Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 2

قدرتی ، تہذیبی اور تاریخی لحاظ سے میكسیکو کا “کاپر کینئن” ایک بھرپور سسٹم جو دنیا بھر میں اپنے عجائبات اور دلکش نظاروں کے لیے مقبول ہے۔
ایسی دلکشی ایسا قدرتی حسن کہ آنکھیں دیکھیں تو دل کئی لمحات تک ٹھہر جائے۔ یہ مقام کسی حد تک خطرناک بھی تھا جو ایڈونچر کے شائقین کے لیے بلاشبہ بہت اہم تھا۔
حد نگاہ تک پھیلی دو سرسبز پہاڑیوں کے درمیان بنا ٹیڑھا میڑھا راستہ یوں دکھائی دیتا تھا جیسے بل کھاتا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہو۔
قریب سے جھانکو تو دو نفوس اس راستے پر چلتے نظر آ رہے تھے۔ وه اونچے لمبے قد کا خوبصورت مرد جو خاکی پینٹ سویٹر میں ملبوس خاکی رنگ کے لانگ بوٹس پہنے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بےنیازی سے چل رہا تھا۔
اسکی کشادہ صاف پیشانی پر سیاہ گھنے بالوں کی ایک لٹ گری ہوئی تھی۔ سیاہ تیكهی آنکھوں میں ایک نازک عکس پوری تاب سے روشن تھا۔
اسکی نگاہیں اس پر ٹکی تھیں جو اس سے چند قدم آگے پرجوش سی چل رہی تھی۔
سفید پھولے بازو والی گھٹنوں تک آتی اونی فراک کے ساتھ سفید جینز اور جوگرز ڈالے وه ٹھٹھکا دینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔
اسکے مہرون کرلی بال پشت پر مکمل بکھرے اسے گھٹنوں تک ڈھانپ رہے تھے۔ وه پلٹی تو ہری کانچ سی آنکھوں نے اس وجیہہ مرد کی سیاہ گہری آنکھوں کو خود میں مدغم ہوتے پایا تھا جیسے وه نگاہیں اسکے وجود کی دلکشی کو خود میں جذب کررہی تھیں۔
وه ضد کرتے اسے دوسرے راستے سے لے آئی تھی جس پر وه ذرا سا جھنجھلایا بھی تھا۔ وه خطروں سے کھیلنے کی شوقین تھی اور یہ بات وه باخوبی جانتا تھا۔
” حیان ۔۔۔۔ کتنا حسن بکھرا ہے جگہ جگہ ۔۔۔ ! اگر میں یہاں نہ لاتی تو تم محروم رہ جاتے ۔۔۔! “
اسکے ساتھ چلتی وه دائیں بائیں منظر کو آنکھوں میں اتارتی دلچسپی سے بولی۔ لہجہ خوشی کے احساس سے پُر تھا۔۔۔!
حیان نے سر دائیں جانب کرتے اسے دیکھا جو دھیما سا مسکرا رہی تھی۔ اسکے کٹاؤدار لبوں کے خم پر موجود تل نے اب بھی اسکی نظر کو باندھا تھا۔
” اونہوں ، دلکشی تو ہر پل میرے سامنے ہے مجسم بنی ۔۔۔! تمہاری زلفوں سے بندھی ، تمہارے نقش نقش میں بسی ۔۔۔ دلکشی مجھے تمہاری یاد دلاتی ہے جانِ جہاں ۔۔۔!!! “
اسے نرمی سے تھام کر مقابل کرتا اسکے گال کو چھوتا وه مدھم لہجے میں بولا اسکی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ وه لب دباتی امڈ آتی مسکان روک گئی۔
جب سے دل اسکا اسیر ہوا تھا تب سے کتنا وجیہہ لگنے لگا تھا وہ۔ اسکی بھری بھری داڑھی مونچھیں اسکی دھڑکنیں تیز کر دیتی تھیں جبکہ کالی گہری آنکھوں کا ارتكاز دنیائے دل میں حشر برپا کر دیتا تھا۔ غزل خانی اپنے ایس پی کی محبت میں مکمل ڈوب چکی تھی۔
” وقت وقت کی بات ہے نہ ۔۔۔! پہلے تم مجھے بلکل پسند نہیں کرتے تھے اور میں ۔۔۔ میں صالح کو ۔۔۔۔۔ “
وه اسے تنگ کرنے کو ہری آنکھوں میں شرارت لیے کہتی دو قدم پیچھے ہٹی جب حیان نے اسکی بات مکمل ہونے سے قبل ہاتھ بڑھا کر اسے جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا۔ غزل کے مہرون بال اسکے خاکی سویٹر پر بکھر بکھر سے گئے تھے۔
اسکے سینے سے لگی پیشانی اٹھا کر وه سر اٹھاتی اسے دیکھنے لگی جسکی سیاہ آنکھوں میں سختی تھی جبکہ لب بھینچے ہوئے تھے۔ غزل کا دل ایک پل کو گهبرایا کیا اس نے اسکا دل دکھایا تھا۔۔۔؟
وه خاموش سی اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی اسے دیکھنے لگی جسکی آنکھوں کا سخت تاثر اسکے لمس کی نرمی پر زائل ہوا تھا۔ سرسبز بلند و بالا پہاڑوں کے بیچوں بیچ وه ہموار سانس لیتے ایک دوسرے کے حصار میں کھڑے منظر کو مکمل کررہے تھے۔
” غزل کس کی ہے ۔۔۔؟ “
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے مزید قریب کرتا وه بےحد پوزیسو ہوا تھا۔ اسکے لہجے کی نرمی پر غزل کی جان میں جان آئی۔ اسکی داڑھی سہلاتی وه پرشرارت انداز میں گویا ہوئی۔
” کسی شاعر کی ۔۔۔ !!! “
کہتے ہی وه کھلکھلائی تھی اپنے جواب سے وه بےحد محظوظ ہوئی جبکہ حیان کا دل جل کر کوئلہ ہوگیا اس نے منہ کے زاویے بگاڑے۔
” کس کی ۔۔۔؟ “
اس نے وارن کرتی نظروں سے اپنی ٹڈی بیوی کو دیکھا جو اسکا دل جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی۔
” کھڑوس ایس پی کی ۔۔۔!!! “
اسکے سینے پر مکا مارتی وه منہ بنا کر بولی۔ اسکے طرز تخاطب پر وه ہولے سے مسکرا دیا۔
” اور ایس پی حیان کس کا ہے۔۔۔ ؟ “
اسکے گلے میں دونوں بازو ڈالتی وه اترا کر بولی جیسے جانتی تھی جواب کیا ہوگا۔ حیان نے لاپرواہی سے دائیں بائیں دیکھا انداز یوں تھا جیسے سوچ رہا ہو۔
” میں کسی ۔۔۔۔ “
اس سے پہلے وه کسی اور کا نام لیتا وه دانت پیستی اسکے منہ پر ہاتھ رکھ گئی۔
” خبردار جو کسی اور کا نام لیا ۔۔۔! میں گنجا کردوں گی اسے ۔۔۔! صرف میرے ہو تم ۔۔۔ میرا حق ہے تم پر ۔۔۔۔! “
وه بےحد جنونی ہوتی بولی تھی اسکی جنونیت نے حیان کو حیران کیا تھا۔ اسکا ایسا انداز پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ تو وه بھی پوزیسو ہورہی تھی اسکے لیے۔
اس خیال نے دل کو ایک انوکھے مگر خوبصورت احساس سے بھر دیا تھا۔ اس نے نظر جھکاتے اپنے لبوں پر جمے اسکے نرم ہاتھ کو دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے اسکے ہاتھ کو چوم لیا۔
غزل کا چہرہ ہلکا سا گلابی پڑا تھا۔ وه پیچھے ہٹنے لگی جب حیان نے اسے سینے میں بھینچتے آنکھیں موند لیں۔
چند پل وه اسے محسوس کرتی رہی مگر جب وه جدا نہ ہوا تو اسے پیچھے دهكیلتی تیكهی نظروں سے دیکھتی آگے چل پڑی۔
” نواب صاحب کا بس چلے تو یہیں کھڑے کھڑے رات گزار دیں ۔ ان کا بھی کچھ خیال کریں وقت کم ہے ہمیں واپسی کے لیے بھی نکلنا ہے۔۔۔! “
تیز تیز بولتے اس نے کافی اوپر بنے پل کی طرف اشارہ کیا جہاں بدر اور ارشیہ سرنگ کے کنارے کھڑے نظر آئے۔ وه اسکی تیز چلتی زبان کو نظر انداز کرتااسکی تیكهی آنکھیں تصور میں لاتا بلند آواز میں بولا۔۔
” تمہاری آنکھیں فتنہ ہیں ۔۔۔
فساد برپا کریں گی وللہ ۔۔۔! “
وه اسکی آواز پر کان دھڑے بغیر ہاتھ اٹھا کر ہلاتی تیز تیز چلنے لگی تو وه بھی سر جھٹک کر مسکراتا آگے بڑھ گیا۔
🌻🌻🌻
سرنگ کے دہانے کھڑے اس نے بلیك منی لیدر جیکٹ کو جھٹک کر ٹھیک کیا۔ لمبے بھورے بال اونچے میسی جوڑے میں بندھے تھے جن کے اطراف سے چند لٹیں نکلی ہوا کے دوش پر اڑ رہی تھیں۔
بلیک جینز شرٹ پر لیدر جیکٹ پہنے لبوں کو سرخ لپ سٹک سے رنگے وه آفت لگ رہی تھی۔ نیلی بلی سی تیكهی آنکھیں بلیک پنسل ہیلز پر جمی تھیں۔
اس نے نظر سرنگ سے جڑے مظبوط پل پر ڈالی جو سرنگ کے مقابل ایک غار سے ملتا تھا جس کے دائیں جانب نیلے شفاف پانی کی آبشار بہہ رہی تھی۔
سامنے غار ، نیچے ، بہت نیچے بلند ہرے بھرے پہاڑ جبکہ سامنے دائیں جانب آبشار ۔۔۔! واللہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔۔
اس نے سہج کر پل پر قدم رکھا جس میں لکڑی کے پھٹے ہر آدھ فٹ کے فاصلے پر لگے تھے جن میں سے موجود فاصلہ کسی حد تک خوفزدہ کرتا تھا۔
اسکے ہائی ہیلز میں مقید پیر نے پل پر قدم دھرا تو پل دائیں بائیں ہلنے لگا۔
ایسی بلندی پر اتنے خطرناک پل پر وه آرام سے آگے بڑھنے لگی جب اچانک کسی نے پشت سے اسے دھکا دیا۔
اسکا دل تھم گیا ، پیر خلا میں پڑا وه لڑھکتی ہوئی نیچے جانے لگی جب اسنے بروقت ہاتھوں سے پل کی مظبوط لکڑی کو تھاما تھا۔۔
اسکی ٹانگ بری طرح چھل گئی جو خلا میں چلی گئی تھی۔ وه دھڑکتے دل سے آہستہ آہستہ اٹھی پل تیزی سے دائیں بائیں حرکت کرنے لگا تھا۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسکی آنکھیں پھیل گئیں۔ بدر تیكهی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکی سرمئی آنکھوں میں خطرناک تاثر تھا۔
ارشیہ کی دھڑکنیں سست پڑی تھیں نیلی آنکھوں میں بےيقینی ہی بےيقینی تھی۔
” تم نے مجھے گرانا چاہا ۔۔۔؟ “
اس کے حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکلی آواز میں نمی گھلنے لگی تھی۔
” ہاں ۔۔۔ کیونکہ نفرت کرتا ہوں میں تم سے ۔۔۔ بہت اکڑ تھی نہ تم میں ۔۔۔؟ مجھے نیچا دکھاتی رہی۔۔ آج تمہیں پتہ چلے گا خوب بدران شاہ سے الجھنے کا انجام کیا ہے ۔۔! “
درشتگی سے کہتے اس نے بغیر ایک سیکنڈ کی دیر کیے ارشیہ کو زور سے دھکا دیا جس کے حلق سے چیخ بلند ہوئی تھی۔ اس کے دیکھتے دیکھتے وه پیچھے کی جانب نیچے گرتی چلی گئی ۔۔۔
” کیا سوچ رہی ہو جان من ۔۔۔؟ “
بدر نے اسے پشت سے ہگ کیا تو وه چونک گئی۔ اس نے سر جھٹکا اف یہ کیسا عجیب خیال میرے زرخیز دماغ میں آ گھسا ۔۔۔ یہ شیطان بھی نہ ۔۔۔ خبیس کہیں کا ۔۔!!!
خیال کو پوری طرح جھٹکتے اسنے گردن گھماتے بدر کو دیکھا جو اسکی طرح بلیك جینز سویٹر میں ملبوس تھا۔ خطرناک حد تک وجیہہ تیكهے نقوش ۔۔۔! ایسی وجاہت پر اسکا مغرور سا ایٹیٹیوڈ تو بنتا تھا۔
” کچھ نہیں ۔۔۔!!! “
گردن گھمائے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا تو بدر نے جھک کر اسکے گال پر لب رکھے۔
” ڈر گئی ہو کیا ۔۔۔؟ “
اسکا ہاتھ تھامے وه سرنگ کے دہانے کھڑا ہوتا مسکراتے لہجے میں بولا تو ارشیہ نے ایک ادا سے بال جھٹکے ۔۔
” جو ڈر جائے وه ارشیہ نہیں ۔۔۔! “
ازلی مغرور انداز میں کہتی وه آگے بڑھ گئی۔ جیکٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وه ایک انداز سے چلتی آگے بڑھنے لگی۔
” اوہ ایسی بات ہے ۔۔ !! “
ابرو اچکاتا وه بھی اسکے پیچھے بڑھ گیا۔ پل عبور کرتے انہوں نے بہت دور نظر آتے حیان اور غزل سے ہائے فائے کیا جن کی آواز دور تک گونجی تھی۔
پیچھے سرنگ میں ایک سایہ نمودار ہوا جسکی آنکھوں میں واضح سرخی تھی، واہ رے قسمت ۔۔۔ جس نے عین وقت پر اسے انکا پتہ دے دیا۔۔۔!
اسکی آنکھوں سے نفرت پھوٹ رہی تھی۔ شاہان خان ایک قدم آگے بڑھا تو اسکا سرخ و سپید چہرہ واضح ہوا۔ اس نے جیب سے گن نکال کر غار کے دہانے جاتے بدر پر تان لی۔
حسد کی آگ نے اسے اندھا کر دیا تھا ، پہ در پہ ناکامیاں ، صرف اور صرف اس مغرور انسان کی بدولت ۔۔۔ اور ارشیہ کو چھیننے والا بھی تو وہی تھا ۔۔ یہ محض سوچ تھی اسکی ۔۔۔! وه اسکی تھی ہی کب۔۔۔؟
لب سختی سے بھینچتے اس نے فائر کر دیا ۔۔۔! جانے کیا ہوا ارشیہ کا پیر مڑ گیا وه جھکی تو بدر ایک دم نیچے بیٹھا تھا یوں دل کے مقام پر جا لگنے والی گولی اسکا بازو ذرا سا چھو کر گزر گئی۔
شاہان سرعت سے دور ہوا تھا عین اسی وقت اسکی نظر نیچے پہاڑوں میں چلتے حیان اور غزل پر پڑی جن کا بلکل دھیما سا عکس نظر آ رہا تھا مگر وه پھر بھی پہچان گیا تھا۔
نشانہ خطا ہونے پر وه گالی بکتا واپس بھاگا تھا۔ بدر بازو پر ہاتھ رکھتا کراہا تو ارشیہ نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔
” کیا ہوا تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟ “
وه ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی اچانک اسکی نگاہ اس کے ہاتھ پر ٹھہری جس سے اس نے توانا بازو کو زور سے جکڑ رکھا تھا۔
اسکا ہاتھوں کے کنارے سے سرخی چھلکنے لگی تھی۔ وه لب بھینچتا اٹھا اور پلٹ کر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اسکی سرمئی آنکھیں ضبط کرتے سرخ ہونے لگی تھیں۔
” دکھاؤ مجھے ۔۔ بتا کیوں نہیں رہے ۔۔۔؟ “
اس نے فکرمندی سے کہتے بدر کا ہاتھ ہٹایا تو وه سرخ تھا ۔۔۔ دھڑکتے دل سے اس نے سرعت سے سویٹر کا بازو اوپر سرکایا تھا۔ جلد پھٹی دیکھ کر ارشیہ کو سانسیں تھمتی محسوس ہوئیں ۔۔۔
“یہ کیسے ہوا ۔۔۔؟ “
جلدی سے اس نے کندھے پر ڈالے بیگ سے بینڈیج نکالی۔ کاٹن کو اسکے زخم پر رکھتی وه اسکا ہاتھ تھام کر دو قدموں کا فاصلہ عبور کرتی غار میں اتر آئی۔
” پتہ نہیں کون خبیث تھا ۔۔۔!!! “
دانت پیس کر کہتا وه نیچے بیٹھ گیا۔ ارشیہ بھی اسکے مقابل بیٹھتی اسکی پٹی کرنے لگی۔ بیگ میں ضرورت کا سارا سامان تھا اس لیے زیادہ مشکل درپیش نہ ہوئی۔
زیر لب اس اجنبی کو گالی سے نوازتی وه اسکے سامنے جھکی پٹی کی گرہ لگانے لگی ۔۔شکر تھا زیادہ زخم نہیں آیا تھا۔
سویٹر کا بازو نیچے کرتی وه پیچھے ہٹنے لگی جب بدر نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ ارشیہ نے دہل کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے سہارا لیا۔
” میں سوچ رہا تھا اس جھرنے میں بھیگتے ہیں اپنی محبت میں بھگونے سے تو رہی تم ۔۔۔! “
اسکی پلکوں پر پھونک مارتا وہ رومانوی انداز میں بولا۔ ارشیہ نے یوں دیکھا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو ۔۔۔
” پاگل ہوگئے ہو لگتا ہے چوٹ تمہارے دماغ پر بھی لگی ہے ۔۔۔! “
سردی میں اسکے آبشار میں بهیگنے کے خیال سے ہی اس نے جھرجھری لیتے تنک کر کہا۔
” چلو اب یہاں رات نہیں گزارنی ۔۔۔! “
اسے اٹھنے کا اشارہ کرتی وه بیگ کی زپ بند کرنے لگی۔ اسکے کھڑے ہونے پر بھی جب بدر نہ اٹھا تو وه آنکھیں سکیڑ گئی۔
” جاؤ تم ۔۔۔ میں کہیں نہیں جارہا ویسے بھی تمہیں کیا فرق پڑتا ہے گولی بازو پر لگے یا دل پر ۔۔۔! “
سنجیدگی سے کہتا وه غار کی ٹھنڈی دیوار سے ٹیک لگاتا آنکھیں مو ند گیا۔
وه آنکھیں ایک پل کو میچتی خود کو نارمل کرنے لگی۔
“بدر ہم ہنی مون پر آئے ہیں یہاں ۔۔۔ بچوں کی طرح لڑنے نہیں ۔۔۔!!!”
وه اسے پچکارتے ہوئے کہنے لگی مگر وه ڈھیٹ بنا بیٹھا رہا ۔ آنکھیں موندے اس نے غار میں خاموشی کو گہرا ہوتا محسوس کیا تھا۔
اس سے پہلے وه آنکھیں کھول کر دیکھتا وه آہستہ سے اسکے قریب پنجوں کے بل بیٹھتی جھک کر اسکے گال پر بوسہ دے گئی۔
” فرق پڑتا ہے مجھے تم سے ۔۔۔ اس لیے اس وقت تمہارے پاس ہوں ۔۔۔! اب یہ بچوں کی طرح نخرے مت کرو ۔۔۔ قسم سے بڑے منحوس لگ رہے ہو ۔۔۔!!! “
شروع کے الفاظ محبت سے کہتی وه آخر میں وہی تیکھے انداز میں کہتی اسکے کندھے پر ہاتھ مارتی اٹھی۔
بدر نے مسکراہٹ دباتے اسے آنکھیں دکھائیں سرمئی آنکھوں میں محض سامنے کھڑی بلا کا عکس جگمگا رہا تھا جس کے پیچھے بدران شاہ نے فراخ دلی سے اپنے دل کو تاعمر خوار ہونے کی اجازت دے دی تھی۔
” اہم ۔۔۔ اگر اس طرح منایا کرو گی تو میں روز ناراض ہوجانے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔! “
سر جھٹک کر مسکراتا وه اٹھ کھڑا ہوا اسکے تیكهے مغرور نقوش میں مسکان گهلنے لگی تھی۔ ارشیہ نے ابرو اچکا کر دیکھا جیسے کہہ رہی ہو منہ دھو رکھو ۔۔!
” زیادہ اڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ نخرے مجھ سے اپنے اٹھائے نہیں جاتے کجا کہ تمہارے ۔۔۔! “
ناخنوں پر پھونک مارتی گال کے اطراف میں گری لٹ کو انگلی پر لپیٹتی وه اسکا دل جلانے کو کہتی آہستہ آہستہ غار کے خارجی راستے کی طرف بڑھنے لگی۔
وه بھی بازو کی تکلیف نظر انداز کرتا اسکے ساتھ ہو لیا سیاہ سویٹر کی آستینیں کہنی تک کرتے اس نے ارشیہ کی سمت دیکھا جو سیٹی پر کوئی دھن بجانے لگی تھی۔
” نخرے تو تم میرے بھی اٹھاؤ گی اور میرے بچوں کے بھی ۔۔۔! کیا خیال ہے ؟ “
زو معنی انداز میں کہتا وه اسکا چہرہ سرخ کر گیا۔ وه تنک کر اسکی جانب مڑی ان کے درمیان قریب دو فٹ کا فاصلہ تھا جبکہ پشت کی جانب غار کی دیوار تھی۔
” تم مجھے تنگ مت کرو ورنہ ۔۔۔۔ “
اسکا جملہ مکمل ہونے سے قبل وه ہاتھ بڑھا کر اسے جھٹکے سے دیوار سے لگاتا دو قدم آگے بڑھتا اسکے لبوں کو سختی سے قید کر گیا۔
ایک ہاتھ اسکے سر کے اوپر دیوار پر رکھے دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے وه اسکی سانسوں میں اپنی سانسیں منتقل کر رہا تھا۔ چند پل اسے محسوس کرنے کے بعد وه پیچھے ہٹا تو وه آنکھیں موندے گہرے سانس لے رہی تھی۔
” چلو بھی ۔۔۔ کیا یہیں رکنے کا ارادہ ہے ۔۔۔؟”
کمال بےنیازی سے کہتا وه دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹس میں ڈالتا آگے بڑھ گیا۔ ارشیہ نے کچا چبا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
” منحوس بلے تمہاری حرکت کا حساب لوں گی میں ۔۔۔! “
وه اسے دور جاتا دیکھ کر چلائی تو وه بغیر مڑے کندھے اچکا گیا۔
غار سے باہر نکلتے انہیں غزل اور حیان مل گئے۔ اب انہیں. ” کینکن ریوی ایرا ” کے لیے روانہ ہونا تھا جہاں عرش بھی ایرا کے ساتھ ابراھیم وغیرہ کی لوکیشن پر پہنچ چکا تھا۔
اب انہیں وہاں اکٹھا ہو کر اگلے دن واپسی کے لیے نکلنا تھا۔ يقینًا میكسیکو کا یہ سفر زندگی بھر ان کی یاد کے خانے میں محفوظ رہنے والا تھا۔
🌻🌻🌻
شاہوں کے لان میں رونق سی لگی تھی۔ آسمان پر گہرا اندھیرا تھا موسم ذرا سرد تھا مگر پہلے کی نسبت سردی کی شدت میں کمی آئی تھی۔
لان میں باربی کیو کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ ایک طرف آگ کا الاؤ روشن تھا جس کے گرد وه سب دائرے کی صورت براجمان تھے۔
اندر لاؤنج میں جھانکو تو لوازمات سے بھری ٹرالی گھسیٹتی نگہت اندر آتے صالح کو دیکھ کر رک گئی۔ اس نے صالح کو سر تا پیر دیکھا جو سیاہ شرٹ اور خاکی پینٹ پہنے ماتھے پر بل ڈالے فون کان سے لگائے کسی سے محو گفتگو تھا۔
وه ایک پل کو ماضی کی یادوں میں کھو گئی۔ وه گاؤں ، وه علاقہ جہاں ماہ بیر شاہ اور صالح یوسف کی دوستی کے چرچے تھے ، جہاں اس نے اس کھڑوس کو ہمیشہ ماتھے پر بل ڈالے دیکھا تھا اور ……
جہاں اسکی مشی بی بی صالح یوسف کی محبت میں گرفتار ہوئی تھیں۔ کیا کیا نہ یاد آیا تھا۔ ماضی یاد کرتے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔ کتنا حسین وقت تھا وه ۔۔۔ !
صالح نے موبائل پاکٹ میں رکھتے اسے خود کی جانب کھوئے انداز میں دیکھتے پایا تو سیاہ آنکھیں سکیڑتا اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔
اس کے تیكهے انداز پر وه ایک دم خیالوں کے جہان سے باہر نکلی۔ ” کیا دماغ بھول آئی ہو کہیں ۔۔۔؟ “
صالح کے بےتاثر لہجے پر نگہت نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔
” نہیں جی میں کچھ سوچ رہی تھی ۔۔!!! “
اسے سر تا پیر دیکھتی وه دیدے نچا کر کہتی لب دبا گئی اسکے انداز دیکھتا وه آنکھیں مزید سکیڑ گیا۔
” مثلاً کیا ؟ ” ۔۔۔
نگہت نے سینے پر ہاتھ باندھے جب بولی تو لہجہ بےحد پرسکون تھا۔
” یہی کہ اس دن ۔۔ جب پہلی بار مشی بی بی آپ کے گھر آئی تھیں اور جب آپ کی اماں جی آپکو پکڑنے والی تھیں ۔۔۔ بہت کھڑوس اور بدتمیز ہوا کرتے تھے آپ خاص کر میرے معاملے میں ،
ہاں میں سوچ رہی تھی تب بڑے دھرلے سے آپ نے انکار کیا تھا مشی بی بی کو ۔ وه ایک وقت تھا اور اب دیکھیں کیسے مجنوں بن گئے ہیں ۔۔۔! کس کو معلوم تھا ماضی کا صالح یوسف ایسا ہونے والا ہے ۔۔۔! “
مسکراہٹ دبا کر کہتی وه اسکی سائیڈ سے ٹرالی گھسیٹتی لان کی طرف بڑھ گئی۔ صالح نے سخت نظر اسکی پشت پر ڈالی۔ سر جھٹکتا وه واپس لان میں چلا آیا۔
مشائم کے برابر بیٹھتا وه اسکا ہاتھ تھام گیا۔ سب سے پہلے ارشما نے نوٹ کیا شبرہ کے گال چوم کر سینے سے لگاتی وه شرارتی نظروں سے مشی کو دیکھنے لگی جو خفت زدہ نظروں سے صالح کو دیکھ رہی تھی۔
وه بڑے اطمینان سے اسکا ہاتھ بلند کرتا لبوں سے لگا گیا۔
” اہم اہم ۔۔۔!!! اوہو ” ۔۔۔
ارشما کی ہوٹنگ پر ساتھ بیٹھے ماہ بیر ، اورهان اور اینارا بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
” لائیں ابش کو مجھے پکڑا دیں ۔۔۔! “
ابرش کے گول مٹول گالوں کو دیکھتی نوشین جلدی سے آگے بڑھی تو ماہ بیر نے ذرا سا مسکراتے اسے تھما دیا۔ وه جلدی سے اسکے گال چومتی ذرا فاصلے پر ہوگئی۔
” اس میں بڑی کیا بات ہے ٹیچر جی ۔۔ ایک مظاہرہ تو میں بھی کردیتا ہوں ۔۔۔! “
سیاہ شلوار قمیض میں بھوری شال چوڑے کاندھوں پر ڈالے ماہ بیر ، صالح کو آنکھ مار کر اچانک جھکتا ارشما کا گال چوم گئا۔
وه اسکی حرکت پر ہقا بقا رہ گئی امید نہ تھی وه سب کے سامنے ایسا مظاہرہ کر دے گا۔ اورهان اور صالح نے بیک وقت قہقہہ لگایا۔
” بہت بےشرم ہوگئے ہیں آپ ۔۔۔! “
وه اسے آنکھیں دکھاتی بولی جس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔
” جان آپ انہی کو دیکھ کر مسکرا رہی ہیں، کوئی پیاری سے مسکراہٹ اپنے شوہر کے لیے بچا رکھیں۔۔۔!”
اورهان نے نیلی آنکھیں اینارا کی طرف گھماتے سرگوشی میں کہا تو وه مسکراہٹ دباتی نظر بچا کر اسے دیکھتی دهیمی آواز میں بولی۔
” شوہر صاحب کے دل کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔ میری مسکراہٹ سے کہیں بےایمان نہ ہونے لگے ۔۔۔۔! “
وه دهیمی آواز میں گفتگو کررہے تھے جب مشی ایک دم بولی۔
” یہ فاؤل ہے جو بھی بات کررہے ہیں اونچا بولیں ہم بھی تو سنیں محبت کے کونسے اظہار ہورہے ہیں ۔۔۔! “
اورهان مسکرا دیا اسکی بات پر ۔۔۔
” بھابھی ہم بھی اظہار کردیں گے مگر آپ اسے تو دیکھیں جو ندیدوں کی طرح آپ کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔! “
اورهان کہتا قہقہہ لگا گیا ، ماہ بیر نے بھی اسکا بھرپور ساتھ دیا۔ اینارا اور مشی اپنی اپنی جگہ شرماتیں مسکراہٹ دبا گئیں۔
ارشما نے بالوں کو جوڑے میں باندھتے پرسکون سانس فضا کے حوالے کرتے کرسی سے ٹیک لگائی۔ دہکتی آگ کی حدت راحت بخش رہی تھی تو لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز سماعتوں کو بھلی لگ رہی تھی۔
” ہمارے بچے بھی بےحد خوش ہوں گے ۔۔۔!!! کتنا سکون ہے اتنی مشکلوں کے بعد ۔۔۔! بیر میں چاہتی ہوں آپ تینوں مرد حضرات ہم خواتین کے لیے شاعری کہیں ۔۔۔! ماحول ایسا بن چکا ہے ۔۔۔ کیوں اینارا ۔۔۔؟ مشی بولو یار ۔۔۔! “
ارشما نے آگے ہوتے دونوں کو شرارتی مسکراہٹ سے دیکھا۔ آج وه بات بے بات اٹھلا رہی تھی جسے دیکھتے ماہ بیر ہر بار کی طرح مبہوت ہونے لگا تھا۔
وه تینوں محبت بھری نظروں سے اپنی حیات کی ساتھی ، محبتوں کی حقدار اپنی بیویوں کو دیکھ رہے تھے جن کے ساتھ نے زندگی کو دنیا میں ہی جنت بنا دیا تھا…
جن کی محبّت انہیں ہر روز بھرپور انداز سے جینے پر مجبور کرتی تھی۔۔ صالح پہل کرتا اٹھا گھوم کر وه مشائم کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھتا اسکا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھ گیا۔
شاعری نہیں جانتا ۔۔۔ مگر
آپ جو کہیں تو کتاب لکھ دیتا ہوں ۔۔۔
چاند تو یونہی مشہور ہے زمانے میں ۔۔۔
یوں کرتا ہوں آپ کو ماہتاب کہہ دیتا ہوں ۔۔۔
کہتے ہیں محبت نظر نہیں آتی ۔۔۔
میرے سامنے ہے مجسم ۔۔۔
سرعام کہہ دیتا ہوں ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتا وه مدهم لہجے میں کہتا گیا۔ لب ساکت ہوئے تو وه بےحد حیران ہوا اسے شاعری نہیں آتی تھی مگر وه سکونِ دل نگاہوں کے سامنے آئی تو الفاظ جیسے پهسلنے لگے تھے۔
وه خاموش ہوا تو سب نے خوب ہوٹنگ کی ۔۔۔ مشی نرمی سے مسکراتی سر جھکا گئی۔ اسکی محبت ، حیات کا سب سے خوبصورت تحفہ تھا۔
ماہ بیر نے ارشما کی سکڑی آنکھیں خود پر محسوس کرتے ہاتھ بلند کئے ۔
” بھئی ہمیں ابھی معاف رکھیں یقین مانیں اس بندے نے زن مریدی کے ریکارڈ توڑے ہیں ۔۔۔! اپنا معاملہ ہم روم میں جا کر سلجھا لیں گے نہ ۔۔۔! “
وه گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بچارگی بھرے انداز میں بولا تو ارشما ناراض نظروں سے اسے دیکھتی اٹھ کر چلی گئی۔ ماہ بیر نے ایک پل کو آنکھیں میچیں ۔۔
” اف ۔۔ سنیں تو ۔۔ یار ۔۔۔! “
وه بھی اسے پکارتا فورا اسکے پیچھے گیا تھا۔ اسکے جاتے ہی ان سب میں معنی خیر نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔
” بس اب یہ باہر نہیں آنے والے ۔۔۔! “
صالح نے پورے وثوق سے کہتے مسکراہٹ دبائی۔ اورهان نے ہنستے ہوئے سر کو خم دیا۔
” میں بھی عملی محبت پر یقین رکھتا ہوں یار ۔۔۔ ! “
بےباک انداز میں کہتا وه اٹھا اور پلک جھپكنے میں اینارا کو بازوؤں میں بھر کر لان سے نکلتا چلا گیا۔
وه بیچاری سمجھ ہی نہ پائی اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔ اف آج تو سب کھڑوس ان کی جان نکالنے کے در پہ تھے۔
مشائم آنکھیں پوری کھولے اس سمت دیکھنے لگی جہاں سے وه نظروں سے اوجھل ہوئے تھے۔
ان سے کچھ فاصلے پر نگہت، نوشین اور بشیر ابرش اور شبرہ کے ساتھ مستی کرنے میں لگے تھے۔ ان کی خوشی چہرے سے ہی واضح تھی۔
” وے بشیرے میں ایک بات سوچ رہی تھی یہ تینوں صاحب کنے سوہنے ہیں ۔۔ میرا مطبل ان کے بچے بھی بال بچوں والے ہونے کو آئے ہیں مگر دیکھو تو کیسے جوان لگتے ہیں ابھی تک ۔۔! “
نوشین ٹھوڑی پر ہاتھ رکھتی بولی تو نگہت شبرہ کی شرٹ ٹھیک کرتی مسکرائی۔ بشیر نے بڑے درویشانہ انداز میں کہنا شروع کیا ۔
” جھلی جئی ۔۔ یہ محبت ہوتی ہے جو دل کو جوان رکھتی ہے جب دل جوان ہو تو انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ یہ جو تینوں صاحب ہیں نہ بہت محبت کرتے ہیں اپنی بیویوں سے …….
جتنی عزت یہ ان کی کرتے نہ میں نے کبھی کسی مرد کو اپنی عورت کو ایسے پلکوں پر بٹھاتے نہیں دیکھا۔۔۔! “
اسکی بات ختم ہوئی تو وه زور زور سے سر ہلانے لگی۔
” باقی گل تے ٹھیک اے ۔۔۔ پلکوں پر بیٹھنے سے ” ڈِگتی ” (گرتی) نہیں وہ ۔۔۔؟ “
وه بےوقوفانہ انداز میں بولی تو بشیر نے تپ کر اسے دیکھا۔
” ہاں ” ڈِگ ” جاندی اگر تیرے جئی گینڈی ہووے کوئی ۔۔! دماغ خراب کردیتی ہے جی یہ ۔۔۔ آپ ہی اس عقل دی انّی کو کچھ عقل سکھا دیں ۔۔ “
اسکی ستھری کرتا وه تپ کر نگہت سے بولا تو وه ہنسنے لگی۔
” جا جا ۔۔۔ تو ہوگا گینڈا ۔۔ شودا جیا ۔۔۔ بڑا آیا عقل والا ۔۔۔ !!! “
نوشین تن فن کرتی اٹھی اور پیر پٹخ کر جانے لگی جب دوپٹے میں اسکا پیر اٹکا اور وه دھڑام سے نیچے گری۔
” ہائے اماں مر گئی میں ۔۔۔ “
وه زمین پر بیٹھتی کمر پر ہاتھ رکھ کر كراه اٹھی۔ بشیر نے بتیسی کی بھرپور نمائش کی۔
” نہیں ابھی تو زندہ ہے ۔۔۔! “
اس سے پہلے وه جوتا اتار کر اسکا نشانہ لیتی وه کھلکھلاتی ابرش کو اٹھا کر مشی کی طرف بھاگا۔ نگہت نے مسکراہٹ دباتے ان دونوں کو دیکھا ایک خیال سرعت سے اسکے ذہن میں ابھرتا اسے مسرور کر گیا۔
” صبح مشی بی بی سے بات کروں گی ۔۔! “
دل میں سوچتی وه روہانسی ہوئی نوشین کو اٹھا کر دلاسہ دینے لگی۔ بشیر ابرش کو تھما کر گیا تو مشی نے نرمی سے اسکے گال چومے۔
” میری جان میرا بچہ ۔۔۔! “
وه اسکی نرم چھوٹی انگلیوں کو لبوں سے چھوتی محبت سے لبریز لہجے میں گویا ہوئی تو صالح نے قریب ہوتے ابرش کو اسکے ہاتھ سے لے لیا۔
اپنے ہینڈسم گرینڈ پا کے ہاتھوں میں آتی وه کھلکھلانے لگی تھی جسے دیکھتے صالح کے لبوں پر دھیمی مسکان ٹھہری۔
” آپ کی جان اور آپ کا بچہ تو میں ہوں نہ ۔۔۔! “
بظاہر ابرش کو دیکھتا وه اس سے مخاطب تھا۔ مشی نے مسکراہٹ دبائی اففف کیا کرے وه اسکا ۔۔۔ چھوٹی بچی سے جیلس ہورہا تھا ۔ وه ایسا ہی تھا اس کے معاملے میں ۔۔
” بلکل آپ ہی ہیں ۔۔! “
وه آگے ہوتی اسکے بال پیشانی سے سنوارتی نرمی سے اسکی ٹھوڑی پر لب رکھ گئی۔ اپنا لمس چھوڑتی وه ذرا پیچھے ہٹی تو صالح نے فورا جھکتے اسکے لبوں پر زور سے بوسہ دیا وه سٹپٹاتی دور ہوئی۔
ابرش پٹر پٹر دونوں کو دیکھ رہی تھی جس پر مشی کو خوامخواہ شرم آنے لگی۔
” حد ہے ۔۔۔ وه دیکھ رہی ہے یوسف ۔۔ بھلے اسے سمجھ نہیں ہے پھر بھی ۔۔۔ “
وه نظریں جھکاتی منہ بناتی بولی تو وه مسکراہٹ دبا گیا۔
” ابرش کو سب سمجھ آتی ہے ۔۔ ہے نا بابا کی جان ۔۔۔؟ “
وه مشی کو چھیڑنے کو بولا تو ابرش اپنی زبان میں بولنے لگی جس پر مشی کی آنکھیں پھیلیں۔
” توبہ ہے ۔۔۔ میں جا رہی ہوں آپ بیٹھیں یہاں ۔۔۔! “
وه منہ بناتی جانے لگی جب صالح نے ہاتھ بڑھا کر اسے واپس بٹھا لیا۔
“بیٹھی رہیں نہ میرے پاس ۔۔۔ اچھا لگ رہا ہے !!! “
وه سکون سے ان دونوں کو دیکھتی دل میں سب کی دائمی خوشیوں کے لیے دعا گو ہوئی۔
محبتوں کے باب کبھی ختم نہیں ہونے تھے ہر کہانی محبت کی ایک نئی داستان رقم کرنے والی تھی۔
اختتام نہیں تھا یہ ۔۔۔ آغاز تھا محبت پر ختم ہو کر عشق سے شروع ہونے والی داستان کا ۔۔۔!
🌻🌻🌻
ختم شد ۔۔۔۔!!!