Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 20
Rate this Novel
Power of Love Episode 20
Power of Love by Afzonia Zafar
منیزے جب اٹھی تو وہ خود کو بہت اچھا فیل کر رہی تھی اسنے پاس لیٹی حورم کی طرف مسکرب کر دیکھا جو سوتے ہوے اتنی معصوم لگ رہی تھی
منیزے کو ابھی تک نہیں پتہ چلا پھا کہ حورم زیہان کی بیوی ہے
حورم اٹھوں منیزے نے حورم کو اٹھایا حورم نے انجان نظروں سے ادھر ادھر دیکھا پھر سمجھ انے پر مسکرای
کیا ہے حورم نے دوبارہ سے منہ بنا کر منیزے کی طرف دیکھ کر کہا
مجھے بھوک لگی ہے منیزے نے معصومیت سے کہا جبکے حورم کی حیرت سے انکھیں کھل گی مطلب منیزے اپنے ٹرامے سے باہر نکل گی تھی وہ خوشی سے اٹھی اور منیزے کو گلے لگایا
چلو اوں ہم نیچے چلتے ہے دونوں تیار ہو کر نیچے کی طرف بڑھ گی جہاں کھانے پر سب بیٹھے انکا انتظار کر رہے تھے منیزے کو اتا دیکھ سب نے حیرانگی سے دیکھا
منیزے کی نظر ابھی تک عبیر پر نہیں پڑی تھی عبیر اس وقت فل گھبرا گیا تھا
جلدی سے اپنے چہرہ دوسری طرف کیا اپنے بالوں کو ماتھے پر بکھیرا لیکن اب مسلا یہ تھا کہ اسکے پاس اسکا چشمہ نہیں تھا عبیر نے زور سے دوسری طرف بیٹھے زیہان کے پاوں میں اپنا پاوں مارا
زیہان نے غصے سے عبیر کی طرف دیکھا جو انکھوں کی طرف ہاتھ کو گول گول کرکے اشارہ کر رہا تھا پہلے تو زیہان کو سمجھ نہیں ایا لیکن پھر منیزے کی طرف دیکھ کر سمجھ گیا جو اہستہ سے سیڑھیاں اتر رہی تھی
اسنے کرنل صاحب کی طرف دیکھا جنہوں نے اپنا نظر کا چشمہ لگایا ہوا تھا زیہان نے جلدی سے کرنل صاحب کا چشمہ کھینچا اور عبیر کی طرف پھینکا
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا کرنل صاحب نے چشمے کو چھیننے پر خونخوار نظروں سے زیہان کو گھوا
اتنے میں منیزے نے سب کو سلام کیا اور زیہان کے گلے لگ کر اسکی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گی عبیر نے حسرت بھری نگاہوں سے منیزے کو زیہان کے گلے لگتے دیکھا کاش یہ میرے بھی اسی طرح روز گلے لگے
لیکن جب اسکی نظر عبیر کے چہرے پر پڑی تو خوشی اور حیرت سے اسکی انکھیں پھٹ گی
جبکے حورم عبیر کے پاس بیٹھ گی تھی عبیر تم یہاں کیسے مطلب تم میرے گھر میں کیسے منیزے حیرت سے عبیر کو دیکھ رہی تھی
منیزے بیٹا عبیر تمھاری پھپھو کا بیٹا ہادی ہے جس سے تمھارا بچپن میں نکاح ہوا ہے کرنل صاحب نے عبیر کے کہنے پر ادھا سچ بتایا
منیزے شاکڈ نظروں سے کرنل صاحب کو تو کبھی عبیر کو دیکھ رہی تھی
جبکے شاکڈ تو حورم بھی ہو گی تھی منیزے کے نکاح کا سن کر مطلب اسنے تو اسے اپنی بھابی بنانے کا سوچا تھا اور یہ کمینہ اسے لے کر اڑ گیا حورم نے ایک گھوری عبیر پر ڈالی جو بیچاری شکل بنا کر معصوم بن کر بیٹھا تھا
لیکن عبیر میری یونورسٹی میں غریب بن کر اور ہادی تو مجھے پسند نہیں کرتا ہے میں نے خود کافی دن پہلے نانو سے بات کرتے ہوے سنا تھا
اس دفعہ کرنل صاحب اور عبیر دونوں گڑ بڑا گے تھے کیونکہ یہ انکے پہلے پلین کا حصہ تھا
لیکن اب عبیر صاحب دوسرا پلین بنا لیا تھا
بیٹا یہ تو اب تمھیں عبیر ہی بتا سکتا ہے کرنل صاحب صفای سے اپنا دامن بچا کر عبیر کو پھنسا دیا ویسے بھی وہ نہیں چاھتے تھے کے عبیر اور کوی منیزے کے ساتھ ڈرامہ کرے
لیکن عبیر نجانے کیا سوچ کر بیٹھا تھا اسی لیے کرنل صاحب خود ہی پیچھے ہٹ گے
منیزے سے سوالیہ نظروں سے عبیر کو دیکھا منیزے دیکھوں میں اپکو نا پسند نہیں کرتا تھا میں ممی پاپا کے جانے کے بعد اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ میں اپکی حفاظت نہیں کر سکتا
مجھے تو خود لڑای سے اتنا ڈر لگتا ہے میں اپکے لیے کیا لڑوں گا
مجھے ڈر تھا کہ تم مجھے چھوڑ نہ دوں اور یونیورسٹی میں اپ نے کبھی پوچھا ہی نہیں میرے بارے میں اسی لیے میں ڈر گیا تھا
عبیر رونی شکل بنا کر اتنی صفای سے جھوٹ بول رہا تھا کہ کرنل صاحب اور زیہان انکھیں بھاڑ کر عبیر کو دیکھ رہے تھے جسکے چہرے سے کہی سے بھی نہیں لگ رہا تھا وہ جھوٹ بول رہا ہے
منیزے کو اس وقت عبیر پر اتنا ترس ا رہا تھا اسکا دل کیا وہ ابھی جادو سے عبیر کو بہت ساری طاقت دے دیں مطلب وہ اسکی وجہ سے اس سے دور جا رہا تھا
لیکن منیزے اب اسے کیا بتاتی کہ وہ تو اس سے بغیر دیکھے بچپن سے ہی پیار کرتی تھی عبیر اب جیسا بھی ہو اسے قبول تھا
دکھ تو بیچاری حورم کو بھی اس کیوٹ سے لڑکے پر بہت ار ہا تھا حورم کا جو بھی غصہ تھا عبیر پر بھک سے اڑ گیا
منیزے اگر اب بھی اپکو مجھ سے کوی شکایت ہے تو میں اپ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہو
عبیر چلاکی سے مگرمچھ کے انسوں بہاتے ہوے بولا
عبیر میں نے تمھیں معاف کیا مجھے تم سے کوی گلا نہیں منیزے جلدی سے اسکے ہاتھ جوڑنے سے پہلے بولی
چلو بھی ہو گیا سب کچھ کلیر اب کھانا شروع کروں کرنل صاحب عبیر کی اوورایکٹنگ سے تنگ اکر بولے
سب نے کھانا شروع کیا جب اچانک سے منیزے کو اپنی بھابی کی یاد ای جو اسکی دوست کی جگہ چھین گی تھی
بھای مجھے اپنے بھابی کی پک تو دیکھای ہی نہیں منیزے زیہا کی طرف دیکھ کر بولے اور سبنے اسے حیرت سے دیکھا
جب کرنل صاحب بولے بیٹا پک کیادیکھوں گی تمھاری بھابی تمھارے سامنے بیٹھی ہے کرنل صاحب نے کھانا کھاتے ہوے عبیر کی طرف اشارہ کرکے بولے اصل میں انہوں نے کیا اشارہ حورم کی طرف کیا تھا
لیکن منیزے کو لگا انہوں نے عبیر کی طرف اشارہ کیا ہو
منیزے نے حیرت سے منہ کھول کر عبیر کی طرف اشارہ کیا پھر زیہان کی طرف جو اتنی بڑی سمایل دے رہا تھا
بھای اپنے عبیر سے شادی کی ہے منیزے نے حیرت سے چینختے ہوے کہا
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه سب سے پہلے عبیر کو بات سمجھ میں ای جو منیزے کی بات سنکر گھبرا کر بولا
لا حولا ولا قوت منیزے پہلے بات سمجھ لو زیہان حورم کی جگہ عبیر کو امیجن کرتے ہوے گھبرا کر بولا
حورم اور کرنل صاحب پہلے تو بات کو سمجھنے کی کوشش کی پھر ایک ساتھ دونوں کا ہنسی کا فوارہ چھوٹا
مطلب نانو حورم کی بات کر رہے تھے منیزے نے زیہان سے تصدیق جس پر زیہان نے منہ بنا کر سر ہلایا
اوہ میرے اللہ مطلب حورم میری بھابی ہے منیزے اپنی جگہ سے اٹھ کر حورم کی طرف بھاگی اور زور سے گلے لگایا
سب کچھ کلیر ہو چکا تھا منیزے تو بہت خوش تھی اور اسی خوشی میں انہوں نے کھانا کھایا
کیونکہ انکے زخم ابھی پوری طرح سے بھرے نہیں تھے اسلیے کرنل صاحب کسی کو بھی گھر سے باہر نکلنے نہیں دے رہے تھے
دوپہر ہو چکی تھی حورم کی شرارت کا کیڑا پھر سے باہر نکلنے کو بے تاب تھا
اور پھر حورم دی گریٹ کو ایک شیطانی ایڈیا ایا جسے اسنے منیزے کو بتا یا
دونوں کی انکھوں میں شیطانی چمک تھی اور نیچے اتر کر کچن کی طرف بڑھی اتنے میں سامنی سے روحان اتا نظر ایا حورم کو پتہ تھا وہ ضرور اے گا اس لیے ان دونوں نے جلدی سے اپنا پلین اسے بتایا اور تیاری کرنے لگے جو شاید اج کسی کی بری ےشامت لانےوالا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیق صاحب اس وقت کو ی فایل ریڈ کر رہے تھے جب انکے موبایل کی بیل بجی
انہوں نمبر دیکھا نمبر دیکھ کر وہبے حد پریشان ہوگے لیکن کل اٹھانی انکی مجبوری تھی
انہوں نے پریشانی سے کال اٹھای لیکن کال اٹھانے کے بعد سامنے والے شخص نے ہمیشہ والا مطالبہ دھرایا
جس پر صدیق صاحب نے فورا انکار کر دیا لیکن اج جو اس ادمی نے دھمکی دی وہ انہیں اور زیادہ پریشانی میں مبتلا کر گی
انہوں نے اج سب کچھ سارہ بیگم کو بتانے کا فیصلہ کیا
