Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 21
Rate this Novel
Power of Love Episode 21
Power of Love by Afzonia Zafar
روحان منیزے اور حورم نے مل کر گول گپے تیار کیا حورم نے ایک پلیٹ میں گول گپے ڈالے انکے اندر اتنی مرچیں بھری پھر اوپر الو ڈال دے تاکہ مرچیں نظر نہ اے
ایک باول میں اسنے علیحدہ سے گول گپوں کا پانی نکالا اور اس میں نمک کا زہر کر دیا پھر اسنے ایک گلاس میں کوک کی بوتل ڈالی اور اس میں ہری مرچیں گھول کر سب کچھ ایک ٹرے میں رکھا
منیزے امزے سے موبایل میں وڈیو بنانے لگی تاکہ زیہان کو بلیک میل کرکے پیسے نکلواے جبکے روحان کو کرنل صاحب نے اپنے پاس بلا لیا تھا
حورم مسکراتے ہوے کمرے میں داخل ہو ی زیہان نے حیرت سے حورم کے ہاتھوں میں ٹرے اور اسکے چہرے پر مسکرہٹ دیکھی
زیہان میں نے اپکے لیے اپنے ہاتھوں سے گول گپے بناے ہے حورم نے انکھیں پٹپٹا کر دلکش انداز میں کہا
پتہ نہیں لیکن زیہان کو کچھ گڑبڑ لگی لیکن پھر حورم کے معصوم چہرے کی طرف یکھا
حورم لیکن میں گول گپے نہیں کھاتا ہو مجھے یہ پسند نہیں ہے زیہان نے نرمی سے حورم کو منع کیا حلانکہ اسکا دل تو نہیں کررہا تھا منع کرنے کو وہ اتنے پیار سے اسکے لیے جو بنا کر لای تھی
لیکن چھٹی حس اسے بار بار خبردار کر رہی تھی جو ہمشہ سہی ہوتی تھی اس لیے زیہان نے اپنی چھٹی حس کا کہنا مانا
زیہان یہ تو تمھاری مرضی ہے لیکن یہ بھی دیکھوں میں دو گھنٹے کچن میں لگاے اور تم میں جا رہی ہو حورم اپنی انکھوں میں مگرمچھ کے انسوں لے کر ای اور واپس مڑنے لگی
زیہان کہا حورم کی انکھوں میں انسو دیکھ سکتا تھا اور جلدی سے بولا کیونکہ وہ سچ میں زیادہ مرچی والی چیزیں نہیں کھاتا تھا
حورم لاوں میں تو مزاق کر رہا تھا زیہان کے کہنے کی دیر تھی حورم نے جلدی سے ٹرے اسکے سامنے بیڈ پر رکھی اور اسکی طرف دیکھ کر اپنے نا انے واے انسو صاف کیے
زیہان نے ایک گول گپے کو پکڑا اور اس میں پانی بھر کر منہ میں ڈالا
منیزے دراوزے کی اوٹ سے وڈیو بنا رہی تھی
زیہان کا منہ میں گول گپا رکھنے کی دیر تھی اسکی سفید رنگت بالکل سرخ ہوگی اتنی مشکل سے اسنے اس گول گپے کو اپنے گلے سے اتارا لیکن مرچوں سے اسکا براحال ہوگیا تھا
پانی پانی زیہان کے کانوں سے دھویں نکلنے شروع ہوگے تھے حورم نے شرافت سے جلدی سے کول ڈرنک اسکی طرف بڑھای
زیہان ایک سیکنڈ سے پہلے کول ڈرنک کے گلاس کو منہ کے لگایا اور ایک سپ پیا
آآآ اس دفعہ زیہان کی ضبط کے باوجود بھی چینخ نکل گی اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر حورم کو اپنی ہنسی کنٹرول کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا
منیزے کا باہر ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا اسنے جلدی سے وڈیو کو سٹوپ کیا اور اپنے روم کی طرف بھگ گی
زیہان کی انکھیں حد سے زیادہ سرخ ہوگی تھی اسنے جلدی سے پاس پڑے جگ میں سے پانی پیا تھوڑد سکون ملا لیکن زبان اور ہونٹوں میں مرچوں کی زیادتی سے جلن ہو رہی تھی
زیہان نے حورم کی طرف دیکھا جسکا ہنس ہنس کر برا حال حورم نے اسکی خاموشی پر ہنسی کو کنٹرول کرکے دیکھا لیکن اسکی سرخ انکھوں اور سنجیدہ چہرے پر نظر پڑتے ہی حورم نے بھاگنے میں ہی اپنی بھلای جانی
اس سے پہلے حورم بھاگتی زیہان نے اسکا ارادہ بھانپتے ہوے اسکی کلای کو جلدی سے پکڑا اور اپنی طرف ایک دم جھٹکا دیا
حورم اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی اور زیہان کے اوپر گری اسکے اوپر گرتے ہی زیہان نے کروٹ بدلی
حورم مکمل طور پر زیہان کے نیچے دب گی تھی حورم کی ہنسی اتنی دور غا یب ہوگی جیسے وہ کبھی حورم کو ای نہ ہو
زیہان چھوڑوں مجھے حورم نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے زیہان کے سینے پر دباو دیکر پیچھے کیا
لیکن زیہان مسلسل حورم کی طرف سرخ انکھوں سے گھر رہا تھا لیکن مرچی ابھی بھی اسے بہت لگ رہی تھی
زیہان چھوڑوں میرا دم گھٹ ۔۔۔۔۔۔ زیہان جو کب سے حورم کے ہلتے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا
ایک دم سے اسکے ہونٹوں پہ جھکا اور اسکے لفظوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا
زیہان پوری شدت سے اسکے ہونٹوں پر پیار کر رہا تھا حورم کے نازک ہونٹوں سے اسکے جلتے لبوں کو ٹھنڈک مل رہی تھی
حورم کو اپنے ہونٹوں پر اتنی جلن محسوس ہونے لگی حورم نے اپنے اپ کو چھڑوانے کی کوشش کی زیہان نے نرمی
سے ہونٹوں کوچھوڑا
ہاں تو جاناں مجھے تو یہ بہت پسند ایا اب بس اپنے بدلے کے لیے ریڈی رہنا ٹھیک ہے
زیہان نے اسکے گال کو سہلاتے ہوے کہا حورم نے اس دھکا مارا اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیق صاحب نے سارہ بیگم کو سب بتا دیا تھا اتنے میں روحان بھی ا گیا ان دونوں کے پریشان چہرہ دیکھ کر وہ پوچھے بغیر نہیں رہ پایا
صدیق صاحب کے منع کرنے کے باوجود بھی سارہ بیگم نے روحان کو سب بتانا شروع کردیا
یہ بات حورم کے کڈنیپ سے چند دن پہلے کی تھی جب انکا بزنس پارٹنر انکے گھر ایا تھا
ارمان غیلانی جو تیس سال کا تھا اب باپ کے بزنس کو چالاتا تھا انکی کمپنی کا جانا مانا نام تھا
اوپر سے اسکے چچا سیاستدان تھے اسی لیے انکا اچھا خاصانام تھا جب ایک میٹنگ کے سلسلے میں ارمان صدیق صاحب کے ساتھ انکے گھر ایا
وہ لاونج میں بیٹھ کر کچھ ڈسکس کر رہے تھے جب حورم کی خوبصورت ہنسی کی اواز ارمان کے کانوں میں پڑی اسنے بے ساختہ گردن پیچھے گھما کر دیکھا جہاں شیشیے میں سے حورم اور روحان کسی بات پر ہنستے ہوے نظر ارہے تھے
ارمان کی نظریں حورم کے نوخیز حسن میں الجھ کر رہ گی
ارمان نے صدیق صاحب سے اشارے سے پوچھا کہ یہ کون ہے
صدیق صاحب اسکے پوچھنے پر حورم کے بارے میں بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے
پھر اسنے بغیر کچھ کہے ڈیل فاینل کر لی اس بات سے صدیق صاحب بہت خوش تھے لیکن وہ ارمان کی نظریں نہیں پڑھ پاے
اگلے دن ارمان اپنے باپ اور چچا کے ساتھ صدیق صاحب کے افس میں حورم کا رشتہ لے کر پہنچ گے
صدیق صاحب نے ارام سے انکار کر دیا کیونکہ وہ حورم سے عمر میں کافی بڑا تھا
اوپر نہ تو وہ ابھی حورم کی شادی کرنا چاھتے تہے اور اوپر سے انکے خاندان کی بری شہرت کے بارے میں انہوں نے کافی کچھ سن رکھا تھا
پھر وہ لوگ اس وقت تو ارام سے چلے گے لیکن پھر حورم کا کڈنیپ جب ہوا تو اسکے باپ کی کال اگی کہ دسکے بیٹے نے پہلی مرتبہ زندگی میں کچھ مانگا ہے
اگر انکار کیا تو تیری بیٹی کی عزت بھی جاسکتی ھے لیکن تھوڑی دیر بعد کرنل کا فون انا زیہان کے نکاح کا کہنا
صدیق صاحب کو اس وقت زیہان حورم کے لیے بالکل ٹھیک لگا اسی لیے اسکا نکاح زیہان کے ساتھ ہوگیا
نکاح کے چند دن تک تو بالکل خاموشی رہی لیکن پھر ارمان کا فون انے لگا کہ اپنی بیٹی کو اس سے طلاق دلا ورنہ وہ اس لڑکے کو ختم کر دے گا حورم اسکے محبت ہے اور وہ اپنی محبت سے دستبردار کسی قیمت پر نہیں ہوگا
اس دن انہوں نے ہی کرنل صاحب سے کو سب کچھ ارمان کے بارے بتا دیا تھا جس پر کرنل صاحب نے کہا تھا کہ حورم کو اسکے ساتھ بھیج دیا جاے
ایک تو انکے گھر کی سیکیورٹی بہت ٹایٹ تھی دوسرا وہ اپنے شوہر کے پاس رہے گی اور تیسرا کسی کو بھی اس حویلی کا پتہ نہیں چلے گا
لیکن اب وہ زیہان کے گھر تک کا ایڈریس بتا رہا ہے اور دو دن کا ٹایم دیا ہے اور کہا ہے اسکے بعد نتایج کے ذمدار اپ خود ہونگے
سب کچھ سننے کے بعد روحان کا غصے سے برا حال ہوگیا وہ اس ارمان کو ختم کرنا چاہتا تھا
لیکن صدیق صاحب نے اپنی قسم دے کر روکا کیونکہ روحان ابھی بچہ تھا وہ اسکا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا
لیکن روحان اس بات پر خوش بھی تھا کہ زیہان نے اسکی بہن سے نکاح کیا ہے بے شک زیہان ایک مضبوط اور بہادر شخص ہے جو اپنی بیوی کی حفاظت کر سکتا ہے
