406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 10

Power of Love by Afzonia Zafar

اس سے پہلے وہ نیچے گرتی دو مضبوط بازوں نے اسے اپنے حصار میں لیا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھا

منیزے کو جب ہوش ایا تو سب سے پہلی نظر اسکی پھولوں سے سجی ٹیبل پر پڑی سنے دماغ پر زور دے کر اپنی انکھوں کو پوری طرح سے کھول کر دیکھا

تو شاید ہو کوی ہوٹل تھا جس میں ہلکی ہلکی لایٹ جل رہی تھی اور اس وقت پورا ہوٹل خالی تھا

شکر ہے اپکو ہوش ایا ورنہ میں تو پریشان ہوگیا تھا کیونکہ وہ دوای اتنی تیز تو نہیں تھی حیدر شاہ اسکی طرف پرسکون ہوتا بولا

تمھاری ہمت کیسے ہوی اتنی گی ہوی حرکت کرنے کی اگر میں نے اپنے بھای کو بتا دیا نہ تو تمھاری حالت خراب کر دے گے استین کا سانپ نکلے

منیزے غصے سے کہتی ہوی اٹھی اور باہر جانے لگی جب حیدر شاہ نے اسکے ہاتھ پکڑے کی غلطی کی تھی

منیزے غصے سے مڑی اور ایک زور دار مکا حیدر شاہ کے منہ پر مارا اور اسکے منہ پر نشان چھوڑ گیا حیدر شاہ ہکابکا اس بھپری شیرنی کو دیکھتا رہ گیا

اسنے بالکل بھی منیزے سے امید نہیں کی تھی کہ وہ ایسا کچھ کر سکتی ہے

روکو جب تک تم میری بات نہیں سن لیتی ہو تب تک میں تمھیں جانے نہیں دوں گا حیدر شاہ نے نرمی سے اسکا ہاتھ چھوڑ کر اس سے کہا اور ہوٹل کے دروازے کی جانب اشارہ کیا

جس پر لگا تالا منیزے کو منہ چڑا رہا تھا منیزے نے غصے سے حیدر شاہ کی طرف دیکھا جو بولنا ہے جلدی بولوں میرے پاس اتنا فلتو ٹایم نہیں ے اور نخوت سے بولی

وہ میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ وہ مناسب الفاظ ڈھونڈنے لگا

دیکھوں مجھے لگتا ہے کہ اپکے پاس الفاظ نہیں دروازہ کھولوایے اور مجھے جانے دے پلیز منیزے اس مرتبہ اپنے غصے کو کنڑول کرتے ہوے بولی

میں اپکو پسند کرتا ہو اور اور میں اپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں حیدر نے اپنی داڑھی کھجاتے ہوے کہا مطلب حد ہے وہ حیدر شاہ جسکے اگے لوگ اپنے الفاظ بھول جاتے تھے وہ ایک چھوٹی سی لڑکی کے اگے اپنے الفاظ بھول گیا اور کیا کیا کرنے پڑے گا اس عشق میں

اپکو اس سے زیادہ بیہودہ مزاق نھہیں ملا کرنے کو ویسے شرم تو اپکو ا نہیں رہی ہو گی اس طرح کسی لڑکی کو پہلے کڈنیپ کیا اور پھر اپنی شادی کا پرپوزل رکھ دیا ویسے ا ج تک کتنی لڑکیوں کے ساتھ ایسا کر چکے ہے اج مجھے اپنے بھای کی پسند پر افسوس ہو رھا ہے ایک میرا بھای جو لڑکیوں کو نظر اٹھا کے نہیں دیکھتا اور جو دیکھتا ہے اسکی بھی انکھیں نکال دیتا ہے اگر اپ میں تھوڑی سی بھی غیرت با قی ہے نہ مجھے یہاں سے جانے دے گے اور ایک اخری بات میرا نکاح ہوچکا ہے اور میں اپنے اپ کو اسکی امانت سمجھتی اور میں اس سے بے حد پیار کرتی ہو اور دوبارہ میرے سامنے انے کی غلطی مت کرنا ورنہ اپ مجھے اچھے سے جانتے نہیں ہے میں کیا کر سکتی ہو اگر دوبارہ اتنی گری ہوی حرکت کرنے کو دل کرنے اتنے چہرے پر پڑے ہوے نشان کو دیکھ لینا جو اس بات کا ثوت ہے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں

منیزے نے غصے سے کہتے ساتھ اپنا ہاتھ اگے بڑھایا جس کا حیدر نے مطلب سمجھتے ہوے چابی اسکے ہاتھ میں دے دی

اور منیزے نے غصے سے اگے قدم بڑھاے اور لوک کھول کرباہر نکل گی جہاں اسکی سایکل کا ٹایر صیح سامت تھا اسے سمجھے میں دیر نہیں لگی کہ یہ حیدر نے صحیع کروایا ہوگا

حیدر نے اسے باہر نکلتے ہوے دیکھا اور غصے سے ادھر ٹیبل پر رکھی بوتلوں میں ہاتھ مار کر نیچے گرایا لیکن اسکا غصہ کسی صورت میں کم نہیں ہورہا تھا

وہ چھوٹی سی لڑکی اسکی محبت کا مزاق بنا کر چلے گی اسے کیسے بتاتا اسنے تو اسکی جان بچای تھی اگر وہ وہاں سے گزر نہیں ہو رہا ہوتا تو اج پتہ نہیں وہ کس حالت میں ہوتی بے شک وہ تین چار دن سے اس سے بات کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا لیکن اسے اس وقت سایکل پر اتے دیکھ کر وہ تھوڑا خوش ہوا جسے اسنے اپنے ڈرایور کو کال کرکے منگوای تھی

وہ اس سے کافی پیچھے تھا جب اسنے ایک ادمی کو دیکھا جسنے اسکی سایکل پر گن میں ساٸلینسر لگا کر فایر کیا تھا جو صرف اسکی سایکل کے ٹایر کو چھو کر نکل گیا

لیکن منیزے شاید گہری سوچوں میں تھی اس وجہ سے اسنے غور نہیں کیا تھا اخ ہوا کیا حیدر جدی لیکن اہستگی سے اپنی گاڑی سے نکلا

جبھی وہ ادمی اگے بڑھا اور منیزے کے چہرے پر رومال رکھا حیدر کے ماتھے کی رگیں تن گی اسنے ایک مکا اسکے چہرے پر پوری طاقت سے مارا اور اس بندے ک گردن سایڈ پر ڈھلک گی

اس سے پہلے منیزے نیچے گرتی حیدر نے اسے انی مضبوط بازوں میں تھام لیا اور اسے گود میں اٹھا کر اپنی گاڈی کی طرف بڑھ گیااور اسے اپنے دوست کے ہوٹل میں لے ایا جسکی اج اینیورسری تھی اس ے اس سے کہہ کر پورا ہوٹل خالی کروایا

حیدر کا اس وقت پورا ہاتھ زخمی ہو چکا تھا لیکن اسکے کانوں میں اس وقت منیزے کے الفاظ گونج رہے تھے

…………………………

اپکو کیا ہوا کل سے اپ انتہای پریشان نظر ا رہے ھے نہ ہی کچھ کہا رہے اور حورم بھی کرنل صاحب کے گھر چھوڑ اے ہے ہوا کیا ہے کوی پریشانی کی بات ہے کیا ہے سارہ بیگم کل سے صدیق صاحب کو پریشان پریشان سہ دیکھ رہی تھی اب ان سے انکی پریشانی دیکھی نہیں جارہی تھی اسلیے اخر کار اسنے پوچھ ہی لیا

نہیں ایسی کوی بات نہیں ہے بس ایک میٹنگ کینسل ہو گی تھی جس سی کمپنی کو کافی لوس ہوا ہے اب وہ انہیں کیا بتاتے کرنل صاحب جو کچھ اپنے گھر کر کل اسے بتایا تھا بس پتہ نہیں وہ زندہ کیسے تھے

کرنل صاحب نہیں چاہتے تھے کہ منیزے اس حالت میں گھر اے اسلیے انہوں نے جھولی پھیلا کر حورم کو زیہان کے لیے مانگا تھا

وہ خود بھی جانتے تھے بیٹی کے دامن پر اکر چھوٹا سہ بھی داغ لگ جاے تو یہ دنیا والے اسکا جینا حرام کر دیتےھے

اسلیے انہوں نے حورم کو منایا اس رشتے کے لیے ہاں کردے اور اپنا فون حورم کو دیا کے اپنی ماں سے کہہ دے کے وہ اج کرنل صاحب ک گھر رکے گی کیونکہ ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا

کیونکہ کے چہرے پر موجود تھپڑ کے نشان اپنی کہانی خود بول دیتے

اتنی سی بات پر اپ اتنا پریشان ہو گے تھے اور روحان کو دیکھوں

کل سے اپنے روم سے باہر ہی نہیں ایا ہے اور بار بار حورم سے بات کرنے کی ضد کررہا ہے لیکن اسکا فون مسلسل بند جارہاہے

اور کہہ رہا مجھے حورم کے حوالے سے برے برے خیال ا رہے ھے اسی چکر میں اسے بخار ہو گیا ہے اپ حورم کو بلا لے سارہ بیگم پریشانی سے بولی

ہاں میں کرتا ہو کرنل صاحب کو کال کے حورم کو بھیج دے

………………

زیہان اسے کھانا وغیرہ کھلا کر باہر چلا گیا تھا دوپہر ہونے والی تھی لیکن وہ اندر نہیں ایا تھا جس پر حورم بار بار شکر کا کلمہ پڑھ رہی تھی

جب وہ اندر ایا لیکن اسکے بیگ میں شاپنگ بیگ تھا یہ تمھارے کپڑے ہے جلدی سے چینج کر لوں پھر میں تمھیں گھر چھوڑ اتا ہوں

گھر جانے پر حورم خوشی سے کپڑے چینج کر لیے لیکن اسے بے انتہا حیرت ہوی کیونکہ وہ بالکل ان کپڑوں کی طرح تھے جو اسکے پھٹ چکے تھے

حورم حجاب سیٹ کرکے باہر نکلی تو زیہان وہی بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا

حورم یہ منیزے کا میک اپ ہے تھوڑا سہ میک اپ کر لوں کیونکہ تمھارے نشان ابھی تھوڑے تھوڑے سے نظر ارہے تھے

حورم نے میک اپ کیا پھر زیہان کے ساتھ گاڑی میں اک بیٹھ گی سارے راستے دونوں میں خاموشی رہی تھی

زیہان نے اسے اسکے گھر کے اگے گاڑی روکی حورم خوشی سے جلدی سے باہر نکلی اور اندر بھاگ

زیہان نے حیرت سے اسکی جلدبازی دیکھی پھر دکھ سے سو چا مطلب اتنی بھی جلدی کیا نہ باے بولا اور نہ ہی اندر بلایا اور گاڑی اگے بڑھا لی

حورم خوشی سے اندر بڑھی کیوکہ ایسا زندگی میں پہلی دفعہ ہوا تھا جب وہ ایک رات اتنے گھر والوں سے دور رہی ہوں

ابھی وہ اندر لاونج میں داخل ہوی تھی جب روحان بھاگتا ہوا ایا اور زور سے اسے اپنے سینے سے لگایا اور رونا شروع ہوگیا تھا

حورم ایسا کیوں کیا اپنا فون بھی بند کر لیا تمھیں پتہ ہے نہ میں تمھاے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا ہو پھر کیوں گی تھی ایندہ ایسا کیا نہ پھر میں کبھی تم سے باٹ نہیں کروں گا

روحان نے ابھی تک اسے گلے لگایا ہوا تھا

اور حورم بھیگی انکھوں سے اسکی پیار بھری ڈانٹ سن رہی تھی

………………………

سر سر مجھے نہیں پتہ وہ کون تھا اور اچانک کیسے ایا اور اس لڑکی کو کہاں لی گیا وہ اس وقت ہوسپٹل میں اپنی ٹوٹی ہوی گردن کے ساتھ اپنے بوس کو صفدیںاں دے رھا تھا

مجھے پتہ تھا تم حرام خور اس سونے کی چڑیا کو نہیں لا سکوں گے اس لیے میں نے کچھ اور سوچا ہے

جس سے وہ کرنل کچھ نہیں کر سکے گا میں نے اسی لیے اپنا ایک شاطر لڑکا اسکی یونیورسٹی میں پہلے ہی بھیج دیا ہے اور اس سے پیار کا ناٹک کرے گا اور اس لڑکی کو میرے پاس لے اے گا

ویسے وہ لڑکی بڑی ہو کر پٹاخہ کیا بومب بن گی ہے پہلے میرا ارادہ صرف اسکی دولت کو حاصل کرنا تھا

لیکن اب مجھے ایک رات کے لیے وہ بھی چاھیے اسکے لہجے میں اس وقت حوس ہی حوس ٹپک رہی تھی