No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
آفس میں قدم رکھتے ہی اس کی نظر اس پر پڑی جو اپنی ٹیبل پر جھکی حالیہ پروجیکٹ پر کام کررہی تھی۔۔
بدر کے ابرو ستائش میں اٹھے وہ اس سے پہلے آفس آئی تھی اور بلکل خاموشی سے کام میں مگن تھی۔۔ حیرت در حیرت!!!
لائٹ براؤن چیک کے پینٹ کوٹ میں بازو کہنیوں تک پیچھے کیے وہ اس کی آمد کا نوٹس لیے بغیر میز پر جھکی رہی۔۔ لمبے گھٹنوں کو چھوتے بھورے گھنگھریالے بال کمر پر کھلے تھے ۔۔
اس پر ترچھی نظر ڈال کر وہ اپنی رولنگ چیئر پر بیٹھا ۔۔ ہمیشہ کی طرح بلیک تھری پیس میں وہ ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔ سرمئی آنکھوں نے میز پر کچھ ٹٹولا ۔۔
مطلوبہ فائل سے اس نے ایک پیپر نکالا ۔۔ لیپ ٹاپ آن کر کے وہ مصروف انداز میں اس سے مخاطب ہوا ۔۔
“یہ لیٹر ٹائپ کر دو!!!”
ارشیہ نے جھکا سر اٹھایا نیلی کانچ سی آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔۔ وہ اٹھی تو بدر کی نگاہ براؤن ہیل میں مقید اس کے دودھیا پیروں پر پڑی۔۔ اسے ان ہیلز سے چڑ ہوگئی تھی۔۔
ارشیہ نے لیٹر پكڑا اور واپس اپنی ٹیبل پر جا کر ٹائپ کر کے واپس اس کے پاس آئی اسکا ذہن الجھا ہوا تھا ایرا کی وجہ سے۔۔
بدر نے تازہ ٹائپ شدہ لیٹر پر نظر ڈالی جس میں جگہ جگہ غلطیاں تھیں ۔۔ اس کی کشادہ پیشانی پر بل پڑے۔۔
“یہ کیا ٹائپ کیا ہے تم نے صرف غلطیاں ہی نظر آ رہی ہیں؟؟” ۔۔
ارشیہ نے تیكهی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
“تو خود کر لو تم مجھے کیوں کہہ رہے ہو ؟؟” ۔۔
تیکھے لہجے میں کہتی وہ گلاس ڈور کھول کر باہر جانے لگی جب اسکی آواز پر رکی ۔۔
“اگر مجھے ہی کرنا ہے تو محترمہ یہاں کیا لینے آتی ہیں ؟ مفت کی تنخواہ لینے یا اپنے حسن کا دیدار کروانے ؟؟”
وہ اس پر غصہ کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن ایسی لاپرواہی اور پھر اس پر اتنا ایٹیٹیوڈ ! غصہ تو آنا ہی تھا اسے ۔۔ اسکی بات پر وہ تپ ہی گئی ۔۔
“میرا پہلے ہی موڈ آف ہے میرا منہ نہ کھلواؤ۔۔۔!!!”
انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ بدر جبڑے بھینچ کر اس کے مقابل آیا ۔۔
“کھولو اپنا منہ میں بھی تو سنوں محترمہ کس حد تک جاسکتی ہیں!!!” …
بلیک پینٹ کی پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالتا وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔ سرمئی آنکھوں میں غصے کی سرخی واضح ہورہی تھی۔۔ ارشیہ نے دانت پیس کر اسے دیکھا ۔۔
“بدر میرا دماغ خراب نہ کرو ورنہ۔۔۔!!!”
وہ اپنی ہیل گلاس ڈور کے ساتھ لگاتی اسے وارن کرتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی ۔۔
بدر نے سلگ کر اسے دیکھا اسے بازو سے تھام کر جھٹکے سے دور دهكیلا جس سے وہ اس کی ٹیبل کے ساتھ جا لگی ۔۔
“منحوس بلے میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی ان ہیلز سے!!!”
وہ خطرناک تیوروں سے اس پر جھپٹی۔۔ بدر نے اس کی کلائیاں گرفت میں لیتے اسے ٹیبل سے لگا دیا ۔۔ اس کی پشت ٹیبل سے جا لگی جس سے بیک بون میں درد کی ایک لہر اٹھی ۔۔
وہ اس پر جھکا کہہ رہا تھا ۔۔ “زہر لگتی ہو تم مجھے اپنی ہیلز سمیت!!!”
وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی ۔۔ “تو کھا کر مر کیوں نہیں جاتے!!!”
اسکے مظبوط ہاتھوں سے اپنی کلائیاں چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ اس کی سر مئی آنکھوں میں نیلی بلی کی سی تیز آنکھیں گاڑ کر تندہی سے گویا ہوئی۔۔
بدر نے اس کی کلائیاں میز سے لگا دیں جس پر اس کا چہرہ سرخ پڑا تھا البتہ وہ اب بھی دانت پیستی کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“ابھی تمہیں کھانے کا وقت نہیں آیا۔۔۔!!!”
تپانے والے لہجے میں کہتا وہ اسے جھٹک کر سیدھا ہوا ۔۔ کمر میں شدید درد محسوس کرتی وہ سیدھی ہوئی ۔۔ اسے ناخن مارنے کی نیت سے وہ پھر اس پر جھپٹی جب بدر نے اس کے دونوں بازو پشت سے لگا کر اسے بلند کیا ۔۔
“انتہائی بدتمیز اور جاہل عورت ہو تم!!!”
وہ غصے سے اس کے منہ پر داڑھا ۔۔ وہ جو پہلے سے تپی ہوئی تھی اس کی بات پر مزید تپ گئی۔۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخیاں چھلکانے لگا۔۔
بدتمیز اور جاہل تک تو ٹھیک تھا “عورت” کہہ کر صحیح معنوں میں توہین ہی کر دی تھی بدر نے تو ۔۔
“تم ایک نمبر کے جاہل، منحوس، اور بدتمیز انکل ہو!!!” ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں ناکام ہوتی وہ جھک کر اس کی گردن میں سختی سے دانت گاڑ گئی ۔۔
بدر نے ایک پل کو آنکھیں میچیں ۔۔ اس کو اندازہ بھی نہیں تھا غصے میں اس نے کیا حرکت سرزد کر دی تھی۔۔
اسے خود سے دور جھٹکتا وہ چند پل خاموش نظروں سے اسے دیکھے گیا۔۔ چند پل کی خاموشی کے بعد اس نے لبوں کو حرکت دی ۔۔
“تم جانتی بھی ہو تم نے کیا کیا ہے؟”
اس کی جانب قدم بڑھاتا دھیمے لہجے میں بولا تو پہلی بار ارشیہ کو گهبراہٹ محسوس ہوئی وہ حلق تر کرتی ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔
“اگر میں بہک جاتا تو؟؟ اگر میں بھی عام مرد ہوتا تو ؟؟ کون تمہیں مجھ سے بچاتا ؟؟ ۔۔
اس کی جانب ایک اور قدم بڑھاتا وہ اسے اس کی حرکت سے ہونے والے سنگین نتائج سے آگاہ کرنے لگا۔۔
ارشیہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔ نظریں جھکائے وہ لب کاٹنے لگی ۔۔ پھر یکایک اس نے سر اٹھايا ۔۔
“تمہاری سوچ ہی خراب ہے ورنہ میں تو تمہیں بھائی سمجھتی ہوں ۔۔ چھوٹا والا!!!”
وہ اپنی فارم میں واپس آ گئی تھی۔۔ وہ ذرا سا مسکرایا تھا اس کی بات پر ۔۔
“بھائی کو نیک بائٹ کون لڑکی کرتی ہے؟؟”
کوٹ چیئر کی پشت پر ڈالتا وہ ازلی انداز میں کہہ کر اس کے تپے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔
اف کس قدر بدتمیز شخص تھا وہ۔۔۔!!
“تم ہو ہی ڈیش ڈبل ڈیش!!!”
دانت کچکچا کر کہتی وہ تن فن کرتی گلاس ڈور دهكیل کر باہر نکلی اور زور سے ہیل ڈور پر ماری ۔۔
اور یہ لگا پانچواں ٹھپہ۔۔۔!
اس کے جانے کے بعد اس کا سرخ پڑتا چہرہ یاد کرتے وہ سر جھکا کر دھیرے سے ہنس پڑا ۔۔ حیرت در حیرت۔۔!!
🍂🍂🍂
نیوز روم میں اپنی مخصوص جگہ بیٹھی وہ کوئی آرٹیکل لکھ رہی تھی جب تانیہ نے اسے مخاطب کیا جو خود بھی ایک جرنلسٹ تھی ۔۔
“رمل یار حالیہ گورمنٹ کی کرپشن پر آرٹیکل مت لکھو ابھی ۔۔ ایک دوست کی حیثیت سے مشورہ دے رہی ہوں ۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کس طرح کے تھرڈ کلاس حربے استعمال کرتے ہیں یہ اپنا شفاف ورژن عوام تک پہنچانے کے لیے اور جو ان کے کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے پھر تم جانتی ہی ہو۔۔۔!!!”
تانیہ کے فکرمندی سے کہنے پر اس نے سیاہ گہری آنکھوں سے اسے دیکھا جو اپنے آپ میں ایک راز تھیں ۔۔ کبھی نہ کھلنے والا راز ۔۔۔!
“شکریہ لیکن حق بات کہنے اور لکھنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔ عوام مجھ پر اعتبار کرتی ہے اور رمل یوسف ان کی امیدوں پر پوری اترتی ہے!!!
وہ عادتاً کان کی بالی کو شہادت کی انگلی سے ہلاتی ذرا سا مسکرائی ۔۔ کس کر جوڑے میں بندھے کالے سیاہ چمکدار بال اس کی کالی گہری آنکھوں کی چمک سے میل کھاتے تھے۔۔
وہ ہمیشہ کی طرح لمبی پنڈلیوں کو چھوتی قمیض کے ساتھ چوری پاجامہ زیب تن کیے ہوئے تھی جو اس پر خوب جچتا تھا۔۔
موبائل کی رنگ ٹون بجنے پر وہ ایکسکیوز می کہہ کر اس جانب متوجہ ہوئی ۔۔ نمبر دیکھے بغیر اس نے کال اٹینڈ کر کے فون کان سے لگایا۔۔
دوسری جانب جو کوئی بھی تھا وہ اسے دھمکیاں دینے لگا تھا ۔۔ رمل کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔ اسے گالیوں پر اترتے دیکھ کر وہ درشتگی سے گویا ہوئی ۔۔
“تم جو کوئی بھی ہو ایک بات کان کھول کر سن لو ‘رمل یوسف’ ان خالی خولی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں ہے ۔۔
اگر اتنی ہی ہمت ہے تو ایک دفعہ میرے سامنے آ کر دکھاؤ تمہارے “نین نقشے” نہ بگاڑ دیے تو میرا نام بھی رمل یوسف نہیں۔۔!!”
سرد لہجے میں کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔ نمبر بلاک کر کے وہ چیئر سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی۔۔
لوگ سمجھتے ہیں عورت ذات کمزور ہے اسے طاقت کے زور پر دبا دیں گے اپنے حکم کا غلام بننے پر مجبور کر دیں گے لیکن….
وہ ایک بات سے واقف نہیں کہ جب عورت کچھ کرنے کی ٹھان لیتی ہے تو وہ ارادوں کی پختگی میں مرد کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے ۔۔
عورت کمزور نہیں ہے بس یہی ثابت کرنا ہے۔۔۔!!!
اپنے آپ سے مخاطب ہوتے وہ خود کو باور کروانے لگی کہ وہ کون ہے۔۔۔!!
اس نے آنکھیں کھولیں تو ان کی چمک پہلے سے بھی بڑھ چکی تھی ۔۔
🍂🍂🍂
جوں ہی وہ کمرے میں داخل ہوا عرش کو ارشمہ کی گود میں سر رکھے دیکھ کر چونکا ۔۔ مابیر کو دیکھ کر عرش نے نظریں گھمائیں تو گویا وہ ابھی بھی ناراض تھا ۔۔
“کیا بات ہے لاڈلے صاحب شادی کی بات طے ہونے کے بعد تو رنگ ہی بدل گئے ہیں جناب کے!!!”
وہ جانتا تھا وہ اس کی بات پر تپ اٹھے گا اور ایسا ہی ہوا ۔۔
“بابا مجھ سے اس بارے میں بات نہ ہی کریں ایسا نہ ہو کہ میرا اقرار انکار میں بدل جائے!!!”
ارشما کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا وہ آنکھیں موند گیا۔۔
“ماہ بیر میرے بیٹے کو تنگ نہ کریں!!!” وہ مصنوعی خفگی سے بولی تو عرش دھیرے سے مسکرایا ۔۔
“ہاں بھائی بیٹے کے ہوتے شوہر کہاں نظر آتا ہے آپ کو!!” مسکراہٹ دباتا ہوا وہ اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔ عرش کے ہاتھ سے ارشمہ کا ہاتھ نکال کر وہ خود تھام کر نرمی سے سہلانے لگا ۔۔
اس نے آنکھیں سکیڑ کر ماہ بیر کو دیکھا تو وہ کندھے اچکا گیا ۔۔
“میری بیوی ہے!!!” اسے باور کروایا گیا ۔۔
عرش نے سائیڈ سمائل پاس کی آرام سے ماہبیر کے ہاتھ سے ارشما کا ہاتھ نکال کر وہ اپنے چہرے پر رکھ گیا ۔۔
“میری ماما ہیں!!!” ۔۔ وہ بھی کہاں کم تھا ۔۔
وہ ان دونوں کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی جو بچوں کی طرح حرکتیں کر رہے تھے ۔۔
گہری سانس لے کر نفی میں سر ہلاتے اس نے عرش کے گلے میں پہنے پینڈنٹ کو دیکھا ۔۔
“عرش۔۔ یہ پینڈنٹ ہمیشہ کیوں پہنے رکھتے ہو کیا بہت خاص ہے؟؟” ۔۔
پینڈنٹ میں لگے سیاہ موتی پر عقاب کی چمکتی آنکھ پر انگلی رکھ کر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
” یہ میری پہچان ہے”۔۔۔!!!
وہ مسکراتے لہجے میں گویا ہوا ۔۔ اس کے چہرے پر الوہی مسکراہٹ تھی ۔۔ شاہین کی آنکھوں کی مانند اس کی گہری بھوری آنکھیں بھی چمکی تھیں ۔۔ کچھ تو خاص تھا ان میں ۔۔ کوئی پوشیدہ راز۔۔۔!
اس کی بات پر اس نے محض ناسمجھی سے سر ہلایا ۔۔ اس کی گود میں سکون محسوس کرتا وہ آنکھیں موند کر سونے کی تیاری کر رہا تھا ۔۔
ارشما نے جھک کر اس کے سر پر بوسہ دیا ۔۔ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کی غرض سے اس نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ماہ بیر نے اسے اچک کر گود میں بٹھا لیا ۔۔
ہقا بقا سی اسے دیکھتی وہ شرم سے ڈوب مرنے کو ہوئی ۔۔ عرش ہنستا ہوا اٹھ بیٹھا ۔۔
“میرا خیال ہے میں چلتا ہوں ورنہ بابا کا کیا بھروسہ میرے سامنے ہی رومانس جھاڑنا شروع کر دیں گے!!!”
اپنے شوہر کی حرکت اور اوپر سے بیٹے کی کمنٹری پر وہ تپ کر اٹھی ۔۔
“باپ بیٹا دونوں ہی بے شرم ہیں!!”
دونوں کو تیکھی نظروں سے دیکھتی وہ تن فن کرتی کمرے سے نکل گئی۔۔ اس کے جانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگا گئے ۔۔
