Power of Love by Afzonia Zafar NovelR50419 Power of Love Episode 41
Rate this Novel
Power of Love Episode 41
Power of Love by Afzonia Zafar
منیزے نے کپڑے چینج نہیں کیے اور سیدھا رنگ میں چڑھی
منیزے اس وقت وایٹ جینز اور ڈارک بلیو ٹی شرٹ میں تھی
سیٹی کی اواز پر منیزے نے ہادی کی طرف دیکھا جو جنگ شروع ہونے کے بعد بھی شوخ نظروں سے منیزے کی طرف دیکھ رہا تھا
منیزےنے اسکی نظروں سے چڑ کر ایک لات ہادی کے سینے میں ماری جس سے وہ تھوڑا پیچھے ہو
پورا گراونڈ جو پہلے حیدر شاہ حیدر شاہ پکار رہا تھا ایک دم سے چپ ہو گیا
منیزے نے ایک اور لات ماری لیکن اس دفعہ ہادی نے اپنا بازو کو اگے کرکے اس کے وار کو روکا
منیزے ایک بعد ایک وار کر رہی تھی لیکن ہادی بس اسکے وار کو روک ہی رہا تھا
لیکن اگے سے اس پر وار نہیں کر رہا تھا بھلا حیدر شاہ اپنی منیزے کو کوی چوٹ پہنچا سکتا ھے
سب کو ہیہی لگ رہا تھا کو منیزے ہادی کو وار کرنے کا کوی موقع نہیں دے رہی تھی
لیکن اصل میں ہادی وار کر ہی نہیں رہا تھا تاکہ منیزے کو کوی چوٹ نہ لگ جاے
تبھی ہادی کی رومینس کی حس ایک دم سے جاگی
منیزے کی ایک ٹانگ ہادی کی گرفت میں تھی
تبھی منیزے نے اپنا مکا ہادی کے منہ پر جڑنا چاہا
ہادی اس وار کے لیے مکمل طور پر تیار تھا
تبھی منیزے کے مکے کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیا اور منیزے کو اپنی طرف زور سے کھینچا
منیزے ایک دم سے بلکل ہادی کے کھینچنے پر اسکے نزدیک اگی
ہادی نے جلدی سے اپنے ہاتھ کو جس میں منیزے کا ہاتھ بھی تھا منیزے کی کمر سے لگا کر اسے مکمل طور اپنی گرفت میں لیا
اب سچویشن یہ تھی ہادی نے ایک ہاتھ سے منیزے کی ٹانگ کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اسنے منیزے کے ہاتھ کو اسکی کمر سے لگایا ہوا تھا
منیزے نے حیرت سے اپنی پوری انکھیں کھول کر ہادی کی طرف دیکھا
جسنے بڑی ہی اسانی سےاسے مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا تھا
ویل ٹراے ڈاکٹر کیپٹن منیزے حیدر شاہ لیکن کیا ھے نہ ابھی تم مجھ سے جونیر ہو اپنے سینیر سے مقابلہ کرنا اتنا اسان تھوڑی ھے
اور اوپر سے اپنی ہایٹ دیکھوں منیزے ہادی کے سینے تک ارہی تھی
ہادی نے مسکرا کر منیزے کی چھوٹی ہایٹ پر چوٹ کرتے ہوے کہا
منیزے نے حیرت سے ہادی کو دیکھا اسے کیسے پتہ چلا
لیکن ہادی کی بے شرمی پر منیزے اپنے ہاتھ کو چھڑوانا چاہا
ہادی چھوڑوں مجھے ورنہ اپنا حشر یاد رکھنا
منیزے نے غصے سے کہا اور اپنے ازاد ہاتھ سے ہادی کے کندھے پر مکے مارنے شروع کیا
لیکن ہادی کی گرفت بے حد مضبوط تھی
ہادی نے منیزے کو مسکرا کر دیکھا
منیزے کو ایکدم سے خطرے کی بو ای اس سے پہلے منیزے اپنی ٹانگ کو ہادی کی ٹانگ میں پھسا کر گراتی
اس سے پہلے ہی ہادی منیزے کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دے
یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لیے بالکل عام بات تھی اسی لیے سب لڑکوں نے ہوٹنگ شروع کر دی جبکے لڑکیوں نے غصےسے منیزے کی طرف دیکھا
انکے مطابق منیزے نے انکی جگہ چھینی ھے
یشفہ نے جلدی نے انکھوں پر ہاتھ رکھا
ہاے منیزے یہ تو تمھارا جیجو تھا لیکن اب لگتا ھے یہ میرا جیجو ھے
انکھیں تو پرنسپل صاحب اور باقی ٹیچرز کی بھی کھل چکی تھی
منیزے بالکل ہی ساکت ہوگی لیکن اگلے ہی پل اپنے پلین پر عمل کرتے ہوے ہادی کو نیچے گر چکی تھی
منیزے کا اس وقت کچھ شرم س اور کچھ غصے سے گال بلکل لال ہو چکے تھے
منیزے نے عبیر کو نیچے گراتے ہی اسکے بازو کو موڑا اور اسکی کمر سے لگایا اور ایک ہاتھ سے اسکی گردن کو دبوچا
ریفری نے کاونٹ ڈاون سٹارٹ کیا
منیزے کو ہادی پیچھے کر سکتا تھا لیکن کچھ سوچ کر بغیر کوی مزاحمت کیے بغیر لیٹا رہا
کاونٹ ڈاون پورا ہوتے ہی منیزے نے عبیر کو چھوڑا تبھی ریفری نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اوپر کی طرف اٹھایا
ہادی نے انتہای غصے سے اس ریفری کو دیکھا جس نے منیزے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
you blady bastard she is my wife how dare u to touch her
زیہان نے غصے سے منیزے کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑوایا اور ایک مکا اسکے منہ پر جڑا
ہادی ریلکس منیزے نے جلدی سے ہادی کو پیچھے سے اپنی گرفت میں لیا
اسکی ہمت کیسے ہوے تمھارا ہاتھ پکڑنے کی ہادی غصے سے منیزے کی طرف پلٹا
لیکن منیزے کو دیکھتے ہی اسکے تنے ہوے اعصاب ایکدم ڈھیلے ہوے
ہادی نے ایکدم منیزے کو اپنے گلے سے لگایا اور پوری شدت سے خود میں بھینچا
سارے میڈیا والے سب سٹوڈنٹس اور ٹیچرز اسکا جنونی روپ دیکھ کر ڈر گے تھے
انہوں نے ہمیشہ ہادی کو ہنستے مسکراتے ہوے دیکھا
جبکے یشفہ کے سر پر ساتوں اسمان ایک ساتھ ٹوٹ پڑے
مطلب میں اپنے ہی جیجو پر بری نظر ڈال رہی تھی وہ بھی منیزے کے اگے
یاللہ منیزے کے عتاب سے بچانا وہ تو ہادی سے کتنا پیار کرتی ھے اسکی دیوانگی تو میں نے اپنی انکھوں سے دیکھی ھے
یشفہ نے جلدی سے درودو پاک پڑھ کر اپنے اردگرد پھونک ماری
پرنسپل جلدی سے رنگ میں اینٹر ہوے
ھم اپ سے معافی مانگتے ھے ھمیں سچ میں نہیں پتہ منیزے اپکی بیوی ھے پرنسپل نے ہادی کو ٹھنڈا کرنا چاہا
ہادی نے کوی جواب نہیں دیا اور منیزے کا ہاتھ پکڑ کر رنگ سے نیچے اترا اور اگے بڑھنے لگاا
منیزے کی ہمت نہیں ہو رہےتھی کہ ہادی سے اپنا ہاتھ چھڑا سکے
تبھی منیزے یشفہ کے پاس سے گزری اور جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کھنچا
ہادی ابھی تک شرٹ لیس تھا اور لڑکیاں حسرت سے اسکی بوڈی کو دیکھ رہی تھی
باہر گیٹ کے سامنے اسکی گاڑی کھڑی ہوی تھی
ہادی نے منیزے کے لیے گیٹ کھولا
منیزے نے ایک نظر اپنے ساتھ کھڑی یشفہ کو دیکھا
ہادی نے چونک کر یشفہ کو دیکھا پھر جلدی سے اسکے لیے پیچھے کا دروازہ کھولا
شکریہ بھای یشفہ بغیر کسی دیر کے اندر بیٹھ کر بولی جس پر ہادی نے مسکرا کر سر ہلایا
منیزے بھی اندر بیٹھ گی عبیر نے گھوم کر اپنی سیٹ سمبھالی اور گاڑی اگے بڑھا دی
