No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ہاتھ میں فائل پکڑے وہ کار سے باہر نکلی۔ وہ کسی کام سے باہر نکلی تھی تو سوچا واپسی پر فائل بدر کو دیتی جائے جو اس کے پاس رہ گئی تھی۔ بہت ضروری ڈوکومنٹس تھے فائل میں۔۔۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو شام ہونے لگی تھی۔ موسم بھی سرد تھا۔ مہرون لیدر کی جیکٹ کو خود پر ٹھیک کرتی وہ اندر چلی آئی۔۔
وہ اپنے ازلی حلیے میں تھی بلیو جینز پر مہرون ٹاپ اور جیکٹ میں!! لمبے گھنگھریالے بال لمبی سی فرنچ طرز کی چوٹی میں بندھے آگے کی طرف ڈال رکھے تھے یہ سٹائل اس پر خاصا جچ رہا تھا۔۔۔
لاؤنج میں کسی کو نہ پا کر وہ ملازمہ سے پوچھتی کچن میں چلی آئی جہاں ارشما کھانا بنا رہی تھی۔ کھانا وہ خود بناتی تھی اس معاملے میں اسے ملازمہ پر اعتبار نہ تھا!!
“السلام علیکم پھوپھو جان!!!”۔۔
وہ خوش دلی سے کہتی آگے بڑھی۔۔ ارشما نے خوشگوار مسکراہٹ سے اسے دیکھتے گلے لگایا۔۔۔
“وعلیکم السلام!! کیسی ہو ارشی؟”
کھانے میں چمچ ہلا کر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“بلکل فٹ ایکچولی میں یہ فائل بدر کو دینے آئی تھی وہ گھر پر ہے؟؟”
سلیب پر چڑھ کر بیٹھتی وہ ہموار لہجے میں بولی کھانے کی خوشبو سے بھوک اچانک سے جاگ گئی تھی جس کا اظہار اس نے بعد میں کر بھی دیا۔۔۔
ارشما نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
“نہیں وہ گھر پر نہیں ہے لیکن کچھ دیر تک آ جائے گا تم آج یہیں ٹھہر جاؤ نہ کتنا عرصہ ہوا تم آئی نہیں دیکھو تو رات بھی ہو رہی ہے اور ایرا بھی خوش ہوجائے گی!!”
وہ پیار سے اس کا گال چھو کر بولی تو ارشیہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔
“چلیں ٹھیک ہے میں ماما کو بتا دوں ورنہ پریشان ہوں گی وہ!!” ۔۔۔۔
نرمی سے کہتی وہ فون نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگی جب کافی دیر تک فون نہیں اٹھایا گیا تو اس نے ایک وائس میسج چھوڑ دیا۔۔۔
“پھوپھو اتنی مزے کی خوشبو آ رہی ہے میری تو بھوک جاگ گئی ہے!!”
سلیب سے چھلانگ لگا کر اترتی وہ گہری سانس کھینچتی بولی جس پر ارشما نے لب دبا کر اسے دیکھا۔۔۔
“نہیں بھائی تمہیں تو نہیں ملے گا یہ کھانا!!”
ان کے پرشرارت لہجے پر ارشیہ نے نیلی آنکھیں سکیڑ کر دیکھا پھر کھلکھلا کر ان کے كندھے پر لاڈ سے سر رکھا۔۔
“کیوں پھوپھو جانی میں تو ضرور کھاؤں گی!!”
وہ بھی مزے سے بولی تو ارشما ہنس پڑی۔۔
“ہاں ضرور ضرور۔۔! تم ایرا سے مل لو دیکھو بدر بھی آیا یا نہیں!!”
آنچ ہلکی کرتی وہ مصروف سے انداز میں بولی تو وہ دروازے کی جانب بڑھی۔
“میں آتی ہوں واپس ان سے مل کے پھر آپ کی ہیلپ کرواتی ہوں!!”
کہہ کر وہ باہر چلی آئی۔ ابھی لاؤنج میں آئی تھی جب سیڑھیوں سے اترتی ایرا ہلکی سی چیخ مارتی دوڑ کر اس کے گلے سے آ لگی۔۔۔
ارشیہ نے بھی اسے خود میں بھینچ لیا۔ دونوں وہیں لاؤنج میں بیٹھتیں حال احوال دریافت کرنے لگیں۔۔! ارشیہ کے عرش کے بابت پوچھنے پر وہ ایک پل کو خاموش ہوئی۔۔
“آپی انہوں نے کچھ نہیں کہا انفیکٹ کسی نے ایک لفظ نہیں کہا مجھے۔ سب بہت اچھے ہیں،، بس مما کی طرف سے اداس تھی بابا تو ملنے آئے تھے مجھے لیکن مما ابھی تھوڑی روڈ سی ہیں!!”
اس کی نیلی آنکھوں میں اداسی سی تھی۔ ارشیہ نے اسے ساتھ لگایا ۔۔۔
“ماما ہرٹ ہیں ابھی، کچھ دن بعد ٹھیک ہو جائیں گی تم اداس مت ہو!!”
وہ اس کی بات پر محض سر ہلا گئی۔
🍂🍂🍂
وہ کچن میں دوسری سلیب کے سامنے کھڑی کٹنگ بورڈ پر سلاد کے لیے کھیرے ٹماٹر وغیرہ کاٹ رہی تھی۔۔
اس سے کچھ فاصلے پر ارشما اس کی جانب پیٹھ کیے ایک طرف کھانا رکھے دوسری جانب عرش کے لیے چائے بنا رہی تھی۔
ارشیہ نے بہت پیار سے سلاد ڈش میں سجانی شروع کی اسی دوران بدر کچن میں چلا آیا۔ مہرون جیکٹ کے بازو کہنیوں تک پیچھے کیے اسے سلیب پر جھکے دیکھ کر وہ آنکھیں سکیڑتا اس کے پاس آیا۔۔
“وعلیکم السلام!!”
ارشیہ نے سر اٹھا کر دیکھا نیوی بلیو سویٹر اور سفید پینٹ میں اپنے تیکھے نقوش اور دودھیا رنگت سمیت وہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔
بال روٹین سے ہٹ کر پیشانی پر لاپرواہ انداز میں بکھرے تھے۔۔
اس کی سرمئی آنکھوں میں ایک پل کو نیلی بلی سی تیکھی آنکھیں گاڑتی وہ اس سلام کا جواب دے کر واپس مصروف ہوگئی جو اس نے کیا ہی نہیں تھا!!
“تو محترمہ آج ہم پر بوجھ بننے والی ہیں؟”
اس وقت اسے اپنے گھر میں سلاد بناتا دیکھ کر وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ محترمہ جنگلی بلی یہاں پڑاؤ ڈالنے والی ہے۔۔۔!
ارشما نے اسے گھور کر دیکھا “بری بات ہے بدر!!” ۔۔
وہ کندھے اچکا گیا۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے ڈش سے کھیرے کا ٹکڑا لینا چاہا جب ارشیہ نے اس کے ہاتھ پر زور سے ہاتھ مارا وہ الگ بات ہے اس کے مظبوط ہاتھ کو کچھ نہ ہوا الٹا اس کا نرم و نازک ہاتھ سرخ ہوگیا تھا۔۔۔
“اپنا ہاتھ اور شکل لے کر نکل جاؤ یہاں سے ورنہ میں کسی کا بھی لحاظ نہیں کروں گی!!”
اس کے دانت کچکچا کر کہنے پر بدر نے بایاں ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔
اس کے گھر میں کھڑی وہ اسی کو دھمکی دے رہی تھی؟ انٹرسٹنگ۔۔۔۔!!!
سائیڈ سمائل دے کر اس نے ارشیہ کا ہاتھ پکڑ کر ہٹایا اور دسرے ہاتھ سے کھیرے کا ٹکڑا پکڑ کر منہ میں ڈال لیا۔ ڈش ہلی تھی جس سے اس میں بنائی ترتیب خراب ہوگئی تھی۔
ارشیہ کا پارہ چڑھا اتنی محنت اور پیار سے وہ ڈش سجا رہی تھی مگر اس ‘منحوس بلے’ نے سب کباڑا کر دیا تھا۔۔
اس نے سر گھما کر ارشما کی جانب دیکھا جو ان کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ اس نے خونخوار نظروں سے بدر کو دیکھا جو دونوں ہاتھ پاکٹس میں ڈالے ایک سٹائل سے کھڑا تھا۔
“ابھی اس ہیرو کو زیرو بناتی ہوں!!”
دانت کچکچا کر سوچتی سلیب پر آگے کی طرف جھکی۔ اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتا ارشیہ نے دونوں ہاتھوں میں اس کے بال دبوچ لیے۔۔
بدر کا چہرہ سرخ پڑا۔ اس کے ہاتھوں کو گرفت میں لیتے اس نے دور جھٹکا ۔ وہ چاہتا تو اس چڑیل کے بالوں کا بھی وہی حشر کرتا جو اس کے بالوں کا ہوا تھا لیکن پھر گھر والوں کی سلامتی کی گارنٹی کون دیتا؟
اس نے جبڑے سختی سے بھینچ کر ڈش کو سلیب پر الٹا کر دیا۔۔
“یہ کیا ہورہا ہے؟” ۔۔
ارشما کی آواز پر دونوں کو بریک لگا۔۔۔
“بچے ہو تم دونوں؟ چلو جاؤ باہر مجھے سکون سے کام کرنے دو تم دونوں کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ایک کامیاب بزنس چلا رہے ہو دونوں!!”
اس کی اچھی خاصی جھڑپ پر وہ دونوں ایک دوسرے کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھتے کچن سے باہر جانے کے لیے دروازے کی طرف گئے۔۔
ارشیہ اسے دھکا دے کر خود پہلے باہر نکل گئی۔۔
“نظر نہیں آ رہا اندھے ہو؟”
بدر بھی اس کے پیچھے باہر نکلا تھا۔۔
“تمہیں آ گیا نہ نظر ؟ تم تو نہیں اندھی عورت؟”
ان کی آوازیں دور ہوتی جا رہی تھیں۔۔
“تم ہو گے منحوس عورت!!” کچکچا کر کہا گیا۔۔
” تم ہو ہی جاہل گدهی!!”
باہر سے آتی ان کی آوازوں پر ارشما نے سر پیٹ لیا۔۔
” دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے لیکن یہ دونوں نہ بدلیں!!” بڑبڑا کر وہ سلیب صاف کرنے لگی۔
🍂🍂🍂
کمرے کی لائٹ آف کر کے وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی جب دروازه ناک ہوا۔ اس نے چہرہ گھما کر عرش کو دیکھا جو بیڈ پر نیم دراز موبائل پر مصروف تھا۔۔
گہری سانس لے کر وہ اٹھی نائٹ ڈریس میں ملبوس وہ چلتی دروازے تک آئی۔ دروازہ کھولنے پر ارشیہ کو سامنے پا کر وہ حیران ہوئی۔۔
“کیا ہوا آپی سب ٹھیک ہے؟”
ارشیہ نے ایک نظر کمرے میں دیکھا۔۔
“ہاں سب سیٹ ہے تم جلدی سے تیار ہو جاؤ ہم گول گپے کھانے جا رہے ہیں!!”
وہ مزے سے آنکھیں میچ کر بولی۔ گول گپوں کا نام سن کر ایرا کے منہ میں پانی آ گیا وہ فٹ سے جانے کو تیار ہوگئی۔
“کون کون جارہا ہے؟”
وہ ہلکی آواز میں پرجوش سی پوچھنے لگی۔۔
“بدر ، میں ، تم اور عرش!!”
وہ مزے سے بولی کتنا مزہ آیا تھا ماہ بیر انکل سے سفارش کروا کر بدر کو زبردستی راضی کرنے پر۔۔۔! ساتھ ہی اس نے عرش کو بلایا۔۔۔
“عرش ۔۔ ہم گول گپے کھانے جا رہے ہیں۔ ایرا بھی جائے گی۔ ہم تو خود بھی چلے جاتے لیکن پھوپھو جان نے کہا ہے کہ تم بھی ساتھ جاؤ۔ اور تمہیں پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی مسلہ ہے تو مجھ سے مل جاؤ!!”
دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی وہ لاپرواہ انداز میں بولی۔ عرش کے ماتھے پر بل پڑے منہ کے زاویے بگاڑتا وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
ارشیہ نے ایک طرف ہو کر اسے راستہ دیا تھا پھر وہ ایرا کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
“جلدی سے تیار ہوجاؤ میں بھی ریڈی ہو کر آتی ہوں!!”
جھٹ سے کہہ کر وہ بھاگنے کے انداز میں چلی گئی۔ وہ لب کاٹتی کبرڈ تک آئی۔ اس نے بلیک شارٹ شرٹ اور کھلا سا ٹراؤزر نکالا۔ بلکل سادہ سوٹ تھا۔۔
مطمئن ہوتی وہ جلدی سے چینج کر کے آئی۔ بلیک ہی پوری آستینوں کا سویٹر پہن کر اس نے جوڑا کھول کر بالوں کو سلجھایا۔۔۔
بھورے سلکی بال اس نے کمر پر کھلے چھوڑ دیے جو گھٹنوں تک آ رہے تھے۔۔ آئینے میں اس کی نگاہ عرش پر پڑی جو گندے گندے منہ بناتا آندھی طوفان بنا آیا اور کپڑے لے کر واش روم میں گھس گیا۔۔
نیلی آنکھیں گھما کر گہری سانس لیتی وہ پیروں میں کینوس شوز پہن کر وہ وہیں سٹول پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔۔
کچھ دیر بعد ہی وہ فریش سا باہر نکلا۔ اتفاق سے اس نے بھی سیاہ جینز شرٹ پہنی تھی۔ گلے میں پینڈنٹ ڈال رکھا تھا۔ ابرو کا ترچھا کٹ تنا ہوا تھا۔۔۔
بال خشک کر کے وہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کی نظروں پر وہ پزل ہوتی خوامخواہ انگلیاں مسلنے لگی۔
“دوپٹہ اوڑھو۔۔ جیسی بھی ہو میری بیوی ہو اس لیے میں نہیں چاہتا تم اس طرح کسی کے بھی سامنے جاؤ!!”
اپنا پسندیدہ پرفیوم اٹھا کر خود پر سپرے کرتا وہ مدهم لہجہ میں بولا۔۔ وہ پوزیسو تھا اپنی چیزوں کے معاملے میں۔ وہ تو پھر بیوی تھی اس کی! اس کے نام سے منسوب!
وہ مانتا یا نہ مانتا اس کا دل اسے قبول کرنے لگا تھا رفتہ رفتہ۔۔! اور جو تبدیلی رفتہ رفتہ جگہ بناتی ہے وہ بلاشبہ دیر پا ہوتی ہے۔۔۔
ایرا نے خاموشی سے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا۔ آہستہ سے چلتی وہ اس کے برابر آ کھڑی ہوئی۔۔۔
عرش نے سر جھکا کر اسے دیکھا جو اس کے آگے سے بازو لے جاتی ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا دوپٹہ اٹھا رہی تھی۔۔ جھکنے کے باعث اس کے بھورے ریشمی بال بازو پر بکھر گئے تھے۔
“آپ نہ بھی کہتے میں تب بھی دوپٹہ اوڑھتی! میں بےحیا نہیں ہوں!!”
بولتے ہوئے نیلی آنکھوں کے کانچ دهندلائے تھے۔ عرش نے خاموش گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ گہری بھوری آنکھوں میں بےچینی کی نمایاں ہوئی تھی۔۔
“تمہارے بال۔۔ انہیں باندھ لو!!”
نظریں چرا کر وہ جھک کر پیروں کو سیاہ جوگرز میں مقید کرنے لگا۔ اس کا نازک وجود اسے مائل کر رہا تھا اپنی اوڑھ۔۔
گھنیری ریشمی زلفوں پر کسی اور کی نظر پڑنے کا خیال ہی اسے اندر ہی اندربےچین کر رہا تھا۔ ایرا اثبات میں سر ہلا کر بیگ سے ربر بینڈ نکالنے لگی۔۔
بالوں کی درمیان کی مانگ نکال کر پیچھے لے جاتے اس نے ربر بینڈ میں باندھ لیا۔ بھورے بال سنہری آبشار کی مانند سیدھ میں گرتے اور بھی دلکش لگنے لگے تھے۔۔
“اب ٹھیک ہے؟”
سیاہ دوپٹہ سینے پر پھیلائے بالوں کو سلیقے سے باندھے میک اپ سے پاک معصوم چہرہ لئے وہ سیدھا اسے دل میں اترتی محسوس ہوئی۔۔
اپنے احساسات پر وہ جھنجھلا کر اٹھا۔۔
“ٹھیک ہے!!”
مختصر بے تاثر لہجے میں کہتا وہ باہر چلا گیا۔ ہلکی مسکان چہرے پر سجاتی وہ بھی اس کی پیروی میں اس کے پیچھے بڑھی۔۔
” کبھی سوچا نہ تھا کہ آپ میری زندگی میں اس حیثیت سے شامل ہوں گے لیکن اب مجھے ماننے میں کوئی عار نہیں کہ دل کو آپ کی موجودگی اچھی لگنے لگی ہے!!!”
🍂🍂🍂
“بس یہیں روک دو ۔۔ روکو بھی!!”
اس نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بدر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا جو اس کی بات پر کان نہیں دھر رہا تھا۔۔
“اس جگہ سے کھانے ہیں؟ دماغ سیٹ ہے تمهارا؟ کسی اچھے سے ہوٹل سے کھا لینا!!”
گاڑی ایک طرف روکتا وہ جگہ کا جائزہ لیتا کڑے تیوروں سے بولا۔۔
“ڈھابے پر کھانے کا جو مزہ ہے وہ تم جیسا ممی ڈیڈی انسان کیا سمجھے!!”
نخوت سے کہتی وہ پیچھے مڑتی ایرا سے بولی۔۔
“بتاؤ صحیح کہہ رہی ہوں نہ میں؟”
ایرا سٹپٹا گئی۔ اس نے ایک نظر ساتھ بیٹھے عرش پر ڈالی جو لاپرواہ سا ونڈ سکرین سے باہر دیکھ رہا تھا۔۔
“جی بدر بھائی یہاں زیادہ مزہ آتا ہے یہیں سے کھاتے ہیں نہ پلیز!!”
وہ نرمی سے بولی تو بدر کو مانتے ہی بنی۔۔
“اوکے فائن۔۔۔!!”
سر ہلا کر وہ سیٹ بیلٹ نکالتا گاڑی سے نکلا۔ اس کے ساتھ ہی وہ تینوں بھی باہر نکل آئے۔ عرش نے پہلے ہی تفصیلی جائزہ لے لیا تھا۔۔
چند اکا دکا لڑکے تھے باقی لڑکیاں ہی تھیں وہاں سو وہ مطمئن تھا۔ ایرا کا ہاتھ پکڑتے وہ آگے بڑھا۔ اس کے ہاتھ پکڑنے پر ارشیہ نے دانت نکالتے بدر کو دیکھا۔۔
“ہاؤ کیوٹ نہ!!”
وہ مسکراہٹ دباتا کندھے اچکا گیا۔ بھوری جیکٹ کی زپ گردن تک بند کیے سفید پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا وہ بھی آگے بڑھا تو ارشیہ بھی جلدی سے اس کے ساتھ چلنے لگی۔۔
وہ اس وقت بے بی پنک نرم سٹف کے ٹراؤزر شرٹ پر لانگ کوٹ اور براؤن ہائی ہیلز کے شوز پہنے ہوئے تھی۔۔
وہاں لکڑی کے چھوٹے گول میز زمین میں نصب کئے گئے تھے جن کے گرد دو چوکور لکڑی کے سٹول رکھے تھے۔ عرش نے رک کر بدر ارشیہ کو دیکھا جو ان کے قریب دوسری میز پر جگہ سنبهال رہے تھے۔۔
سر جھٹکتا وہ ایرا کا ہاتھ چھوڑ کر سٹول پر بیٹھ گیا۔ وہ سمجھتا تھا ان دونوں کو وہ سپیس دے رہے تھے انہیں!!
ایرا نے بھی اس کی پیروی کی۔ اس کے سامنے خاموشی سے بیٹھی وہ اپنے ہاتھ کو تک رہی تھی جو کچھ دیر پہلے اس کے مظبوط ہاتھ کی گرفت میں تھا۔۔
“تمہیں میرا ہاتھ تھامنا برا لگا؟”
تاروں بھرے آسمان کو دیکھتا وہ سینے پر بازو لپیٹ گیا۔ آسمان سے ٹھنڈی چاندنی ان پر گرتی جیسے ان کے دلوں کو روشن کرنے لگی تھی۔۔
اس کی نظروں کے ارتكاز پر وہ بھی سر اٹھا کر آسمان کو تکنے لگی۔ یوں لگتا تھا سیاہ گھور آسمان نے جھلملاتے تاروں کی چادر اوڑھ رکھی ہو!
“نہیں تو ۔۔ برا نہیں لگا!!”
ڈھیلی پڑتی پونی سے نکلتے بالوں کو نزاکت سے پیچھے کرتی وہ مدهم لہجے میں بولی۔۔
باریک نرم آواز ہلکی ہلکی ہوا میں جیسے جذب ہونے لگی تھی۔ نیلی آنکھوں نے رخ بدلا اب وہ اس کے چہرے پر آ ٹکی تھیں۔۔
بے حد خوبرو تھا وہ کسی بھی تصوراتی شہزادے سے زیادہ وجیہہ و دل کش!! ابرو پر لگا ترچھا کٹ عجیب سے انداز میں کھینچتا تھا اپنی اوڑھ!
عرش نے بھی نظریں آسمان سے پھیر کر اس پر جمائی تھیں۔ رات کی رانی جیسے ناراض ہوئی تھی اس کے یوں نظریں پھیرنے پر!
“میں نہیں چاہتا کہ کوئی ہمارے رشتے پر بات کرے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح رہتے ہیں یہ ہم دو دلوں میں محفوظ رہنا چاہیے۔۔۔!!
پتہ ہے بہتریں ہمسفر وہ ہوتے ہیں جو اپنے دل اور دوسرے کی عزت کی حفاظت کرتے ہیں!!”
مدهم لہجے میں کہتا وہ اسے مبہوت کر گیا۔۔ الفاظ اٹھلائے تھے اس خوبصورت انداز پر! لفظ موتی بن جاتے ہیں جب ان کا حق ادا کر دیا جاتا ہے! سنہرے موتی!
“اپنے دل اور دوسرے کی عزت کی حفاظت۔۔ کیسے؟”
اس کی آنکھوں میں دیکھتی مدهم لہجے میں بولی تھی۔
اس کے دل نے چپکے سے خواہش کی تھی کہ وہ ساری عمر یونہی اس کے سامنے بیٹھا دهیمے لہجے میں بولتا رہے اور وہ ۔۔
اسے سنتی رہے یونہی خاموش سی۔ تاروں بھرے آسمان کے نیچے۔ کسی ایسی ہی جگہ پر ۔۔!
وہ میز پر دونوں بازو رکھتا آگے ہو کر بیٹھا۔۔ گہری بھوری آنکھوں میں نرمی سی تھی جانے یہ وقت کا اثر تھا، رات کے اس پہر بنتے فسوں خیز لمحات کا یا دل کی بدلتی کیفیت کا!!
“ہمم ۔۔ اپنے دل کی حفاظت کسی اور کے خیال سے۔۔ اسے دل میں بسانے سے۔۔۔ نایاب ہیں وہ دل جن میں وفا دھڑکتی ہے۔۔!!”
وہ دونوں جیسے وقت اور جگہ کا ہوش بھلائے ایک دوسرے میں گم تھے۔۔
“اور دوسرے کی عزت! اوروں کے سامنے اپنے ہمسفر کی عزت خود بنائی جاتی ہے اپنے عمل اور کہے الفاظ سے۔۔ دکھانا پڑتا ہے کہ وہ آپ کے لیے خاص ہے اور آپ سے قریب بھی!!”
ایرا نے آہستگی سے سر ہلایا۔ بیرا گول گپوں کی پلیٹ ان کے سامنے رکھ کر گیا تو لمحوں کا فسوں پاش پاش ہوا تھا۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔ گول گپے دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔۔
اس نے ارشیہ کو دیکھا جو مسکرا کر اسے دیکھتی گول گپہ منہ میں ڈال چکی تھی۔ ایرا نے گول گپہ ہاتھ میں لیا اور کھٹے پانی میں بھر کر منہ میں ڈال لیا۔۔
تیز مرچ اور کھٹا ذائقہ منہ میں گھلتے ہی وہ آنکھیں میچ گئی۔ سی سی کرتی وہ آدھی پلیٹ خالی کر گئی تب اسے احساس ہوا وہ اکیلی کھا رہی تھی۔۔
“آپ بھی کھائیں نہ بہت مزے کے ہیں!!”
ادھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھتے اس نے ایک گول گپہ اٹھا کر اس کے منہ کے سامنے کیا۔۔
“میں نہیں کھاتا ۔۔ تم کھاؤ!!”
بےتاثر چہرے سے کہتا وہ پہلے والا عرش بن چکا تھا۔ ایرا کا چہرہ بجھ گیا۔ اس نے کنکھیوں سے دیکھا تو وہ دونوں انہی کو دیکھ رہے تھے۔۔
احساس شرمندگی سے اس کی نیلی آنکھوں میں نمی چمکی۔ اس کی ایک ایک حرکت غور سے دیکھتا عرش چونکا تھا۔ اس کی نظروں کا ارتکاز اور آنکھوں کی نمی دیکھتا وہ لب بھینچ گیا۔۔
گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے اس نے میز پر دھرا اس کا نرم سا ہاتھ تھام کر سر جھکاتے گول گپہ منہ میں ڈال لیا۔
اس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں تیز مصالحے پر۔ ہلکا سا کھانستا وہ پیچھے ہٹ گیا۔۔
ایرا کی آنکھیں چمکیں وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتی ایک اپنے منہ میں ڈالتی جبکہ دوسرا عرش کے منہ میں اور حیرت کی بات یہ کہ وہ اپنے مزاج کے برخلاف چپ چاپ کھاتا جا رہا تھا
