Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 15
Rate this Novel
Power of Love Episode 15
Power of Love by Afzonia Zafar
زیہان تھوڑا سا لڑکھڑایا اتنی دیر میں زبیر اس بندے کو ختم کر چکا تھا اے ایس ایچ جانتا تھا ایک گولی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی اس لیے اس سے کچھ بھی کہے بغیر اگے بڑھا کیونکہ ابھی تک صرف ایک ادمی کی نظر اس پر پڑی اور اسے وہ لوگ ختم کر چکے تھے
زبیر پریشانی سے زیہان کی طرف بڑھا سر اپ اس سے پہلے وہ کچھ بولتا زیہان نے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کر وایا
زبیر اج تو موت بھی مجھے میری بہن تک پہچنے سے نہیں روک سکتا ہے زیہان کے مضبوط لہجے نے سب کو اسکی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا
اگر اج منیزے اسکے منہ سے یہ سن لیتی تو فخر سے اسکی گردن تن جاتی اسے پتہ تھا اس کا بھای اس سے بے حد پیار کرتا ہے لیکن اس حد تک یہ نہیں پتہ تھا
اب ادھی ٹیم زیہان کے پیچھے تھی اور ادھی ٹیم اے ایس ایچ ایجنٹ کے پیچھے تھی وہ لوگ ان لوگوں کو اس طرح مار کر اگے بڑھ رہے تھے کہ ساتھ والے کو بھی پتہ نہیں چلتا اور اس پہلے ہی دوسرے کو مار دیتے
جمعیل اپنی جیت کے نشے میں شراب پی رہا تھا لیکن دو تین پیگ سے اسے نہیں چڑھ رہی تھی پھر اس سے صبر نہیں ہوا تو وہ اپنے روم کی طرف بڑھا وہ اگے بڑھ رہا تھا جب اسنے قدموں کی اواز سنی وہ مسکرایا کیونکہ اتنا تو اسے پتہ تھا یہ فوجیوں کے مضبوط قدموں کی دھمک تھی
واہ کرنل تو نے اپنے پوتے اور نواسے کو شیر بنایا ہے جہاں پرندہ پر نہیں مار سکتے تھے وہاں یہ لوگ اندر ا گے ہیں کھیل میں مزہ انے والا ہے
اسنے اپنے دو تین ادمیوں کو اپنے پیچھے انے کا اشارہ کیا اور ہاتھ میں اپنی گن پکڑی اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگا
وہاں بھاگا اور منیزے کے بالوں کو کھینچ کر اسکا چہرہ اوپر کیا اور اسکے سر پہ بندوق تانی اور اپنے ادمیوں کو دروازے کی طرف بندوق تان کر کھڑا کر دیا
اتنے میں زیہان اور اے ایس ایچ اور انکی باقی ٹیم اسں سپر روم کی طرف بڑھے انھیں پکا پتہ یہی وہ روم ہے جس میں منیزے کو رکھا تھا کیونکہ یہ اخری روم تھا
ہمیں پورا ہو شیار رہنا ہے وہ کوی عام بندہ نہیں ہے جو اتنی اسانی سے ہاتھ ا جاے وہ لوگ ایک ساتھ دروازے میں داخل ہوے اور انکا شک سہی تھا
منیزے کی نظر زیہان پر پڑی بھای لیکن جس دوسرے بندے پر پڑی اسکی انکھیں حیرت سے کھل گی عبیر اسکے ہونٹوں نے ہلکی سی سرگوشی کی
عبیر اور زیہان کی ایک ساتھ نظر خون میں لت پت منیزے پر پڑی زیہان سی انکھیں بے حد سرخ ہوگی اور ماتھے کی رگیں تن گی جبکہ عبیر کا دل کیا وہ ساری دنیا کو اگ لگا دے یہ پھر خود کو ختم کرلے جسکی وجہ سے اج وہ معصوم لڑکی اس حالت کو پہنچی تھی
واہ کیا بات ہے کرنل نے تو سچ میں تم لوگوں کو شیر بنا دیا ہے واہ زیہان نے نوٹ کیا کہ کہ اسکا لہجہ لڑ کھڑا ہے مطلب اسنے شراب پی ہوی تھی اور یہی سب نے نوٹ کی
زیہان نے پیچھے کی جانب ہاتھ کرکے اشارہ کیا جسے سمجھ کر انہوں نے ایک ساتھ ان تینوں کو ڈھیر کر دیا اگر وہ شراب نہیں پیتا تو اج شاید پتہ نہیں کیا ہوتا
لیکن شاید اللہ کو انکی کوی نیکی پسند اگی تھی اج سب کچھ انکے حق میں تھا
دیکھ جمعیل جود کو سرینڈر کر دوں اسان موت ملے گی ورنہ تو نے میرے قصے تو سنے ہی ہونگے زیہان نے اسے اگاہ کیا حلانکہ اس کا کوی ارادہ نہیں تھا اسے اسان موت دینے کا
ارے جا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا عبیر تیزی سے اگے بڑھا اور اسک گن والے ہاتھ میں زور سے پاوں مارا کیونکہ زیہان کی باتوں سے اسکا دھیان بٹ چکا تھا جسکا فایدہ عبیر نے اٹھایا
عبیر جلدی سے منیزے کے اگے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا تھا زیہان نے جلدی سے اسکی ٹانش میں فایر کی وہ زمین پر گر چکا تھا
زیہان تڑپ کر منیزے کی طرف بڑھا جس کا جمعیل نے فایدہ اٹھایا اور اتنی اہستگی سے اپنی پینٹ سے گن نکالی کیونکہ سب کا دھیان منیزے کی جانب تھا
اسنے گن کا رخ منیزے کی طرف کیا اور ایک ساتھ تین چار گولی چالای
عبیر جسکی باے چانس ہی اس پر نظر پڑی وہ جلدی سے منیزے کے اگے کھڑا ہوکر اس سے پہلے گولی چلاتا جمعیل کی چاروں گولیاں اسکے جسم میں پیوست ہوگی اور وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا
اتنے میں زبیر نے ایک گولی جمعیل کے پیٹ میں ماری لیکن جمعیل نے ہار نہیں ماری اسنے دوسری گولی چلای جو سیدھا منیزے کے پیٹ میں لگی پھر گولی چلای اس دفعہ گن کا رخ زیہان کی طرف تھا
زبیر نے ایک اور گولی اسکے پیٹ میں ماری جیسے ہی گولی اسکے پیٹ میں لگی ویسے ہی اسکی گن کا ٹریگر دبا اور زیہان کے سینے میں پیوست ہوگی
اور وہی جمعیل یہ تو مر گیا تھا یہ پھر بیہوش ہوا تھا منیزے نے بند ہوتی نظروں سے عبیر کو دیکھا جو اسکی طرف دیکھ رہا تھا اور شاید کلمہ پڑھ رہا تھا بس اسی وقت منیزے کی بھی انکھیں بند ہوگی
زیہان نے ہار نہیں مانی وہ اٹھا اور منیزے کو کھولنے لگا زیہان کے منہ سے بھی خون نکل رہا تھا لیکن اسے اس وقت اپنی بہن کی فکر تھی زبیر جلدی سے اگے بڑھا اور میزے کو کھولنے میں مدد کی جبکے چند فوجیوں نے جلدی سے عبیر کو اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگے
زبیر نے جلدی سے میس میں خبر دی وہ لوگ ایمبولنس لے کر بس پہنچ ہی رہے تھے
زیہان نے منیزے کو اپنی گود میں اٹھایا اور ہمت کرکے باہر اوپر کی طرف بھاگا اسکے پیچھے ہی انہوں نے جمعیل کو اٹھایا کیونکہ اسکی سانسیں چل رہی تھی
زیہان باہر نکل کر ایمبولنس کی طرف بڑھا جس میں عبیر کو لٹایا جارہا تھا اسی ایمبولنس میں منیزے کو لٹایا
اور بس شاید وہ پر سکون ہوگیا تھا منیزے اب سیف ہے اور زیہان وہی گر گیا
سارے فوجیوں نے حیرت سے ان دو نوجوانوں کو سیلیوٹ کیا زبیر نے فخر سے عبیر کی طرف دیکھا کہ وہ اسکی ٹیم میں تھا جو اپنی اجری سانس بھی اس لڑکی کے نام کر دی جسے وہ بے پناہ محبت کرتا ہے زبیر اسکا ٹیم میٹ کم اسکا دوست زیادہ تھا اس وقت ان دونوں کو کھونے کے ڈر سے زبیر کے انکھ سے اشک رواں تھے
ای ایس ای میں عبیر اور زیہان کو دو جسم اور ایک جان کے نام سے جانا جاتا تھا اور دونوں ںے ہ اپنی جان ایک چھوٹی سے لڑکی کے لیے داو پر لگا دی اسے اس لڑک کے نصیب پر رشک ار رہا تھا اسے بے ساختہ اپنی بہن یاد ای وہ بھی تو اپنی بہن سے بے حد پیار کرتا ہے
…………………..
کرنل صاحب کب سے عبیر کی کال کا انتظار کر رہے تھے جب انکے موبایل پر کال لیکن جو اگے سے انہیں بتایا گیا انکے لیے ناقابل یقین تھا
انھوں نے بے ساختہ اسمان کی طرف دیکھا اور بولے اے اللہ اب مجھ میں کچھ بھی کھونے کی ہمت نہیں ہے میں تیرا گنہگار بندہ ہو اج اپنے بچوں کی زندگی مانگتا ہو
وہ جلدی باہر ک طرف لڑکھڑاتے قدموں سے بڑھے
