Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 11
Rate this Novel
Power of Love Episode 11
Power of Love by Afzonia Zafar
روحان پیچھے ہٹا اور غور سے اسکے چہرے کو دیکھنے لگا حورم گڑبڑا کر ادھر اٗدھر دیکھنا شروع ہوگی روحان نے اسکے چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا
روحان کہنے کے تو حورم کا جڑواں بھای ہے لیکن وہ اس سے قد میں بھی کافی بڑا تھا وہ اسکے کندھوں سے تھوڑا سہ نیچے اتی تھی روحان ہر چیز میں کمپروماٸز کر سکتا تھا لیکن حورم کے معاملے میں نہیں
اس سے پہلے روحان حورم سے کچھ پوچھتا سارہ بیگم اور صدیق صاحب بھی ا گۓ
حورم اگے بڑھ کر دونوں کے گلے لگی صدیق صاحب کافی دیر حورمکو گلے لگاےکھڑے رہے
پھر وہ لوگ لونج میں چلے گے اور سارہ بیگم اس سے کرنل صاحب کے بارے میں چھوٹے موٹے سوالات پوچھنے لگی
رات کو دس بجے صدیق صاحب حورم کے کمرے میں حورم بیڈ پر بیٹھی ہوی تھی
پاپا اپ اس وقت میرے کمرے میں خیریت حورم اٹھ کر پوچھنے لگی صدیق صاحب کے چہرے سے لگ رہا تھا وہ اس وقت کتنی ٹینشن میں ہے
حورم میں تم سے مانگنے ایا مجھے معاف کردوں میں تمھاری اچھے سے حفاظت نہیں کر پایا میں ایک اچھا باپ نہیں بن پایا حورم کے پوچھتے ہی صدیق صاحب ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنا شروع ہوگے
حورم تڑپ کے اگے بڑھی پاپا اپ کیا کر رہے اس میں اپکی کوی غلطی نہیں ہے اور دیکھے مجھے کچھ نہیں ہوا ہے حورم صدیق صاحب کے سینے سے لگ کر کہہ
اسے نارملی بات کرتے دیکھ کر صدیق صاحب پر سکون ہوگے اچھا تھوڑے دن زیہان کو دیکھو مجھے تو بہت زیادہ پسند ہے لیکن اگر تمھیں نہیں پسند تو میں طلاق کی بات کروں گا لیکن میں دل سے یہی چاہوں گا کہ تم نہ لوں لیکن تمھاری مرضی کے مطابق ہوگا جو بھی ہوگا
جی پاپا حورم نے ساری بات سمجھ کر سر ہلایا اور صدیق صاحب اسے ارام کرنے کا کہ کر روم سے چلے گے حورم دروازے کو لاک لگا کر مڑی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے گلے سے چینخ نکلی
لیکن زیہان نے سرخ انکھوں سے پھرتی سے اسکے چہرے پر سختی سے ہاتھ رکھا اور ایک ہاتھ اسکی کمر پر رکھ کر اسے اپنی طرف کھینچا وہ جو حورم سے ملنے کے لیے اسکے روم میں کھڑکی کے ذریعے ا رہا تھا اندر سے اتی اوازوں پر رک گیا
کیا کہا تم نے طلاق کے لیے ہاں کیوں کہی زیہان نے اس سے جواب مانگا لیکن حورم نے اسکے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا زیہان نے اشارہ کو سمجھتے ہوے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا اب چھوڑوں بھی مجھے
حورم نے اپنے اپ کو چھڑوانے کی کو شش کرتے ہوے منہ پھلا کر کہا
نہیں مجھے جواب چاھیے ابھی مطلب ابھی زیہان اتنے غصے سے بولا ایک پل کے لیے تو حورم سچ میں ڈر گی
میں نے طلاق کے لیے ہاں نہیں کہا تھا بلکہ پاپا نے یہ کہاتھا کہ میں یہی چاہوں گا کہ تم یہ رشتہ نبھاوں اسکے لیے میں نے ہاں کہا تھا حورم نے دھیمی اواز میں نظریں جھکا کر بولی
اوہ زیہان کو خوشگوار حیرت ہوی تنے ہوے اعصاب ایک دم ڈھیلے ہوگے اچھا تو مطلب تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو کہی ایک ہی دن میں مجھ سے محبت تو نہیں ہو گی
زیہان کی اسکی کمر پر گرفت کم ہوی تو حورم نے موقع پاتے ہی اپنے اپ کو چھڑوایا
اوے ادھر واپس اوں زیہان نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا لیکن حورم بھی ڈھیٹوں کی سردار تھی
نہیں اور اگر اپ میرے قریب اے تو میں شور مچا دوں گی
اسکے اپ کہنے پر زیہان دل سے خوش ہوا
جاناں ابھی سے بیویوں کی طرح بیہیو مت کرو میں اپنے اپ کو کنٹرول نہیں کر سکو گا حورم کو اسکی الٹی بات پر تپ چڑھ گی
اچھا میرے سوال کا جواب نہیں دیا زیہان صوفے پر بیٹھتے ہوے بولا
نہیں مجھے تم سے کوی محبت و حبت نہیں ہوی ہے تم تو کہی کے پرنس چارم جسے دیکھتے ہی میں اپنا دل کھ دوں گی اور زور زور سے کہوں گی نہیں میرے پرنس چارمنگ کو بلاوں اس کے بغیر میں مر جاوں میں پاگل ہو جاوں گی
حورم کی ایکٹنگ اس وقت عروج پر تھی زیہان کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا کون جانتا تھا جو بات حورم نے مزاق میں کہی تھی وہ سچ ہو جاے
سیریسلی حورم تم مجھ سے اتنی محبت کرتی ہوں زیہان ایک دم سے صوفے سے کھڑا ہوا اور ایک ہی جست میں پکڑ لیا
جبکے حورم اس طرح بار بار اسکے اپنے پاس اتنے قریب انے پر عجیب سی فیلنگ ای جسے اسںے غصے میں تبدیل کیا
چھچوڑے انسان چھوڑوں مجھے یہ کونسی نس پھڑکتی ہے اور تمھارا دورہ شروع ہو جاتا ایک تھپڑ
باقی کے الفاظ زیہان نے اپنے لبوں میں قید کر لیے اور اہستہ اسکی سانسوں کو پینے لگا اور ارام سے بیڈ پر بٹھایا کتنا غصہ بھرا ہے توبہ تمھارے اندر لیکن اس غصے کا ذایقہ دنیا کے تمام ذایقوں سے اچھا ہے
جبکے حورم کی نظریں شرم سے پلکیں ہی بھاری ہو گی زیہان نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور مڑ کر کھڑکی سے باہر کود گیا
منیزے نے اپنی سانسوں کو بحال کیا اور بیڈ پر جاکر لیٹ گی
…………………..
منیزے ہوٹل سے واپسی پر سیدھا اپنے روم میں گی اور اپنے اپ کو روم میں لاک کر لیا
شام کو ملازمہ نے اسے زیہان کا بتایا لیکن اسنے ملازمہ کو اپنے اسایمنٹ کا بہانہ بتایا کہ وہ بیزی ہے کوی اسے ڈسٹرب نہ کرے اسکے بعد کوی اسکے روم میں نہی کیونکہ سب جانتے تھے منیزے اپنے بابا کا خواب پورا کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتی تھی پڑھای میں
ساری رات وہ سوچتی رہی اسکے تاتھ کیا ہو رہا ہے ایک دم سے اسکی زندگی نے کیسا موڑ لیا پھر فجر کے ٹایم وہ نماز پڑھ کر پرسکون سی ہوکر سو گی
صبح جب اسکی انکھ کھلی تو وہ یونورسٹی کے لیے لیٹ ہو گی تھی وہ جلدی سے تیار ہو کر نیچے کی کرنل صاحب کے روم کی طرف بھاگی اور جلدی سے انکے ماتھے پر بوسہ دیا
کرنل بیڈ پر بیٹھ کر قران کی تلاوت کر رہے تھے پھر قران پاک کو بند کرکے حورم کی جلد بازی کو دیکھ رہے تھے جو اب میڈیسن نکال کر انکے ہاتھ میں دے رہی تھی
سوری نانو میں اپکو کل وقت نہیں دے پای اج بے میں سارا دن اپکے ساتھ گزاروں گی باے
منیزے جلدی سے گیٹ باہر نکلی جہاں اسکی سایکل پہلی ہی کسی ملازم نے نکال دی تھی
وہ بمشکل ہی پہلا لیکچر اٹینڈ کر پای تھی وہاں پتہ چلا کہ اج عبیر کالج نہیں ایا تھا دوسرا لیکچر فری تھا اسلیے اس نے سوچا کہ وہ کینٹین چلی جاتی ہے وہ اپنے ہی دھیان میں ہی اگے بڑھ رہی تھی جب وہ کسی سے ٹکڑای اس سے پہلے کے سامنے والا زمین پر گرتا منیزے نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر گرنے سے بچایا
حورم جو اپنے موبایل میں لگی ہوی تھی جبکے اس کے ساتھ ہی روحان اپنے موبایل میں گھس کر چل رہا جب حورم کسی سے ٹکڑای
حورم کے تو چودہ طبق روشن ہوگے لیکن اس سے پہلے ہی سامنے والی لڑکی نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا
حورم نے سیدھا ہو کے دیکھا تو اسکے سامنے اسکی ہی عمر کی بے حد خوبصورت لڑکی کھڑی تھی
منیزے نے جب حورم کو سیدھا کرکے کھڑا کیا تو حجاب میں موجود اسکے خوبصورت چہرے پر پڑی
جو سوچ منیزے کے زہن میں سب سے پہلے حورم کو دیکھ کر ای تھی کہ اسکے بھای نے ایک دن جلدی کردی ہے شادی کرنے میں منیزے کو اس وقت اس لڑکی کو دیکھ کر بے پناہ افسوس ہو رہا تھا
چڑیل کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے بیچاری کو حورم جو یک ٹک منیزے کے چہرے میں گم تھی روحان کے ٹوکنے پر ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا
سوری منیزے اور حورم ایک ساتھ بولی اور پھر دونوں ہی ہنس دی
فرینڈز حورم نے ہاتھ بڑھایا جس پر میزے نے واے نوٹ کہہ کر تھام لیا جبکے روحان حیرت سے حورم کو دیکھ رہا تھا جو ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھتے ہی پہلی مرتبہ اپنے بھای کو بھول گی تھی اور ایک دوسری کو اپنا نام بتا رہی تھی
یہ کیوٹ بواے کون ہے منیزے نے رواحان کی طرف اشارہ کیا جو ابھی بھی حورم کو گھور رہا تھا جسکی حورم نے کوی نوٹس ہی نہیں لیا
ارے یہ میرا بڑا بھای ہے حورم روحان کی طرف دیکھ کر معصومیت سے بولی
ارے نہیں بیوٹی فل گرل یہ میری بڑی بہن ہے اسے نہ چھوٹے ہونے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے اس لیے کچھ زیادہ ہی چھوٹی بنتی ہے ویسے ہی پورے پچیس سال کی بس میک اپ کا کمال جسکی وجہ سے چھوٹی نظر اتی ہے
منیزے نے الجھ کر حورم کے میک اپ سے پاک چہرے کو دیکھا جو دس وقت روحان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی
روحان اسکی نظروں سے گڑبڑایا جو سچ میں کچھ براہونے کا زور شور سے اعلان کر رہی تھی
ارے نہیں بیوٹی فل گرل وہ نہ ہم جڑواں ہے اور یہ صرف سترہ سال کی ہے روحان بیچارہ روحان حورم سے ڈر کر جلدی سے بولا
جبکہ منیزے اسکے بیوٹی فل گرل کہنے پر دل سل مسکرای یہ سچ ہی تھا وہ اج ان دونوں سے مل کر سب کچھ بھول گی تھی
منیزے تم اسکو چھوڑوں اوں ہم کینٹین میں چلتے ہے اور کینٹین کی طرف چل دی
کینٹین میں بیٹھ کر جو ان تینوں کی باتیں شروع ہوی کے اگلی کلاس بھی مس کر دی منیزے اتنا زیادہ بولتی نہیں تھی لیکن وہ دونوں بہن بھای اسے چپ ہی نہیں ہوے دے رہے تھے
منیزے سچ میں بہت زیادہ انجواے کر رہی تھی عبیر کے بعد وہ دونوں تھے جو اسنے زندگی میں بناے تھے ورنہ وہ زیادہ تر تنہای اور اپنی پڑھای کو وقت دیتی تھی
