406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 36

Power of Love by Afzonia Zafar

پانچ سال بعد

ان پانچ سالوں میں سب کچھ بدل گیا تھا

اج پھر زیہان اسکی قبر پر کھڑا تھا

دیکھو حورم یہ ہواییں مجھے تمھاری موجودگی کا احساس نہیں دلاتی ہے ایسا کوی احساس مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا جو تمھاری موجودگی میں ہوتا ہے

اور یہی تو بات ہے جو مجھے میری امید کو مزید بڑھاتی ھے

اور ھمیشہ کی طرح جیسے ایا ویسے ہی چلا گیا

ان پانچ سالوں میں زیہان اور عبیر کو کیپٹن سے میجر کی پوسٹ پر پروموٹ کر دیا تھا

زیہان پھر سے اپنے خول میں سمٹ چکا تھا

اسے ہنسے ہوے صدیاں گزر گی تھی لیکن اس کی زندگی میں کوی

اسے ہنسانے والا نہیں تھا

کوی ایسا دن نہیں گزرا جس میں زیہان دوسرے ملکوں کے لوگوں میں حورم کا چہرہ نہ تلاشا ہو کیونکہ وہ پاکستان کا چپہ چپہ چھان چکا تھا

لیکن اسکی امید ابھی بھی قایم تھی اور اسکی امید کو پریشے اور بڑھاتی تھی کیونکہ حورم کے گلے میں موجود لاکٹ جسے روحان نے حورم کے برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا وہ نہیں تھا

جس کے اوپر ایچ اور ار لکھا ہوا تھا اور اس پہ ڈایمنڈ سے کام ہوا تھا

پریشے کے ہی پوچھنے پر ایک دفعہ حورم نے اسے بتایا تھا

لیکن بعد میں جب نکاح والے دن منیزے نے اس لاکٹ کو کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ لاک شاید اتنے سالوں سے بندھا ہونے کی وجہ سے جام ہو چکا تھا

اسی لیے کوی چانس ہی نہیں تھا کہ وہ لاکٹ کہی ٹوٹ کر گر جاتا

زیہان سیدھا اپنے فارم ہاوس میں گیا اور ایک کمرے کا دروازہ کھول کر داخل ہوا

چہ چہ چہ ارمان صاحب کو کیا ہوا بالکل ہی بے بس پڑا ہے وہ ارمان ملک

زیہان نے طنزیہ ہنستے ہوے ارمان کو دیکھ کر کہا

جو کرسی کے اوپر چند ہی رسیوں سے بندھا پڑا تھا جسے بچے تک اسانی سے ھوگ سکتے تھے

لیکن زیہان جو ہر روز اسے سزا دیتا تھا لیکن مرنے نہیں دیتا تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے جسم کو حرکت دے سکے یہ پھر اپنے گلے سے کوی ایک الفاظ بھی نکال سکے

زیہان نے پچھلے دو سالوں میں ہر روز اسے موت کے قریب پہنچاتا لیکن اسے مرنے نہیں دیتا تھا

اجکا ڈوز شروع کرتے ہے ورنہ تمھارے دن کی شروعات کیسے ہوگی

زیہان کہتے ساتھ ہی مین سویچ کی طرف بڑھا

جبکے ارمان نے سنتے ہی بامشکل انکھیں کھولی لیکن سر اٹھانے تک کی اس میں ہمت نہیں تھی

اور پھر روز کی طرح کرنٹ اسکے پورے جسم کو جلانے لگا اور جب لگا کو وہ مرنے والا روز کی طرح وہی سب روک دیا

انجواے کروں شام کو ملتے ہے کہتے ساتھ ہی زیہان نے روم کا دروازہ لاک کیا اور افس کے لیے نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھ کر نہیں چل سکتی کیا انکھیں گھر بھول کر ای ہو ان مڈل کلاس لڑکیوں کی یہی پرابلم ہوتی ہے جہاں امیر بندہ دیکھا اور ٹکرانے کی ایکٹنگ شروع کر دیتی ہے بلیڈی بچ

منیزے جو یشفہ کے ساتھ کےکینٹین سے باہر نکل رہی تھی کہ اچانک سامنے والا بندہ جو موبایل میں اپنی انکھیں گھسا کر چل رہا تھا

اور منیزے سے ٹکڑایا جس سے منیزے کی ساری کتابیں نیچیں گر گی

منیزے انھیں پکڑنے کے لیے نیچے جھکی ہی تھی کہ سامنے والا نون سٹاپ شروع ہو گیا

جبکے یشفہ نے سامنے والے پر قاتحہ پڑھنی شروع کردی

یونی میں نیو اے ہو کیا منیزے نے اوپر اٹھتے ہوے بے تاثر لہجے میں اس بگڑے ہوے امیر زادے کو دیکھ کر پوچھا

ہاں تم ہوتی کون ہو مجھ سے یہ بات پوچھنے والے اور تمھیں اس سے کیا پرابلم ہے اگلے بندے نے منیزے کو اپنی طرف سے فل ٹکا کر جواب دیا

پرابلم تو اب تمھیں ہونے والے ہے کیونکہ اگر تمھیں پتہ ہوتا میں کون ہوتی ہو پوچھنے والی تو کبھی بھی ایسی خطرناک غلطی نہیں کرتے

منیزے نے کہتے ساتھ ہی اگلے بندے کے چہرے پر اتنی زور سے پنچ مارا کہ وہ سیدھا زمین پر گرا

اور جبکے اردگرد کے باقی سب سٹوڈنٹس کو پتہ تھا اگےکیا ہونے والا ہے

وہ لڑکا ہمت کرکے اٹھا لیکن منیزے کا پنچ اتنا بھاری تھا کہ پھر سے زمین پر گر گیا

منیزے اسکی بند ہوتی انکھوں کو دیکھتے نیچے بیٹھی اور اپنی مٹھی میں اسکے بال جکڑے جس پر اسکی ایک درد بھری اہ نکلی

مجھے ان مردوں سے بے انتہا نفرت ہے جو عورتوں کو اپنے پاوں کی جوتی سمجھتے ہے اور پھر تم نے منیزے شاہ کو گالی دینے کی غلطی کی ہے

یہ سزا ابھی بہت چھوٹی ہے کیونکہ تم میرے بارے میں جانتے نہیں تھے

منیزے کا چہرہ کسی تاثرات سے پاک بالکل سپاٹ تھا اور یہی وجہ تھی کوی اسکے سامنے اونچی اواز میں بھی بولنے سے ڈرتا تھا

نہ صرف سٹوڈنٹس بلکے ٹیچرز بھی اور پرنسپل صاحب اسکے بیک گروانڈ کی وجہ سے اسے کھ نہیں کہہ پاتے تھے

منیزے نے اپنے کو بالکل ہی چینج کر لیا تھا کسی کو بھی اسکے جہرے پہ اج تک کسی خوشی یہ غم کے تاثرات نظر نہیں اے

یونی میں واحد لڑکی تھی یشفہ جو انتہا کی ڈرپوک لڑکی تھی

اور یونی اسی بات کی وجہ سے اسکا بے حد مزاق بنایا جاتا تھا جسکی وجہ سے اسکا کونفیڈنس لیول اتنا گر گیا تھا

کہ وہ بھیڑ میں بھی جانے سے گھبرانے لگی اس وجہ سے اسنے یونی تک چھوڑ دی تھی لیکن اپنی خالہ کی ڈیتھ کے بعد اسے پھر سے ہوسٹل انا پڑا

اپنے کیریر کو بنانے کے لیے اس نے پھر سے یونی جواین کرنے کا فیصلہ کیا

اس دن اسکے فرسٹ ڈے پر اسکے کپکپاتے قدموں کو دیکھ کر سارے ہنسنے لگے اور اسکا مزاق بنانے لگے

اس سے پہلے کے کے ڈر کی وجہ سے بیہوش ہوتی تبھی منیزے نے اسکا ہاتھ پکڑا اور سامنے اتے لڑکے کو اتنے زور سے پنچ مارا کے وہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا

یشفہ کو بعد میں پتہ چلا کہ اسنے لنڈن میں ا کر بلیک بیلٹ مارشل ارٹ اور بہت سے فاٹینگ کورسز کر رکھے تھے

نہ صرف یہ بلکہ وہ اپنی یونی میں بہت زیادہ میڈل جیت چکی تھی

منیزے نے یشفہ کو اپنے فلیٹ میں شفٹ ہونے کا کہا جس پر یشفہ نے کافی ترودود کے بعد اخر کار مان لیا

یشفہ منیزے کے پاسٹ سے اگاہ تھی لیکن اسنے ابھی تک ہادی کی کوی بھی پک وغیرہ نہیں دیکھی تھی

منیزے ہر صبح ہر شام روحان کو کال کرتی تھی کہ وہ حورم سے اسکی بات کروا دے کیونکہ اسکا نمبر پاور اف تھا

لیکن روحان کا اگے سے ایک ہی جواب ہوتا کہ منیزے کے اس طرح سے جانے سے وہ بے حد ناراض ہے اور وہ جب تک پکستن نہیں ا جاتی تب تک وہ اس سے بات نہیں کرے گی

نہ ہی پریشے اس سے کوی بات کرتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحان بس کروں کھانا کھا لوں اکر سارہ بیگم نے بھرای اواز میں روحان سے کہا

جس نے حورم کے جانے کے بعد جینا ہی چھوڑ دیا تھا

روحان نے سارہ بیگم کی بھرای اواز کو سن کر جلدی سے لیپ ٹاپ ایک سایڈ پر رکھا اور جلدی سے انکے پاس جا کر بیٹھ گیا

سارہ بیگم نے اسکے بیٹھتے ہی اسکے منہ میں اپنے ہاتھوں سے نوالے ڈالنے لگی

روحان کیوں کرتے ہو ایسا پتہ ہے نہ میں اورتمھارے پاپا بس تمھارے لیے ہی زندہ پھر بھی ہمیں تنگ کرتے ہو دو دو تین تین دن تک کھانا پینا بھول جاتے ہو

سارہ بیگم روحان سے شکوہ کرتے ہوے بولی

ماما حورم کے بنا کھانے کی عادت ہی نہیں ہوی ایسا لگتا ہے حورم ابھی اے گی مجھ سے لڑای کریں گی پھر ہم دونوں ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے کھلاے گے

حورم خود تو چلے گی لیکن مجھے جینا نہیں سکھا کر گی

روحان اپنے درد کو ضبط کرتے ہوے بولا

روحان نے حورم کے جانے کے کچھ ماہ بعد ہی اپنی پڑھای کو چھوڑ کر صدیق صاحب صاحب کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹانے لگا

اور خود کو اتنا مصروف کر لیا کہ سانس لینے کی بھی فرست نہیں ملتی تھی

روحان بایس سال کا ایک مردانہ وجاہت سے بھرپور نوجوان بن چکا تھا اسکی شرارتیں سب حورم کے ساتھ ہی ختم ہو چکی تھی

روحان کی بات پر سارہ بیگم نے اپنی سسکی روکی

روحان زندگی میں اگے بڑھنا سیکھوں مرے ہوے کے ساتھ مرا نہیں جاتا سارہ بیگم روحان کی بکھری ہوی حالت دیکھ کر دکھ سے بولی

روحان نے صرف سر ہلایا لیکن بولا کچھ نہیں اور چپ چاپ سارہ بیگم کے ہاتھوں سے کھانا کھانے لگا

سارہ بیگم اسے کھانا کھلانے کے بعد جا چکی تھی

اتنے میں اسکا فون رنگ ہوا

روحان نے فون دیکھا تو وہ منیزے کی کال تھی

روحان تم نے اج پھر نہیں منایا حورم کو منیزے نے کال اٹھاتے ہی پوچھا

نہیں روحان نے دکھ سے اپنی انکھوں کو بند کرتے ہوے کہا

روحان دیکھو حورم اگر کہے گی تو میں اسکے لیے واپس بھی اجاو گی اس سے کہو پانچ سال ہو گے ہیں لیکن اسکی ناراضگی ختم نہیں ہو رہی ہے

منیزے نے اپنی بات کو ختم کرتے ہوے کال کٹ کردی

پیچھے سے روحان گہری سانس بھر کر رہ گیا

وہ اسے کیا بتاتا کہ وہ اس سے کیا سب سے ہی ناراض ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاہا ہا نینا باجی گول گپے کھا کر کیا ہال ہو گیا ہاں ہمیں شوپنگ پر لے جاو دیکھو پریشے کیسے بلش کر رہی ھے چڑیللللللل

اہ وہ ایک زور دار چینخ مار کر اٹھی

ویرا ویرا کیا ہوا حمنہ بیگم جلدی سے سے اسکے کمرے کی طرف بھاگی

حمنہ بیگم جلدی سے ویرا کے پاس بیٹھی جو مکمل طور پر ڈری ہوی تھی

ماما کتنے سال ہوگے ہیں یہ اوازیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی ہے ویرا روتی ہوی بولی

اج پھر سے وہ اوازیں سنای دی ہے حمنہ بیگم نے روتی ہوی ویرا کو گلے لگاتے ہوے بولی

جی ماما وہ کون لوگ ھے جو مجھے روز دیکھای دیتے ہے پہلے یہ اوازیں اور انکے چہرے مجھے دھندلے نظر اتے تھے

لیکن کچھ دنوں سے وہ سب مجھے بالکل کلیر نظر اتے ہے

ایسا لگتا ہے جیسے اگر ان میں سے کوی بھی میرے سامنے ایا تو میں پہچان جاوں گی

ماما اپ بتاے نہ کیا ہواتھا ایسا میرے پاسٹ میں کون ہیں وہ سب لوگ ویرا روتے ہوے بولی

ویرا ایسا کچھ نہیں ہے ذاکٹرز نے کہا ہے کہ تمھارے ایکسیڈنٹ کے وقت تمھارے دماغ میں چوٹ لگی تھی جسکی وجہ سے تم نے خود نے کچھ خیالی سوچ تم نے بنای ہے بس وہ تمھیں اپنے خوابوں میں نظر اتی ہے

روز کی طرح حمنہ بیگم نے اسے بتای ہوی بات بتای

لیکن ہر روز کی طرح بجاے سوال جواب کرنےکے ویرا بالکل خاموش ہوگی

شاید اسے اج بھی ہمیشہ کی طرح حمنہ بیگم کی باتوں پر یقین نہیں ایا تھا

اب سوجاو صبح ہاسپٹل بھی جانا ہے تمھارے پیشنٹ تمھارا ویٹ کرتے ہے

کہ کب وہ خوبصورت ڈاکٹر اے اور ہمارا چیک اپ کریں

حمنہ بیگم نے بات بدلتے ہوے کہا اور یہ بات سچ بھی تھی

جس پر ویرا مسکراتے ہوے انکھیں بند کر گی اور حمنہ بیگم وہی بیٹھ کر اسکے سر میں انگلیاں چلانے لگی

وہ خود ایک ڈاکٹر تھی اور انھیں پتہ تھا کہ ویرا کو انکی بات پر یقین نہیں ایا تھا دن بدن انکی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی