406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 24

Power of Love by Afzonia Zafar

ارمان نے حیرت سے حورم کی جرت کو دیکھا مطلب اسنے حورم کے بارے میں جو سنا تھا وہ سچ سنا تھا

تمھاری ہمت کیسے ہوی مجھے ہاتھ لگانے کی حورم اس پردہ پوش کی طرف غصے سے دیکھ کر پھنکاری

حورم نے اسے اسی طرح کھڑے دیکھ کر دوسرا تھپڑ مارنا چاہا لیکن ارمان نے اسکے ہاتھ بیچ میں ہی پکڑ لیا

نہ نہ اب دوبارو یہ غلطی مت کرنا میں تو تجھے صرف سمجھانے ایا ہو ابھی میرا تیرے ساتھ کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے ورنہ یہ بات تو نہیں جانتی کہ میں کیا کر کرسکتا ہو

یہ میری اخری وارننگ سمجھ لے کیونکہ تیرے باپ کو میں پہلے ہی دو تین وارننگ دے چکا ہو لیکن وہ تو بہت اکڑ رہا ہے

جس لڑکے سے تیرا نکاح ہوا ہے نہ صرف سات دن ہے تیرے پاس اس لڑکے سے طلاق لے کر گھر واپس جا اور چپ چاپ میرے سے نکاح کر لے رانی بنا کر رکھوں گا

اور اگر تونے میری بات کو سیریس نہیں لیا تو ٹریلر کے لیے تیار رہنا

اور ہاں میری بات کو مزاق سمھے کی غلطی مت کرنا یہ جو اس لڑکے اور اسکی بہن پر اور بھای پر جان لیوا حملہ ہوا تھا نہ یہ میں نے کیا تھا

اسے زندہ اسی لیے چھوڑا تاکہ تو خود اس کام کو کرے لیکن نہیں تیرے باپ نے تو تجھے اس بات کے بارے میں پتہ بھی نہیں چلنے دیا

ارمان اخری بات میں جھوٹ بول گیا اسے پتہ تھا اگر وہ جھوٹ نہیں بولے گا تو یہ لڑکی اسکی بات کو سیریس نہیں لے گی

اور اسکا ہاتھ چھوڑا جسے وہ مسلسل چھڑوانے کی کوشش میں تھی اور باہر نکل گیا حورم حیرت سے نقاب پوش کو دیکھتی رہ گی

مطلب حورم کی وجہ سے زیہان منیزے اور عبیر موت کی جنگ لڑ کر واپس اے تھے

اسکی وجہ سے زیہان کی جان خطرے میں تھی حورم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی کو دبایا

لیکن حورم اس وقت یہ بات بھول گی تھی وہ زیہان شاہ تھا جسکےنام سے ہی لوگ کانپتے ہے

یہ دو ٹکے کا ادمی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے لیکن ارمان نے اتنی چالاکی سے اسکے دماغ میں اپنی باتیں ڈالی کہ اور کچھ اسے سمجھ ہی نہیں ا رہا تھا

اسنے اپنے چہرے کو اچھے سے صاف کیا اور روحان کو کال کی اور مال کا نام بتایا اور باہر نکل گی اسنے اجالا کو دیکھا جو باہر کسی چیز کو خرید رہی تھی اسنے منیزے کو ادھر ادھر دیکھا

لیکن وہ اسے کہی نظر نہیں ای اسنے وہی بیٹھ کر اسکے انتظار کرے کا سوچا اتنے میں عبیر بھی اگیا لیکن حورم کا دماغ ارمان کی باتوں میں ہی اٹکا ہوا تھا

اسے نہیں پتہ وہ کب زیہان سے اتنا پیار کرنے لگی کی اسکے بارے میں کچھ غلط سوچ کر ہی اسکی روح تک کانپ رہی تھی

اتنے میں منیزے بھی اگی لیکن منیزے کا چہرہ بے انتہا سرخ تھا عبیر کی نظر منیزے کے چہرے پر پڑی تو اسے اتنے کیے پر بے انتہا کا افسوس ہوا

حورم سب کچھ بھول کر منیزے کی طرف بڑھی منیزے کیا ہوا تمھاری طبعیت تو ٹھیک ہے نہ حورم نے پریشانی سے منیزے سی پوچھا

حورم میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ہم پھر کبھی دے گے ابھی گھر واپس چلو منیزے سے سرخ چہرے سے کہا

اتنے میں روحان بھی اگیا حورم جو روحان کے ساتھ اپنے گھر جانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن منیزے کی طبعیت کو خراب ہوتے دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لیا

جبکے روحان تو اجالا کو دیکھ کر کھل گیا اتنے دنوں سے وہ اسکے حواسوں پر سوار تھی اجالا کو دیکھ کر اسکی پوری کی پوری بتیسی نکل گی

اجالا تم ایسا کروں ابھی ہمارے ساتھ چل دوں شام کو اپنے گھر چلے جانا حورم نے اجالا کو مخاطب کیا

نہیں حورم تم لوگ جاوں میں بھای کو کال کر دیتی ہو وہ اجاے گے مجھے لینے اجالا نے انقار کر دیا کیونکہ انکے گھر جانا مطلب پھر سے کرنل صاحب سے مل کر اسی کیفیت کا شکار ہونا

جبکے اجالا ابھی تک زیہان سے نہیں ملی تھی

نہیں اجالا تمھیں میری قسم تم ہمارے ساتھ چل رہی ہو منیزے نے اگے بڑھ کر اجالا کا ہاتھ تھام کر کہا

بس یہی اجالا پگھل گی بھلا وہ کیسے اس لڑکی کو انکار کرسکتی تھی جسے دیکھ کر ہی اس اتنا اپنا پن محسوس ہوتا تھا

ٹھیک ہے چلوں اجالا نے منیزے کو ہاں کرتے ہوے کہا چلو پھر گھر چلتے ہے روحان نے اجالا کی طرف دیکھتے ہوے کہا

جبکے میزے نے پیچھے مڑ کر عبیر کو دیکھا جو انتہای معومیت سے نظر جھکا کر کھڑا تھا

اور اس پاس کی لڑکیا ں اسے تاڑنے میں مصروف تھی

وہ لوگ سب شاپنگ مال سے نکل کر پارکنگ کی طرف بڑھے جب منیزے کے کانوں میں ساتھ میں سے گزرتے ہوے عورتوں کی اواز پڑی

ارے پارکنگ میں کسی نے ایک لڑکے کو اتنی ے دردی سے مارا ہے مجھے نہیں لگتا وہ لڑکا بچ بھی جاے گا اسکے ہاتھ کو کسی نے اتنی بری طرح سے کچلا ہے کہ توبا پتہ نہیں کون اتنا ے رحم تھا اللہ معاف کرے

اسی ٹایم اجالا اور حورم نے بھی ان عورتوں کی طرف دیکھا شاید انہوں نے بھی ان عورتوں کی باتوں کو سن لیا تھا

حورم نے بے ساختہ نظر گھما کر عبیر کو دیکھا جو بے پرواہی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوے چل رہا تھا

روحان تمھاری کار کہاں ہے حورم نے روحان سے پوچھا جو انکے ساتھ ہی اگے بڑھ رھا تھا

وہ جب تمھاری کال ای تھی تب میں بابا کے ساتھ تھا تو بابا نے مجھے ادھر ڈراپ کر دیا اور خود گھر چلے گے

روحان نے خوشی سے بتایا کیونکہ اب اجالا بھی انہی کے ساتھ جارہی تھی مطلب قسمت اسکے اوپر اچھے سےمہربان تھی

وہ سب اپنی کار میں بیٹھ گے روحان اور عبیر اگے بیٹھے تھے جبکے وہ تینوں پیچھے بیٹھی تھی

منیزے مسلسل سوچ رہی تھی اگر عبیر ایک بہادر لڑکا ہوتا تو کسی کی ہمت نہیں ہوتی اسکی طرف دیکھنے وہ اپنی اور منیزے کی حفاظت کر سکتا تھا

منیزے نے سوچ لیا تھا اب اسے اگے کیا کرنا ہے

وہ اس سوچوں میں گم تھی جب عبیر کی جھنجلای ہوی اواز اسکے کانوں میں پڑی

کیا مصیبت ہے یہ راستہ کیوں بند ہے عبیر نے شیشہ کھول کر ساتھ والی گاڑی میں بیٹھے ادمی سے پوچھا

بھای اگے دو تین گاڑیوں کا بہت بری طرح سے ایکسیڈنٹ ہوا ہے ایک گاڑی میں شاید بلاسٹ بھی ھوگیا ہے اسی لیے اگے سے راستہ بند کر دیا ہے

اس ادمی نے تفصیل سے بتایا شاید وہ بھی راستے کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھا

عبیر نے پیچھے دیکھاوہ تو شکر تھا پیچھے ابھی تک کوی گاڑی نہیں ای تھی عبیر نے جلدی سے گاڑی کو ریورس کیا اور دوسرے راستے پر موڑ لی

اجالا شیشے والی سایڈ پر بیٹھی تھی وہ کبھی اس راستے سے تو نہیں گی لیکن اسے یہ راستہ پہچانا ہوا لگ رہا تھا وہ بہت غور سے اس کھای کو دیکھ رہی تھی

عبیر بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا کیونکہ ایک تو یہ راستہ ٹوٹا ہوا تھا جبکے اسکی ایک سایڈ پر پہاڑ تھے اور ایک سایڈ پر کھای تھی

تبھی اگے سے اچانک تیز سپیڈ میں گاڑی ای عبیر نے گاڑی جلدی سے ایک سایڈ پر کی وہ بالکل کھای کے کنارے پر اگی تھی سب کی سانسیں سینے میں اٹک گی لیکن عبیر نے پھرتی سے کار کو دوبارہ سڑک پر ڈالا

لیکن اجالا کی اچانک چینخیں بلند ہوگی وہ سب پریشان ہوگے اخر ہوا کیا ہے

لیکن وہ ہزیانی کیفیت سے چینخی جارہی تھی حورم نے اسکے ہاتھ پکڑ کڑ اسے ریلیکس کرنا چاہا

لیکن وہ تب تک بیہوش ہوچکی تھی عبیر نے گاڑی کی سپیڈ اور تیز کر لی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارے اجالا کے اردگرد بیٹھے ھوے تھے جبکے ڈاکٹر چیک اپ کرکے جا چکی تھی اور انہوں نے بس یہ کہا تھا کہ پریشانی کی کوی بات نہیں ہے تھوڑی دیر میں ہوش ا جاے گا

زیہان مسلسل اجالا کے چہرے کو دیکھ رہا وہ بالکل پریشے کی کاپی لگ رہی تھی اگر اسکی پریشے زندہ ہوتی تو وہ بالکل اجالا کی طرح ہوتی

جب اجالا کی پلکوں میں حرکت ہوی اور اسنے اہستہ سے انکھیں کھولی اور انجان نظروں سے دیکھا

اسکی سب سے پہلی نظر زیہان کے چہرے پر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا

اجالا کافی دیر اسے دیکھتی رہی

بھای اجالا نے اہستہ اواز میں بولا زیہان حیرت سے اسکی طرف بڑھا اجالا بھی کھڑی ہو کر یٹھ گی

بھای میں اپکی پریشے اجالا روتے ہوے بولی

زیہان حیرت اور خوشی سے ملے جلے اثرات کے ساتھ پریشے کی طرف بڑھا اور اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبیر کافی دنوں سے اجالا کے سوالوں سے پریشان تھا اج اسنے اجالا کی ساری انفارمیشن نکالنے کی کوشش کی وہ اتنے سالوں سے اسی لیے نہیں نکلوا رہا تھا کیونکہ وہ اپنی بہن کو کھونا نہیں چاہتا تھا

لیکن اب وہ مزید اجالا کو اسکے گھروالوں سے دور نہیں رکھ سکتا تھا

دو تین گھنٹے بعد اخر وہ اپنے مقصد میں ہوگیا اور اجالا کی ساری انفارمیشن اسکے سامنے تھی

لیکن اسے جھٹکے پہ جھٹکے لگے کیونکہ وہ زیہان کی بہن تھی اسنے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ زیہان کو بتا دے گا

وہ کون ہوتا ہے اسے اسکی بہن سے دور رکھنے والا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گی تھی منیزے تو پریشے کے پاس سے اٹھ ہی نہیں رہی تھی

اس سب میں حورم بالکل ہی ارمان کو بھلا چکی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیہان کی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہی تھا ابھی وہ زبیر کو کال کرنے کا سوچ ہی رہا تھا

جب زبیر کی خود کی کال اگی

سر وہ نجھے اپکو یک بات بتانی ہے اس بات کے بارے میں مجھے خود ابھی پتہ چلا ہے زبیر نے بھیگی اواز میں کہا

شاید وہ اجالا کو کھونے کا خوف تھا جو ایک بہادر فوجی کو رونے پر مجبور کر رہا تھا

زبیر مجھے سب پتہ چل گیا ہے پھر زیہان نے اسے ساری بات بتادی

زبیر مجھے سمجھ نہیں ا رہی میں تمھارا شکریہ کیسے ادا کروں تم نے میری بہن کو اپنی بہن بنا کر رکھا

نہیں سر ایسا مت کہے پلیز زبیر نے زیہان کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی کیونکہ اسے یہ سب دکھ دے رہا تھا اسنے کسی کے شکریہ کے لیے تو یہ سب نہیں کیا تھا

ٹھیک ہے لیکن تم ابھی گھر پر اوں پریشے تمھیں بلا رہی ھے

جی سر اسنے یہ کہہ کر کال کاٹ دی اور انے ودلے وقت کے لیے خود کو تیار کرنے لگا

اسے پتہ تھا اب وہ اسے کھو دے گا اور اجالا بھی سب کو پا کر اسے بھول جاے گی یہی بات اس دکھ ے رہی تھی