Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 42
Rate this Novel
Power of Love Episode 42
Power of Love by Afzonia Zafar
زیہان اور روحان دو تین دفعہ ہو سٹ ا چکے تھے لیکن جس طرح زیہان اسے اگنور ر کر رہا تھا
ویرا سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ اج تک اسے کسی نے اس طرح اگنور نہیں کیا ہو سپٹل میں میں بھی بہت سے ڈاکٹرز تھے جو بس سے دوستی کے خواہش مند تھے
لیکن ویرا نے کام کے علاوہ کبھی ان سے بات نہیں کی
اصل میں وہ زیہان کے بارے میں زیادہ اس وجہ سے سوچ رہی تھی کیونکہ کہ کس طرح وہ پہلے دن اسکے لیے رویا
اور اب سرے سے ہی اسے نہیں دیکھ رہا تھا
ہوسپٹل میں بھی اتا تو فاریہ کے ساتھ باتیں کرتا رہتا لیکن ویرا ایک بات سے بے حد خوش تھی کیونکہ کے اسے ایک بے حد پیار کرنے والا بھای جو مل چکا
حمنہ بیگم بھی کافی دفعہ روحان سے مل چکی تھی
انھیں بھی روحان سے مل کر بہت خوشی ہوی کیونکہ ویرا ہر وقت روحانکی ہی بات کرتی رہتی تھی
اور وہ اس بات سے بھی خوش تھی کہ حورم کو ایک بے حد پیار کرنے والا بھای مل چکا ھے
حورم انہی سوچوں میں گم پارکنگ کی طرف جارہی تھی لیکن انجانے میں ہی سڑک کے اوپر اگی
اسے یہ تک احساس نہیں ہوا کہ وہ کہاں جا رہی تھی
سڑک پہ کوی خاص رش بھی نہیں تھا
تبھی سامنے سے ایک تیز رفتار والا ٹرک تیزی سے ہارن بجاتا ہوا ا رہا تھا
حورم نے اسکے تیز ہارن پر چونک کر ادھر ادھر دیکھا
لیکن ٹرک اسکے بے انتہا قریب ا چکا تھا
ویرا ایک دم سے وہی فریز ہو گی اسے لگا اب اسکی موت پکی ھے ٹرک کے ہارن اور رفتار سے صاف پتہ لگ رہا رھا تھا کہ ٹرک کی بریک فیل ھے
اس سے پہلے کہ ٹرک اسے اپنے کچل کر اگے بڑھتا کسی نے اچانک ہی پیچھے سے زور سے کھینچا
روحان جو ابھی حورم سے ملنے کے لیے ہوسپٹل ایا تھا لیکن اسے اس طرح بے دھیانی میں بیچ سڑک پر چلتے دیکھ کر پریشانی سے اسکی طرف بڑھا
لیکن جب سامنے سے اتے ٹرک کو دیکھ کر روحان کی جان ہی نکل گی
روحان جتنی تیزی سے بھاگ سکتا تھا بھاگا اس سے پہلے وہ پھر سے حورم کو کھوتا تیزی سے اپنی طرف کھینچا
اور اپنے سینے میں زور سے بھینچا لیکن تب تک حورم اپنے ہوشوحواس سے بیگانہ ہو چکی تھی
روحان کو جب یقین ہوا بلکل ٹھیک ھے تب اسے گود میں اٹھا کر ہوسپٹل کی طرف بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیہان پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی ایا لیکن جو کچھ روحان نے اسے بتایا تھا اسے لگا اسکی روح ہی فنا ہوگی ہو
اگراج روحان وقت پر نہ پہنچتا تو کیا ہوتا اس سے اگے وہ کچھ بھی نہیں سوچ سکتا تھا اسکے اندر بالکل بھی ہمت نہیں تھی اس سے اگے سوچنے کی
حمنہ بیگم ابھی اسکا چیک اپ کر کے باہر نکلی وہ خود حد سے زیادہ پریشان تھی
لیکن تھوڑی پرسکون بھی تھی کیونکہ ویرا بالکل ٹھیک تھی
بس ڈر کی وجہ سے بیہوش ہوی تھی
بس تھوڑی دیر میں اسے ہوش اجانا تھا
اور اس سے بھی زیادہ الجھن میں تھی کہ یہ دونوں لڑکے اتنے پریشان کیوں ھے لیکن پھر روحان کے پوچھنے پر اسے تسلی دی کہ وہ بالکل ٹھیک ھے
حمنہ بیگم کے بتانے پر بھی زیہان پرسکون نہیں ہوا وہ جب تک حورم کو اپنی انکھوں سے نہ دیکھ لیتا
اسے سکون نہیں ملنے والا تھا
حورم نے اہستہ سے اپنی انکھیں کھولی ساری یادوں کی فلم اسکی انکھوں کے سامنے چلنے لگی
کہ کس طرح ارمان نے اسے کینڈنیپ کیا
وہ اپنوں سے پانچ سال دور رہی وہ بھی ارام سکون سے حورم کی انکھوں سے انسو گر کر تکیے میں جزب ہونے لگے
روحان حورم کے منہ سے اہستہ سے سسکی نما اواز نکلی
تبھی روحان اور زیہان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوے
روحان تڑپ کر روتی ہوی حورم کو دیکھ کر اگے بڑھا
ویرا کیا ہوا اپ کیوں رو رہی ہو روحان نے نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا جبکے زیہان پیچھے ہی کھڑا تھاا
روحان تم اتنی تمیز سے بولتے ہوے بہت اچھے لگ رہے ہو
حورم روتے ہوے بولی
جبکے اس لہجے پر روحان نے حیرت اور خوشی سے حورم کی طرف دیکھا جبکے زیہان نے بے ساختہ اوپر کی طرف دیکھا
حورم روحان نے ایک دفعہ پھر سے کنفرم کرنا چاہا
جس پر حورم نے اٹھتے ہوے زور شور سے سر ہلایا لیکن رونا ابھی تک جاری تھا
حورم تم۔۔تمھیں سب یاد اگیا روحان نے کانپتی اواز میں کہا اور زور سے اسے اپنے گلے لگایا
کمینے پیچھے ہو ہٹوں ساری ہڈیاں توڑ دی جب کافی دیر بعد بھی روحان پیچھے نہ ہٹا تو حورم نے زور سے اسے دھکا دیا
روحان پیچھے ہٹا اور اپنے انسو صاف کیے اور پیچھے زیہان کی طرف دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا
جیسے کہہ رہا ہو ہمیں بھی تو موقع ملنا چھاہیے کہ نی
زیہان بھای اپ اپنا کنٹینیو کروں میں مٹھای لے کر اتا ہو
روحان کہہ کر تیزی سے نکل گیاا
زیہان اہسستہ سے قدم اٹھاتا ہوا حورم کے پاس ایا
جبکے حورم اسے اپنے نزدیک کھڑے ہوتے دیکھ کر نظریں چرانے لگی
کافی دیر کی خاموشی کے بعد بھی زیہان کچھ نہ بولا تو حورم بغیر اسکی طرف دیکھے بغیر بیڈ سے اٹھی اور باہر جانے کے لیے اپنےقدم بڑھاے
تبھی زیہان نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
حورم نے اپنا چہرہ اٹھا کر زیہاان کی طرف دیکھا تو زیہان کا حہرہ انسووں سے تر تھا
حورم نے تڑپ کے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا
حورم مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں مر چاوں گا اس دفعہ برداشت نہیں کر پاوں گا
زیہان نے اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
جس پر حورم نے نہ میں سر ہلایا اور اسکے انسو صاف کرنے لگی
یہ ہمارے پیار کی طاقت ھے جس نے مجھے مرنے نہیں دیا
مجھے سیف ہاتھوں میں بالکل ماں جیسا پیار کرنے والی دوسری ماں سے ملایا
حورم نے بھیگے لہجے میں کہا
زیہان نے اسکی انکھوں میں دیکھا اور پھر ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر بالکل اسے اپنے نزدیک کر لیا
حورم نے گڑبڑا کر پیچھے ہونا چاہا جس پر زیہان نے اسکی کمر پر اپنی گرفت اور بڑھا لی
اب نہیں حورم پانچ سال میں تم سے دور ہی رہا ہو اب دور جانے کی کوشش بھی مت کرنا
حورم کے دور جانے پر زیہان نے سخت لہجے میں کہا
اور کہتے ساتھ ہی اسکے لبوں کوپوری شدت کے ساتھ اپنی گرفت میں لے لیا
اسکی اس شدت پر حورم نے اپنے اپ کو چھڑوانا چاہا لیکن زیہان نے اسکے ہونٹوں پہ اپنی گرفت اور بڑھا لی
اتنا کہ حورم کو اپنے ہونٹوں درد محسوس ہونے لگا
لیکن زیہان پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا
