Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 30
Rate this Novel
Power of Love Episode 30
Power of Love by Afzonia Zafar
باہر بارش پہلے سے زیادہ تیز ہو گی تھی
حورم کی چھینکیں بھی رک چکی تھی
وہ لوگ ناشتے سے فارغ ہو چکے تھے اور اس وقت سب لاونج میں موجود صوفے پر بیٹھے ہوے تھے
جبکے منیزے نینا چڑیل کو گھورنے میں لگی ہوی تھی جو عبیر کے ساتھ چپکنے کے کوشش میں لگی ہوی تھی
جبکے زیہان صرف حورم کو ہی دیکھ رہا تھا جسکی رنگت اہستہ اہستہ سرخ ہو رہی تھی
لیکن پھر بھی منیزے اور پریشے کے ساتھ پتہ نہیں کونسے رازو نیاز می لگی ہوی تھی
منیزے نے شیشے سے نظر اتی برستی بارش کو دیکھا
لیکن پھر اپنے اپ کو کنٹرول کیا کہ ابھی نہیں جانا ورنہ نینا چڑیل اسکے ساتھ اور چپکنے کی کوشش کرے گی
عبیر چلو نہ بارش میں نہاتے ہے اتنے میں نینا نے منیزے کی طرف دیکھتے ہوے عبیر سے کہا مطلب اگ ادھر بھی برابر لگی ہوی تھی
منیزے ایک زوردارکہنی پاس بیٹھی حورم کے پیٹ میں ماری
بیچاری حورم نے درد کو کنٹرول کرتے ہوے منیزے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
میرا کیا قصور ھے کمینی مجھے کیوں مار رہ ہے حورم سب کی موجودگی کی وجہ سے منیزے کے کان میں گھس کر لفظوں کا چباچبا کر بولی
ہاں تیرے شیطانی دماغ میں اتنا فتور بھرا ہوا ہے جو صرف فالتو موقعوں پر ہ۶ نکالتی ہے اب کیوں نہیں نکال رہی ھے
منیزے نے بیچاری سی شکل بنا کر حورم سے کہاں
نہیں نینا تمھیں پتہ ہے نہ مجھے بارش میں بھیگنا نہیں پسند اسی لیے تم چلی جاو عبیر نے نینا کو صاف منع کرتے ہوے بولا
جس پر جہاں منیزے خوش ہوی وہی نینا مکمل طور پر جل گی
عبیر کیا تم میرے لیے بھی نہیں چلوں گےاب دیکھوں میں تمھارےہاں مہمان ای ہو تم پھر بھی مجھے منع کروں گو
نینا نے لاڈ سے عبیر کی بازو پکڑتے ہوے بولی
عبیر چلے جاوں اگر اس بیچاری کا اتنا ہی دل کر رہا ہ ویسے بھی مہمانوں کو نہ نہیں کرتے کرنل صاحب نے نینا کی بیچاری شکل کو دیکھتے ہوے کہا
منیزے نے شعولے برساتی نگاہ سے کرنل صاحب کی طرف دیکھا
کرنل صاحب منیزے کو کو اس طرح تیز نظروں سے گھورتے دیکھا تو گڑبڑا کر بولے
میری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی ھے میں اپنے کمے میں جا۶ رہا ہو کیونکہ انھیں احساس تو اب ہوا تھاوہ عبیر کو کہ کر کتنی بڑی غلطی کر چکے ھے
کیونکہ اگر تھوڑی دیر اور رکا ت کسی نے ویسے ہی مجھے اپنی نظروں سے کھا جانا ہے
کرنل صاحب زور سے بڑبڑاتے ہوے بولے جو سب سنی تو ضرور لیکن سمجھا کوی کوی
نانو میں بھی چلتا ہو اپک ساتھ ویسے بھی اپکی اجکل خراب ہوتی رہتی ھے زیہان نے کرنل صاحب کو اٹھاے ھوے بولا
اور انکے کمرے کی طرف بڑھ گیا کیونکہ وہ کبھی کبھی موڈ نو ہونے پر میڈیسن کھانے کے معاملے میں بچوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے تھے
عبیر چلو نہ نینا نے کھڑے ہوتے ہوے کہا تو بیچارے عبیر کو کھڑا ہونا ہی پڑا
ہم بھی چلتے ھے اور ویسے نینا تم اور عبیر سہی سے انجواے نہیں کر پاوں گے نہ ہم سب کے ساتھ تم اچھے سے انجواے کروں گی
منیزے نے حورم اور پریشے کو کھڑا کرتے ہوے بولی
حورم کو لگا یہ دونوں بھای بہن اسے اوپر پہنچا کر ہی چھوڑے گے
جبکے عبیر نے حیرت سے منیزے کی جیلسی کو دیکھا مزہ انے والا ہے عبیر دل ہی دل میں سچویشن کا مزہ لیتے ہوے بولا
ہاں چلو تم لوک بھی نینا نے دانتوں کو پیستے ہوے لیکن مسکراتے ہوے ان تینوں سے کہا
منیزے میں پہلے ہی بارش میں نہا چکی ہو تم دونوں جاوں اگر میں اب گی نہ تو مجھے بخار بھی ہو سکتاہے حورم نے منیزے کے ساتھ چلتےہوے اہستگی سے بولی
تم پہلے کیسے نہای میں نے تو دیکھا ہی نہیں اور اب بہانے مت بناوں میرے ساتھ چلوں منیزے نے اسے باہر کھینچتے ہوے بولی
وہ سب بارش میں بھیگنے لگے سب سے زیادہ نینا انجواے کرنے کی ایکٹنگ کر رہی تھی
حورم کچھ کروں ورنہ میں نے اس نینا کا نقشہ بگاڑ دینا ہے منیزے نے حورم سے مدد مانگی جو بامشکل اپنی انکھوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کر رہی تھی
مینیزے تم ایسا کروں تم نہ ہنسنے کی ایکٹنگ کروں ہماری طرف دیکھ کر کیونکہ فلموں میں ہیروین جب ہنستی ہے تو
ھیرو سب کچھ بھول کر ھیروین کی ہنسی میں گھم ہو جاتا ہے حورم کی بات پر پریشے نے بھی ہامی بھری
اور ویسے بھی منیزے تمھاری تو ہنسی ہی اتنی پیاری ہے کوی بھی تمھاری ہنسی میں گھم ہو سکتا ھے پریشے منیزے کی تعریف کرتے ہوے بولی
کیونکہ یہ بات بالکل سچ تھی کیونکہ منیزے پہلے تو بہت کم ہنستے تھی لیکن جب بھی ہنستی تھی اس پاس والے سارے متوجہ ہو کر اسکی خوبصورت ہنسی میں گم ہوجاتے تھے
ان دونوں کے تعریف کرنے پر منیزے نے ان دونوں کی طرف ایسے منہ کرکے کھڑی ہوگی جس سے عبیر اور نینا باسانی سے دیکھ سکتے تھے
ہی ہی ہی ہی ہی ہی منیزے نے زور سے ہنسنے کی ایکٹنگ کی جس پر نہ صرف عبیر اور نینا بلکے حورم اور پریشے نے بھی چونک کر دیکھا
عبیر نے بامشکل اپنی ہنسی کنترول کی
واہ منیزے تم نے تو ڈراونی مویز کی چڑیل کو بھی مات دے دی
ہم نے تمھاری تعریف کیا کردی تم تو سچ میں اپنے اپ کو ہیروین سمجھںے لگی حورم اپنی خراب ہوتی طبعیت کو بھول بھال تالی مار کر منیزے کی ہنسنے کی تعریف کی
منیز ے نے بے بسی سے ان دونوں کی طرف دیکھا
تبھی اہستہ سے بجلی کڑکی اور نینا نے ڈرنے کی فل ایکٹنگ کرتے ہوے عبیر کے گلے لگی
منیزے اسنے تو اٹھارہ سو ستاون کی ہیروین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا حورم نے جلے پر نمک چھڑکتے ہوے کہا
جبکے منیزے فل رونے والی ہوگی
نینا اب دوبارہ سے ڈر لگے نہ تو ان لڑکیوں میں سے کسی کے گلے لگ جانا یہ حق تو صرف میری بیوی کا ہے عبیر نے نینا کو اپنے سے دور کرتے ہوے بولا
جس پر نینا کو بہت غصہ ایا لیکن کنٹرول کرنا مجبوری تھی
عبیر کی بات وہ تینوں دل کھول کر ہنسی نینا کی انسلٹ پر سب سے زیادہ منیزے نے لیا
انکا ہنسنا جلتی پر نمک کا کام کر گیا اور نینا پیر پٹکتی ہوی اندر چلے گی
چلوں مینیزے تمھارا کام تو عبیر نے سیٹ کر دیا اب ہم دونوں چلتے ھے تم دونوں انجواے کروں
حورم نے پریشے کا ہاتھ پکڑا اور اندر کی طرف بڑھ گی
منیزے بھی پہلے تو کچھ دیر سوچتی رہ گی لیکن پھروہ بھی اندر کی طرف بڑھنے لگی جب عبیر نے ایک ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچا اور گود میں اٹھا کر یھے بیک سایڈ کی طرف چل پڑا
عبیر کیا کر رہے ہو چھوڑوں مجھے کوی دیکھ لے گا
عبیر کی اس حرکت پر منیزے کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی
دیکھ لی کوی دیکھے تو شرعی اور قانونی حق ہے میرے پاس تمھارے ساتھ کچھ بھی کرنے کا
عبیر نے اسے سیمنگ پول کے بالکل قریب اتارتے ہوے کہا
تمھیں سویمنگ اتی ہے عبیر نے اپنے اور منیزے کے درمیانی فاصلے کو بالکل ہی ختم کرتے ھوے بولا
بارش میں کون سویمنگ کرتاہے منیزے نے الٹا سوال پوچھتے ہوے کہا
پہلے سوال کا تو جواب دو عبیر نے ایک ہاتھ اسکی کمر میں اور دوسرے ہاتھ سے اسکے بالوں کی کان کے پیچھے کرتے ہوے بلا
جس پر منیزے نے بے ترتیب ہوتی سانسوں کے ساتھ نہ میں سر ہلایا
عبیر نے ایک ہاتھ سے اسکی تھوڑی سے پکڑ کر چہرے کو اونچا کیا
اور اسکے گلے میں جھک گیا اور اسکے گلے میں جابجا اپنا لمس چھوڑنے لگا
منیزے نے عبیر کو دور کرنے کی کوشش کی
لیکن عبیر نے اسکی مزاحمت کو نظر انداز کرتے ہوے اسکے لبوں پر بوری شدت کے ساتھ جھکا
لیکن اسکی شدت کم ہونے کی بجاے بڑھتی جارہی تھی
اسکی شدت سے گھبراتے ہوے اور اپنے سینے میں اٹکتے سانس کی وجہ سے منیزے نے پوری طاقت لگا کر خود کو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن عبیر نے اسے نہیں چھوڑنا تھا نہ چھوڑا
تھوڑی دیر بعد عبیر نے اس پر رحم کھا کر اسے چھوڑا اور دوسرے ہاتھ سے اسکا گال سہلایا
اوں اندر چلے تمھیں ٹھنڈ لگ جاے گی عبیر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اندر کی طرف بڑھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام تک بخار نے مکمل طور پر حورم کو گھیر لیا تھا
لیکن اس بات کا زیہان کو کوی علم نہیں تھا کیونکہ وہ تب سے ہی کرنل صاحب کے پاس بیٹھ کر اپنے افسکا کام کررہا تھا
اور حورم کو بھی کوی پروا نہیں تھی کبھی ادھر تو کبھی ادھر پھر رہی تھی
لیکن اپنے بے تحاشہ دکھتے سر اور پورے جسم کے ساتھ اپنے کمرے میں ای اور کمبل کو اپنے اوپر لیا اور سو گی
اس وقت اسکا سر جتنا دکھ رہا تھا اسے ہی پتہ تھا
لیکن بخارکے زور کی وجہ سے حورم اہستہ اہستہ غنودگی میں چلے گی
