنای اور ٹیبل میں پڑے جگ میں پڑے پانی میں ڈبو دیا
جلدی سے حورم کا حجاب کھولا اور اسکا سر اپنی گود میں رکھا
اور پٹی کو اسکے ماتھے پر رکھنے لگا
کم از کم ادھا گھنٹہ ہو گیا اسے پٹیا کرتے ھوے جب حورم کا بخار کا بخار تھوڑا کم ہوا اور اسے اپنی مندی مندی انکھیں کھولی
حورم زیہان نے بے تابی سے اسکی کھولتی انکھوں کو دیکھ کر پکارا
حورم نے ہلکا سہ مسکراتے ہوے زیہان کو چہرہ اوپر کرکے دیکھا کیونکہ اسکا سر اسکی گود میں تھا
تم نے میری جان ہی نکال دی تھی حورم زیہان نے اپنے اپ کو ریلیکس کرتے ہوے کہا ورنہ دل تو اسکا اب بھی سو کی سپیڈ س دوڑ رہا تھا
اتنے میں ہی ڈر گے حورم نے بالکل ہی اہستہ اواز میں کہا
ہاں ڈر گیا تمھیں اگر مزاق میں بھی کچھ ہو جاے میں یہ بھی برداست نہیں کروں گا اور میرا بس نہیں چگ رہا میں کیسے اس بخار کو اپنے سر لے لو زیہان نے بے بسی سے کہا
اور جھک کر اسکی گرم پیشانی پر اپنے لب رکھے
زیہان میں ٹھیک ہو اب تم بھی سوجاو حورم نے اسکی گود سے بیڈ پر سر رکھتے ہوے کہا
نہیں حورم میں ٹھیک ہو جب تک تم ٹھیک نہیں ہو جاوں گی مجھے نیند نہیں اے گی زیہان نے اسکے سر پر پھر سے پٹی رکھتے ہوے بولا
زیہان اگر تم نہ لیٹے تو میں اٹھ کر بیٹھ جاوں گی حورم نے بامشکل اپنی انکھوں کو کھولتے ھوے دھمکی دی
دھمکی دیتے ہی زیہان اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا
اج نہیں سر رکھوں گو حورم نے بند انکھوں سے کہا
نہیں اج تمھای چھٹی ھے سو جاوں تم زیہان نے حورم کا سر اٹھا کر اپنی بازو پہ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے سر میں انگلیاں چلانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبیر چلو میرے ساتھ اج پریکٹس نہیں کرنی منیزے نے غصے سے اسے نینا کے پاس بیٹھے دیکھ کر بولی
ہاں چلو عبیر بھی منیزے کے تیور دیکھ کر جلدی سے اٹھ گیا
کس چیز کی پریکٹس کروارہی ھوں تم منیزے نینا نے بے حد میٹھے لہجے میں کہا حلانکہ پتہ تو اسے بھی چل گیا تھا
بس ویسے ہی فایٹنگ کی نینا باجی منیزے کو تو اب یاد ایا کہ نینا ان لڑکیوں سے بہت زیادہ بڑی تھی کیوں نہ اسے باجی کہ کر چڑایا جاے
واٹ باجی اور عبیر کو تو ویسے بھی فایٹنگ کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ عبیر تو خود اگے سے نینا نے جان بوجھ کر بات چھوڑ دی کیونکہ عبیر اسے ہی گھور رہا تھا
نینا نے منیزے کے دیکھ کر پریشان ہونے کی ایکٹنگ کی
کیونکہ عبیر خود کیا اگے بولو عبیر یہ چپ کیوں ہوگی
منیزے نے اگے اتے ھوے تیز لہجے میں بولی
نہیں میرا مطلب یہ تھا عبیر اتنا امیر ھے اوپر سے اسکے گارڈذ اسکے ساتھ رہتے ھے تو اسے کیا فایٹنگ کی ضرورت ھے
نینا جان بوجھ کر اپنا گربڑاتے ھوے بنایا اور بات کو کلیر کیا
نینا کی بات سن کر منیزے بالکل ہی پرسکون ہوگی
جبکے نینا کو لگا تھا منیزے اسکی بات سن کر ٹینشن میں اجاے گی پھر اس سے پوچھنے کی کوشش کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ھوا
منیزے نے دو قدم اگے بڑھ کر عبیر کا ہاتھ پکڑا اور جم روم کی طرف بڑھ گی اور نینا پیر پٹکتی اپنے روم کی طرف بڑھ گی
پھر اسنے اسکی پریکٹس کروای لیکن اج فایدہ یہ ہوا تھا عبیر کو پنچ مارنا اگیا تھا۔
ا
منیزے تھک کر اپنے کمرے میں چلے گی اور عبیر اپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دو بج حورم کی انکھ کھلی تو دیکھا زیہان ابھی تک اسک بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا
اسکا بخار پہلے سے تو کم تھا لیکن اسے بے حد کمزوری محسوس ہورہی تھی اور اسکا گلا بے انتہا کڑوا ہو رہا تھا
زیہان حورم نے اہستہ سے اسکے گال پر ہاتھ رکھا
ہاں زیہان نے ایک سیکنڈ سے پہلے انکھ کھولی تم ٹھیک ہو سر میں درد تو نہیں ہو رہا لیکن بخار تو پہلے سے کم لگ رہا زیہان پریشانی سے ایک کے بعد ای سوال پوچھنے لگا
زیہان پہلے سانس تو لے لو مجھے کچھ نہیں ہوا لیکن مجھے بھوک لگ رہی ھے اور مجھے کچھ چٹ پٹا کھانا ہی ابھی
زیہان نے حیرت سے انکھیں پوری کھول کر اسکی طرف دیکھا پھر اہستہ سے اٹھا
مجھے بھی ساتھ لے کر جاو کچن میں حورم نے اگلی فرمایش کی
حورم مجھے کیا لگ رہا ہے تمھارا بخار سر کو چڑھ گیا ہے
زیہان نے اسکی رات کے اس وقت عجیب و غریب فرمایش پر گھورا
اور پھر ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جسے حورم نے پکڑ کی کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن بے حد کمزوری کی وجہ سے اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا
زیہان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا پھر اپنی گود میں اٹھا کر اسے کچن کی طرف لے گیا
زیہان نے حورم کو اہستہ سے وہاں پڑی چیر پر بٹھایا اور خود سینڈوچ بنانے لگا
دس منٹ میں زیہان نے سینڈوچ بنا کر اسے دیا اور حورم بڑے مزے سے کھانے لگی اور زیہان وہاں ٹیک لگا اور ہاتھ باندھ کر حورم کو دیکھنے لگا
تم بھی کھاوں نہ حورم ے زیہان کو مسلسل اپنی طرف گھورتے دیکھ کر پوچھا کہ شاید اسکا بھی کھانے کو دل کر رہا ھے
نہیں اس وقت میرا کچھ اور کھانے کو دل کر رہا ہے زیہان کی نظریں مسلسل اسکے ہلتے ہونٹوں پر تھی
اسکی بات پر حورم نے اپنےکندھے اچکاے اور کھانے لگی
ہو گیا ختم اب چلے کمرے میں حورم نے پلیٹ زیہان کی طرف بڑھاتے ہوے کہا
زیہان نے پلیٹ کو سنک میں رکھا اور حورم کو گود میں اٹھا کر اپنے روم میں لا کر بیڈ پر لٹایا اور کمبل اسکے اوپر سیٹ کیا
اور خود اسکے اوپر جھک گیا
یہ کیا کر رہے ھوں ہٹوں پیچھے زیہان کو اپنے اوپر جھکتا دیکھ کر حورم گڑبڑا کر بولی اور سینے پر دونوں ہاتھوں کو رکھ کر اسے روکا
میں ن تمھارے لیے اتنی محنت کی ھے مجھے کچھ انعام وغیرہ تو ملنا چاھیے نہ زیہان کی ابھی تک نظریں اسکے ہونٹوں پر تھی
اور حورم کا جواب سنے بغیر اسکے گرم ہونٹوں کو اپنے ٹھنڈے ہونٹوں میں قید کرلیا
