406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 46

Power of Love by Afzonia Zafar

کبھی میرے بھی اسی طرح گلے لگ جایا کروں

روحان نے جب پریشے کو مسلسل حورم کے گلے لگا دیکھا تو جب برداشت نہیں ہوا تو بول پڑا

روحان کے بولنے پر پریشے ہڑبڑا کر پیچھے ہوی جبکے حورم نے اسے گھورا

پھر انہوں نے پریشے کو سب بتایا جسے سن کر وہ پہلے تو رونا شروع ہوگی لیکن وہ خوش بھی تھی کہ وہ سیف ہاتھوں میں گی تھی

حورم نے کافی دیر بعد جب پریشے کو اپنے ساتھ انے کا کہا تو پریشے بھی ساتھ کھڑی ہو گی لیکن اسے سارہ سامان سمیٹنے میں دس منٹ تو لگ جانے تھے

تبھی روحان نے حورم کو اشارہ کیا

حورم نے اشارہ سمجھتے ہی اپنی مسکراہٹ چھپای

پریشے تم اپنا کام کرکے نیچے اجانا میں گاڑی میں ویٹ کر رہی ہو اوکے

حورم کے کہنے پر پریشے نے ہاں میں سر ہلایا اور تیزی سے ہاتھ چلانے لگی

اسے یہ تک احساس نہیں ہوا کہ کب حورم باہر گی اور کب روحان اسکے پیچھے کھڑا ہوا

ساکت تو تب ہوی جب روحان کے ہاتھ اپنی کمر پر رینگتے محسوس ہوے

پریشے وہی ساکت ہوگی کیونکہ روحان نے دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو مضبوطی سے جکڑ لیا تھا

اور اسکی پشت کو اپنے سینے سے لگا چکا تھا

اسکے پونی میں مقید بالوں کو ایک سایڈ پر کیا او اسکی گردن پہ اگلی چلانے لگا

ویسے ان پانچ سالوں میں تمھاری ہاہٹ وہی کہ وہی رہ گی روحان نے اسکے کان میں جھک شرگوشی کی

روحان پیچھے ہٹوں پریشے نے اپنی اواز کو مضبوط کرتے ہوے کہا اور خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کی کیونکہ اہستہ اہستہ روحان کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی تھی

روحان نے ایک جھٹکے سے پریشے کا رخ اپنی طرف کیا اور اسے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کر لیا

روحان کی قربت پر پریشے کا سانس ہی گلے میں اٹک گیا

روحان نے ایک ہاتھ سے اسکے گال کو سہلایا اور اور اسکا چہرہ اوپر کیا

پری تمھارے گال لال کیوں ہورہے ھے روحان نے معصومیت سے اسکے سرخ گالوں کو ہلکے سے چھوتے ہوے کہا

پری نے اپنی بھاری ہوتی پلکوں کو بمشکل اٹھا کر اسے دیکھا لیکن اسکی شوخ نظروں کی تاب نہ لاتے ہوے اپنی اپنی پلکوں کی باڑ کو پھر سے گرا لیا

اسکی پلکوں کی حرکت کو دیکھ کر روحان نے جھک کر اپنے لب پریشے کی انکھوں پر نرمی سے رکھے

جبکے پریشے کی دل دھڑکن اتنی تیز ہوگی کو روحان با اسانی سے سن سکتا تھا

پریشے نے سختی سے روحان کے کالر کو جکڑ لیا

روحان نے اپنا چہرہ پیچھے کیا اور اسکے سرخ لبوں پر اپنا انگھوٹھا پھیرا

روحان نہیں کروں پریشے نے پھولی سانسوں کے درمیںان کہا

پچھلے پانچ سالوں سے چھوڑ ہی رہا ہو روحان نے گھمبیر اواز میں کہتے ہوے اسکے لبوں پر جھکا

اور پوری شدت کے ساتھ اسکی سانسوں کو اپنے اندر اتارنے لگا

جتنی نرمی پہلے تھی اتنی ہی شدت اب اسکے انداز میں تھی

جبکے اسکا لمس پریشے کی جان نکالنے لگا

پریشے نے سانس بند ہونے پر روحان کو پیچھے ہٹانا چاہا لیکن وہ اسکے کسرتی وجود کو ٹس سے مس نہیں کر پای

روحان اہستہ سے پیچھے ہوا اور پریشے کو اپنے سینے میں بھینچ کر اسکی پشت کو سہلانے لگا

اتنے میں ہی روحان کا فون رنگ پریشے نے پیچھے ہونا چاہا لیکن روحان نے پریشے کو پیچھے ہی نہیں ہونے دیا

فون نکال کر دیکھا تو حورم کی کال کی تھی

روحان نے کال کاٹ کر اہستہ سے پریشے کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اہستہ سے چھوڑا

پھر اسکا ہاتھ پکڑ باہر کی طرف بڑھ گیا اور پریشے بھی چپ چاپ اسکے ساتھ چل دی

جبکے سارے منہ کھول کر اس وجاہت سے بھر پور شخص کو دیکھ رہے تھے

جو انکی میم کا ہاتھ پکڑ کر شان سے چلتا ہوا باہر کی طرف جا رہا تھا

جتنا ہینڈسم ہے اتنا ہی کھڑوس ھے جیسے ہی روحان اس سیکٹری کے پاس سے گزرا وہ اسے دیکھ کر منہ ہی منہ میں بڑبڑای

شکر ہے تم دونوں اگے ورنہ میں توکچھ اور ہی سمجھی تھی

حورم نے روحان کی شرٹ پر بل دیکھ کر بولی

جس پر پریشے شرم سے پانی پانی ہو گی جبکے روحان اپنا سر کھجانے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حورم سونے کی تیاری کر رہی تھی کیونکہ پریشے کو اسنے اج کافی تھکا دیا اور اسکا خود کا کام بھی تھا

وہ واپس جارہی تھی لیکن حورم نے اسے بڑی مشکل سے روکا اسی لیے حورم کے ساتھ والے کمرے میں پریشے اپنا افس کا کام کر رہی تھی

تبھی سارہ بیگم کھانا لے کر اسکے کمرے میں داخل ہوی

حورم بیٹا ڈایننگ ٹیبل پر تم نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا

تمھیں رات میں بھوک بھی اتنی لگتی ھے اسی لیے میں کھانا لے کر ای ہو

اج میری بیٹی اپنی ماما کے ہاتھ سے کھانا کھاے گی

سارہ بیگم کے کہنے پر حورم نے مسکرا کر سر ہلایا

ابھی سارہ بیگم بیڈ پر بیٹھی ہی تھی تبھی حمنہ بیگم بھی کھانے کی پلیٹ لے کر اندر داخل ہوی

دونوں کے ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ دیکھ کر حورم کی ہنسی نکل گی

حمنہ بیگم بیڈ کی دوسری سایڈ پر اکر بیٹھ گی

سارہ بیگم نے ان کی طرف دیکھا اور جلدی سے نوالہ بنا کر حورم کو کھلایا

اتنے میں حمنہ بیگم نے بھی نوالہ بنایا اور حورم کے منہ میں ڈالا

دونوں ایک دوسرے سے اگے تھی جبکے حورم کھانے کو بغیر چباے نیچے اتاری جا رہی تھی

اسکا پیٹ فل ہو گیا تھا لیکن وہ دونوں اسے بولنے کا موقع تک نہیں دے رہی تھی

حورم نے ہاتھ اٹھا کر دونوں کو روکا اور بمشکل نوالے کو نیچے اتارا

بس اب مجھ سے نہںیں کھایا جارہا اپ دونوں نے تو مجھے بھینس ہی سمجھ لیا

حورم نے منہ بنا کر کہا اور بلینکٹ میں گھس گی جبکے وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرای اور اپنی اپنی پلیٹ اٹھا کر باہر چل دی

انکے جانے کے بعد حورم نے بلینکٹ سے منہ نکالا اور جلدی سے بیڈ سے اٹھی

اور ادھر ادھر چکر لگانے لگی کیونکہ اسکے پیٹ درد شروع ہو گیا تھا اتنا کھا کے

کم از کم ادھے گھنٹے چکر لگانے کے بعد اسکے پیٹ میں کچھ سکون ہوا لیکن اسکے پاوں بہت زیادہ درد کرنے لگے

اور بیڈ پر لیٹتے ہی اسے نیند ا گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہادی ابھی زیہان کی کال سن کر فارغ ہوا تھا

لیکن جو اسنے بتایا تھا وہ ناقابل یقین لیکن وہ خوش تھا بلکے بے حد خوش تھا

ہادی نے پایپ چڑھا اور منیزے کے کھڑکی کے ذریعے اندر اترا

منیزے اپنی پیکنگ کر رہی تھی

انھوں نے اپنی ٹکٹ کینسل کرواکے اج بارہ بجے کی کروا لی تاکہ سب کو سرپرایز دے سکے

اسکے اندر اترتے ہی منیزے الرٹ ہوی لیکن ہادی کو دیکھ کر ریلیکس ہو کر اپنے کام میں مصروف ہو گی

ہادی نے منیزے کا بازو پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا

اور اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اسکے لبوں کو قید کر لیا

پھر کچھ دیر بعد نرمی سے اسکے لبوں کو ازاد کیا اور اسکے گلے میں جھک گیا اور جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا

ہادی پیچھے ہٹوں منیزے ہادی کی قربت سے گھبراتے ہوے بولی لیکن وہ تھا کہ پیچھے ہٹنے کا نام تک نہیں لے رہا تھا

اسکی انگلیاں منیزے کی کمر کو سختی سے جکڑ رہی تھی

منیزے کا ہادی کی قربت میں برا حال ہو رہا تھا اور سانسیں بے تحاشہ پھول چکی تھی

ہا۔۔ہادی چھوڑوں منیزے نے ہادی کو دھکیلتے ھوے کہا تبھی ہادی پیچھے ہوا لیکن اسکی انکھوں میں منیزے زیادہ دیر تک نہ دیکھ سکی

پتہ نہیں کیا ہو جاتا ھے مجھے میں خود ڈر جاتا ہو جب یہ دل ہر وقت تمھاری قربت کی خواہش کرتا ھے میں خود مجبور ہو جاتا ہو مجھے نہیں پتہ کہ تم میری شدتیں سہہ سکوں گی یہ نہیں لیکن پھر سہنا تمھیں پڑے گی

ہادی منیزے کو اپنے سینے میں بھینچتے ہوے بولا جس پر منیزے صرف گہرا سانس بھر کر رہ گی ڈر تو وہ بھی جاتی تھی اسکی اتنی سی قربت پہ

ہادی پیچھے ہٹوں ٹایم تھوڑا سہ رہ گیا ھے اور مجھے ابھی اپنی ساری پیکنگ کرنی ھے

منیزے نے ہادی کے سینے پر مکے برساے

ہادی نے بھی منیزے کے اوپر ترس کھاتے ہوے اسے چھوڑ دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرنل صاحب کافی دیر پہلے صدیق ہاوس تھے

اور انکا اہم ڈسکشن بچوں کی شادی کا تھا

زبیر کو بھی بلا لیا تھا جبکے حورم پریشے اور روحان اپنے کمرے میں سو رہے تھے

کرنل صاحب کو تھوڑا سہ بھی صبر نہیں ہو رہا تھا موت کبھی بھی ا سکتی تھی لیکن وہ اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھ کر مرنا چاہتے تھے

اور کرنل صاحب کی بات پر پورا پورا ساتھ دیا جس پر سب کو ہاں کرنی ہی پڑی

منیزے اور پریشے کی رخصتی جبکے حورم اور زیہان کے ولیمے کا پلان بنا

پہلے منیزے اور پریشے کی رخصتی ہونی تھی جبکے اگلے دن سب کا ولیمہ ساتھ ہونا تھا

اور اس سب کے لیے ٹایم صرف ایک ہفتے کا تھا

زبیر اور سارہ بیگم خود پریشان ہوگے اتنا کم ٹایم لیکن پھر کرنا تو تھا ہی

اسی لیے یہ میٹنگ اینڈ ہوی لیکن باہر بارش شروع ہو گی تھی اسی لیے زبیر اور کرنل صاحب بھی صدیق ہاوس ہی رک گے

روحان جو دروازے کے کان لگا کر انکی ساری باتیں سن رہا تھا

اتنے کم ٹایم میں رخصتی کے فیصلے پر بے انتہا خوش ہوا

اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ یہی ناچنا شروع کردے لیکن پھر کچھ سوچ پریشے کے روم کی طرف بڑھا

اصل مزہ تو اب انے والا تھا

روحان نے پریشے کے روم کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا ار سامنے ہی پریشے افس کی فایلز میں سر جھکاے بیٹھی کچھ کام کر رہی تھی

دروازے کھلنے پر نیند سے بھری انکھیں اٹھا کر روحان کی طرف حیرت سے دیکھا

اسکے چہرے سے ہی اسکی تھکاوٹ کا پتہ چل رہا تھا

پری صبح کرنے یہ کام چپ کرکے سو جاوں بارہ بجنے والے ھے روحان جو اسے تنگ کرنے ایا تھا

لیکن پھر اسکا تھکاوٹ سے چور اور نیند سے بھری انکھوں کو دیکھ کر اپنا ارادہ بدل لیا

نہیں ابھی میرا کچھ کام رہتا ھے پھر پتہ نہیں دو تین دن افس جا پاوں یہ نہیں اسی لیے ابھی کرنا لازمی ھے

پری نے اسکے فکرمندانہ لہجے پر مسکراتے ہوے کہا

پتہ نہیں لیکن پریشے اب اسکی موجودگی میں کنفیوز ہو جاتی ھے یہ بات وہ خود بھی نہیں سمجھ پای تھی

شاید ان کے درمیان کچھ فاصلے اگے تھے اسی وجہ سے

چھوڑوں یہ کام مجھے دوں میں کرتا ہو روحان نے پریشے کے بالکل ساتھ بیٹھتے ہوے کہا اور اسکے ہاتھ سے فایل لی

اور اسے سمجھنے میں اسے بالکل بھی دیر نہیں لگی

روحان ہیپی برتھ ڈے پریشے نے غور سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوے کہا

تمھیں میرا برتھ ڈے یاد تھا روحان نے حیرت سے اسکی طرف دیکھ کر کہا

جبکے روحان اور حورم انٹارجینا میں ہی ایک دوسرے کو گفٹ ا ر ٹریٹ دے چکے تھے

ہاں پری نے ہاں میں سر ہلایا

اچھا پھر میرا گفٹ دیکھاو روحان نے ہاتھ اسکے اگے کیا جبکے اسے پورا یقین تھا کہ اسنے گفٹ نہیں لیا ہوگا

جبکے نظریں اسکے ہونٹوں پر تھی

حیرت سے انکھیں تب پھٹی جب اسنے اپنے بیگ سے ایک گفٹ نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمایا

لیکن ایک نہیں بلکے ایسے چار اور پیکٹس نکالے

یہ والا گفٹ میں نے پانچ سال پہلے لیا تھا

یہ جب لیا تھا جب مجھے بھای سے پہلی سیلری ملی تھی

اور باقی کے بھی سب تمھارے برتھ ڈے پر لیے تھے

پریشے نے انکے اوپر سے ڈیٹ پڑھ کر اسے بتایا

پھر مجھے دیے کیوں نہیں روحان نے ان گفٹس کو دونوں ہاتھوں میں پکڑتے ہوے پوچھا

کیونکہ حورم جو نہیں تھی اور یہ جب میں اور حورم زبیر بھای سے ملنے گے تھے تب اپنے بیگ میں رکھ لیے

لیکن پھر کام اتنا زیادہ تھا اس وجہ میں بھول ہی گی

روحان نے پہلا گفٹ کھولا تو اسکے اندر سے ایک رولیکس کی واچ نکلی جسکے اندر روحان اور پریشے کے نکاح کی تصویر لگی ہوی تھی

یہ کیسے بنوای روحان نے حیرت سے گھڑی کو دیکھتے ہوے کہا

یہ گھڑی پورے ایک ماہ میں تیار ہوی ھے اور واٹر پروف بھی ھے

روحان نے وہ گھڑی اپنے ہاتھ میں پہنی یہ میں کبھی خود سے الگ نہیں کروں گا اسنے پیار بھری نظروں سے پریشے کو دیکھتے ہوے کہا

جبکے باقی کے چار گفٹس کو اسنے صبح کھولنے کا سوچا کیونکہ پریشے اسکے کندھے پر سر رکھ کر سو گی تھی

روحان نے پہلے پریشے کا کام کمپلیٹ کیا تب تک پریشے اسکے کندھے پر ہی سر رکھ کر سوتی رہی

کام ختم ہونے کے بعد روحان نے پریشے کو گود میں اہستہ سے اٹھایا اور نرمی سےبیڈ پر لٹایا

پھر اسکی ساری فایلز کو سمیٹا پھر کمرے کو لاک کرکے واپس بیڈ کی طرف ایا

پری کا سر اٹھا کر اپنی بازو پہ رکھا اور دوسرا ہاتھ اسکی کمر پر رکھا اور پوری طرح سے اسے اپنے حصار میں لیا

نرمی سے اسکے اسکے نرم ہونٹوں کو اپنے لبوں سے چھوا اور نیند کی وادیوں میں اتر گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارہ بجنے میں ابھی ادھا گھنٹہ تھا

زیہان نے صبح سے ہی حورم کو وش نہیں کیا تھا جبکے بس انتظار کرتی ہی رہ گی

زیہان نے کھڑکی کھولی اور جلدی سے اندر کودا

حورم کو دیکھا تو وہ دنیا جہان سے بیگانہ پورے بیڈ پر پھیل کر سوی ہوی تھی

زیہان نے پہلے کمرے کا لاک کھولا اور باہر جاکر چیک کیا لیکن لاونج میں اندھیرا تھا اور سبکے کمروں کی لاٹس اف تھی

زیہان نے شکر کا سانس لیا اور واپس کمرے میں

اور پھر بیڈ کی طرف ایا زیہان نے حورم کو دیکھ کر نفی میں گردن ہلای اور اپنا جیکٹ نکال کر حورم کے چہرے پر ڈالا اور سکے بالوں کی چوٹی کو اگے کر دیا تاکہ کوی بھی اسے بغیر حجاب کہ نہ دیکھ سکے

اورحورم کو اہستہ سے اپنی گود میں اٹھایا

اور اہستہ سے اسے لے کر کمرے سے باہر نکل گیا

وہ تو شکر تھا کہ سب سوے ہوے تھے اسی لیے زیہان کو اسانی ہوی اور اوپر سے بارش بھی تھم چکی تھی

گارڈ نے حیرت سے زیہان کو دیکھا کیونکہ اسنے زیہان کو اندر اتے نہیں دیکھا تھا لیکن اپنی حیرت چھپاتے اسنے گیٹ کھولا

تھوڑی دور ہی زیہان کی گاڑی کھڑی تھی زیہان نے دروازہ کھول کر اسے اندر بٹھایا اور اسکے سیٹ بیلٹ باندھا

زیہان کو ساتھ ساتھ حیرت ہورہی تھی حورم کی نیند پر جو شاید بھنگ پی کر سوی ہوی تھی لیکن جو بھی تھا اسکے لیے فایدہ مند ہی تھا

زیہان نے اپنی سیٹ سمبھالی اور گاڑی کی سپیڈ بالکل سلو کرکے فارم ہاوس تک ایا

بیس منٹ اسے فارم ہاوس تک انے میں لگے تھے حالانکہ باکل بھی رش نہیں تھا اور پانچ منٹ کا راستہ تھا

زیہان نے بریک لگای اور گھوم کر ایا حورم کا سیٹ بیلٹ کھول کر اسے پھر سے اپنی گود میں اٹھایا اور اندر کی طرف بڑھا

پورا فارم ہاوس اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا

زیہان لاونج کے بیچ و بیچ ا کر کھڑا ہو گیا

اور حورم کو جگانے کی کوشش کی لیکن حورم اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی

پورے اٹھ منٹ رہ گے برتھ ڈے ختم ہونے میں لیکن حورم اٹھی نہیں رہی تھی

زیہان نے اسے صوفے پر لٹایا اور موبایل کی لایٹ جلا کر حورم کے چہرے پر ماری

ایک دم لایٹ پڑنے سے حورم نے اپنی انکھوں کو سختی سے بھینچا

زیہان نے حیرت سے اسے دیکھا جو جاگ رہی رھی لیکن سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی

حجاب تو پہلے ہی نہیں تھا زیہان کے دماغ میں ایک شرارت ای

زیہان نے بالکل نیچے بیٹھتے ہوے اسکے بالوں کی چوٹی کو کھولا

پھر اسکے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اسکے چہرے کو اوپر کیا

اور اس سے پہلے وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیتا حورم نے پٹ سے اپنی انکھیں کھولی

اور مسکرا کر زیہان کی طرف دیکھا اندازے سے لیکن وہ اسے اندھیرے میں نظر بلکل نہیں ا رہا تھا

اور اوپر سے سارے موبایل کی روشنی اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی

اسکے ایسے اٹھنے پر زیہان نے مسکرا کر دیکھا اور تالی بجای

اسکے تالی بجاتے ہی پورا لاونج روشنیوں سے بھر گیا

اور حورم کی انکھیں حیرت سے پھٹ گی

پورے گھر گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا اور چھت اور لاونج پوری طرح سے غباروں سے بھری پڑی تھی

حورم حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے اٹھی اور اس ٹیبل کے پاس ای جس پر اتنے زیادہ گفٹس رکھے ہوے تھے

جیسے ہی وہ ٹیبل کے پاس ای اوپر سے گلاب کے پھولوں کی برسات ہونا شروع ہو گی

حورم اس وقت بے انتہا خوش تھی وہ اس بات پر زیہان سے کافی زیادہ ناراض تھی کہ اسنے اسے ایک دفعہ بھی وش نہیں کیا لیکں یہاں تو اتنا بڑا سرپرایز ملا تھا

اتنے میں زیہان کیک لے کر ا گیا جس کے اوپر ہیپی برتھ ڈے حورم لکھا ہوا تھا

حورم نے ساری سجاوٹ کو دیکھا تبھی بیچارے کو اتنی دیر لگی تھی

حورم صرف تین منٹ رہ گے ھے کیک کاٹو زیہان نے کیک ٹیبل پر رکھا اور چھری اسکے ہاتھ میں پکڑای

تم بھی میرے ساتھ کٹ کروں نہ حورم نے اہستہ اواز میں زیہان س کہا

زیہان نے اسکے پیچھے ا کر اسکا چھری والا ہاتھ تھاما اور پھر دونوں نے ساتھ مل کر کیک کاٹا

زیہان نے کیک کا ٹکڑا پیار سے حورم کو کھلایا

اسی طرح حورم نے بھی کیک کا ٹکڑا کاٹا اور زیہان کی طرف بڑھایا

زیہان نے کھانے کے لیے جیسے ہی منہ کھولا

حورم نے سارا کیک اسکے گالوں پر لگایا اور بھاگنے کی تیاری کی لیکن اس سے پہلے ہی زیہان اسکی بازوں کو پکڑ چکا تھا

اہاں جاناں کدھر بھاگ رہی ہو زیہان نے اسکی کمر پر اسکے دونوں ہاتھ باندھتے ہوے بولا

اور جھک کر اسکے چہرے کے سامنے اپنا چہرہ کیا

زیہان نو تم ایسا نہیں کروں گے حورم نے زیہان کی قید میں پھڑپھڑا کر منع کرتے ہوے کہا

لیکن زیہان نے مسکراتے اپنا گال حورم کے گال سے رگڑا

ایک کیک کی کریم اوپر سے زیہان کی ہلکی ہلکی بریڈ سے حورم کو اپنے گال پر گد گدی ہوی

جس سے وہ کھلکھلا کر ہنسی اسکی کھلکھلاہٹ کو ایک دفعہ اور سننے کے لیے زیہان نے اپنا دوسرے گال بھی اسکے گال پر رگڑا حورم نے ہنستے ہوے منع کرنا چاہا

زیہان بے خود سہ اسے اس طرح ہنستے ہوے دیکھ رہا تھا لیکن پھر جلد ہی اپنی نظروں کا زاویہ چینج کر لیا کہی اسکی ہی نظر

نہ لگ جاے

تبھی حورم کو کسی کے کراہنے کی اواز ای حورم ایک دم چپ ہو گی لیکن وہ اوازیں بڑھتی جارہی تھی

زیہان یہ کس کی اواز ھے حورم نے گھبراتے ہوے پوچھا

جاناں اگنور کروں کسی کی نہیں ھے زیہان نے بات کو ٹالنا چاہا لیکن حورم نے اپنے اپ کو چھڑوایا

اور اواز کا تعاقب کرنے لگی

زیہان جانتا تھا وہ اب نہیں مانے گی اسی لیے اگے بڑھ کر صوفے پہ پڑا کپڑا اٹھا کر حورم کے سر پر دیا

حورم نے اسے دوپٹے کی طرح سیٹ کیا اور دروازے کو جیسے ہی کھولا

ایک بدبو اسکی ناک سے ٹکڑای لیکن سامنے بیٹھے شخص پر نظر پڑتے ہے ششدر رہ گی

اور ڈے یقینی سے زیہان کو دیکھا جس کے چہرے پر بالکل بھی افسوس نہیں تھا