406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 18

Power of Love by Afzonia Zafar

زیہان کو دوبارہ اپنے روم میں شفٹ کر دیا تھا کیونکہ ان دونوں کوو زیادہ بولنے سے منع کی گیا تھا

زیہان اپنے روم میں بیٹھا مسلسل حورم کو یاد کر رہا تھا جب کرنل صاحب روم میں اندر اے

زیہان اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتادو کرنل صاحب نے زیہان سے پوچھا جس پر زیہان نے اثبات میں سر ہلایا

نانو پلیز حورم کو بھیج دے تھوڑی دیر کے لیے زیہان کو ابھی کچھ دیر پہلے ہی پتہ چلا تھا حورم کی موجودگی کا

اور روحان نے اسے سب بتایا تھا کہ اس طرح ان تینوں نے جھوٹ بول کر خون دیا تھا زیہان دل سے ان تینوں کا شکر گزار تھا خاص طور پر اس تیسری لڑکی کا جس نے منیزے کو خون دیا تھا

اوے کھوتے دے پتر کچھ تو شرم کر اپنے نانا کے سامنے اتنی بے شرمی سے بکواس کر رہا ہے کے نانو پلیز حورم کو بھیج دے تھوڑی دیر کے لیے

کرنل صاحب ںے اسے ڈانٹتے ہوے اسکی نقل اتاری باہر اسکے ماں باپ دونوں ہے میں کیا کہوں گا کہ حورم بیٹا جاوں زیہان تم سے ملنا چاہتا ہے دیوانہ جو ٹھہرا

اور ااسکے ماں باپ بھی کہے گے ہاں ہاں حورم جاوں کہی زیہان کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے

کرنل صاحب پورے تپ گے تھے

نانو زیہان نے بچاری نظروں سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوے کہا

تم اس طرح کی شکل میرے سامنے مت بنایا کروں ڈرامے باز کہی کا جا رہا ہو بھیج رہا ہوں کرنل صاحب غصے سے کہتے باہر نکل گے

زیہان کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا دراوزے کھلنے کو اواز بر زیہان نے اپنے چہرے پر درد والے تاثرات لاے اور انکھیں بند کرلی

حورم جو کرنل صاحب کے کہنے پر اسکے لیے دوای لے کر ای تھی اسکے چہرے پر درد کے تاثرات دیکھے

پریشانی سے اسکی طرف دیکھا لیکن پھر کچھ سوچ کر وہی کھڑی ہو کر زیہان کے چہرے کو دیکھنے لگی

زیہان جو انتظا میں تھا کہ کب وہ پریشانی سے اگے بڑھے اور اس سے پوچھے کہی درد تو نہیں ہو رہا

لیکن اگلی طرف سے مکمل طور پر خاموشی محسوس کرکے اسنے ایک انکھ کھول کر دیکھی تو حورم اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی اسکے ایک انکھ کھولنے سے ہی سمجھ گی تھی وہ جان بوجھ کر کررہا ہے

بیوی درد ہو رہا ہے بہت زیادہ اگے اوں اور دوا دو زیہان اواز میں درد لاتے ہوے دھیمی اواز میں بولا

حلانکہ اسے اس وقت انجیکشن کی وجہ سے بالکل بھی درد نہیں ہو رہا تھا

ہاے کیا زیادہ درد ہو رہا ہاے مجھے لگتا ہے کہ درد تمھیں نہیں مجھے ہو رہا ہے ہاے میرا دل گیا اپریشن جو ہوا ہے حورم دل پر ہاتھ رکھ کر فل درد بھری اواز میں ایکٹنگ کرتی ہوی بولی

زیہان بیچارگی سے اپنی ایکٹنگ باز بیوی کو دیکھا جسکی ایکٹنگ اس وقت عروج پر تھی

چلوں یہ میڈیسن کھا لو حورم نے احسان جتانے والے انداز میں اسکی طرف دوای بڑھای

حورم کچھ تو خیال کروں یار میں اٹھ نہیں سکتا ہو کوی انسان اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے

زیہان نے اسے احساس دلاتے ہوے کہا اور اس دفعہ حورم کو سچ میں احساس ہو گیا تھا

وہ اہستگی سے اگے بڑھی اور زیہان کے سر پر جھک کر دوسرا تکیہ لگا کر اسکا سر اونچا کیا اس سے پہلے کے وہ دوبارہ پیچھے مڑتی زیہان نے اسکا بازو پکڑ کر اپنے بالکل نزدیک کیا

کیا کر رہے ہوں زیہان چھوڑوں مجھے اور اپنی میڈیسن کھاوں حورم بوکھلاتے ہو ادھر ادھر دیکھتے ہوے کہا

جبکے زیہان مسلسل اسکی نظروں کی ہیر پھیر کو دیکھ رہا تھا کیا ہوا جاناں تمھیں پسینہ کیوں ا رہا ہے

زیہان نے اسکے چہرے پر ہلکی سی پھونک ماری زیہان کا صرف دایںاں بازوں کام کر رہا تھا

پیچھے ہٹوں اور اپنی میڈیسن لو حورم نے نروس ہوتے ہوے اپنے بازو چھڑای لیکن اس حالت میں بھی اسکی پکڑ مضبوط تھی جسکی وجہ سے حورم اپنے اپ کو نہیں چھڑوا پا رہی تھی

ہمم میڈیسن تو میں اپنی لو گا ہی اسکے بغیر کیسے ٹھیک ہو سکتا ہو زیہان نے معنی خیز نظروں سے حورم کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوے کہا

حورم اسکی بات سمجھی نہیں تھی وہ مکمل طور پر زیہان کے اوپر جھکی ہوی تھی

ہاں تو لو مجھے تو ۔۔۔۔اگے کے لفظوں کو زیہان نے اپنے ہونٹوں میں ہی قید کر لیا اور پوری شدت سے اسکی سانسوں کو پینے لگا یہاں تک کہ حورم کو اپنے ہونٹوں میں درد محسوس ہونے لگا

لیکن زیہان اتنی جلدی بس کرنے والا نہیں تھا زیہان کی حورم کے بازو پر تھوڑی گرفت کمزور ہوی تو حورم نے ایک جھٹکے سے اپنے اپ کو چھڑوایا

حورم کا سانس بری طرح پھول چکا تھا حورم دوبارہ یہاں او زیہان سختی سے حورم کو دوبارہ اپنے پاس بلانے لگا اور اسکے شرم سے سرخ چہرے کو دیکھا

اور پھر اسکے بھیگے ہونٹوں کو جو خود دعوت دے رہے تھے

نہیں یہ رہی تمھاری میڈیسن اور یہ پانی حورم نے جلدی سے دونوں چیزوں کو بیڈ پر رکھ کر جلدی سے بھاگ گی

پیچھے سے زیہان کھل کر مسکرایا کتنی بہادر بنتی ہے یہ چھوٹی سی گستاخی سے ہی برا حال ہو گیا اگے کیا ہوگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن حورم زیہان کو میڈیسن دینے ای تو حورم کے ہونٹ تھوڑے سے سوجے ہوے تھے

زیہان نے دیکھ کر اپنی ہنسی چھپای جبکہ حورم سب کے سوالوں کا جواب دے کر تنگ اگی تھی

اس دفعہ حورم نے زیہان کو اتنی دور سے میڈیسن دی تھی

زیہان کی ہنسی کا بے ساختہ فوارا چھوٹا میری بیوی مجھ سی سے اتنی سی کسسی پر ڈر گی اگے تو بہت کرنا باقی ہے جاناں تب تمھارا کیا حال ہوگا

زیہان کی بے شرمی پر حورم کا شرم سے برا حال ہو گیا تھا اسنے میڈیسن بیڈ پر رکھی اور باہر کی طرف بھاگ گی

عبیر کا بے بسی سے برا حال تھا وہ منیزے سے مل بھی نہیں سکتا تھا اسکی تڑپ اب شدت کا روپ اختیار کر چکی تھی لیکن وہ مکمل طور پر بے بس تھا

وہ عبیر حیدر شاہ اسکی ماں کو حیدر پسند تھا جبکے باپ کو عبیر اسلیے اس کا نام ملا کر عبیر حیدر شاہ رکھ دیا لیکن گھر میں اسے سارے ہادی ہی بلاتے تھے

اسکے ماں باپ کے انتقال کے بعد وہ اپنے اپ کو مضبوط بنانا چاہتا تھا اسی لیے اپنوں سے دوری اختیار کی اور لنڈن چلا گیا اپنی سٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس ایا

اس سارے عرصے میں وہ صرف زیہان سے ملتا تھا منیزے کے لیے اسکے پیار میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا

پھر ان دونوں نے ارمی جواین کر لی لیکن دونوں کو ہی ڈر تھا پتہ نہیں منیزے کیسا ری ایکٹ کرے گی

عبیر منیزے کی حفاظت کے لیے اور ارمی والوں سے اسکی نفرت کو ختم کرنے کے لیے ایا تھا

لیکن عبیر جب بھی منیزے کو دیکھتا اسکے دل اسے مجبور کرتا کہ وہ اسے بتاے کہ اسکے بغیر اسکا ایک ایک دن کیسا گزرا ہے پھر وہ ہوا جو اسنے خود بھی نہیں سوچا تھا

اس دن اس پر اٹیک ہوا تھا وہ بے خودی میں ہی منیزے کو یہ سب بول گیا تھا لیکن منیزے نے جس طرح اسکے عشق کی دھجیا اڑای تھی

وہ سب اسکے لیے برداشت کرنا مشکل تھا لیکن اسکی اخری لاین جس میں اسنے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے اسے تھوڑا سکون تو ملا

لیکن اپنے جزبوں کی ناقدری کو وہ نہیں بھول پایا اوپر سے اسکے چہرے پر منیزے کا دیا گیا زخم جسکی وجہ سے و اسکے سامنے نہیں جاسکا

لیکن وہ ابھی بھی اپنی حقیقت کو منیزے کو نہیں بتانا چاہتا تھا وہ تو شکر تھا اس دن اسنے یونیفارم کے اوپر دوسرے کپڑے پہنے ہوے تھے جسکی وجہ سے منیزے کو کچھ پتہ نہیں چلا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منیزے ہوش میں تو اگی تھی لیکن ابھی وہ نہ تو بولنے اور نہ ہی کچھ سوچنے کی حالت میں تھی اسکے اونوں ہاتھ بری طرح زخمی تھے

و کلسے مسلسل بس چھت کو ہی گھورے جا رہی تھی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اسے کسی چیز کا گہرا صدمہ یہ پھر کسی کا خوف بری طرح سے اسکے اندر بیٹھ گیا ہے

جس نے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا تھا ان لوگوں کا پیار اور بھر پور توجہ ہی اسے پھر سے ٹیھک کر سکتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دس دن بعد

اج ان لوگوں کا ڈسچارج مل گیا تھا منیزے کی حالت ویسے ہی تھی لیکن اسکے زخم کافی حد تک ٹھیک ہوچکے تھے

جبکے زیہان اور عبیر کے زخم بالکل ٹھیک تو نہیو ہوے تھے لیکن وہ چلنے پھرنے کے قابل ھو گے تھے

حورم اور اجالا ہر روز ملنے اتی تھی لیکن پھر کرنل صاحب نے صدیق صاحب سے بات کی جسکی وجہ سے اج حورم ان کے ساتھ ہی حویلی جارہی تھی

تاکہ وہ اچھے سے منیزے کا خیال رکھ سکے اور جلد سے جلد اس خوف سے باہر نکال کر اسے نارمل کر سکے حورم خود بھی یہی چاہتی تھی

اسی لیے کسی کو بھی کوی اعتراض نہیں تھا