Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 33
Rate this Novel
Power of Love Episode 33
Power of Love by Afzonia Zafar
حورم تم جلدی سے تیار ہو جاو میں زرا عبیر کو دیکھتی ھوں وہ تیار ہوا ھے یہ نہیں
منیزے جلدی سے روم سے باہر نکلی اور عبیر کے روم کی طرف بڑھی
منیزے نے عبیر کے روم کا دروازہ نوک کیا اوراندر سے جواب انے پر اند چلے گی دیکھا تو عبیر مکمل طور پر ریڈی تھا
منیزے وہی رک کر عبیر کو دیکھنے لگی جو بلیک کرتے جس میں ہلکی سی وایٹ کڑھای ہوی تھی جو اسکی گوری رنگت پر بے حد جچ رہا پھا
مسمرایز تو عبیر بھی منیزے کو دیکھ کر ہو گیا لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ بھی بلیک کلر میں ہی حالانکہ انہوں نے اپنے کپڑے سیکریٹ رکھے تھے
اچھا تم ریڈی ہو گے میں بس یہی دیکھنے ای تھی اچھا چلو تم اجاو میں زرا حورم کی ہیلپ کر دوں اورہاں اج یہ اتنا بڑا چشمہ مت لگانا
منیزے جاتے ہوے پلٹ کر بولی اور دروازے کی طرف بڑھی جب عبیر نے نرمی سے منیزے کا ہاتھ پکڑا اور اپنی طرف ہلکا سہ زور دیکر کھینچا
منیزے اگر تمہیں پتہ چلا کہ مجھ سے کوی غلطی ہوی ھے تو پلیز مجھے معاف کر دینا
عبیر نے منیزے کی پیشانی سے پیشانی ٹکاتے ھوے بولا
عبیر کیا کر رہے ھوں ہم لیٹ ہو رہے ھے چلو منیزے اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں سے گھبراتے ہوے بولی
نہیں پہلے مجھے جواب دوں عبیر نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوے بولا
اگر صرف غلطی ہوی تو میں ضرور معاف کروں گی لیکن وہ جو تم سے انجانے میں ہوی ہو اگر جو غلطی تم نے جان بوجھ کر کی ہوگی میں اسے کیسے معاف کروں گی لیکن مجھے پتہ ھے
تم نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں ہو گا جس پہ میں تمہیں معاف نہ کر سکوں منیزے نے یقین سے کہا
منیزے کے یقین پر عبیر نے سختی سے اپنی انکھیں بند کی اور منیزے کو شدت سے اپنے گلے لگایا
کچھ بھی ہو جاے منیزے لیکن مجھے ایسی سزا مت دینا جو میں برداشت نہ کر سکوں گا
چاہے تو میری جان مانگ لینا لیکن کبھی ایک دن بھی مجھ سے دور مت ہونا میں جی نہیں سکوں گا تمھارے بغیر
عبیر کو ہی پتہ تھا اسنے اپنے اپ پر کس طرح کنٹرول کیا ہوا تھاا
عبیر کی باتوں کی منیزے کو کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا
وہ اہستہ سے دور ہوی اچھا چلو باہر چلواگر ہم ہی لیٹ ہو گے تو کتنی شرمندگی ہوگی ہمیں
منیزے نے عبیر کو وقت کا احساس دلایا اور خود باہر چلے گی
اور پیچھے سے عبیر گہری سانس بھر کر رہ گیا وہ بالکل بھی ہمت نہیں کر پاہ رہا تھا منیزے کو ساری سچای بتانے کی
لیکن اج اسنے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اج گھر واپسی پر منیزے کو سارا سچ بتا دے گا
سب لوگ زبیر کے گھر جانے کے لیے تیار ہو چکے تھے
زیہان اور عبیر کی سیم ڈریسنگ تھی جبکے منیزے اور حورم کی سیم تھی لیکن باے چانس ہی ان چاروں کی سیم ڈریسنگ تھی
جس پر روحان نے دکھ کا اظہار کیا کیونکہ اسکی ڈارک بلیو کلرکی شیروانی تھی
جس میں وہ بے حد وجیہہ لگ رہا تھا حورم نے تو جلدی سے اسکے کان کے پیچھے کالا ٹیکہ لگا دیا کہی اسکے نظر ہی نہ لگ جاے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشے کو باہر روحان کے ساتھ بٹھا دیا تھا لیکن روحان نے اسکا اتنا لمبا گھونگھٹ دیکھ کر برا سہ منہ بنایا اور مولوی صاحب کو بلایا
نکاح ہو چکا تھا اور پریشے کو اسی ٹایم ہی منیزے اور حورم اندر لے کر جا چک تھی
سب نے گلے لگ کر ایک دوسرے کو مباررکباد دی لیکن جو سب سے زیادہ پریشان تھا وہ تھا زیہان کیونکہ اسکا دل بے حد گھبرا رہا تھا
جیسے کچھ برا ہونے والا تھا لیکن صبح سے ہی حورم اسکے ہاتھ نہیں لگی تھی
روحان کی خوشی کا کوی ٹھکانہ نہیں تھا بس دل کر رہا تھا کسی طرح اڑ کر وہ پریشے کے پاس پہنچ جاے اور دیکھےکے کہ وہ کیسی لگ رہی ھے
لیکن ظالم سماج مطلب منیزے اور حورم پریشے کو لے کر تب سے کمرے کے اندر لے کر گھسی تھی نہ تو خود باہر نکل رہی تھی اور نہ ہی پریشے کو نکلنے دے رہی تھی
اتنی دیر میں کرنل صاحب نے سب کو شاہ ہاوس چلنے کا کہا کیونکہ ادھے مہمانوں نے ادھر ہی سے جانا تھا
جبکے باقی کے لوگ شاہ ہاوس انا شروع ہو گے تھے
نینا کو کوی بھی موقع نہیں مل رہا تھا منیزے سے بات کرنے کا وہ بژ ہاتھ مسلتی کبھی ادھر کبھی ادھر پھر رہی تھی
سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر چکے تھے لیکن روحان بیچارہ بس ٹھنڈی اہ ہی بھر کر رہ گیا کیونکہ کرنل صاحب کی گاڑی میں روحان کو بٹھایا گیا
اور اس گاڑی میں صرف فوجی ہی تھے اور باقیوں کا روحان کو کچھ پتہ نہیں تھا اسنے حورم اور منیزے سے بدلہ لینے کا ٹھان لیا تھا
سب لوگ شاہ ہاوس ا چکے تھے
منیزے اور حورم نے مل کر پریشے کا لہنگا وغیرہ چینج کروا کر اسے میکسی پہنا دی تھی کیونکہ یہ پارٹی سپیشل پریشے کے لیے تھی
حورم تم نے روحان کی حالت دیکھی تھی بیچارہ منیزے نے ہنستے ہوے روحان کی حالت کو یاد کروایا جس پر پریشے بس مسکرا کر رہ گی کیونکہ ان دونوں نے جتنا بیچاری پریشے کو روحان کے نام سے تنگ کیا تھا
پریشے پہلے پہلے تو انکی بات پر پورا پورا شرما کر دیکھا رہی تھی لیکن اب تو شرم بھی ختم ہو چکی تھی
اتنے میں نینا وہاں اگی منیزے تم میرے ساتھ اوں گی پلیز مجھے تم سے کچھ کام ہے
نینا التجای لہجے میں کہا کہ منیزے منع نہیں کر سکی اور اسکے ساتھ چل دی
نینا منیزے کو اپنے کمرے میں لے کر اچکی تھی اور پلین کے مطابق اسے سب بتانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحان نے جیسے ہی منیزے کو روم سے باہر جاتے دیکھا بھاگ کر روم میں ایا
حورم پتہ نہیں کیوں ماما تمہیں بلا رہی ھے اور تھوڑی پریشان بھی لگ رھی تھی
روحان نے حورم کو بھاگانے کے لیے صاف جھوٹ بولا
اسکی بات سن کر حورم پریشانی سے باہر کی طرف چل دی
پیچھے سے روحان نے ایک انکھ دبا کر پریشے کو دیکھا جس پر پریشے نے سٹپٹا کر چہرہ نیچے کی طرف کر لیا
روحان کو جو ڈر تھا وہی ہوا کیونکہ پریشے اس وقت نکاح والے لہنگے میں نہیں بلکے وایٹ کلر کی میکسی میں تیار ہو کر بیٹھی تھی
نوٹ فیر بے بی تم نے اپنے مجازی خدا کو دیکھاے بنا ہی اپنے کپڑے بدل لیے میرا مطلب ہے کہ میں نے تمہیں دیکھا بھی نہیں کہ تم کیسی لگ رہی تھی
روحان نے جلدی سے اپنی بات کو درست کیا کیونکہ پریشے شرم کو بھلا کر اسے گھورنے لگی تھی
روحان اگے بڑھا اور بالکل پریشے کے ساتھ چپک کر بیٹھ گیا
ویسے ایک بات تو ماننی پڑے گی تم اج بہت پیاری لگ رہی ہو مطلب پارلر والے کچھ بھی کرسکتے ہے
کسی بھی چڑیل کو کم از کم انسان تو بنا ہی سکتے ہے
میرا تو دل کر رہا ھے جس نے تمہیں تیار کیا ہے نہ میں اسکے ہاتھوں کو چوم لوں
پریشے جو روحان سے تعریف سن کر شرمانے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ اسے شرم بالکل نہیں ا رہی تھی
روحان کی اگلی بات پر اسکا پارہ ہای ہو گیا اور وہ روحان کی طرف خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی
لیکن روحان صرف اپنی ہی سنای جا رہا تھا
روحااااااان پریشے نے چلا کر روحان کا نام پکارا اور اسکے بالوں میں دونوں ہاتھوں سے چمٹ گی اور اسکے زور سے گول گول گھمانے لگی
خود کی شکل دیکھی ہے بندر تو تو کیا بن مانس سے بھی برے لگتے ہو پتہ نہیں تمھارے گھر والے کیسے برداشت کرتے ہوگے تمہیں
روحان تو ایکدم سے پریشے کا چڑیلوں والا روپ دیکھ کر گھبرا ہی گیا روحان نے بہت مشکل سے اپنے بالوں کو چھڑوایا
اسے پریشے کا یہ روپ دیکھ کر بے انتہا حیرت ہوی وہ تو ایویں ہی اسے معصوم سمجھ رہا تھا
اور باہر کی طرف بھاگا لیکن دروازے میں رک کر بولا
دیکھا میں نے سہی کہا تھا نہ اور یہ بات تم نے خود نے ثابت کردی چڑیلوں والی حرکت کرکے اس سے پہلے کے پریشے اپنا ہیل والا جوتا نکال کر اسکی طرف پھینکتی روحان نو دو گیارہ ہو گیا
اور پیچھے سے پریشے اپنے ہاتھ مسلتی رہ گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیزے دیکھوں عبیر مجھ سے پیار کرتا ہے لیکن چونکہ تمھارہ اس سے بچپن میں نکاح ہوا تھا اسی لیے اسنے یہ والا طریقہ ازمایا
تاکہ تم خود ہی اسکا ڈرپوک والا روپ دیکھ کر اسے طلاق لینے پر مجبور ہو جاوں نینا نے اس ساری بات بتای جس میں زیادہ جھوٹ اور کم سچ تھا
میں کیسے تمہاری باتوں پر یقین کر لوں
منیزے نے سن ہوتے دماغ کے ساتھ نینا سے کہا
یہ دیکھوں وڈیو مجھے پتہ تھا تم میری باتوں کا یقین نہیں کروں گی بسی لیے میں یہ وڈیو بھی ساتھ لے کر ای تھی
منیزے نے نینا کے ہاتھ سے موبایل لیا اور وڈیو دیکھنے لگی
جہاں ایک اور جھٹکا اسکا منتظر تھا کیونکہ اس میں کوی اور نہیں حیدر شاہ تھا
جس میں وہ کسی فایٹر کو بری طرح سے مار کر ہرا چکا تھا
یہ عبیر ھے منیزے نے اپنی کانپتی اواز پہ قابو پاتے ہوے بولی
جس پر نینا نے اثبات میں سر ہلایا
عبیر نے بہت زیادہ فایٹنگ میں گولڈ میڈل جیتے ہے اور وہ لنڈن کا مشہور چیمپین رہ چکا ھے
اج تک کوی بھی اسکے اگے پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ٹک پایا ہے
نینا نے اپنی ساری باتوں میں یہ بات بالکل سچ کہی تھی
نینا نے اسے ایک اور تصویر دیکھای جس میں عییر گھٹنوں پر بیٹھ کر نینا کو پرپوز کر رہا تھا
یہ تصویر نینا کے اب کام ای تھی کیونکہ عبیر کو یونیورسٹی کی پارٹی میں چیلنج ملا تھا
کہ سب کے سامنے اپنی بیسٹ فرینڈ کو پرپوز کروں اور پک لے کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کروں
جس پر عبیر نے چیلنج کو ایکسپٹ کیا اور پک کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی صرف دو گھنٹے کے لیے
یہ پک زیہان کے پاس بھی تھی کیونکہ عبیر نے اسے سب بتایا تھا اپنے چیلنج کا
لیکن نینا چالاکی سے اپنی ساری چالیں چل چکی تھی
منیزے نے موبایل بیڈ پر پھینکا اسے ابھی تک یقین نہیں ایا تھا کہ اسکا عبیر اسکے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کر سکتا ہے مطلب وہ اس سے پیار ہی نہیں کرتا
منیزے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی جب اسکا پاوں اسکے شرارے میں الجھا اس سے پہلے وہ گرتی
عبیر جو کافی دیر سے منیزے کی غیر موجودگی نوٹ کر رہا تھا
اس لیے اسے ڈھونڈنے کے لیے اند ایا لیکن منیزے کو اس طرح الجھتے گرتے دیکھ کر جلدی سے بھاگ کر تھاما
منیزے کیا ہوا ہے اس طرح کیوں رو رہی ہو عبیر نے منیزے کا انسووں سے تر چہرہ دیکھ کر پریشانی سے پوچھا
عبیر جو میں پوچھوں گی صرف ہاں اور نہ میں جواب دینا منیزے نے عبیر کو اپنے سے دور دھکیلتے ہوے پوچھا
جس پر عبیر نے بڑی مشکل سے اپنے اپ کو گرنے سے بچایا اور اثبات میں سر ہلایا
کیا تم ہی حیدر شاہ ہو منیزے نے دل ہی دل میں دعا کرتے ہوے پوچھا کہ کاش جو کچھ بھی نینا نے اس سے کہا ہے وہ جھوٹ ہو
عبیر نے حیرت سے منیزے کی طرف دیکھا کہ منیزے کو یہ سب کیسے پتہ چلا
منیزے دیکھوں میں تمھیں سب بتانے ۔۔۔۔۔۔
عبیر صرف ہاں یہ ناں میں جواب دوں منیزے نے عبیر کی بات کو بات کو بیچ میں کاٹتے ہوے بولی
ہاں عبیر نے سختی سے اپنی انکھوں کو بند کرتے ہوے جواب دیا
اس رات میرے روم میں کھڑکی کے ذریعے بھی تم ہی اے تھے
منیزے کی بہتی انکھوں سے عبیر سے دوسرا سوال پوچھا
ہاں عبیر نے اس بار بھی سچ بولا
منیزے ایک دفعہ میری بات سنو میں تمھیں سب سچ بتاتا ہو
عبیر نے بے تابی سے منیزے کا ہاتھ پکڑتے ہوے کہا
لیکن منیزے نے اسکا ہاتھ بے دردی سے جھٹک دیا اس وقت منیزے کی انکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی
جو عبیر کو اند تک توڑ رہی تھی
عبیر ابھی کہ ابھی یہاں سے چلے جاو ورنہ میں خود کو کچھ کر لوں گی
منیزے دوبارہ سے عبیر کو اپنا ہاتھ پکڑتے ہوے دیکھ کر بولی
نہیں میں تمھیں ایسے چھوڑ کر نہیں جاوں گا عبیر نے بے بسی سےکہا
تو ٹھیک ھے مطلب تم چاھتے ہو میں ابھی کہ ابھی خود کو ختم کر لوں منیزے نے غصے سے چینختے ہوے کہا
جس پر عبیر نے بے یقینی سے منیزے کو دیکھا اور اپنے قدم باہر کی طرف موڑ لیے
لیکن اسے امید تھی کہ تھوڑی دیر بعد منیزے کا غصہ ٹھنڈا ہوگا تو وہ اسے سب بتا دے گا اور منیزے اسے معاف بھی کر دے گی
لیکن عبیر یہ بات بھول گیا تھا کہ وہ غصہ نہیں تھا وہ درد تھا
اس زخم کا جو منیزے کی روح پر لگا تھا
منیزے کچھ دیر تو روتی رہی لیکن پھر جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی
اس وقت اسکے کمرے میں پریشے اور حورم میں سے کوی نہیں تھ ا مطلب نیچے پارٹی سٹارٹ ہو چکی تھی
الماری سے اپنے سارے امپورٹنٹ ڈاکم مینٹس نکالے اور اور ایک بیگ میں اپنے دو تین کپڑے رکھے اور زیہان کو کال کی
اسکے کال کرتے ہی زیہان دو منٹ بعد پریشانی سے منیزے کے روم میں ایا
گڑیا کیا ہوا کیوں رو رہی ہو زیہان نے پریشانی سے منیزے کو اپنے گلے لگاتے ہوے بولا
بھای ابھی کہ ابھی لنڈن کی ٹکٹ بک کر واے اور مجھے ایر پورٹ چھوڑ کر اے
اگر اپنے اج مجھے روکنے کی کوشش کی تو میں خود کو کچھ کر لوں گی بھای
منیزے نےاپنی سسکیاں روکتے ہوے کہا
زیہان کا کافی حد تک اندازہ ہو چکا تھا کہ کہی نہ کہی منیزے کو عبیر کے بارے میں پتہ چل چکا ھے
لیکن منیزے کا ایسا ری ایکشن دیکھ کر زیہان خود پریشان ہو گیا تھا
ان میں سے کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ منیزے ایسا ری ایکشن دے گی
لیکن منیزے کی اس طرح کی حالت دیکھ کر زیہان نے ٹکٹ بک کروای اور پیچھے کےراستے سے منیزے کو لےکر چلا گیا
گڑیا کیا عبیر کوپتہ ہے تم لنڈن جا ہی ہو عبیر نے روتی ہوی منیزے سے پوچھا
نہیں بھای اپکو میری قسم اگر اپنے اسے بتایا بھی میں کدھر ہو ورنہ میں ایسی جگہ چلی جاوں گی جہاں اپ لوگ مجھے ڈھونڈ نہیں سکوں گے
منیزے گڑیا ایک دفعہ سوچ سمجھ کر فیصلہ لو یہ نہ ہو کہ بعد میں تمھیں پچھتانا پڑے زیہان کو اندازہ ہوگیا تھا
کہ منیزے کو ابھی تک پوری سچای نہیں پتہ تھی لیکن منیزے کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھی
اسی لیے باقی کا راستہ خاموشی میں گزرا جبکے منیزے کا دل درد سے پھٹا جا رہا تھا
عبیر تم اپنی زندگی خوش رہوں نینا کے ساتھ میں کبھی تمھاری خوشیوں کے بیچ نہیں اوں گی منیزے دل ہی دل میں عبیر سے مخاطب ہو ی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورم کب سے اپنی ماما کو ڈھونڈ رہی تھی جب اسے سامنے سے روحان اتا ہوا دیکھای دیا جسکے بال بری طرح سے کھڑے ہوے تھے
صاف پتہ لگ رہا تھا وہ کسی سےمار کھا کر ایا ہے کیونکہ اس وقت اسکے چہرے پر بارہ بج رہے تھے
حورم اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوے اسکے پاس جانے کے لیے بڑھی
جب ایک پیارہ سہ بچہ اسکے پاس ایا
اپی اپکو وہ پیچھے کی طرف کوی انکل بلا رہے ھے اور تھوڑی جلدی میں لگ رہے تھے
وہ بچہ کہہ کر جا چکا تھا
حورم کا سب سے پہلا خیال زیہان کے طرف گیا
وہ مسکراتی ہوی اگے بڑھی لیکن وہاں جا کر اسے کوی نظر نہیں ای
حورم کندھے اچکا کر واپس جانے کے لیے مڑی جب کسی نے اسکے منہ پر رومال رکھا
بوس کام ہو گیا اس ادمی نے جیب سے اپنا فون نکالا اور ارمان کو کال کی
