406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 6

Power of Love by Afzonia Zafar

منیزے رو رو کر تھک گی اور ایسا تب تب ہوتا تھا جب جب اسکی کال اتی تھی اور ہمیشہ وڈیو کال کرکے ور بار جتا دیتا تھا کہ وہ اسکے لیے نفرت کے علاوہ کچھ اور جزبات نہیں رکھتا تھا

وہ لڑکی جس کے پیچھے ہزاروں لڑکے پاگل تھے لیکن جس کے پیچھے وہ پاگل تھی وہ کسی اور کے پیچھے پاگل تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی

کرنل صاحب کے ایک بیٹے اور ایک بیٹی تھی باپ کی بے تحاشہ دولت میں سے ادھی نایلہ کے حصے میں ای اور ادھی صفدر کے حصے میں ای

کرنل صاحب ک محبوب بیوی کا چند سال پہلے انتقال ھو گیا تھا لکن انہوں نے اپنے بچوں کے لیے اپنے اپ کو سمنبھال کر رکھا ہوا تھا ورنہ وہ اندر سے بالکل ٹوٹے ہوے تھے

دونوں بہن بھا یوں میں بے تحاشہ پیار تھا دونوں نے باپ کے خواہش کو مد نظر رکھتے ہوے ارمی جواین کی جو اب کا بھی جنون بن چکا تھا

پھر تین سال بعد نایلہ نے اسفند شاہ اور صفدر نے حسینہ شاہ سے پسند کی شادی کی

اور اتفاق سے وہ دونوں بھی بہن بھای تھے اور ارم میں تھے

اسفند شاہ اور حسینہ شاہ کا ایک اور بڑا بھای بھی تھا زوار شاہ جسکا تین سال کابیٹا تھا زیہان شاہ لیکن وہ اور اسکی بیوی رقیہ ارمی میں نہیں تھے

رقیہ نے اسفند اور حسینہ کو اپنی اولاد سمجھ کر پالا تھا حلانکہ وہ خود بھی چھوٹی عمر کی تھی جب انکی شادی ہوی تھی کیونکہ انکے ماں باپ کا ایک ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا تھا کریم کے اسکے ماں باپ کی اتنی دولت تھی کہ اگر وہ اور اکی سات پشتیں ارام سے بیٹھ کر کھا سکتی ہے

اسلیے انہوں نے اپنی کزن رقیہ سے شادی کر لی اور شادی کے بعد انہوں نے اپنا اپ بھول کر اسفند اور حسینہ کی پرورش میں لگادی

پھر شادی کے اٹھ سال بعد انکے زیہان پیدا ہوا جو گھر بھر کا لاڈلا تھا رقیہ کے ماں باپ نہیں تھے

ادھرصفدر اور حسینہ کی شادی کے ایک سال بعد ایک بیٹا ہوا جس میں کرنل صاحب کی جان بستی تھی لیکن وہ خود میں مگن رہنے والا بچہ تھا

اسفند اور نایلہ کی شادی ک چار سال بعد منیزے ای اور ادھر کریم کے ہاں بھی ایک بیٹی ہوی دونوں میں صرف ایک دن کا فرق تھا

ماما یہ دونوں ڈول کتنی پیاری ہے نہ اب سے یہ میرے پاس رھے گی زیہان ان دونوں کو دیکھ کر خوشی سے بولا اسکی بات نایلہ اور رقیہ دونوں ہنس دی

پھر کا فی عرصے بعد نایلہ نے ارمی دوبارہ سے جواین کر لی اس وجہ سے وہ زیادہ تر رقیہ بیگم کے پاس رہتی تھی اور ان ہی کا دودھ پیتی تھی

اس طرح منیزے زیہان کی دودھ شریک بہن تھی

تین سال یو نہی ہنس خوشی میں گزر گے جب نایلہ پھر سے ماں بننے ولی سارے گھر میں خوشی کی جیسے لہر دوڑ گی اور بمشکل انتظار کرنے سے اخر کار وہ گھڑی ا ہی گی جب انکے گھر میں بیٹا ہوا منیزے سب سے زیادہ زیہان کے قریب تھی اور زیہان بھی پری اور منیزے کے بغیر اےک پل بھی نہیں رہتا تھا

اسنے ان دونوں کو اپنے سکول میں ہی ایڈمیشن دلایا تھا

چار سال بعد

انکے گھر میں ہر دن جیسے عید ہوتی تھی خوشیوں نے جیسے انکے گھر میں بسیرا کر لیا تھا

پھر انکی خوشی دوگنی جب ہوی جب ان چاروں کو دوبارہ سے ایک مشن پر کام مل گیا

نایلہ اسفند حسینہ صفدر خوشی خوشی مشن پر روانہ ہونے کی تیاری کررہے تھے جب منیزے اندر داخل ہوی

ڈیڈ اپ پھر جارہے اپ دونوں کو پتہ بھی ہمارا اپ کے بنا دل نہیں لگاتا اٹھ سالہ منیزے تھوڑی ناراضگی سے بولی

اسکی بات پر اسفند جو کہ اپنا سامان پیک کر رہا تھا زور سے ہنس پڑا

اچھا جی چلو اگر میری گڑیا کہتی ھے تو میں نہیں جاتا اور یہ کہہ کر وہ اسکو گود میں اٹھایا اور بیڈ پر بیٹھ گے

کیونکہ سب جانتے تھے کہ منیزے ارمی والوں کے لیے کتنی پوزیسسو ہے

نہیں ڈیڈ میں نے ایسا تھوڑی کہا وطن کی حفاظت اپکا فرض اور سب سے پہلے فرض کو ادا کرنا چاہیے

میری پیاری بیٹی انہوں نے انکے سرپر بوسہ دیا

میری بیٹی بڑی ہوکر ڈاکٹر بنے گی نا اسفند نے اس سے پیار سے پو چھا

جس پر منیزے نے زور و شور سے سر ہلایا

اچھا اب اپ سب کو بلاوں ہم نکلتے ٹھیک ہے حسینہ اور صفدر اور کرنل صاحب بھی ادھر ہی اگے تھے کیونکہ یہ انکا چھے ماہ کا مشن تھا اور دوسری کنٹری جانا

وہ سب اس وقت سب یونیفارم میں تھے کونکہ پہلے انہیں میس پر جا نا تھا وہاں سے اپنے ڈاکو مینٹس لے کر اور بھیس بدل کر ایر پور ٹ جانا تھا

سب لوگ انھیں چھوڑنے گے تھے گھر میں صرف زیہان منیزے اور کرنل صاحب کا پوتا تھے

جبکے کرنل صاحب خود میس میں پہلے سے موجود تھے

بھای

منیزے نے زیہان کومخاطب کیا

ہاں بولو میری جان زیہان منیزے کو ہمیشہ ایسے ہی جواب دیتا جسکی وجہ سے کرنل صاحب کب پوتا ہمیشہ چڑ جاتا تھا

بھای یہ کرنل صاحب کا پوتا گھر بھی کریلے کھاتا ہے یہ جب ہمارےگھر اتا ہے تب کھا لیتا ہے منیزے اتنی معصومیت سے بولی کے زیہان سے اپنا قہقہہ کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا

منیزے ہمیشہ سے اسے کرنل صاحب کا پوتا کہتی تھی

تھوڑی دور بیٹھے کرنل صاحب کے پوتے تک اسکی اواز باسانی جا رہی تھی جسے سن کر اسنے غصے سے اپنے دانت پیسے

وہ اور زیہان میں بس ایک سال کا فرق تھا جبکے منیزے اور پری ان دونوں سے کافی چھوٹی تھی

منیزے اسکا نام ہادی ہے زیہان نے ہنسی کنٹرول کرتے ہوے بتایا

ہاں جیسے مجھےتو پتہ ہی نہیں ہے منیزے منہ بنا کر بولی

جس پر نہ چاہتے ہوے بھی ہادی کی ہنسی نکل گی

اسی طرح کافی وقت بیت گیا

جب کرنل صاحب اندر اے زیہان اور منیزے بھاگ کر انکے گلے ملے انہیں اس طرح بھاگ کر اتے دیکھ کر کرنل جو غصے سے اندر اے تھے مسکرا پڑے

یہ تم لوگوں کے نالایق ماں باپ کدھر ھے نہ ابھی تک میس پہنچے ہے نہ فون اٹھا رہے انکی فلاٸٹ بھی نکل چکی ھے

کرنل صاحب اس دفعہ تھوڑا پریشانی سے بولے کیونکہ ان تینوں کے علاوہ کوی نہ بچے اور نہ ہی بڑے نظر ا رہے تھے

اتنی دیر میں ایمبولنس کا ساٸرن سنای دیا

الہی خیر کرنل صاحب بے ساختہ بولے اور باہر کی جانب بھاگے جبکے بچے ابھی اندر ہی تھے

تھوڑی دیر میں لاشوں کے ڈھیر اندر کو ایک ایک کرکے صحن میں لایا گیا

بھای منیزے کی نظر خون سے لت پت پڑے اپنے بھای پر پڑی تو کانپتی اواز میں زیہان کو پکارا

اسکی پکار پر وہ اسکی طرف بڑھا اسے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا ہوا کیا ہے اسے لگا جیسے یہ سب خواب ہے انکھ کھلتے ہی یہ سب غایب ہو جاے گا

اس سے پہلے ہی منیزے بھاگ کر اپنے بابا کی طرف بڑھی جن کا ایک طرف سے چہرہ جھلسا ہوا تھا

ڈیڈی اپ ایسے کیوں لیٹے ہوے ھیں اٹھے نہ اپ مزاق کر رہے ہے منیزے منہ بنا کر بولی

کرنل صاحب وہی گر گے جب ایک پولیس افیسر نے انھیں سہارہ دیا کرنل صاحب ایک بچی کی لاش کو ہم نہیں ڈھونڈ سکے انکی گاڑی سے صرف سات لاشیں نکلی ہے

ماما بابا اٹھیں نہ اپ نے ہادی سے وعدہ کیا تھا اپ جلدی واپس

ای گیں ہادی کی اور زیہان کی چینخیں پورے گھر میں گونج رہی تھی

جبکے منیزے کی انکھیں مسلسل اپنے چار سال کے بھای کے چہرے پر تھی جو اسے چراتا ہوا گاڑی میں بیٹھا تھا

کیونکہ وہ ان تینوں ک گھر چھوڑ گے تھے

ماما چچی اٹھیے نہ دیکھے اپ کا زیہان رو رہا ہے اگر اپ لوگ نہیں اٹھے نہ تو میں اپ سے بات نہیں کروں گا

بابا اج اپ کیوں چپ ہے کوی تو کچھ بولوں ورنہ میں مر جاوں گا اپ لوگ میری پری کو کدھر چھوڑ اے اٹھ کیوں نہیں رہے اپ لوگ زیہان روتے ہوے چینخ کر بولا

جب دھڑام سے گرنے کی اواز ہادی جلدی سے منیزے کی طرف بھاگا جس کے سر اور ناک سے فرش پر گرنے کی وجہ سے پانی کی طرح خون نکل رہا تھا

ہادی نے اسے گود میں اٹھایا اور زیہان کو اواز لگا کر باہر کی جانب بھاگا

زیہان بھی تیزی سے اسکے پیچھے بھاگا

جبکے کرنل صاحب ایکدم سے بوڑھے ہوگے تھے انھیں اپنے بچوں کی بچپن سے اب تک کی ساری باتیں سنای دے رہی تھی

ایمبولنس ابھی تک باہر ہی کھڑی تھی اس میں وہ دونوں منیزے کو لےکر جلدی سے بیٹھے اور ہوسپٹل کی طرف روانہ ہو گے

کرنل صاحب کہ کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کرے ایک طرف جان سے پیاری نواسی تھے اور دوسری گھر لاشوں سے بھرا پڑا تھا وہ جاے تو کدھر جاے

تھوڑی دیر میں انکا پورا گھر محلے کے لو گوں اور فوج سے بھر گیا تھا

منیزے کی حالت بہت خراب تھی بسے ای سی یو میں شفٹ کردیا گیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیہان اور ہادی رو رو کر نڈھال ہو گے تھے وہ دونوں ابھی خود تیرہ چودہ سال کے بچے تھے اور انھیں اتنا بڑا غم مل گیا

انہیں سمجھ نہیں ارہی تھی وہ زندہ کیوں ہے

زیہان اور ہادی اس وقت جنازے میں تھے انکے گھر سے ایک ساتھ سات سات جنازے اٹھے تھے

ماں میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپکے قاتلوں کو ایسی موت دوں گا کہ موت بھی کانپ جاے گی

چچی

میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپکے قاتلوں کو ایسی موت دوں گا کہ موت بھی کانپ جاے گی

پاپامیں اپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپکے قاتلوں کو ایسی موت دوں گا کہ موت بھی کانپ جاے گی اسنے سب کی بوڈی کو قبر میں اتارتے ہوے وعدہ کیا

میں اپنی جان بھی دے دوں گا لیکن منیزے کو ایک خراش نہیں انے دونگا

جبکے ہادی کو کوی ہوش ہی نہیں تھا اسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے وہ بے جان سہ ہو کر اپنے جان سے پیارے لوگوں کو قبر میں اتار رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اج انکو گزرے چوتھا روز تھا منیزے کی حالت خطرے سے تو خالی تھی لیکن وہ رو رہی تھی نہ کچھ کھا رہی تھی نہ ہی کسی سے بول رہی

ڈاکٹر نے کہہ تھا کہ جب تک اسکا ٹرامہ ٹوٹ نہیں جاتا تب تک اسے کچھ بھی ہوسکتا ھے وہ پاگل بھی ہو سکتی تھی

اس لیے وہ تینوں ابھی تک ہوسپٹل میں ہی تھے

جب زیہان اور ہادی روم میں اینٹر ہوے زیہان کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی اور ہادی کے ہاتھ میں جوس تھا

زیہان منیزے کے بغیر کھانا نہیں کھاتا تھا اس لیے وہ بھی تین دن سے بھوکا تھا اور نہ ہی ہادی نے کچھ کھایا تھا

منیزے میری جان ادھر دیکھوں میری طرف

زیہان نے کھانا سایڈ پر رکھا

جب منیزے نے اسے خالی نظروں سے دیکھا اور پھر دوبارہ سے چھت کی طرف دیکھنا شروع کردیا

کیاتم چاہتی کہ میں بھی مر جاوں زیہان اس دفعہ تھوڑی تیز اواز میں بولا

بھای منیزے اور ہادی نے تڑپ کر زیہان کی طرف دیکھا

منیزے کی انکھ سے ایک قطرہ انسوں کا نکلا

ہاں تو تمھیں پتہ بھی ہے میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا

روز مررہا ہوں میں تمھیں نہیں کھو سکتا میں اپنے ہاتھوں سے انہںں قبر میں اتارا ہے میں نے

پھر جس طرح وہ تینوں روے باہر کھڑے سارے ڈاکٹرز اور فوجیوں کی انکھیں نم ہو گی

پھر ان تینوں نے ایک دوسرے کو کھانا کھلایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار ماہ بعد

کہتے ہے نہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے

اس طرح وقت نے چاروں کے درد پر مرہم رکھ ہی دیا کرنل صاحب ان دونوں کو اپنے گھر لے اے تھے جو کسی محل سے کم نہیں تھا

تبھی کرنل صاحب کو پتہ چلا کہ منیزے کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ منیزے کڑوڑوں نہیں اربوں کی جایداد کی مالک تھی

اور ابھی تک ان قاتلوں کا پتہ نہیں چلا تھا

اسلیے کرنل صاحب نے زیہان اور ہادی سے فیصلہ لے کر منیزے اور ہادی کا نکاح کر دیا

کیونکہ منیزے فوجیوں کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی اسکا ماننا یہ تھا اگر وہ اس دن مشن پر نہیں جاتے تو کوی انکی گاڑی کو بلاسٹ نہیں کرتا

اسلیے انہیں پتہ تھا زیہان اور ہادی بڑے ہو کر اپنی حفاظت کر سکتے ہے لکن منیزے ایک لڑکی ھی

پری کھای میں گر کر مر گی تھی اس وجہ سے انہیں انکی لاش نہیں ملی

انکی دولت جب وہ اٹھارہ اٹھارہ سال کے ہوجاتے تب انھیں ملںنی تھی

پھر اچانک ہادی کو کیا ہوا کہ وہ سب سے اجازت لے کر لنڈن چلا گیا کبھی نہ واپس اںے کے لیے

لیکن جاتے ہوے وہ منیزے سے ملا اور کہہ میرا انتظار کرنا ایک دن ایک مضبوط انسان بن کر تم سے لوں گا

جو تمھاری ہر بڑی نظر سے حفاظت کرسکے گا

لیکن اسے واپس نہیں انا تھا وہ نہ ایا

اس لیے کرنل صاحب اے ایس ایچ ایجنٹ کو اسکی حفاظت کے لیے منطخب کیا

کیونکہ منیزے کے اٹھارہ سال کے ہوے میں چار ماہ باقی تھے