406.7K
48

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Power of Love Episode 5

Power of Love by Afzonia Zafar

کرنل صاحب کو ایک دن بعد ڈسچارج کر دیا تھا

اور اس دوران منیزے اور زیہان انکا پورا خیال رکھ رہے تھے لیکن وہ دونوں ہی ان سے بات نہیں کر رہے تھے

حیدر واپس چلا گیا تھا

وہ لوگ اس وقت راستے میں تھے جب زیہان کے موباٸل پر کال ای زیہان نے کال لی اور فون کان پر لگایا

لیکن جو بات اسے اگے سے بتای گی

اسکی انکھوں میں خون اتر ایا چونکہ زیہان علیحدہ گاڑی میں تھا اور کرنل صاحب اور منیزے علیحدہ گاڑی میں تھے

گڑیا تم نانو کو گھر لے جاو مجھے ایک امپورٹنٹ کام ہے میں تھوڑی دیر میں گھر اجاوں گا

زیہان نے منیزے کو کال کرکے بتایا اور فون بند کرکے گاڑی دوسرے راستے پر موڑ لی

اس وقت اسکی انکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور گاڑی ہواوں سے بات کر رہی تھی ادھے گھنٹے کے راستے کو اسنے پنررہ منٹ میں میں کاٹ لیا تھا

حورم اگر کسی نے تمہیں ہاتھ بھی لگایا نہ تو میں اسکے ہاتھ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا

ساتھ میں وہ ڈر بھی رہا تھا کہی حورم کو وہ لوگ کچھ کر نہ دے

……………………..

روحان تم سیدھا گھر جاوں اج میں اپنی فرینڈ کے گھر جاوں گی

ارے واہ یہ دس منٹ کے اندر اندر تمھاری کونسی فرینڈ اگی کیونکہ حورم اور روحان کا کوی بھی دوست نہیں تھا

حور ڈھیٹ پن سے مسکرای اچھا تم جاوں نہ کیونکہ اج پھر اسکا شیطانی دماغ کچھ کرنے پر اکسا رہا تھا

روحان بہی سمجھ گیا تھا ہاں ٹھیک ہے جاوں لیکن پلیز دھیان سے جانا ٹھیک ہے روحان جاتے ہو ےاسے تاکید کرنا نہ بھولا

حورم اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گی ڈور کھول کر گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی کو اسٹارٹ کرکے اگے بڑھا دی ابھی وہ راستے میں ہی تھی جب کچھ لوگ اچانک سے اسکے سامنے اگے اسکی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسکے منہ پر رومال رکھ کر اسے گود میں اٹھایا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گے یہ سب اتنی جلدی میں ہوا کہ اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں ایا

پیچھے سے زیہان کے لوگوں نے جو حورم کی سیفٹی ک لیے تھے انہوں نے زیہان کو فون کر دیا اور اس گاڑی کا پیچھا کرنے لگے اور ساتھ اسے میسج کرکے جگہ کا بھی بتا رہے تھے

تھوڑی دیر بعد انکی گاڑی ایک گودام کے باہر روکی اور نہ صرف حورم بلکہ کچھ لڑکیاں اور بھی تھی

زیہان کے لوگوں نے گاڑی کو گودام سے تھوڑا پیچھے کرکے روکا تاکہ انھیں شک نہ ہوں

ان سب کو لے کر اندر کی جانب بڑھ گے

اور اس سے ٹھیک پانچ منٹ بعد زیہان کی گاڑی اکر روکی اسے دیکھتے ہی وہ لوگ بھی گاڑی سے باہر نکل گے

زیہان بلکل بھی دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اسلیے اپنی دونوں کو اٹھا کر ان لوگوں کو اپنے پیچھے انے کا اشارہ کرکے اگے کی طرف بڑھ گیا

…………………………

حورم کو جہاں لے کر گے تھے وہ بہت سی لڑکیا بر ہنہ حالت میں تھی اور کچھ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی تھی جنکی چینخے پورے گودام میں گونج رہی تھی

کامی جو انکی ٹیم کا سردار تھا اسکی نظرے بے ساختہ حورم کے چہرے پر پڑی بلیک حجاب میں وہ سب سے منفرد دیکھ رہی تھی

ابے ادھر ا

کامی نے اس شخص کو اشارہ کرکے اپنی طرف جس نے منیزے کو گود میں اٹھایا ہوا تھا

ہاں اس لڑکی کو اسں کرسی پر باندھوں اور اسے ہوش میں لانے کی کو شش کروں اس لڑکی کے ساتھ مزے میں لوں گا

وہ شیطانیت سے ہنسا اور اسکی نظریں مسلسل حورم کے بے تحاشہ خوبصورت چہرے پر تھی

اسکے ادمیوں نے منہ بنا کر حورم کو کرسی پر باندھا اور اسکے چہرے پر پانی پھینکا جس سے حورم نے اپنی مندھی مندھی انکھیں کھولنی شروع کی

کامی کو لگا تھا کہ اب یہ لڑکی روے گے چلاے گی رحم کی بھیک مانگے گی اور کامی کے دل کو ٹھنڈک ملے گی

لیکن حورم نے اپنی انکھیں کھول کر ارام و سکون سے اردگرد کا جایزہ لیا

اور سب کچھ پتہ چلنے پر پرسکون سی ہو کر بیٹھ گی وہ حورم ہی کیا جو کسی سے ڈر جاے

ابے لڑکی تجھے ڈر نہیں لگ رھا کامی کے سوال پر اندر اتا ہوا زیہان بھی رک گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیہان کو ہی پتہ تھا وہ اپنے غصے کو کس طرح کنٹرول کر رہا تھا وہ اگے بڑھا جب اسکی نظر چا ر ادمیوں پر پڑی جو اس گودام کی رکھوالی کر رہے تھے

ہممم تو ہم نے ایک ساتھ چاروں کے سر پر نشانہ بندھ کر مارنا ہے اور سب کی پسٹل پر سایلینسر موجود ہونا چاھیے

تاکہ گولی چلنے کی اواز نہ انے انہوں میرے گو کہنے پر سب نے ایک ساتھ فایر کر نا ھے

زیہان کےگو کہنے پر ان چاروں نے ایک ساتھ ان کے دماغ پر فا یر اور وہ لوگ ایک ہی فایر پر ڈھیر ہوگے

اب انکا رخ گودام کی جانب تھا سب سے اگے زیہان تھا ابھی وہ دروازے میں ہی تھی جب اسکی نظر ارام و سکون سے بیٹھی حورم پر تھا

اسکا حجاب صحیع سلامت اسکے سر پر دیکھ کر زیہان کی جان میں جان ای

لکن کامی کے سوال پر وہی رک گیا وہ بھی اسکا جواب سننا چاہتا تھا

لیکن حورم اگے سے کچھ نہیں بولی

اے لڑکی تجھے مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا میں تمھارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں کامی اس دفعہ غصے اور جھنجھلاہٹ سےبولا

نہیں میرے ساتھ میرا اللہ ہے میرے بابا نے کسی ک بیٹی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا نہ ہی میں نے کسی معصوم کے ساتھ کچھ غللط کیا ہے تو مجھے ڈر کیوں لگے گا ڈرنا تو تمھیں چاھیے کیا پتہ تمہاری بیٹی کے ساتھ ایسا ہو لیکن مںیں اللہ سے دعا کروں گی تم جیسے شیطان کے گناہوں کی سزا کسی معصوم کو نہ ملے حورم اس دفعہ بھی پرسکون ہو کر بولی

حورم کی بات سن کر کامی پر سن سہ ہوکر کھڑا ہوگیا

اسنے یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیٹی سے بے انتہا محبت کرتا تھا

لیکن وہ حوس کا پجاری تھا جو دوسروں کی بیٹی کے جسم کے ساتھ کھیلتا تھا

وہاں موجود سبھی لوگ سن ہوگے تھے کیونکہ ان میں سے چند ایک کے علاوہ سب کی بیٹیاں تھی

زیہان کو بے ساختہ اپنی محبت پر رشک ایا

تبھی ان میں سے ایک اگے بڑھا اور حورم کے چہرے پر پوری جان سے تھپڑ مارا نہ صرف حورم بلکہ کوی بھی اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا اسکے ایک تھپڑ سے حورم کرسی سمیت نیچے گری اور اپنے ہوش و حواس کھو گی

اور اگلے پل ایک گلی اس ادمی کا بازو چیرتے ہوے گزری لکین زیہان اسے ایک دم سے موت نہیں دینا چاہتا تھا

زیہان اور اسکی ٹیم اندر داخل ہوے اور ایک کرکے سب میں گولی مارنا شروع ہوگے لیکن اندر کا منظر دیکھ کر انکی انکھیں شرمندگی کی وجہ سے اٹھنے سے انکاری تھی اسی بات کا فایدہ اٹھاتے ایک ادمی حورم کی طرف بڑھا اور اسے سیدھا کرکے اسکے سر پر گن رکھی شب اپنی اپنی گن نیچے رکھ دوں ورنہ اس لڑکی کو میں اوپر پہنچا دوں گا وہ چلا کر بولا

زیہان کو لگا جیسے کسی نے اسکی جان نکال دی ہوں

روکوں اس لڑکی کو کچھ مت کرنا ہم گن نیچے رکھ رہے ہے زیہان ضبط کی انتہا سے بولا

تبھی اس لڑے نے حورم کے دونوں کندھوں سے قمیض پھاڑی اور یہاں زیہان کی ضبط کی اتہا ختم ہوگی اسنے ہوشیاری سے اسکی بازو کا نشانہ لیا

اور وہ ادمی نیچے گر کر تڑپنے لگا

سب لڑکیوں کو بہ حفاظت انکے گھر پہنچاوں اور جو لڑکی اپنے گھر نہ جانا چاھے اسے ہمارے دارلامان میں چھوڑ انا ان دو ادمیوں کو چھوڑ کر ساروں کی لاشوں کو انکے گھر بھیج دینا

ان سب کو پتہ تھا اب انکا کیا حشر ہونا ہے

سر میم کو بھی لے کر جانا ھے جاوید نظر جھکا کر بولا

نہیں تم ان سب کو لے جاو

میں اسے خود لی کر اوں گا زیہان سخ انکھوں سے بولا

…………………

حیدر جب سے ہوسپٹل سے ایا تھا وہ تب سے منیزے کو بھول نہیں رہا تھا

وہ کتنی بڑی ہوگی ہے لیکن اس نے مجھے پہچانا ہی نہںں

شاید تمھیں تو میں یاد بھی نہیں ہوں لیکن اب بہت ہوگیا ہے اب مجھ سے اور صبر نہیں ہوتا ہے اب بہت جلد تم میری دسترس میں ہوگی

حیدر منیزے کی تصویر سے دیکھتے ہوے بولا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوے کھوتے تو مجھ سے ملنے کیوں نہیں ایا

کرنل صاحب اپنے پوتے سے بولے جو سالوں سے پاکستان میں موجود اپنا ہر رشتہ بھولے لنڈن میں سیٹلڈ تھا

دادوں اپ جانتے ہے نہ میرا یہاں انے کو دل نہیں کرتا ہے خاص طور اس اپکی سو کالڈ نواسی کی وجہ سے

کرنل صاحب وڈیو کال پر بات کررہے تھے اسلیے اسکے لہجے میں موجود نفرت کو دروازے کے باہر کھڑی منیزے بہ اسانی سے سن سکتی تھی اسکی انکھوں پانی کا جھرنہ شروع ہوگیا تھا

میری نواسی تمھاری بھی کچھ لگتی ہے کرنل صاحب دکھی اواز میں بولے

دادو میں اس بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا ہوں اور ویسے بھی مجھے یہاں کوی اور پسند ا گی ہے میں بہت جلد پاکستان اوں اپکو اس سے ملاوں گا مجھے امید ہے وہ اپکو پسند اے گی اور ساتھ میں اپکی نواسی کو بھی ڈایورس دے کر اپنی جان چھڑاو گا

نانو اپکی میڈیسن کا وقت ہوگیا ہے

اس سے پہلے کرنل صاحب اسکے جواب میں کچھ کہتے منیزے جلدی سے اپنے انسو صاف کرکے اندر ای اور ایسے شو کیا جیسے اسنے کچھ بھی نہ سنا ہوں

کیونکہ وہ کرنل صاحب کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی

کرنل صاحب نے اسے دیکھ کر جلدی سے کال کٹ کردی

منیزے نے کرنل صاحب کو میڈیسن دی اور جلدی سے اپنے روم میں اکر بند ہوگی اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا

اسنے اسے بچپن میں ہی دیکھا یہ رشتہ کرنل صاحب کی مرضی سے ہوا تھا منیزے اس وقت چھوٹی تھی اس لیے تب اسے کوی سمجھ نھہں تھی

پھر انکے نکاح کے کچھ دن بعد وہ چلا گیا کبھی واپس نہ انے کے لیے