Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

زندگی کی تار پندرہ ظاہری حجابوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ پندرہ میں سے پانچ حجاب تو ایسے ہیں جنہیں عام طور پر لوگ جانتے ہیں مثلاً نبض، آنکھ کی پتلیاں، پیر پنڈلیاں گردن کا لڑھکنا اور جسم کا ٹھنڈا پڑ جانا۔
اب پانچ حجاب اس کے آگے ہیں جن کی پہچان ذرا مشکل ہے خون کا خشک ہو جانا، ریڑھ کی ہڈی سے رابطہ ختم، حواس خمسہ کی معطّلی، اعضائے رئیسہ کی کارکردگی کا رک جانا، حرام مغز کا پھیل کر زہر اور تعفن میں تبدیل ہونا۔۔ باقی پانچ حجابوں کا تعلق عام انسانوں اور پردوں سے براہ راست نہیں یعنی مادیت سے نہیں روحیت اور روحانیت سے ہے! ان حجابوں کے پیچھے جھانکی لینا ہر کس و ناکس کا کام نہیں میڈیکل سائنس یہاں چھپ سادھ لیتی ہے۔ یہاں ایک دوسرا جہان اور مخصوص لوگوں کا گمان شروع ہوتا ہے۔۔ عام طور پر کسی کی موت کی تصدیق مستند ڈاکٹر حضرات کرتے ہیں جو صرف پہلے پانچ حجابوں کے اندر جھانک کر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔۔ مگر کچھ مخصوص طبیب بھی ہوتے ہیں جو اگلے پانچ حجابوں تک بھی چندہ رسائی رکھتے ہیں اور کہیں مخصوص حالات میں اپنے اس علم سے استفادہ کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔۔ اکثر اموات ادھوری ہوتی ہیں اور ہم کسی حد تک زندہ انسانوں کو دفن کر دیتے ہیں موت کی تصدیق کے لیے پہلے پانچ حجابوں کی گواہی کبھی کبھی ادھوری بھی رہ جاتی ہے۔۔ آپ نے پڑھا سنا ہوگا کہ نہلاتے، کفناتے، دفناتے وقت مردہ اٹھ کر بیٹھ گیا بھوت بھوت کہتے ہوئے لوگ بھاگ اٹھے یا بے ہوش ہو گئے ۔۔ اکا دکا ایسا واقعہ سننے کو ملتا رہتا ہے یہ وہی مردے ہوتے ہیں جن کی موت کا اعلان پہلے پانچ حجابوں کی جانچ سے ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ کامل موت پندرہ پردوں کی تصدیق پر وارد ہوتی ہے۔۔ اکثر یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ مردہ مرنے کے بعد اتنے گھنٹے یا دن سنتا بھی ہے، ہر آنے جانے والوں کو پہچانتا بھی ہے، اسے اسودگی یا تکلیف کا احساس بھی رہتا ہے، وہ قبر میں دفن ہونے کے باوجود اپنے گھر میں آتا جاتا رہتا ہے، بیوی بچوں کی مصروفیات پہ نظر رکھتا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ باتیں اسی حجابوں والے قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔ اگرچہ پہلے دس پردوں سے موت کی تصدیق ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ کامل موت واقع نہ ہوئی ہو ۔۔ دس حجابوں کے بعد کے حجابوں کا معاملہ پھر عام ہاتھوں میں نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ یہ تو پھر کوئی اور لوگ ہوتے ہیں؟ 🍂🍂🍂 ماضی ۔۔۔۔۔۔ !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ جنرل ہوسپٹل کے آئی سی یو سے باہر آتے ڈاکٹر جبار عجیب مخمصے میں پھنسے دکھائی دیتے تھے۔۔ جس پیشنٹ کے مرنے کی تصدیق وہ آٹھ منٹ پہلے کر کے آئے تھے وہ زندہ ہوگیا تھا؟ اس کی سانسوں کی ڈور جڑ گئی تھی؟ یہ بات ان کی محدود عقل میں سما نہیں رہی تھی۔۔ میڈیکل سائنس ایسے کیسز پر چپ سادھ لیتی ہے انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے اس کی عقل ناقص ہی رہے گی وہ کائنات کے اسرا و رموز کو سمجھنے کی عقل نہیں رکھتا۔۔ اسے ضروری ٹریٹمنٹ دینے کے بعد وہ اپنے روم میں چلے آئے انہیں آج کے عجیب و غریب واقعے پر رپورٹ تیار کرنی تھی۔ اس کے گھر والوں کو وہ اس کی موت کی خبر دے چکے تھے اب انہیں اس کی زندگی کی نوید سنانی باقی تھی۔۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھے جب کرنل عصام گلاس ڈور دهكیل کر اندر آئے۔ ان کے چہرے پر نقاہت کی زردی تھی نقوش کھنچے سے تھے جیسے تکلیف ضبط کر رہے ہوں۔۔ “جبار ۔۔۔ پٹی کھل گئی ہے! راستے میں چھوٹا سا ایکسینٹ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بلیڈنگ ہونے لگی ہے! ” ان کے مقابل بیٹھتے وہ تکلیف ضبط کرتے بولے تھے۔ ڈاکٹر جبار فورا فرسٹ ایڈ باکس لے کر ان کی دوبارہ پٹی کرنے لگے پین کلر کھلانے کے بعد وہ واپس اپنی جگہ آ بیٹھے۔۔ کرنل عصام نے ان کا کھویا سا انداز سیکنڈز میں محسوس کر لیا تھا سو پوچھ بیٹھے۔۔ “کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہے ہو؟” کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھتے وہ کھوجتی نظروں سے انہیں دیکھنے لگے،، ڈاکٹر جبار نے سر ہلایا۔۔ “ہاں ۔۔ آج واقعہ ہی کچھ ایسا ہوا ہے، میں نے اب تک کے کرئیر میں ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا۔ ایک پیشنٹ جس کو لانے کے چند سیکنڈ بعد ہی میں اس کی موت کی تصدیق کر چکا تھا وہ اچانک سے زندہ ہو جاتا ہے ! آئی مسٹ سے وہ بہت مظبوط اعصاب کا مالک ہے، ہی از سٹرونگ مین! شاید اپنوں کے لیے وہ موت کے منہ سے نکل آیا ہے! میں سمجھ نہیں پا رہا کیا آج کے جدید دور میں بھی یہ سب ہوتا ہے! ” کرنل خاموشی سے ان کی بات سن رہے تھے۔ ایسے کیس پر انھیں کچھ خاص حیرت تو نہیں ہوئی تھی لیکن ذہن میں ایک ساتھ بہت کچھ چلنے لگا تھا۔۔ “یار میری بات غور سےسنو! تم نے اس کے گھر والوں کو تو نہیں بتایا کہ وہ زندہ ہے؟” ڈاکٹر جبار نے نفی میں سر ہلایا تو وہ اپنی بات جاری ركهتے ہوئے کہنے لگے۔۔ “ایسے انسان بہت خاص ہوتے ہیں انھیں یوں ضائع نہیں کرتے،، ہمارے ملک کو مظبوط جوانوں کی ضرورت ہے۔۔ ٹھیک ہو کر بھی یہ ایک نارمل زندگی گزارے گا اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے جئے! تم نے کہا تھا کہ تم ہماری دوستی میں کچھ بھی کر سکتے ہو آج وقت ثابت کر دے گا۔ میں اسے نیا انسان بناؤں گا اسے خاص ٹریننگ دوں گا اس کے لیے تمھیں میرا ساتھ دینا ہوگا!” ڈاکٹر جبار گہری چپ لئے انہیں دیکھ رہے تھے فیصلہ مشکل تھا۔ 🍂🍂🍂 ہوا وہی جو کرنل چاہتے تھے۔ ماہ بیر وغیرہ کو کسی اور کی ڈیڈ باڈی موٹے سے پلاسٹک سے کور کے فوری طور پر دفنانے کا کہا گیا تھا۔۔ شدید غم کی حالت وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انھیں کس طرح دھوکے میں رکھا گیا تھا۔۔ ان کے جانے کے بعد بہت رازداری سے صالح یوسف کو کرنل عصام کے گھر منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اس کا ٹریٹمنٹ جاری تھا۔ جسم میں گولیوں کے زخم بھرنے میں بہت وقت لگنا تھا۔۔
اسی دوران ساتھ ساتھ اسے ایسی دوا دی جاتی رہی جس سے ماضی اس کے ذہن کی سلیٹ سے کامل مٹ جائے۔ کرنل عصام خودغرض ہوگئے تھے۔۔۔!
اس کی خوشیوں پر ملکی مفاد کو ترجیح دی گئی تھی۔ دوسری جانب مشائم جیسے زندہ لاش بن گئی تھی اس کی گود میں رکھے سر پر جب معمولی سی جنبش ہوئی تو کس طرح وہ چیخنے لگی تھی۔۔
ماہ بیر نے اورهان کے ساتھ مل کر فورا اسے ہسپتال پہنچایا تھا ایک نئی امید سی بندھ گئی تھی لیکن جب ڈاکٹر نے روح فرسا خبر سنائی تو امید کا دیا جلائے روشن ہوتی ان کی آنکھیں ویران ہوگئی تھیں۔۔
وہ بہت روتی تھی اتنا کہ اسے لگتا ایک دن وہ روتی روتی مر جائے گی! اس زندہ لاش میں زندگی کی حرارت تب آئی جب دو ننھے وجود اس کی گود میں ڈالے گئے۔۔
وہ کس طرح ان سے منہ موڑتی؟ وہ اس کے یوسف کی نشانی تھے۔ اس نے خود پر جبر کر لیا تھا اپنے بچوں کی خاطر!
🍂🍂🍂
وہ ہوش میں ہوتے بھی گم صم سا رہتا تھا۔ وہ ننھی لڑکی ہر وقت اس کے گرد منڈلاتی رہتی تھی اپنی شرارتوں سے اسے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔۔
جو اونچا سا مرد آرمی کے یونیفارم میں اس سے ملنے آتا تھا کبھی كبهار اس نے اسے یہی بتایا تھا کہ وہ اسے رات کے اندھیرے میں فٹ پاتھ پر زخمی حالت میں گرا ملا تھا۔۔۔!
وہ اسے ساتھ لے آیا تھا۔۔
اس نے بارہا اپنا ماضی یاد کرنے کی کوشش کی لیکن ہر کوشش کے بعد ناکامی کا سامنا تھا۔ اس نے خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا تھا۔۔
مکمل صحت یاب ہوتے ہی اس کی ٹریننگ شروع ہوچکی تھی ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ رات کے اندھیرے میں قہر برساتی ٹھنڈ میں سرد پتھریلے راستوں پر ننگے پیر پہروں بھاگتا وہ خود بھی پتھر کا ہونے لگا تھا۔۔
سخت ٹریننگ کے اثرات اس کے جسم پر گہری چھاپ چھوڑ گئے تھے۔۔ وہ اب تک کا سب سے مظبوط اور کامیاب آفیسر بن چکا تھا اسے صرف خاص مشن پر بھیجا جاتا تھا وہ بہت سے لوگوں سے مخفی تھا۔۔
اس کے جونیئرز بس اسے نام کی حد تک جانتے تھے۔ وہ اپنا کام اتنی صفائی سے کرتا تھا کہ کسی کو اس پر زرہ برابر شک نہیں ہوتا تھا۔۔
🍂🍂🍂
حال ۔۔۔۔۔ !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ ہاؤس کے لان میں ہلکی ہلکی سنہری دھوپ گھاس پر براجمان دو نفوسوں پر پڑتی انہیں تراوت بخش رہی تھی۔ سبزے اور پھولوں کی بھینی بھینی سی مہک سے مسحور ہوتیں وہ ایک اہم موضوع پر بات کر رہی تھیں۔۔
رمل نے ایرا کی چوٹی بنا کر اس کے بال سامنے سے سنوارے۔ وہ پیار سے اپنی فیورٹ آپی کو دیکھتی نرمی سے مسکرا دی۔۔
“آپی لوگوں کو ہدایت کیوں نہیں ملتی؟”
نور والا واقعہ یاد آتے اس کی نیلی آنکھوں کے کانچ دهندلائے ضبط کرتی وہ لب کاٹنے لگی۔ رمل نے اس کا ہاتھ تھام کر تهپتھپایا۔۔
سورج کی جانب پشت کر کے بیٹھتی وہ دھیمے لہجے میں اسے سمجھانے لگی۔۔
“بیٹا ہم کہتے ہیں نہ کہ لوگ اتنا ظلم کیسے کر سکتے ہیں؟ برائی کے راستے پر چلتے انہیں ہدایت کیوں نہیں ملتی؟ ان کے دل پتھر کیوں ہوتے ہیں؟ آخر انہیں اللّه کی طرف سے ہدایت کیوں نہیں ملتی؟ ہدایت کا تعلق انسان کے ‘ دل ‘ سے ہوتا ہے۔۔۔! ہم زبانی کلامی ہدایت مانگیں تو وہ نہیں ملا کرتی اس کا تعلق دل کی سچائی اس کے بدلنے سے ہے! جب دل بدلتے ہیں تو ہدایت مل جاتی ہے۔۔۔! اللّه تعالٰی کسی ایسے انسان کو ہدایت نہیں دیتے جس کا دل ویسا کا ویسا ہو۔ یہ پانے کے لیے دل بدلنا پڑتا ہے،، اللّه اسے خود نہیں بدلا کرتا۔۔۔!!!”
اس کے نرمی سے سمجھانے پر وہ مسحور ہوئی تھی۔۔
“آپ کتنا اچھا بولتی ہیں، آپ بہت سٹرونگ ہیں! میں آپ کے جیسی بننا چاہتی ہوں۔۔۔!”
اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتی وہ مدھم لہجے میں بولی تھی رمل نے اس کا گال تهپتھپایا۔۔
“تمہیں رمل بننے کی ضرورت نہیں ہے بچے! تم ایرا ہو جو اپنے آپ میں بہت مظبوط لڑکی ہے جس کے دل میں انسانیت کا احساس زندہ ہے جو حق کی راہ میں لڑنے کی ہمت رکھتی ہے، جو دلوں میں گھر کرنا جانتی ہے! تم بہت معصوم ہو، اللّه تمہیں ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے!!”
ہلکی ہوا کا جھونکا ذرا سا انہیں چھو کر گزرا تھا۔ آسمان پر چمکتے سنہری دائرے کو ان کی حسین گفتگو میں ہوا کی مداخلت ناگوار گزری تھی۔ اس نے تیز نرم گرم کرنیں ان پر نچھاور سی کی تھیں!
🍂🍂🍂
آئینے کے سامنے شرٹ لیس کھڑا وہ کہیں کھویا سا تھا۔ ذہن کے پردے پر ایک تیکھا سا چہرہ نمایاں تھا۔۔
اس کا ہاتھ آپ ہی گردن پر آ کر ٹھہرا۔ نظر گردن پر ٹھہری تھی انگلیوں سے چھوتا وہ اس کے کٹیلے لمس کو پھر سے محسوس کرنے لگا۔۔
اس دن جب اس جنگلی بلی نے اس کی گردن پر کاٹا تھا جانے کیسے اس کے جذبات بدل گئے تھے۔ جھکنا اس کی فطرت میں نہیں تھا وہ سیر تھی تو وہ خود سوا سیر۔۔۔! وہ جنگلی بلی تو وہ اسکا باگر بلا ۔۔۔!
دونوں ایسی چنگاری تھے جو ذرا سی ہوا دینے پر آگ لگانے پر مائل ہونے لگتی تھی۔ جب دونوں چنگاریاں ملیں گی تو کیسی کیسی آگ لگنے والی ہے!!!
اپنے لمبے چوڑے کسرتی وجود پر بھرپور نظر ڈالتا وہ لب دبا گیا۔
ہر وقت منہ سے پھلجھڑیاں جھڑنے والی اس کی گرفت میں آ کر کیسے کیسے رنگ بدلے گی وہ دیکھنے کے لیے بےچین تھا!
لیکن کیا وہ جنگلی بلی اس کے سامنے سرنڈر کر دے گی؟ یہ تو وقت بتائے گا۔۔
بلا کی نشیلی سرمئی آنکھیں اس وقت ایسا تاثر قائم کر رہی تھیں کہ کوئی صنف نازک اگر ان نین کٹوروں میں جھانک لیتی تو خود کو کہیں گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس کرتی۔۔
سر جھٹکتا وہ بیڈ پر چت لیٹ گیا۔ سفید نرم سا تکیہ دبوچ کر وہ آنکھیں موند گیا۔
🍂🍂🍂
” پیچھے ہٹو ورنہ گاڑی تلے مسل دوں گی، ایڈیٹ۔۔۔!!!”
غزل نے کھا جانے والی نظروں سے علی کو دیکھا جو اس کا راستہ روکے بیچ سڑک میں کھڑا تھا۔۔
علی نے کان كهجایا ایسی بدتمیز اور تیز لڑکی اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔۔
“ہاں علی۔۔۔۔؟ کوئی مسلہ ہے؟”
آواز پر غزل نے آگے ہوتے ونڈو سے باہر دیکھا۔ پولیس یونیفارم میں کسرتی جسم کا مالک روعب دار پرسنالٹی والا وہ اونچا لمبا آفیسر تھا۔ لب بھینچے وہ علی سے مخاطب تھا۔۔
“جی سر میڈم نے سگنل توڑا ہے اب حرجانہ بھرنے پر تیار نہیں ہیں الٹا بدتمیزی کر رہی ہیں!!”
علی کے تپ کر کہنے پر حیان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سپاٹ لہجے میں بولا۔۔
“میڈم کو تھانے کی سیر کرواؤ۔۔۔!!”
ناگواری سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا اچھی طرح جانتا تھا وہ ان بگڑی امیر زادیوں کو اور انہیں سیدھا کرنا بھی حیان شاہ خوب جانتا تھا۔۔
اس کی بھاری آواز میں دیے حکم پر غزل کا منہ کھل گیا۔ کھلے مہرون گھنگھریالے بالوں کو جلدی سے جوڑے میں مقید کرتی وہ شرٹ کے بازو چڑھا کر تن فن کرتی باہر نکلی۔۔
“او ہیلو انسپیکٹر ایکس وائی زی ۔۔۔۔”
تیز نسوانی آواز پر حیان نے پلٹ کر دیکھا وہ اس کے مقابل آ کھڑی ہوئی۔۔
“تم جانتے بھی ہو کون ہوں میں؟”
جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی ہوں وہ تیکھے لہجے میں بولی۔۔
“نہیں۔۔۔۔!!!”
مختصر جواب دے کر وہ اسے نظر انداز کرتا پلٹ گیا۔۔
“میں نے سگنل نہیں توڑا تمہارا یہ بےوقوف سا افیسر مجھے جان جان بوجھ کر روکے ہوئے ہے اسے پیچھے ہٹاؤ ورنہ میں اس کے اوپر سے گاڑی گزار دوں گی۔۔
غزل خان زادی ہوں کوئی معمولی لڑکی نہیں جو تمہاری ان فضول دھمکیوں سے ڈر جائے گی۔۔! تھانے آتی جاتی رہتی ہوں میں، کام ہی کچھ ایسا ہے!”
اس کی اخری بات پر حیران نے چونک کر اسے دیکھا کالی گہری انکھیں سکیڑتا وہ اس کی بات کو جانچنے لگا۔۔
“اوہ لگتا ہے عادی مجرم ہیں آپ!!”
تیكهی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کالی انکھوں میں تمسخر لیے وہ پیشانی پر گرتی لٹ کو ہاتھ سے پیچھے کرتا اسے آگ لگا گیا۔
“تم ۔۔۔۔ تمہیں تو میں ابھی بتاتی ہوں!!”
اس کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ وہ اسے نظر انداز کرتا اگلے سٹاپ کی طرف چلا گیا۔ غزل نے تپ کر اس کی پشت کو دیکھا تن فن کرتی ہے وہ گاڑی میں آ بیٹھی۔
اس کھڑوس انسپیکٹر کا چہرہ اسے حفظ ہو گیا تھا۔ یہ ملاقات وہ خوب یاد رکھے گی بھولنے والوں میں سے وہ نہیں تھی !
🍂🍂🍂
“پھر کیا سوچا تم نے؟” ۔۔۔۔
نائٹ سوٹ میں ملبوس کافی کا کپ ہاتھ میں تھامے وہ لان میں کھڑی تھی جب اور ہان اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔ اس کے سوال پر ارشیہ نے لب بھینچے۔۔
“بابا آپ جانتے ہیں!!”
اندھیرا آسمان کو گھورتی وہ لب کاٹتی بولی تھی۔ اورہان نے سر ہلایا ارشیہ نے چہرہ گھما کر اسے دیکھا تھا۔۔
“بابا آئی ایم سوری بٹ آئی کانٹ ڈو۔۔۔!!”
انکھیں میچ کر گہری سانس لیتی جب وہ بولی تو لہجہ دھیما تھا۔
“نہیں بیٹا کوئی بات نہیں میں سمجھتا ہوں تم اب بڑی ہو چکی ہو اپنے ماں باپ سے زیادہ سمجھدار ۔۔۔ جاب کرتی ہو یقینا تم ہم سے بہتر سمجھ سکتی ہوگی،،
ماں باپ کو سمجھنا چاہیے کہ جب اولاد جوان ہو جاتی ہے تو اس پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں آخر انہیں حق ہی کیا پہنچتا ہے اپنی اولاد کے لیے فیصلہ کرنے کا۔۔۔!! تم جیسا چاہو گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔۔”
سنجیدہ لہجے میں کہتا وہ جا چکا تھا ان کے لب و لہجے سے عرشیہ جان چکی تھی کہ وہ ہرٹ ہوئے تھے۔۔
سختی سے لب بھیچتے اس نے کافی کا کپ زور سے زمین پر پھینکا تھا۔۔ زمین پر جا بجا بکھرے سفید ٹکڑوں کو دیکھتی وہ کسی گہری سوچ میں گم ہوئی تھی۔۔
🍂🍂🍂
اس نے لان کی طرف کھلتی کھڑکی سے باہر جھانکا،، دھند گراتے کالے سیاہ آسمان کو دیکھ کر جھرجھری لیتی وہ کھڑکی بند کر کے جلدی سے بیڈ پر آتی بلینکٹ میں گھس گئی۔۔
اس نے افسوس بھری نظروں سے ابراھیم کو دیکھا جو محض ایک ہلکے سے سویٹر ٹراؤزر میں صوفے پر پیر اوپر کیے بیٹھا لیپ ٹاپ پر جھکا کب سے کام میں مصروف تھا۔۔
سرد گرم موسم سے جیسے اسے کوئی واسطہ ہی نہیں تھا۔ زنیشہ کو یکایک غصہ آنے لگا وہ آج کل اسے بلکل بھی ٹائم نہیں دے رہا تھا۔۔
روہانسی ہوتی وہ اسے چند لمحے گھورتی رہی وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوا تو وہ پھٹ پڑی۔۔
“بیوی میں ہوں آپ کی لیکن ہر وقت اس سے چپکے رہتے ہیں!!” غصے سے بولتی شہد رنگ غزالی آنکھوں میں شکوہ لیے وہ دهپ سے تکیے پر سر رکھتی کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔۔
ابراھیم نے چونک کر اسے دیکھا اس کے خالص بیویانہ انداز پر اس نے سیاہ آنکھیں سکیڑیں۔ لیپ ٹاپ بند کر کے وہ اس کے برابر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔
بلینکٹ ٹھیک کرتے اس نے اسے پشت سے گلے لگایا تھا۔ وہ اپنی جگہ جم گئی تھی۔ اپنی گردن پر اس کی بھاری گرم سانسیں محسوس کرتی وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ وہ اس کے کس قدر قریب ہے۔۔
ابراھیم نے دھیرے سے اس کا رخ اپنی جانب کیا۔ آہستہ سے پلکیں جھپكتا وہ اس کے نقوش کو قریب سے دیکھنے لگا تھا۔۔
سرخ گلال بكهیرے نرم سے گالوں پر سیاہ گھنی کانپتی پلکیں رقصاں تھیں۔ پنکھڑی سے عنابی لب ذرا ذرا سے تھرا رہے تھے۔ وہ بےاختیار ہونے لگا تھا۔۔
اس پر حق رکھتا تھا وہ ، سرد ٹھٹھرتی رات میں جذبات کی حدت پهیلنے لگی تھی۔۔
وہ قریب ہوا تھا مزید جس پر وہ مزید سمٹی تھی۔ اس کے چہرے کو قریب کرتا وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا۔
نرم گرم لمس لبوں پر محسوس ہوتے ہی اسے کرنٹ سا لگا تھا۔ پٹ سے آنکھیں کھولتی وہ اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ گئی۔ منتشر سانسوں کو سنبهالتی وہ اس کی ادھ کھلی آنکھوں میں دیکھتی نظر جھکا گئی۔۔
کیا کمال ادا تھی۔۔۔! حیا سے بوجھل آنکھوں کو اٹھانا تو محال ہوا ہی تھا، پھر جھکانا غضب ڈھا گیا تھا۔ وہ جھٹکے سے اسے سیدھا کرتا اس پر سایہ کر گیا تھا۔۔ وہ حلق تر کرتی خوامخوا لب کاٹنے لگی تھی۔۔
“کسی کو بہت شکایت ہورہی تھی میرے لیپ ٹاپ سے چپكنے پر! بندۀ معصوم نے سوچا اپنی بیوی سے چپکا جائے! “
اس کے حیا سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتا وہ لب دبا گیا۔ وہ لب دبا کر مسکان چھپاتی اس کے سینے پر ہاتھ دھرتی اسے دور دهكیلنے لگی۔۔
“میجر ابراھیم! آپ بہک رہے ہیں!!!”
کیا دل کش انداز تھا، وہ کیوں نہ فدا ہوتا اس پر۔۔۔!!
“آپ بہکا رہی ہیں!!
اس پر جھکتا وہ اس کا گال چوم گیا۔ زنیشہ اسے دور دهكیلتی اٹھ بیٹھی اس کا حال بےحال ہونے کو آ رہا تھا۔۔
اسے بیڈ دهكیلتی وہ اس کے سینے پر سر رکھ گئی۔ اچھا لگ رہا تھا اس کی دھڑکنوں کو سننا جو محض اس کا نام پکارتی تھیں۔
“ابراھیم؟ ۔۔۔ میں آپ کو پیاری لگتی ہوں اس لیے محبت ہے؟ یا محبت ہے اس لیے پیاری لگتی ہوں؟؟”
اس کے سینے پر ٹھوڑی رکھ کر چہرہ بلند کرتی وہ معصوم سوال کر گئی۔۔
آنکھیں اس کا اظہار چاہتی تھیں، ہاں آج وہ اس کا اظہار محبت سننا چاہتی تھی،، خود پر اترانا چاہتی تھی۔۔
اسے مظبوط بازوؤں کے حصار میں لیتا وہ گہری بولتی نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔
آنکھیں بولنے لگی تھیں لفظ جھنجھلائے تھے۔ وہ موتی بننا چاہتے تھے اس کے لبوں سے جدا ہونے والے خوبصورت اظہار پر۔۔
“تم ۔۔۔ دلکش لگتی ہو ‘دل’ ،، دلکشی محبت سے ہے اور محبت ۔۔۔ تم سے!!”
اسے خود میں بھینچتا وہ آنکھیں موندے دهیما سا کہہ رہا تھا وہ اس کے سینے میں سر چھپائے سرشار سی تھی دل تتلی کی طرح اڑنے لگا تھا۔۔
اسے چاہا گیا تھا ، اب وہ چاہنا چاہتی تھی اسے جو چاہے جانے کے قابل تھا اس کا اپنا میجر ابراھیم ، اس کی حیات کا ساتھی، اس کا من محرم!
🍂🍂🍂
جاری ہے!!