No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ اپنے دفتر میں کھڑا لكڑی کی بڑی سی میز پر کھلی پڑی فائلز پر جھکا ہوا تھا۔۔
سیاہ گھنے بالوں کی ایک آوارہ لٹ لاپرواہ انداز میں کشادہ پیشانی پر گری ہوئی تھی۔۔
اس کی کالی گہری آنکھیں سامنے بکھرے کاغذات کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔۔
اس نے کنپٹی مسلتے بائیں ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کا آخری کش لیا۔۔ كسیلا دهواں فضا میں چھوڑتے اس نے سگریٹ کے ایک انچ کے ٹکڑے کو ایش ٹرے میں پھینک دیا۔۔
سر کو دائیں بائیں جھٹکتے اس نے اپنی پولیس کی وردی پر نگاہ ڈالی جس پر “سپرینٹینڈنٹ آف پولیس” کا بیج پوری شان سے چمک رہا تھا۔۔
ایس پی کے عہدے پر فائز وہ اپنے علاقے کا سب سے ایماندار پولیس افسر تھا۔۔
اس کی شخصیت میں ایک خاص روعب اور دبدبہ تھا۔۔ اطراف سے مڑتی گھنی مونچھوں نے اوپرے لب کو آدھا چھپا رکھا تھا۔۔
بھری بھری سیاہ داڑھی نے اس کے روعب میں اضافہ کیا تھا۔ وہ دیکھنے سے ہی ایک سخت گیر اصولوں کا پکا افسر لگتا تھا۔۔
اپنے پورے کریئر میں اس نے کبھی کسی سے رشوت نہیں لی تھی۔۔
اسکی ایمانداری افسران اعلیٰ کو کھلنے لگی تھی۔۔ اب بھی وہ ایک اہم کیس پر کام کررہا تھا۔۔
وزیرِ اعلیٰ کے بیٹے پر ری***پ کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔۔ افسران اعلیٰ کے دباؤ کے باوجود وہ اس کیس سے پیچھے نہیں ہٹا تھا۔۔
آنکھیں سكیڑ کر اس نے کاغذات کا پھر سے جائزہ لینا شروع کیا۔۔
دفتر کے دروازے پر کانسٹیبل ظاہر ہوا۔۔ اس نے ہاتھ ماتھے تک لے جاتے حیان کو سلیوٹ کیا۔۔
سر !!! ۔۔۔۔
حیان نے جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“سر ۔۔۔ آئی جی صاحب اور ڈی سی پی صاحب نے آپ کو یاد کیا ہے !!! ۔۔۔۔”
وہ مؤدب سا بولا۔۔
حیان نے دائیں ہاتھ سے داڑھی كهجا کر بیزار نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“کہاں بٹھایا ہے؟؟؟۔۔۔”
بھاری لب و لہجہ ۔۔۔
“ملاقاتی کمرے میں !!!۔۔۔”
کانسٹیبل پھر سے بولا۔۔
حیان نے زیر لب انہیں گالی سے نوازا۔۔
“ان کو جیل میں بٹھاتے ۔۔ ان کے باپ کی تو !!!” ۔۔۔۔
بڑبڑا کر اس نے میز پر پڑا ڈنڈا اٹھایا۔۔ پولیس والوں کا مخصوص ڈنڈا ۔۔۔ !
خاکی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے وہ ڈنڈہ گھماتا ملاقاتی کمرے میں داخل ہوا۔۔
کانسٹیبل اس کے پیچھے پیچھے تھا۔۔ اسے ڈنڈہ گھماتے دیکھ کر ڈی آئی جی اور ڈی سی پی نے حلق تر کرتے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
ان کے پیچھے ان کے دو چمچے کمر پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔۔
ماہ بیر نے سیاہ آنکھوں سے انھیں گھور کر دیکھا۔۔
علی ؟؟ یہ کیا چور بازاری کھولی ہے ؟؟ ۔۔۔”
میز پر زور سے ڈنڈہ رکھتے وہ انہیں کالی سرد نظروں کے حصار میں لیتا كانسٹیبل سے مخاطب ہوا۔۔
وہاں موجود سب جانتے تھے اسے جواب کی ضرورت نہیں تھی۔۔
“علی ؟؟؟ ۔۔۔”
اس نے مڑی مونچھوں کو بل دیتے كانسٹیبل کو بلايا۔۔
“يس سر !!!”
وہ بلند آواز میں بولا۔۔ “
جب بازار میں چور زیادہ ہو جائیں تو میں کیا کرتا ہوں ؟؟؟۔۔۔”
ٹھنڈہ ٹھار لہجہ !!!
علی نے مسکراہٹ دبائی۔۔
“سر آپ انھیں اپنی لاٹھی سے مار مار کر ان کا بھرتا بنا دیتے ہیں !!! ” ۔۔۔۔
اس کی بات پر سامنے بیٹھے نفوس کے ماتھے پر پسینہ پھوٹ پڑا۔۔ آئی جی نے ہمت کی ورنہ اس ہٹ دهرم ایس پی کے منہ کون لگنا چاہے۔۔
“حیان تمہیں پہلے بھی وارن کیا تھا ہم نے اس کیس سے ہاتھ ہٹا لو ۔۔ جانتے بھی ہو کون ہے وہ۔۔ اس کا کچھ نہیں بگڑے گا لیکن تمہاری نوکری ضرور خطرے میں پڑ جائے گی۔۔ !!!”
وہ تند لہجے میں بولے۔۔ حیان نے استہزائیہ مسکراہٹ سے آئی جی کو دیکھا۔۔
“میری نوکری کے تحفظ کے لیے آپ دونوں ہیں نہ سر مجھے پورا یقین ہے آپ مجھ جیسے ایماندار افسر کو کبھی سسپینڈ نہیں ہونے دیں گے۔۔ نو نیور !!!”
وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا عام لہجے میں بولا لیکن کچھ تو خاص تھا ۔۔۔۔
ہاں اس کی آنکھوں کی چمک ۔۔ ٹھنڈہ ٹھار تاثر۔۔ کسی کے راز کو جان لینے کا اعلان !!!
اس کے ڈھکے چھپے انداز میں کہی گئی بات پر مقابل بیٹھے نفوس نے تھوک نگلا۔۔
“ہاں بلکل ۔۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن تم جانتے ہو نہ اس لڑکے کو۔۔ چیف منسٹر کا بیٹا ہے وہ !!!
انہوں نے اسے صورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا۔۔ حیان دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر ان کی طرف جھکا۔۔
اس کی سرد آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔۔ گھنی مونچھوں تلے لبوں نے حرکت کی۔۔
“اور جانتے ہیں میں کون ہوں ؟؟ حیان شاہ ۔۔۔۔ ! چیف منسٹر کا باپ ہوں !!! ۔۔۔۔”
طنزیہ مسکراہٹ سے انہیں دیکھتا وہ اٹھا۔۔
“جانوروں کو تو تہذیب سکھا دی ہم نے ۔۔۔۔ اب انسانوں کی باری ہے !!! ۔۔۔۔ “
ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بول کر وہ جھک کر میز سے چھڑی پکڑتا باہر نکل گیا۔۔ آئی جی نے بےبسی سے ڈی سی پی کو دیکھا تھا۔۔۔
🍂🍂🍂
“سَن شائین” ماڈلنگ سٹوڈیو کے باہر انتہا کا رش لگا تھا۔۔ لوگوں میں دهكم پیل شروع ہو چکی تھی۔۔
گارڈز سختی سے انہیں ڈپٹتے پیچھے کی اوڑھ دهكیل رہے تھے۔۔
وہ سب ہر دل عزیز “عرشمان شاہ” کے فینز تھے جو اس کی محض ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب تھے۔۔
ماڈلنگ کی دنیا کا جانا مانا نام “عرشمان شاہ” ۔۔۔۔ !!!
ا
س کی کلر لكس کے علاوہ اس کی شہرت کو مزید اجاگر اس کے “نو لفٹ” اور “گو ٹو ہیل” ایٹیٹیوڈ نے کیا تھا۔۔
وہ گرلز الرجک تھا۔۔ ماڈلنگ کی دنیا میں وہ پہلا سرپھرا شخص تھا جس نے آج تک کسی فی میل کے ساتھ کام نہیں کیا تھا۔۔۔
اس وقت بھی وہ شوٹ کروا کر سٹوڈیو واپس لوٹا تھا۔۔ باہر فینز کا جمِ غفیر دیکھ کر اس نے فلحال سٹوڈیو کے اندر رہنا مناسب سمجھا۔۔
بہترین انداز میں ڈیزائن کیے سٹوڈیو کے ایک کمرے میں وہ راکنگ چیئر پر بیٹھا سامنے کچھ فاصلے پر رکھے سٹول پر دونوں پیر قینچی کی شکل میں رکھے سر کی پشت پر دونوں ہاتھ باندھے ہوئے سیٹی پر کوئی دھن بجا رہا تھا۔۔
اس کے نقوش اور سٹائل ۔۔۔۔ اسے بےحد ۔۔۔بےحد مغرور بناتے تھے۔۔۔
گہری بھوری سرد آنکھیں، کھڑی مغرور ناک جو اکثر ناگواری سے سکڑ جاتی تھی۔۔
بھرے بھرے سرخ لب اور بھری بھری داڑھی مونچھیں۔۔۔
وہ ایک کان میں سیاہ چاند کی شکل کا ٹاپس جبکہ گلے میں ایک پینڈنٹ ہمیشہ پہنے رکھتا جس کے بلیک سٹون میں عقاب کی سیاہی مائل شہد رنگ آنکھیں جھلکتی تھیں۔۔
تیز چمکیلی آنکھیں !!!
ڈارک براؤن گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تو اس کی بائیں ابرو میں لگا ترچھا کٹ نمایاں ہوا۔۔
عین اسی وقت کوئی گلاس ڈور دهكیل کر اندر آیا۔۔۔ عرشمان نے سر گھما کر کوفت سے آنے والے کو دیکھا۔۔
“حیا خان” کو دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔۔
اس کے چہرے پر ناگوار تاثرات نمایاں ہوئے جسے اس نے چھپانے کی کوشش بھی نہ کی۔۔
“ہیلو عرش ! مائی بے بی۔۔۔ ! “
چست سکن ٹائیٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس کندھوں تک آتے گولڈن بالوں کو جھٹک کر وہ ایک ادا سے چلتی اس کے سامنے آ رکی۔۔
اس کی بولڈ ڈریسنگ دیکھ کر عرشمان نے جبڑے بھینچ کر چہرہ ہی پھیر لیا۔۔
حیا اس کے اسی انداز پر تو فدا تھی ۔۔۔
ہر کسی کو جوتی کی نوک پر رکھنے والے اس رف ٹف سے بندے پر وہ دل و جان سے فدا ہوگئی تھی۔۔۔
عرشمان اٹھ کر وہاں سے جانے لگا کہ حیا نہ اس کے گلے میں بازو ڈال کر اسے روک دیا۔۔
عرشمان کا پارہ ہائی ہوا۔۔ اس نے پوری قوت سے اسے دور جھٹکا جس سے وہ سٹول سے جا لگی۔۔
“آہ!!! ۔۔۔”
وہ کمر تھامے خونخوار نظروں سے اسے دیکھتی اس پر جھپٹی۔۔
“تم آخر خود کو سمجھتے کیا ہو ؟ ہاں ؟ کس ۔۔۔ کس بات کا غرور ہے تم میں ۔۔۔ ؟؟”
عرشمان نے اپنے گریبان تک آئے اس کے ہاتھ کو جھٹک کر موڑ دیا جس پر حیا کے منہ سے دبی دبی چیخ نکلی۔۔۔
“نفرت ہے مجھے تم جیسی لڑکیوں سے جو اپنی زینت نمایاں کرتی ہیں !!! ۔۔۔۔
نفرت ہے مجھے تم جیسی گھٹیا عورتوں سے جو اپنا آپ پلیٹ میں سجا کر ہر مرد کو پیش کرتی ہیں !!! ۔۔۔۔ “
وہ آگ اگلتے لہجے میں اس کی ذات کی دهجیاں بكهیر رہا تھا۔۔
“اور اکڑ ۔۔۔ جہاں تک اس غرور اور اکڑ کی بات ہے تو ہاں ہے مجھ میں غرور کیوں کہ عرشمان شاہ نے خود کو سنبهال کر رکھا ہے اس ایک عورت کے لیے جو اس کی عزت بنے گی ۔۔۔
تم جیسی عورتیں یہ باتیں کیا سمجھیں گیں جو خود ۔۔۔۔ “
سر جھٹک کر ناگواری سے اسے دور دهكیلتا وہ گلاس ڈور کی جانب بڑھا جب حیا دکھتے بازو کو پكڑے چلائی ۔۔۔
“بہت پچھتاؤ گے تم ۔۔ میں میڈیا پر بدنام کر دوں گی تمہیں !!! ۔۔۔”
عرشمان نے رک کر چہرہ موڑتے اسے تیکھی مسکراہٹ سے دیکھا۔۔
“میں پریس کانفرنس ارینج کروا دوں ؟؟ ۔۔۔ “
اس کے ازلی لاپرواہ انداز پر حیا جل کر کوئلہ ہوگئی۔۔
“میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں !!!۔۔۔”
وہ نفرت سے بولی ۔۔۔
“ہاہ ! ۔۔۔ میں تو ڈر گیا ۔۔۔ !”
استہزائیہ تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھتے وہ سٹینڈ سے ڈیزائینر جیکٹ اچکتا کندھے پر ڈال کر سیٹی پر دھن بجاتا بیرونی دروازے کی جانب قدم قدم چلنے لگا۔۔
اس کے پینڈنٹ میں لگا بلیک سٹون ادھر ادھر جھول رہا تھا۔۔
جونہی وہ باہر آیا اس کے فینز تو جیسے پاگل ہوگئے۔۔ گارڈز کے نرغے میں وہ آگے بڑھنے لگا۔۔
“سر آئی ایم یور بگ فین ۔۔۔ !
سر آئی لو یو سو مچ۔۔۔ سر آٹو گراف پلیز ۔۔
سر ایک سیلفی !!! ۔۔۔۔
طرح طرح کی آوازیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔۔ ایک دو جگہ رک کر اس نے آٹوگراف دیا اور پھر اپنی مرسیڈیز کی جانب آیا۔۔۔
اس کی نگاہ ایک لڑکی پر پڑی جو مایوس سی واپس لوٹ رہی تھی۔۔
وہ کچھ سوچ کر اسکی جانب آیا۔۔
اپنے سامنے عرشمان شاہ کو دیکھ کر حجاب میں لپٹا اس لڑکی کا چہرہ چمک اٹھا۔۔
“آٹو گراف پلیز !!!” ۔۔۔۔
وہ بچوں کے سے انداز میں بولی ۔۔
اس کی اس قدر خوشی پر عرش ذرا سا مسکرایا۔۔
اس کے ہاتھ سے پین تھامتا وہ ایک کاغذ پر آٹو گراف دے کر پلٹ گیا۔۔
لڑکی نے دیکھا ساتھ کچھ لکھا تھا۔۔
وہ غور سے پڑھنے لگی۔۔
” حجاب اچھا لگتا ہے آپ پر اسے کبھی مت چھوڑنا !!! ۔۔۔ “
اس کا چہرہ ایک پل کو سرخ ہوا۔۔ لب دبا کر وہ بھاگنے کے انداز میں وہاں سے چلی گئی۔۔
عرشمان نے گاڑی سٹارٹ کرتے ونڈو سے باہر دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ لڑکی کھڑی تھی۔۔
اسے اچھی لگتی تھیں وہ لڑکیاں جو دوپٹہ اوڑھتی ہیں جو اپنی زینت کی حفاظت کرنا جانتی ہیں !!! ۔۔۔۔
وہ ابھی کچھ دور ہی پہنچا تھا جب جینز۔۔۔۔ شارٹ گھٹنوں تک آتے کرتے میں گلے میں دوپٹہ ڈالے روڈ پر کھڑی ایک لڑکی پر اس کی نگاہ ٹھہری۔۔
اس کی بھنویں تن گئیں۔۔
“یہ یہاں کیا کررہی ہے؟؟”
اس کے لباس اور لاپرواہ انداز کو ناگواری سے دیکھتا وہ ایکسیلیٹر پر دباؤ بڑھاتا آگے نکل گیا۔۔
🍂🍂🍂
ڈارک گرین شارٹ فراک کے ساتھ جینز اور جوگرز پہنے وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئی۔۔۔
گھٹنوں تک آتے بھورے سلکی بال کمر پر کھلے آبشار کا منظر پیش کر رہے تھے جنہوں نے اس کی پشت کو مکمل ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔
رسی کی طرح گلے کے گرد دوپٹہ لپیٹ کر پلو سامنے کی طرف ڈالے ہاتھ میں بکس پکڑے وہ کنفوز سی دائیں بائیں دیکھتی چلتی سٹوڈنٹس کے ہجوم کی طرف آ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
کئی نظریں اس پر اٹھی تھیں۔۔ وہ تھی ہی اتنی خوبصورت بلکل گڑیا جیسی ۔۔۔
نیلی بڑی بڑی آنکھوں پر گھنی پلکوں کی جھالر ۔۔ دیکھنے والوں کو جن کے نقلی ہونے کا گمان ہوتا تھا کبھی۔۔
وہ بے حد دودھیا رنگت کی مالک تھی۔۔ ہلکے گلابی پنکھری سے لب جو زیادہ تر آپس میں پیوست رہتے۔۔
پھولے پھولے روئی سے گالوں پر سرخیاں چھلکتی تھیں۔۔۔”
ہائے !!! ” ۔۔۔۔۔
اپنے قریب نسوانی آواز سن کر اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔۔ وہ اس کی عمر کی ایک لڑکی تھی ۔۔۔
كیپری شرٹ میں ملبوس گلے میں دوپٹہ ڈالے وہ دوستانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
” آئی ایم نور ۔۔۔ نور مقدم !!! ” ۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ بڑھانے پر ایرا ایک لمحے کو ہچکچائی پھر اس نے ہاتھ تھام لیا۔۔
“ہیلو ! آئی ایم ایرا ۔۔۔ ایرا اورهان صمید !!! ۔۔۔”
نور نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
“نام بھی پریٹی ہے تمہاری طرح ۔۔۔ تم اکیلی لگ رہی ہو یہاں ۔۔۔ میرے ساتھ بھی کوئی نہیں ۔۔ ہم فرنڈز بن جاتے ہیں ۔۔ ٹھیک ہے ؟؟”
نور اس کا جواب سنے بغیر نان اسٹاپ بولتی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔
کچھ وقت میں ہی دونوں کی دوستی ہوچکی تھی۔۔ نور باتونی تھی اور ایرا کم گو !!!
اسے سننے والا مل گیا تھا اور ایرا کو بولنے والا۔۔
وہ یہاں آ کر جتنی نروس تھی اب نور کے ساتھ اتنی ہی پرسکون ہوچکی تھی۔۔۔ کیفے سے کچھ ریفریشمنٹ لینے کے بعد وہ پوری یونی گھوم رہی تھیں۔۔
“یار اس سائیڈ پر چلتے ہیں !!!”
نور نے ایرا کا ہاتھ تھاما۔۔ وہ دونوں تین سیڑھیاں چڑھ کر ایک کوریڈور میں داخل ہوئیں جہاں دائیں بائیں بہت سے رومز تھے۔۔
جن میں کچھ کلاسز تھیں جبکہ کچھ آفسز تھے۔۔۔ کوریڈور پار کر کے وہ یونیورسٹی کی پچھلی جانب والی گراؤنڈ میں نکل آئیں ۔۔۔
ایرا دلچسپی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔ یہاں سٹوڈنٹس کا رش قدرے کم تھا ۔۔ بس اکا دکا سٹوڈنٹ ہی نظر آ رہے تھے۔۔
وہ باتیں کرتی چہل قدمی کے انداز میں چل رہی تھیں کہ سامنے سے آتے ایک لڑکے سے بری طرح ٹکراتے وہ زمین بوس ہوئی۔۔۔
نور نے گهبرا کر زمین پر گری ایرا کو دیکھا جو کندھا سہلاتی ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
نور کی تیوری چڑھی۔۔
“اندھے ہو کیا نظر نہیں آتا ؟؟ آنکھوں کی جگہ بٹن فكس ہوئے ہیں کیا؟؟ “۔۔۔۔۔
اس کے زور سے بولنے پر شاہ رخ نے ابرو اچکا کر اس لڑکی کو دیکھا۔۔
اگر اسے پتہ چل جائے کہ وہ کون ہے تو کبھی اس کے سامنے منہ کھولنے کی جرات نہ کرے۔۔۔
“شاہ رخ یہاں کیا۔۔۔۔؟؟”
دانیال وہاں آتا اس سے پوچھتا پوچھتا رکا۔۔۔
اس نے زمین پر گری ایرا کو دیکھا جو نور کے ہاتھ بڑھانے پر اٹھ رہی تھی۔۔
شاہ رخ کی نظریں اس پر مرکوز پا کر وہ بھی جیب میں ہاتھ ڈال کر وہیں کھڑا ہوگیا۔۔
نور نے سلگ کر ان دونوں نوابوں کو دیکھا۔۔ ان دونوں نے ایک جیسی ڈریسنگ کر رکھی تھی۔۔
سفید ٹی شرٹ کے ساتھ بلیو جینز جو گھٹنوں سے پھٹی تھی۔۔ شرٹ کے اوپر بلیو جینز کی ہی جیکٹ پہنے وہ اچھے خاصے ہینڈسم لڑکے تھے۔۔
شاہ رخ نے ہاتھ میں بینڈز پہن رکھے تھے۔۔۔
“کیا اب گھور کیوں رہے ہو ہمیں ؟؟ کیا ہم سے پہلے حسین لڑکیاں نہیں دیکھیں ؟؟ ” ۔۔۔۔
نور آنکھیں گھما کر بولی تو دانیال نے محظوظ ہو کر اسے دیکھا۔۔
البتہ شاہ رخ مغرور نظروں سے کنفیوز کھڑی ایرا کو دیکھ رہا تھا۔۔
“نہیں !!! ” ۔۔۔۔
اس نے ایرا سے نظریں ہٹاتے نور کی بات کا جواب دیا۔۔
“چلو اچھا ہے اب دیکھ لی نہ ۔۔ !!! “۔۔۔۔۔
نور بال جھٹک کر دیدے گھماتی گویا ہوئی۔۔
“نور چلو یہاں سے !!!” ۔۔۔۔
ایرا اس کی کہنی تھامتی وہاں سے جانے لگی کہ ایک ماڈرن سی لڑکی ان کے پاس آ کر رک گئی۔۔
“شیری تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں میں بے بی ۔۔۔۔!”
وہ شہریار کا بازو پکڑتی جانچتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔۔
نور نے کوفت سے آنکھیں گھمائیں۔۔
“اس کی کمی تھی بس !!! ” ۔۔۔۔ وہ بڑبڑائی۔۔
“ان مڈل کلاس لڑکیوں سے دور ہی رہو تم دونوں ۔۔ جہاں امیر لڑکے دیکھے ان سے چمٹ جاتی ہیں !!۔۔۔”
نور کی بڑبڑاہٹ پر وہ تپ کر کہتی شاہ رخ اور دانیال کو لے کر وہاں سے جانے لگی ۔۔
نور کے سر پر لگی تلووں پر بجی۔۔
“او بہن یہ تو سب کو ہی نظر آ رہا ہے کہ کون چمٹ رہا ہے اور کون نہیں ۔۔ پہلے اپنے آپ کو دیکھو ۔۔ ہونہہ !! آ جاتی ہیں دوسروں کو باتیں کرنے والی لچھو باندریاں ۔۔۔۔ ! “
نور کے تپ کے کہنے پر دانیال نے مسکراہٹ چھپانے کو منہ پھیر لیا جبکہ شاہ رخ نے سائیڈ سمائل دی۔۔
اس لڑکی کا چہرہ اہانت سے سر خ پڑ گیا۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی دانيال نے اسے روک دیا ۔۔
“چلو رضیہ چھوڑو انھیں !!!”
نور کا قہقہہ ابل پڑا۔۔
ہیں رضیہ ؟؟ اس شکل پر یہ نام ؟؟ کہیں یہ وہی رضیہ تو نہیں جو غنڈوں میں پھنس گئی تھی۔۔۔ !!!”
اس پر ہنستی وہ ایرا کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلی گئی۔۔
“دانی کتنی دفعہ کہا ہے مجھے اس نام سے مت بلایا کرو ۔۔ جسٹ کال می “زی” آئی سمجھ؟؟ “۔۔۔۔۔
تن کر کہتی وہ پیر پٹخ کر چلی گئی۔۔
دانيال نے کندھے اچکائے اور شاہ رخ کے ساتھ کیفے کی طرف بڑھ گیا۔۔
