406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 25

Power of Love by Afzonia Zafar

زبیر شاہ ہاوس گیا تو دل بے انتہا بوجھل ہو گیا

اب اسکی اجالا اس سے دور ہو جاے گی وہ لاونج کی طرف بڑھا وہاں سے ہنسنے کی اواز ارہی تھی ان اوازوں سے ہی پتہ چل رہا تھا اج اس گھر کے مکین کتنے خوش ہے

بھای پریشے زبیر کو دیکھتے ہی بھاگ کر اسکے گلے لگی

بھای میں کب سے اپکا ویٹ کر رہی تھی اور اپ اب اے ہیں جب کے زبیر نے خوشی سے اسے بھینجا وہ یہ بات کیسے بھول گیا کہ اسکی اجالا اس سے کتنی محبت کرتی ہے

پھر سب نے مل کر ڈنر کیا جب جانے کا وقت ہوا تھا تو سارے ہی اسی کشمکش میں تھے اب بس پریشے کی فیصلے کا انتظار تھا

تو میں زبیر بھاے کے بغیر بھی نہیں رہ سکتی نہ ہی اپنی فیملی کے بغیر اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے میں بارہ گھنٹے ادھر رہوں گی

بارہ گھنٹے ادھر اسکے اس فیصلے زبیر تو بہت خوش ہوا جبکے باقی سب کی اسکے معصومانہ فیصلے سے ہنسی نکل گی

تو اگلے سنڈے کو ہم گھر میں چھوٹی سی پارٹی رکھے گے پریشے کے واپس انے کی خوشی میں کرنل صاحب ے بھی اپنا ارادہ بتایا جس پر سب نے ہاں میں سر ہلایا

پھر تھوڑی دیر بعد روحان اور زبیر بھی گھر چلے گے جبکے منیزے اور حورم کی ضد پر پریشے اج یہی رک گی تھی

اس وقت لونج میں عبیر اور زیہان ہی تھے وہ تینوں اپنے روم میں چلے گی تھی جبکے کرنل صاحب اپنے روم میں چلے گے تھے ریسٹ کرنے کے لیے

زیہان یار تمھاری بیوی کو پولیس میں ہونا چاھیں عبیر نے اج دن کا واقع یاد کرتے ہوے کہا

جبکے زیہان نے ناسمجھی سے عبیر کی طرف دیکھا

پھر عبیر نے اسے ساری بات بتای جسے سن کر زیہان کی زوردار قہقہ نکلا

یار ماننا پڑے گا ویسے تیری ہوا ٹایٹ کردی حورم نے زیہان نے ہنستے ہوے عبیر کا مزاق بنایا

اتنے میں منیزے حورم اور پریشے تینوں اگی

بھای ہمیں عبیر سے کچھ کام ہے ہم اسے اپکے جم روم میں لے کر جارہے منیزے نے زیہان کے سر پر کھڑے ہوکر کہا

ہاں ٹھیک ہے لے جاوں میں اپنے روم میں جا رہا اور حورم پلیز کیا تم ایک کپ کافی بنا کر دے جاوں گی میرے روم میں زیہان نے عبیر کی مدد مانگتی نظروں کو نظرانداز کرتے ہوے حورم سے کہا

کیوں تمھارے ہاتھ ٹوٹ گے ہے جو میں کافی بنا کر دوں حورم نے منہ بگاڑ کر زیہان کو سیدھا جواب دیا

جبکے عبیر زیہان کی بستی پر دل کھول کر قہقہہ لگایا اور تھوڑی دیر پہلے کا بدلہ

جبکے زیہان اس چھوٹے بوم کو دیکھ رہا تھا پھر مسکراتے ہوے اسکا ہاتھ پکڑا

تم لوگ جاوں مجھے اپنی بیوی سے کافی کیسے بنوانی ہے مجھے اچھے سے پتہ ہے

اسکے کہتے ہی وہ تینوں ایک سیکنڈ میں غا یب ہوگے جبکے حورم انہیں روکتی رہ گی

تو جاناں تم مجھے کافی بنا کر نہیں دے رہی تو کوی بات نہیں اس وقت میں میٹھے سے بھی کام چلا لوں گا کہتے ساتھ ہی اسے ایک جھٹکا دیا اور اسے اپنی گود میں اٹھالیا

اج سے تم میرے روم میں سووں گی اگر نہیں ای تو مجھے اچھے سے پتہ ہے مجھے کیا کرنا اور ویسے بھی اب ہمارا سیدھا ولیمہ ہوگا

نانو نے انکل سے بات کرلی ہے وہ روم میں داخل ہوتے ہوے بولا اور ٹانگ سے دروازہ بند کیا جبکے اسکی انکھوں کی خماری دیکھ کر حورم کے چہرے کی ہوایںاں اڑ گی

لیکن مجھے۔۔۔۔۔۔۔باقی کے لفظوں کو زیہان نے اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا اور اہستہ سے بیڈ پر لٹایا لیکن وہ اس سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیجھے نہیں ہٹا

اور خود اسکے اوپر جھک گیا حورم کا سانس بند ہونے لگا تبھی زیہان نے اسکے ہونٹوں کو ازاد کیا اسکے ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر خود اسکے گلے میں جھک گیا

حورم کا چہرہ لال انگاری بن گیا تھا

زیہان چھ چھوڑوں مجھے حورم ںے پھولے سانس کے ساتھ اس پیچھے ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ مکمل طور پر اسکی قید میں تھی

حورم تبھی باہر سے پریشے کی اواز ای حورم نے جلدی سے زیہان کو پیچھے کیا اور کھڑی ہوی

تبھی زیہان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اج تم ادھر سووں گی ورنہ میں خود تمھیں اٹھا کر لے اوں گا اور تم یہ بات اچھے سے جانتی ہوں ایسا کرنے میں مجھے بالکل بھی شرم نہیں اے گی

حورم نے اثبات میں سر ہلایا اور ہاتھ چھڑا کر باہر کی طرف بھاگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم پریشے کے ساتھ زیہان کے جم روم میں داخل ہوی اسے لگا جسے وہ جم میں ہی اگی ہو

وہ روم ہی اتنا بڑا تھا اسنے حیرت سے اس روم کو دیکھا اور زیہان کی بوڈی دماغ کے پردے میں لہرای تبھی اسکے اتنے ڈولے شولے بنے ہوے تھے

اسنے منیزے کی طرف دیکھا جو عبیر کو شرٹ دے رہی تھی لیکن وہ مسلسل انکار کر رہا تھا

حورم نے اگے بڑھ کر اس سے وجہ پوچھی ہو کیا رہا ہے

دیکھو میں اسے کہہ رہی ہو کہ شرٹ پہن لو پھر تمھیں میں فایٹنگ سکھا دیتی ہو اگے موم کی گڑیا جواب دے رہی ہے کہ مجھے اس سلیولیس شرٹ میں تم لڑکیوں کے سامنے شرم اے گی

عبیر نے کھا جانے والی نظروں سے میزے کو دیکھا موم کی گڑیا نام دینے پر لیکن جلد ہی اپنی نظروں پہ قابو پا لیا

اسے کیا پتہ تھا اسکے میزے کے ساتھ کیے جانے والا مزاق اس پر اتنا بھاڑی پڑنے والا ہے اب بیچارہ اس شرٹ کو کیسے پہنتا اس کی تو بوڈی ہی اتنی اچھی بنی ہوی تھی اور اسے پتہ تھا حورم کو جو اسکے اوپر شک تھا وہ یقین میں بدل جاے گا

اور اسکے کسرتی بازو انھیں چھپانے کے لیے تو اج تک منیزے کے سامنے کھلی شڑٹس ہی پہنتا ایا ہے

حورم اور پریشے کا چھت پھاڑ قہقہہ نکلا موم کی گڑیا کہںے پر