Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41


کچھ رات ہے آج سرد سی
کچھ سرد سے میرے جذبات بھی
وه آئے کبھی یوں بھی
کہ محبت کی نرمیوں سے
جذبات کی بہتی حرارتوں سے
مجھے خود سے خود ہی نکال کر
کبھی اپنے آپ میں ڈھال کر
خود فراموشی کے خول میں
کبھی اپنے سنگ سمیٹ کر
موم سی نرم گستاخیوں سے
پگھلائے ، برف احساس بھی !!!
( مرحا خان )
💖🔥_
برف ہوئے ہاتھ اوور کوٹ کی جیب میں ڈالتا وه گیٹ سے اندر داخل ہوا۔ ٹھٹھرتی رات کی جامد کر دینے والی ٹھنڈ ہڈیوں میں گھستی محسوس ہورہی تھی۔
وه تیز تیز قدم اٹھاتا لان سے منسلک چند فٹ چوڑی راہداری میں چلنے لگا جو سیدھا اندرونی دروازے سے ملتی تھی۔ ساکت سناٹے میں اسکے تیز قدموں کی چاپ بغیر دقت کے سنی جاسکتی تھی۔۔۔
دفعتا اسکے قدم تھمے اسے ایسے محسوس ہوا کہ لان میں کوئی تھا، کوئی حرکت اس نے محسوس نہیں کی مگر وه سانس لینے کی دھیمی آواز تھی یا گرتی دھند میں سموتی مہک جو اسے کسی کی یاد بڑی شدت سے دلا گئی۔
اس کے قدم مڑتے دائیں جانب اٹھ گئے وه لان میں داخل ہوا تھا جب کچھ دور زمین پر بچھے گھاس کے فرش پر اسے درخت کے تنے سے کمر ٹکائے آنکھیں موندے پایا۔ وه سرعت سے اسکی طرف بڑھا۔
” رمل ۔۔۔ آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں۔۔؟”
اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھتا وه اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھ گیا۔ اسکا چہرہ تفکر سے پُر تھا۔ رمل نے آنکھیں کھولیں تو ان میں سرخی نمایاں تھیں۔ سیاہ آنکھوں میں سموئی اداسی دیکھتا وه ساکت ہوا تھا۔ دل میں بےچینی سی بےچینی ہوئی تھی۔
رمل نے اسکا ہاتھ جھٹکتے چہرہ پھیر لیا اسکا جسم ٹھنڈ سے اکڑنے لگا تھا۔ جہاں اسکی اداسی پر وه ساکت ہوا تھا وہیں اسکی ناراضگی پر سانس تھمی تھی۔
” رمل مجھے بھی نہیں بتائیں گی کیا ہوا ہے۔۔؟ “
ہاتھ بڑھا کر اسکی ٹھوڑی تھامتا وه اسکا چہرہ اپنی جانب کر گیا۔ اسکے اتنے پیار سے پوچھنے پر رمل کو شدید رونا آیا تھا، بےچین لمحات کی سوغات سونپ کر وه ستمگر کس طرح محبت سے اسکی اداسی کا سبب پوچھ رہا تھا۔
” تم اب بھی نہ آتے، بلکہ نکلو یہاں سے ، جہاں سارا دن رہے وہیں رات بھی گزار لیتے، کیا تمہیں پتہ نہیں تمہاری بیوی بھی ہے ایک جو تمہارا انتظار کر رہی ہوگی جسے تمہارے وقت کی ضرورت ہے، لیکن تمہیں بس کام کرنا ہے اب آئیندہ تم میرے پاس بھی آئے نہ تو میں تمہیں شوٹ کر دوں گی ، میں ہی پاگل ہوں جو تمہارے بارے میں سوچتی رہی، تم نے تو ایک فون کال کیا میسج کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔!!! “
اسکے سینے پر زور سے ہاتھ مارتی وه نان اسٹاپ بولتی ہانپنے لگی تھی۔ آنکھوں میں غصہ ہی غصہ تھا۔
اسکے دھکا دینے سے وه جو پنجوں کے بل بیٹھا تھا گھاس پر گر گیا، ٹھنڈی گھاس پر ہاتھ رکھ کر سنبهلتا وه اسکے غصیلے آگ اگلتے تاثرات دیکھتا لب دبا گیا۔۔
اسکی شہد رنگ آنکھیں مسکرائی تھیں۔ تو اس کی کمی کسی نے بہت شدت سے محسوس کی تھی ، آہا ۔۔! یوں لگتا ہے محبت کسی کو رفتہ رفتہ اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہے۔۔!
ذہن کے دریچوں میں سر اٹھاتی سوچوں کو جھٹکتا وه كهسک کر اسکے مقابل بیٹھ گیا۔ بغیر ایک لفظ کہے جھک کر وه اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا۔
رمل نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کئے پھر آپس میں پیوست کر لیے۔ اسکے پرشدت بوسے نے جیسے ایک ہی پل میں اسکے سارے الفاظ چھین لیے تھے۔ یہ محبت اتنی منہ زور کیوں ہوتی ہے۔۔؟
” اندر چل کر بات کرتے ہیں ۔۔؟ “
اسکی آنکھوں میں جھانکتا وه جیسے التجا کر رہا تھا اسے اپنی پرواہ نہیں تھی، فکر تھی تو اپنی ” روٹھی جان ” کی۔۔۔!
” مجھے نہیں جانا، تمھیں جانا ہے تو جاؤ۔۔۔! “
لہجہ ہنوز روٹھا تھا، اس کا اندازِ ناراضگی بھی میر حاصل کو گھائل کئے جا رہا تھا وه ہر کسی سے تھوڑی روٹھا کرتی ہے۔۔؟ گہری سانس ہوا کے سپرد کرتا وه اسکے ساتھ تنے سے کمر ٹکا کر بیٹھ گیا۔
” آئی ایم سوری میرا موبائل بند تھا۔۔! میں چارج کرنا بھول گیا تھا، آج یتیم خانوں کی بہتری کے لیے پراجیکٹس بنائے گئے، میں آپ کی یاد سے غافل نہیں تھا ایک لمحہ بھی، لیکن وه بھی تو ضروری تھا نہ ۔۔ کیا میں نے غلط کیا۔۔۔؟ “
کوٹ کے بٹن کھول کر دونوں ہاتھ بڑھا کر اسے خود سے لگاتا وه کوٹ اسکی پشت پر پھیلا گیا۔
رمل کو اپنی ناراضگی زائل ہوتی محسوس ہورہی تھی وه جانتی تھی وه بہت اہم کام کر رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے پاس نہ ہونے پر وه خفا ہوئی تھی۔کیونکہ وہ اسکی عادی ہوتی جا رہی تھی اور۔۔۔ عادتیں تو محبتوں سے زیادہ جان لیوا ہوا کرتی ہیں۔۔!
” آئی ہیٹ یو ۔۔۔! “
اسکے سینے پر سر رکھ کر بازو اسکے گرد باندھتی وه ناک سکیڑ کر بولتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔ میر کے گال میں گہرا ڈمپل ابھر کر معدوم ہوگیا۔
“مجھے پسند ہیں وه لوگ جنھیں میں پسند نہیں۔۔! “
وه بھی اسکا ساتھ دینے کو بول گیا۔ چلو شکر وه مان تو گئی تھی بس ہڈیوں میں گھستی ٹھنڈ میں کھلے آسمان تلے بیٹھ کر کچھ وقت گزارنا تھا ، بس !!!
” زیادہ شوخے نہ ہو ۔۔! “
اسکے سینے پر ٹھوڑی ٹکا کر چہرہ اٹھاتی وه آنکھیں سکیڑ گئی آنکھوں کی بجهی جوت جل اٹھی تھی۔
” جیسا آپ کا حکم ۔۔۔! “
نرمی سے کہتا وه جھک کر اس کے لبوں کو نرمی سے چھو گیا۔ رمل کا چہرہ سرخ پڑا تھا وه سرعت سے چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی۔
میر حاصل نے درخت کے تنے سے سر ٹکاتے خود کو جیسے تهپکا تھا۔ آج تو اسکا ہر انداز ہی دل میں کھبتا جا رہا تھا، اسکی قربت بڑا امتحان تھا ۔۔۔!
” تو کوئی مجھے بہت یاد کر رہا تھا آج ۔۔۔؟ “
کہتے ہوئے اس نے مسکراہٹ دبائی تھی۔ رمل نے خفگی سے سر اٹھاتے اسکی پشت پر مکا مارا۔
” غلط ۔۔۔ ہاں اگر تم مجھے منا نہ پاتے تو گھر میں گھسنے نہ دیتی ۔۔! “
ہوا کا جھونکا گزرا تو وه خود کو اس میں چھپاتی دانت پیس کر بولی۔ وه رمل یوسف تھی، ایسے کیسے مان جاتی۔ میر حاصل نے مسکراہٹ دبائی پھر اسے تنگ کرنے کی غرض سے بولا۔
” آپ مانتی نہیں ہیں ورنہ میں جانتا ہوں آپ کو بھی محبت ہے۔۔”
جوابا اسکی دهیمی آواز ابھری۔۔
” خوش فہمی ہے تمہاری ۔۔! “
اسکے دهیمے ہوتے لہجے پر وه سر جھکا کر اسے دیکھنے لگا جو آنکھیں موندے ہوئے تھے، چند پلوں کا کھیل تھا وه سکون سی اسکے حصار میں پڑی اسکے سینے پر سر رکھے سو چکی تھی۔
وه سکون سا سکون محسوس کر رہا تھا۔ جھک کر اسکا گال چومتا وه احتیاط سے اٹھتا اسے بانہوں میں اٹھا کر اندر کی جانب بڑھا تھا۔
❤❤❤
آسمان آج بڑا خوفناک لگ رہا تھا دن کے وقت بھی جیسے سیاہی چہار سو چھاتی ہر شے کو لپیٹ میں لینے لگی تھی۔ ایسی تاریکی میں نظر آتے سرخ بادلوں کے ٹکڑے خوفزدہ کر رہے تھے۔
بادلوں کی گرج وقفے وقفے سے گونج رہی تھی دهند کا جیسے طوفان اٹھ رہا تھا۔ ریل کی پٹری سے قریب بیس قدموں کی دوری پر جھاڑیاں تھیں جن کے پاس بیٹھے دو کتے بری طرح بھونک رہے تھے۔
ہر سو ویرانی کا راج تھا۔ ایسی جگہ کسی زی روح کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دفعتاً جھاڑیوں میں سے آواز ابھری، کتے ڈر کر وہاں سے بھاگ گئے۔
ایک سایہ سا نمودار ہوا منظر واضح ہوا تو مکمل سیاہ لباس میں چہرہ مکمل چھپائے قہر برساتی آنکھوں سے دور ریل کی پٹری دیکھتا وه جھاڑیوں سے باہر نکلتا دو قدم چل کر ٹھہر گیا۔
سیاہ دستانوں میں مقید ہاتھوں نے کچھ دبوچ رکھا تھا۔ جھک کر دونوں مٹھیوں میں جکڑے بالوں کو زور سے دبوچتا وه باہر نکلا۔ وه دو وجود تھے، زندہ مگر موت کی آغوش میں جاتے۔۔۔
وه سر کے بالوں سے پکڑ کر انہیں گھسیٹتا آگے بڑھنے لگا۔
وه دونوں پتھریلی زمین سے رگڑ کھاتے اسکے رحم و کرم پر تھے۔ ان کے منہ بند کر دیے گئے تھے آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھلی ہوئی تھیں۔
بےدردی سے انہیں گھسیٹتا وه ریل کی پٹری کے قریب جھکا۔ بازو میں لپٹی رسی اتارتا وه ان میں سے ایک وجود کو جھٹکے سے پٹری پر پھینکتا اسے باندھنے لگا یوں کہ اس کا سر بس پٹری پر تھا۔
اپنا کام مکمل کر کے وه ہاتھ جھاڑتا اٹھا۔ گدلی مٹی اسکے ہاتھوں سے جھڑتی نیچے لیٹے وجود کی آنکھوں میں پڑتی اسے بلبلانے پر مجبور کر گئی۔
وه سر دائیں بائیں پٹخنے لگا۔ عرش نے جھک کر اس کے منہ میں ٹھونسا کپڑا نکالا۔
” چچ چچ ۔۔۔! کچھ کہنا چاھتے ہو ؟ امم کیا ہوا درد ہورہا ہے بولو ۔۔۔ مگر بولو گے کیسے؟ تمہاری زبان تو بیچ جھاڑیوں میں گری ہے اب تک کتے کھا چکے ہوں گے۔۔! “
تمسخر سے کہتے عرش نے اسکے خون آلود منہ کو ایک نظر دیکھا۔ اسکی لہو رنگ آنکھوں میں تمسخر نمایاں ہوا۔ وه پیچھے ہٹ کر دوسرے وجود کو گھسیٹ کر پٹری کی دوسری جانب لایا اور پہلے والے کی طرح باندھ دیا۔ دور سیٹی کی آواز سنائی دی تھی۔ وه ان کی پھٹی آنکھوں میں ہلکورے لیتے خوف کو دیکھتا پرسکون ہوگیا۔ اس نے جیب سے فون نکال کر كیمره آن کیا نفرت سے شاہ رخ اور دانیال کے بےڈھنگے وجود کو دیکھتے اس نے تصویر موبائل میں محفوظ کرلی۔ دونوں کی ایک ایک ٹانگ اور بازو غائب تھا۔ ایسی خوفزدہ حالت تھی کہ دل ڈر جائے مگر وه عرشمان شاہ تھا جس نے ان پر رحم نہیں کھایا تھا جیسے انہوں نے معصوم جانوں پر رحم نہیں کیا تھا۔ اس نے ان کی ایسی حالت کردی تھی کہ لوگ عبرت حاصل کریں اور جانیں کہ دنیا میں انصاف کی تلوار اب بھی موجود ہے جو ظالموں اور جابروں کے سر دھڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر قادر ہے۔ ٹرین قریب آنے لگی تو وه پلٹ گیا۔ پٹری سے اتر کر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا وه سیٹی بجاتا ہموار قدموں سے آگے بڑھنے لگا۔ کانوں کے پردے پهاڑتی ٹرین کی آواز سناٹے میں دور تک گونج رہی تھی۔ آگے بڑھتی ریل ان دونوں کا سر کچلتی چلی گئی۔ خون کے چھینٹے اڑ کر پتھریلی زمین پر گرے تھے۔
وه بغیر مڑ کر دیکھے جا چکا تھا۔ ٹرین بھی دھوئیں کے مرغولے چھوڑتی وہاں سے گزر گئی۔
باقی رہ گیا تھا تو خاک ۔۔۔! خاک ہوئے وجود جو کبھی اس مٹی بدن پر اتراتے تھے، طاقت کے زور لیے خدا کے انصاف کو بھول بیٹھے تھے۔۔! اب خاک ہوئے پڑے تھے،
مٹی میں ملے مٹی کے جسم !!!
❤❤❤
“قلعہ رانی کوٹ ” ۔۔۔!!!
سندھ کے ضلع “جامشورو” میں واقع یہ قلعہ ‘ انیسویں صدی ‘ میں تالپور کے امیر ” میر خرم علی خان ” اور “میر مراد علی خان” نے تعمیر کروایا تھا۔
قلعہ بندی کی دیوار جو ” گریٹ وال آف سندھ” کے نام سے بھی جانی جاتی ہے قریب 35 کلومیٹر اونچی ہے۔۔!
قلعے کی صاف ستھری زمین سے جڑی چوڑی سیڑھیاں بہت اوپر تک جاتی تھیں۔
صاف ستھری سرخ اینٹوں کی سیڑھیوں سے اوپر جاؤ تو کھلے حصے میں دو جائے نماز بچھی تھیں جن پر صالح اور ابراھیم قبلہ کی طرف رخ کئے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے۔
وه اس وقت سیاہ شرٹ کے ہمراہ ہری فوجیوں جیسی پتلون میں ملبوس تھے۔ قریب ہی ان کا سامان رکھا تھا جونہی وه نماز ادا کر کے اٹھے کسی کے سیڑھياں چڑھنے کی آواز آئی۔
وه ان کے ساتھی تھے جو ضروری معلومات لے کر آئے تھے۔ صالح اور ابراھیم کو متوجہ پا کر انہوں نے ہاتھ کنپٹی تک لے جاتے سلیوٹ کیا۔
” سر قریب ہی ان کا ٹھکانہ ہے۔۔! بابا صاحب نے ” گلزار خان” کے ہاں پناہ لی ہے، علاقے کا چھٹا ہوا بدمعاش ہے، اوپر تک تعلقات ہیں۔۔۔! سر یہ نقشہ ہم نے برآمد کیا ہے شاید اگلی ڈیلنگ وه اس جگہ کرنے والے ہیں ۔۔۔ “
اس جوان نے ساری معلومات سے انہیں آگاہ کرتے نقشہ کھولا تو صالح نے ایک نظر ابراھیم کو دیکھا دونوں کے چہروں پر گہری سنجیدگی تھی۔ وه جوان کہہ رہا تھا۔
” یہ دیکھیں سر ۔۔۔ اس جگہ پر آج کی تاریخ اور وقت لکھا ہے ۔۔!”
ایک جگہ انگلی رکھتا وه پرسوچ نظروں سے ابراہیم کو دیکھنے لگا۔
” میجر آج ہم انہیں نہیں جانے دیں گے۔۔! سب جوانوں کو تیار کرو ۔۔۔! ہم شام کا اندھیرا پھیلنے سے پہلے اپنا مشن پورا کریں گے ۔۔۔! “
صالح کے مظبوط سپاٹ لہجے پر سب نے سر کو خم دیا ۔۔! وه جوان جس طرح آئے تھے واپس پلٹ گئے۔ ان کے جاتے ہی صالح زمین پر رکھے بیگ سے جھک کر ہتھیار نکالتا چیک کرنے لگا۔
ابراھیم نے پرسوچ نظروں سے آسمان کو دیکھا جو بادلوں سے ڈھکا تھا پھر سر جھکا کر ہاتھ میں پکڑا نقشہ دیکھنے لگا۔
” اب نہیں بابا صاحب ،، آج آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔۔۔! ” نفرت سے سوچتا وه آئندہ پیش آنے والے حالات کا اندازہ لگاتا پلان ترتیب دینے لگا۔
❤❤❤
سرخ اینٹوں کی اس اونچی عمارت کی دیوار پھلانگتے وه بغیر آواز پیدا کئے اندر کود گئے۔ ان کی ہر حرکت محتاط تھی وه تعداد میں چھ تھے۔ سیاہ لبادوں میں ہتھیاروں سے لیس ۔۔۔۔!
یہ عمارت کارخانے جیسی لگتی تھی۔ باہر کافی وسیع صحن تھا جہاں تین گارڈز کا پہرہ تھا۔ اندرونی حصے کی جانب سے اوپر فضا میں دھوئیں کے مرغولے اٹھ رہے تھے، ناگوار سی بو ہر سو چھائی تھی۔
صالح نے جھک کر پلر کی آڑ میں ہوتے دو انگلیوں سے ابراھیم کو اشارہ کیا جو سمجھ کر جھک کر قلابازی کھاتا کسی کی نظروں میں آئے بغیر دوسری جانب پہنچ گیا۔
یونہی آہستہ آہستہ ان چھ غازیوں نے تینوں پہرے داروں کو گھیر کر پلک جھپكنے میں انہیں بےبس کر دیا وه حواس کھوتے لہرا کر نیچے گرے۔
راستہ صاف ہوتے ہی صالح کی ہمراہی میں وه عمارت کے اندرونی حصے میں داخل ہوگئے۔
تنگ سی راہداری تھی جس کے آگے سیڑھياں تہہ خانے تک جاتی تھیں۔ گہری بھوری دیواروں پر عجیب و غریب نقشے بنے تھے۔ نہایت محتاط انداز میں راستے کا تعین کرتے وه آگے بڑھنے لگے۔
❤❤❤
تہہ خانے کے ایک خفیہ کمرے میں وه تینوں سر جوڑ کر بیٹھے جہاز بحری کے زریعے سمگل ہونے والی ڈرگز کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ داڑھی سہلاتے بابا صاحب نے پہلو بدلا۔
انہوں نے پرسوچ نظروں سے لمبی مونچھوں والے گلزار خان اور اسکے ساتھ بیٹھے ہندو کو دیکھا جو سفید کرتے پاجامے میں ماتھے پر سرخ رنگ لگائے ہوئے تھا۔ اسکے منہ پر لعنت برس رہی تھی جیسے۔
” گلزار خانہ ۔۔۔ لڑکیوں کی سمگلنگ دوسرے راستے کرنی چاہئے، ایک ہی راستے جانا مناسب نہیں اگر کوئی گڑبڑ ہوگئی تو کم از کم ایک راستہ تو ہمارے لیے جان بچانے کا سبب بنے گا۔ مال دوسرے راستے اور لڑکیاں کسی اور علاقے سے بهجوانی چاہئے۔۔! “
بابا صاحب کی بات پر گلزار خان سوچ میں پڑ گیا۔
” خانہ خراب ۔۔۔ یہاں ہمارے نام سے بچہ بچہ کانپتا ہے کسی کی جرات نہیں کہ ہم پر ہاتھ ڈالے مگر تمہاری بات پر غور کرے گا۔۔۔! “
بابا صاحب کو دیکھ کر کہتا وه اس ہندو کی جانب متوجہ ہوا جو اسکا پرانا ساتھی تھا اور انڈیا میں مال سمگل کرتا تھا۔
” تم بتاؤ سب ٹھیک اے؟ اپنا بچہ بھی لایا تم ساتھ ۔۔۔ کیا وجہ ہے ۔۔۔؟ “
گلزار خان نے ساتھ والے کمرے میں موجود اسکے دس سالہ بیٹے کی بابت پوچھا تو وه مسکرا دیا۔
” اچھا ہے ابھی سے ان چیزوں سے آشنا ہوجائے ، ساتھ رہے گا تو بہتر سمجھے گا، اسکی ذہن سازی ہوگی۔۔ آخر کل کو اسے بھی یہی سب کرنا ہے ۔۔! “
وه سائیڈ سمائل دیتا بولا تو گلزار خان قہقہہ لگا گیا وہیں بابا صاحب مسکرا دئے۔
” واہ خانہ ، واہ ۔۔۔! جیو ۔۔۔ ہاہاہا ۔۔۔! “
وه باتوں میں مصروف تھے جب زوردار آواز سے دروازه کھلا وه چونکتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
آرمی کے جوانوں کو دیکھ کر تینوں کا رنگ فق ہوا گلزار خان نے جلدی سے جیب سے لوڈڈ پسٹل نکال کر فائر کرنا چاہا جب ابراھیم نے پلک جھپكنے میں اسکے ہاتھ کا نشانہ لیا۔ سائلنسر لگی گن کی گولی گلزار خان کے ہاتھ میں پیوست ہوگئی۔ وه چیختا اپنا ہاتھ تھام گیا۔ بابا صاحب نے آنکھیں پھاڑتے صالح کو دیکھا جو اسکی جانب بڑھا تھا۔
وه چہرے پر ہاتھ پھیرتے پچھلے دروازے کی جانب بھاگے۔ اس سے پہلے وه دروازه کھولتے صالح نے انہیں گریبان سے پکڑتے پیچھے دهكیلا۔
” لیث ۔۔۔ تم ۔۔۔ مجھے جانے دو ، میں ہاتھ جوڑتا ہوں ۔۔ دیکھو اگر تم مجھے جانے دو تو میں تمہیں بہت دولت ۔۔۔۔”
وه ہاتھ جوڑ کر گڑگرڑانے لگے مگر بات مکمل ہونے سے قبل ہی صالح نے ایک زوردار تهپڑ ان کے منہ پر مارا۔ تھپڑ اتنا زناٹے دار تھا کہ ان کے چہرے کی جلد پھٹ گئی۔
بابا صاحب نے آپے سے باہر ہوتے کلائی سے بندها چاقو نکالتے اس پر وار کیا جب صالح نے ابراھیم کو دیکھنے کی غرض سے چہرہ پھیرا تھا۔
” بابا ۔۔۔!!”
ابراھیم چلا کر ان کی جانب دوڑا جس پر صالح چوکنا ہوگیا۔ ایک سیکنڈ کی دیر کئے بغیر وه جھک گیا جس پر بابا صاحب کا وار خالی گیا۔
ابراھیم کی پشت دیکھتے اس ہندو نے زمین پر گرا پسٹل اٹھا کر فائر کر دیا۔ تیز گرم سلاخ ابراھیم کو بازو میں گھستی محسوس ہوئی۔ اسکا رنگ زرد پڑا تھا۔ صالح نے دھاڑتے ہوئے بابا صاحب کو زور سے زمین پر پٹخا جن کا سر پتھر کی چوکی سے جا لگا۔ خون کا فواره جیسے پھوٹ پڑا تھا۔
پاک آرمی کے باقی جوان بھی چوکنا ہوتے صورتحال پر قابو پانے لگے جب عین اسی وقت دروازے سے گلزار خان کے ساتھی بڑی تعداد میں اندر داخل ہوتے ان پر ٹوٹ پڑے۔
ابراھیم نے بازو کی پروا کئے بغیر گ*ن لوڈ کرتے اسکی ہر گولی ملک دشمنوں کے سینے میں اتار دی وہیں صالح غصے سے پاگل ہوتا قریب پڑی لوہے کی کرسی اٹھا کر وار کرتا مقابل کا سر کھول گیا۔
وه چھ اپنے جنون اور جذبہ ایمانی سے ان پر غالب آگئے۔ جلدی سے بابا صاحب، گلزار خان اور ان کے ہندو ساتھی کو کرسیوں سے باندھ کر وه باہر نکلے۔
جونیئر سپائی نے جلدی سے ابراھیم کو فرسٹ ایڈ دی اسی دوران صالح نے ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے پٹرول برآمد کر لیا۔
اندر باہر پٹرول چھڑکتا وه نفرت سے آخری نظر عمارت پر ڈالتا ابراھیم کا کاندها تهپکتا سب کے ساتھ باہر نکلا۔ ماچس سے آگ لگاتے وه پوری قوت سے دوڑے جب زبردست دهماکے کی آواز آئی۔
فیکٹری میں جتنا بھی اسلحہ اور خطرناک کیمیکلز تھے سب جل کر راکھ ہونے لگے تھے بشمول ان ملک دشمنوں کے جو یونہی زندہ بهسم کئے جانے کے قابل تھے۔
ابراھیم اچانک رکا تھا، عین اسی وقت صالح کے قدم تھمے دونوں نے بیک وقت مڑ کر دیکھا۔ آس پاس سے گزرتے کچھ لوگ دهماکے کی آواز سنتے جمع ہونے لگے تھے ۔
صالح کا دل پہلی بار خوف سے دھڑکا۔ انہوں نے کسی بچے کی آواز سنی تھی، بہت مدھم سی، سلگتی آگ کے شور میں دبتی ہلکی سی آواز ۔۔۔!
” نہیں ۔۔۔! ایسا نہیں ہوسکتا ، ہماری معلومات غلط نہیں ہوسکتیں ۔۔۔! “
ابراھیم کو دیکھ کر بڑبڑاتا وه ہاتھ پر مکا مارتاآگ اگلتی عمارت کی طرف دوڑا۔
” بابا ۔۔۔! “
ایک لمحے کی دیر کئے بغیر ابراھیم بھی اسکے پیچھے جانے لگا جب اسکے جونیئرز نے اسکے سامنے آتے روک لیا۔۔
” سر ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے آپ پہلے ہی زخمی ہیں ۔۔۔! “
وه ابراھیم کی زرد رنگت اور زخمی بازو دیکھتے سر جھکا کر بولے تو وه لب بھینچ گیا۔۔
” کیا تم مجھے روک سکتے ہو۔۔۔؟ بولو ، روک سکتے ہو مجھے۔۔!!!”
وه ان کے منہ پر داڑھتا انہیں دهكیل کر آگے بڑھا۔۔ داخلی دروازے کے سامنے آگ کا گولہ سا گرا تھا۔
اس سے پہلے وه دہکتی آگ کی پرواہ کئے بغیر اندر کودتا صالح بازوؤں کے حصار میں بچے کو چھپائے باہر کودا تھا۔۔
اسکا چہرہ سیاہ اور جگہ جگہ سے زخمی تھا۔ جسم پر بھی جاجا زخم آئے تھے۔ سپاہیوں نے آگے آتے سہمے بچے کو صالح سے لینا چاہا جب وه سہم کر صالح سے چپك گیا۔
وه اسکی پیٹھ سہلاتا آگے بڑھ گیا۔ لوگوں کے ہجوم سے کسی نے کہا ۔۔۔
” ارے یہ بچہ تو ہندو ہے، اسکی پیشانی دیکھو ، تلک لگا ہے اور کپڑوں پر بھی بت بنا ہے ۔۔! اسے کیوں بچایا ؟ “
ان کی چھوٹی سوچ پر صالح نے کاٹ دار نظر ان پر ڈالی۔
” میں انسان ہوں ۔۔۔ درندہ نہیں ۔۔۔!!! “
چبا چبا کر کہتا وه بچے کی جانب متوجہ ہوا جو ڈر کر رونے لگا تھا۔۔
” سر اب اسکا کیا کریں گے ۔۔؟ “
جونیئر نے پوچھا تو ابراھیم نے صالح کی آنکھیں پڑھتے معصوم بچے پر نظریں جمائیں۔
” اسے پاک آرمی کے حوالے کیا جائے گا، یہ مستقبل کا فوجی ہے ۔۔۔!”
ہموار لہجے میں کہتا وه صالح کی ہمراہی میں آگے بڑھ گیا ۔ شام کا اندهیرا پھیلنے لگا تھا مگر روشن صبح ان کی منتظر تھی۔۔!