Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 19
Rate this Novel
Power of Love Episode 19
Power of Love by Afzonia Zafar
وہ لوگ گھر ا چکے تھے لیکن ابھی تک منیزے نیند کے انجیکشن سے سوی ہوی تھی جسکی وجہ سے اسے پتہ نہیں تھا کہ عبیر انکے ساتھ ایا ہے یہ نہیں حورم ابھی تک صرف منیزے کے روم میں ہی تھی کیونکہ انھیں گھر اتے اتے رات ہو چکی تھی
حورم نے منیزے کو کھانا کھلایا کھانے کے بعد اسکے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گی تھوڑی ہی دیر ہوی جب منیزے بالکل اسکے ساتھ چپک گی
حورم اسکے سر میں اہستگی سے انگلیاں چلانا شروع ہو گی تھوڑی دیر میں منیزے کی سسکی سنای دی حورم نے گھبرا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا
وہ مکمل طور پر پسینے میں بھیگی ہوی تھی منیزے منیزے کیا ہوا انکھیں کھولوں حورم نے گھبر کر اسکے چہرے کو تھپتھپایا
لیکن منیزے مسلسل انکیھں بند کرکے روے جارہی تھی حورم کے تو ہاتھ پاوں پھول گے وہ باہر کی طرف بھاگی زیہان کا کمرہ اسکے کمرے کے ساتھ ہی تھا
زیہان کا کمرہ لوک نہیں تھا وہ بھاگ کر اسکے کمرے میں داخل ہوی زیہان بیڈ پر ٹیک لگا کر شاید کوی فایل ریڈ کررہا تھا حورم کو اسطرح گھبراتے ہوے روم میں اتے دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا
حورم کیا ہوا زیہان نے پریشانی سے پوچھا وہ منیزے شاید خواب میں ڈر گی ہے وہ رو رہی ہے
زیہان تڑپ کر جلدی سے بیڈ سے اٹھا ایکدم اٹھنے سے اسکے زخموں میں درد ہوا لیکن اسے اس وقت منیزے کے پاس جانا تھا اس لیے اپنے درد کو بھول کر حورم کے ساتھ منیزے کے کمرے کی طرف بڑھا
وہ جب کمرے میں داخل ہوا منیزے انکھیں بند کرکے بری طرح سے رو رہی تھی زیہان تڑپ کر اگے بڑھا جلدی سے منیزے کو اٹھا کر گلے لگایا
منیزے انکھیں کھولوں ادھر دیکھوں میں ہو زیہان کی اواز سن کر منیزے نے اپنی سرخ انکھیں کھولی
زیہان نے اسے تھوڑی ہی دیر میں ہی چپ کروالیا تھا لیکن منیزے شاید بری طرح سے ڈر گی تھی اس لیے زیہن کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہوی تھی
حورم کی نظر بے ساختہ زیہان کے سینے پر پڑی اسنے کالی شرٹ پہنی ہوی تھی لیکن وہ اسے گیلی لگ رہی تھی حورم نے پریشانی سے زیہان کے چہرے پر دیکھا جہاں درد کے اثرات نظر ا رہے تھے
لیکن وہ مسلسل حورم کو چپ کروانےمیں لگا تھا
منیزے بچے اب بتاو کیا دیکھا تھا خواب میں زیہان نے نرمی سے پوچھا
بھای وہ میں نے ماما بابا امی ابو سب کو دیکھا وہ لوگ سب یونیفارم میں تھے سواے می اب کے علاوہ انھوں نے مجھ سے کہا کہ بابا مجھ سے ناراض ہے
میں بابا کی بڑھی لیکن وہ مجھ سے نہیں بولے پھر ر خ پھیر کر ناراضگی سے بولے
انہوں نے کہا کہ منیزے تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے اس ملک کے رکھوالوں سے نفرت کرتی ہو جو ہزاروں لوگوں کی جان اور عزتوں کی حفاظت کرتے ہے تم ان سے نفرت کرتی ہو
تم انسے نفرت کرکے میری روح کو زخمی کرتی ہو بھای میں انہیں اواز لگاتی رہی لیکن وہ سب مجھ سے دور چلے گے کوی مجھ سے نہیں بولا
بھای اپکو پتہ ہے نہ میں فوجیوں سے نفرت نہیں کرتی ہو میں بس اپ لوگوں کو کھونے سے ڈرتی ہو
اپ نے جب سے ارمی جواین کی مجھے تب سے پتہ تھا لیکن مجھے پتہ اپکا سب سے بڑا خواب ارمی جواین کرنا ہے بھای وہ سب مجھ سے ناراض ہے
جبکے حورم کو زوردار جھٹکا لگا کہ زیہان ارمی میں ہے ان سب کو کرنل صاحب نے بس یہ بتایا تھا کہ ان کے او پر اٹیک ہوا تھا
جبکے زیہان نے حیرت کی انتہا سے منیزے کی طرف دیکھا اخر وہ بھی زیہان شاہ کی بہن تھی
زیہان کے سر سے بوجھ اتر گیا وہ ڈر رہا تھا کہ پتہ نہیں منیزے کا ری ایکشن کیا ہو گا
زیہان نے کافی دیر پیار سے اسے سمجھاتا رہا جب تک وہ سو نہیں گی تب تک وہ اسے پاس بیٹھا رہا پھر جب وہ سو گی تو اٹھ کر اسکے اوپر کمبل سیٹ کرکے حورم کو ارام کرنے کا کہہ کر کمرے سے باہر چلا گیا
وہ جب اپنی جگہ سے اٹھا تو حورم کی نظر اس جگہ پر پڑی جہاں خون پڑا ہوا تھا
حورم نے ایک نظر منیزے کو دیکھا جو سوی ہوی تھی پھر روم سے باہر نکل گی وہ زیہان کے کمرے میں داخل ہوی تو وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا
اب اپنی بنیان اتار رہا تھا حورم نے شرم سے اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا اور باہر کی طرف دبے قدموں سے جانے لگی
حورم واپس اوں زیہان بغیر پلٹے بولا شاید وہ اسکی موجودگی کو محسوس کر چکا تھا
نہیں وہ تم اس طرح ننگے کھڑے ہو میں نہیں ارہی ہو بے شرم کہی کے حورم کا رخ دروازے کی طرف تھا جب وہ غصے سے بولی
آآآآآآ زیہان درد سے کرہایا
کیا ہوا حورم ایک دم پیچھے مڑ کر زیہان کی طرف دیکھا جو سینے پر بازو باندھ کر اپنی جیت پر مسکرا رہا تھا
اس سے پہلے حورم پیچھے پلٹتی زیہان نے ایک ہی جست میں اسے کمر سے پکڑ کر بے حد نزدیک کر لیا
حورم کی نظریں زیہان کے سینے پر تھی جہاں اسکے زخموں سے ایک خون کی لکیر نکل رہی تھی
دس دنوں سے مجھ سے کیوں بھاگ رہی تھی جبکے تمھیں پتہ بہی ہے میں اپنی میڈیسن کے بغیر ٹھیک نہیں ہونگا
زیہان اپنی گرفت کو اور حورم کے گرد مضبوط کرتے ہے بولا
زیہان تمھارا خون نکل رہا ہے پیچھے ہٹوں مجھے میڈیسن لگانے دو اسکے اوپر حورم اسکی قربت سے گھبراتے ہوے بولی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ زیہان نے اسے اسانی سے چھوڑ بھی دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبیر بے تابی سے ادھر ارھر چکر لگا رہا تھا وہ کچن سے پانی پی کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسنے حورم کے ساتھ زیہان کو گھبراتے ہوے منیزے کے روم کی طرف جاتے ہوے دیکھا
پھر اوپر سے منیزے کے روم سے اسکے رونے کی بھی اواز ارہی تھی
وہ کافی دیر تک اسکے روم کے باور اضطرابی کیفیت میں کھڑا ہو کر اندر سے ہونے والی ساری باتوں کو سن رہا تھا
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ منیزے کے ہر دکھ اسکے سمیت اپنی بانہوں میں چھپا لی جہاں کسی کی بری نظر بھی اسکی بیوی کو چھو نہ سکے
تھوڑی دیر بعد وہ دونوںروم سے نکل گے اور زیہان کے روم کی طرف بڑھے عبیر کو تو موقعہ مل گیا تھا وہ جلدی سے منیزے کے روم میں داخل ہوا اور اندر سے روم کو لاک کر لیا
اور اہستگی سے بیڈ کی طرف بڑھا منیزے کے چہرے پر انسوں کے نشان ابھی بھی تازہ تھے اسے پتہ تھا وہ اب نہیں اٹھے گی ایک اسکی نیند بہت پکی تھی دوسرا وہ دوای کے اثر میں تھی
عبیر بالکل منیزے کے قریب بیڈ کی دوسری سایڈ پر بیٹھ گیا تھا اور اپنے اتنے دنوں کی پیاس کو بجھانے لگا
جب اسکی نظر اسکے ہونٹوں پر پڑی عبیر ادھر ادھر دیکھ کر اپنے دھیان کو بھٹکانے لگااور اپنے جزبات کو قابو کرنے لگا
لیکن اسکے جذبات بھی اسی کی طرح ڈھیٹ تھے اتنی جلدی تھوڑی نہ قابو میں اتے
وہ اہیستگی سے اسکے اوپر جھکا اتنا کہ منیزے کی گرم سانسیں اسے اپنے منہ پر محسوس ہو رہی تھی
عبیر نے اہستہ سے اپنا ہاتھ اسکے چہرے کی طرف بڑھایا پھر انگھوٹے کوتھوڑی پر رکھا اور ہلکا سہ دباو دیا جس سے منیزے کے تھوڑے سے ہونٹ کایک دوسے سے جدا ہوگے اور انکے درمیان تھوڑی سی جگہ بن گی تھی
عبیر نے اسکے نچلے ہونٹ کو ہلکا سہ اپنے لبوں میں لے کر دبایا لیکن شاید اتنے دنوں کا غبار تھا جو اسکے جزبات شدت اختیار کرگے
عبیر نے اسکے دونوں لبوں کو اپنے ہونٹوں میں سختی سے قید کر لیا اور پوری شدت سے اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا
اسکے انداز میں اتنی شدت تھی کہ منیزے بری طرح سے نیند میں کسمسای عبیر نے نرمی سے اسکے لبوں کو ازاد کیا
اور دروازے کی طرف بڑھا لاک کھول کر جس طرح سے ایا اسی طرح س نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورم نے زیہان کی اچھے سے ڈریسنگ کی اور الماری کی طرف بڑھی لیکن الماری کھول کر اسکی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب اسکی الماری میں اسکے سارے کپڑے بلیک کلر کے تھے
لیکن وہ جلد از جلد اس بے شرم ادمی سے بھاگ جانا چاہتی تھی جو اتنی دیر سے اسے معنی خیز نظروں سے ایسے گھور رہا تھا
جیسے ابھی کھا جاے گا حورم نے شرٹ اسکے منہ پر پھینکی اس سے پہلے زیہان اسکی چالاکی سمجھتا حورم بھاگ چکی تھی
زیہان اسکی چالاکی پر ٹھنڈی اہ بھر کر رہ گیا اور بیڈ پر مسکراتے ہوے لیٹ گیا اسے اپنی زندگی سےمحبت ہونےلگی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھای اپ سے ایک بات پوچھوں اجالا نے زبیر کو کھانا دیتے ہوے کہا
زبیر کی لایف میں اجالا کے علاوہ اور کوی نہیں تھا اسکا تعلق اچھی خاصی فیملی سے تھا
زبیر کے پاپا ایک بزنس مین تھے جو اپنی بیوی اور بچے سے بے حد پیار کرتا تھا لیکن پھر انہیں پتہ چلا کہ اسکی بیوی کے کسی اور کے ساتھ ناجایز تعلقات ہے
وہ ایک غیرت مند انسان تھے انہوں نے فوراً طلاق دی لیکن وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتے تھے اسلے یہ سب برداشت نہیں کر پاے
انہوں نے اپنی ساری دولت زبیر کے نام کی اور ایک کار ایکسیڈنٹ میں کھای میں گر کر اپنی جان دے گے
اسی کھای میں زبیر کو ایک چھوٹی سی بچی ملی جو اپنی یادداشت کھو چکی تھی زبیر نے اسکا کافی علاج کروایا لیکن اسکی یادداشت واپس نہ ای
لیکن زبیر و دیک چھوٹی بہن مل گی تھی جس سے وہ بے حد پیار کرنے لگا تھا لیکن زبیر نے اسے کچھ نہیں بتایا صرف اتنا کہا کہ بچپن میں ایک ایکسیڈنٹ ہوا جس کی وجہ سے اسکی یادداشت کھو گی تھی
زبیر کی ماں سکے باپ کی موت کے اگلے دن ہی ملک کو چھوڑ کر اپنے بواے فرینڈ کے ساتھ چلے گی تھی
ہاں پوچھوں زبیر نے نرمی سے جواب دیا
بھی وہ لڑکی جو ہوسپٹل میں تھی وہ کیا بچپن میں میری دوست تھی یہ پھر ہماری کوی جاننے والی ہے وہ لڑکی مجھے بہت اپنی اپنی لگی جیسے اس کے ساتھ میرا بہت گہرا رشتہ ہے
اجالا نے زبیر کو بتایا جسنے زبیر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا
نہیں گڑیا ایسی کوی بات نہیں ہے شاید تم س سے اپنے بچپن میں ملی ہو زیادہ مت سوچوں ٹھیک ہے اب جاوں اپنی میڈیسن لو اور ارام کروں
زیادہ نت سوچنا زیادو سوچنے سے تمھاری طبعیت خراب ہو جاتی ھے ٹھیک ہے
جی بھای اجالا زبیر کو گہری سوچوں میں چھوڑ کر اپنے رون کی طرف بڑھ گی
