Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ابھی وه کورٹ سے قریب بیس منٹ کی مسافت پر تھے جب حیان نے بلیک ‘ڈیمن’ کار کو اپنی جانب آتے دیکھا۔۔ وه کار آہستہ سے اس کی موبائل کے برابر چلنے لگی۔۔
رمل نے گلاس ونڈ نیچے سركاتے اسے اشارہ کیا۔۔ وه سمجھ کر سر ہلاتا آگے ہوا ہے اس کے بڑھائے ہوئے ڈاکومینٹس تھام کر ہاتھ اندر کرتا اسے تھمز اپ کر گیا۔۔
وه سر کو خم دیتی ان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگی۔۔۔بلیک ڈیمن کبھی آگے چلی جاتی کبھی پیچھے۔۔
اسی طرح یہ قافلہ منزل کی جانب رواں تھا جب سڑک کے بیچوں بیچ لوگوں کا رش پڑ گیا۔۔ تین چار آدمی بری طرح جھگڑ رہے تھے جن کے گرد لوگ گھیرا ڈالے تماشہ دیکھ رہی تھے۔۔
“سر لگتا ہے پھڈا ہوگیا ،، دیکھنا پڑے گا۔۔!”
علی نے سر باہر نکالتے اسے صورتحال سے آگاہ کیا۔۔
“گاڑی روکو۔۔۔!”
اس کے حکم پر پولیس موبائل جھٹکے سے رکی اسی کے ساتھ پیچھے آتی گاڑیوں کو بھی بریک لگا۔۔
حیان باہر نکل کر ان لڑکوں کی طرف بڑھا ہی تھا جب زبردست دهماکہ ہوا۔۔ زبردست آواز بلند ہونے پر سڑک پر موجود لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔۔ قریب ہی کسی بلڈنگ میں گیس سلنڈر پھٹا تھا جس سے کچھ لوگ زخمی ہوگئے جبکہ باقی اندھا دهند بھاگتے باہر نکل رہے تھے۔۔ چند سیکنڈ پہلے کی خالی سڑک لوگوں سے کھچا کھچ بھر گئی تھی۔۔ حیان فورا دوڑ کر واپس آیا۔۔ دھکم پیل میں اس نے جگہ بناتے آگے بڑھ کر عرش کو اشارہ کیا جس نے سر ہلاتے ایرا کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔۔ جس طرح کا ماحول اچانک بن گیا تھا اس سے وه سب وہیں پھنسے رہتے۔۔ علی آنکھیں سکیڑتا ان لڑکوں کو ڈھونڈنے لگا جن کی لڑائی کی وجہ سے انہوں نے گاڑی روکی تھی۔۔ وه سب گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئے تھے۔۔۔ وه جلدی سے حیان کے پاس آیا۔۔ “سر وه لڑکے مسٹر انڈیا کی طرح غائب ہوگئے ہیں ۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نہ۔۔۔؟” شور کے باعث وه بلند آواز میں بولا تھا۔۔ اس کی بےتکی بات پر حیان نے سخت نظروں سے اسے دیکھا۔۔ اتنا تو اسے بھی سمجھ آ رہا تھا کہ یہ سب انہیں روکنے کے لیے کیا گیا تھا تا کہ وه وقت پر کورٹ نہ پہنچ سکیں۔۔ اچانک اسکی نگاہ قدرے ایک طرف کھڑی بلیک ڈیمن پر پڑی باقی سب کو تو وه چیک کر چکا تھا۔۔ رمل کی کار پر نظر جماتے اس نے دوسری پولیس موبائل کے کانسٹیبلز کو صورتحال پر قابو پانے کا حکم دیا۔۔ پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وه کار کے قریب پہنچا۔۔ اس نے جھک کر ونڈو سے اندر جھانکا وه غائب تھی۔۔! 🍁🍁🍁 بلڈنگ کی اوٹ سے سارا منظر دیکھتا وه سیدھا ہوا۔۔ وه مکمل سیاہ لباس میں ملبوس چہرہ ڈھانپے ہوئے تھا۔۔ اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے تھے۔۔ کام وه کر گیا تھا نام کسی اور پر آنا تھا۔۔ موقع سے فائدہ اٹھانا تو کوئی اس سے سیکھتا۔۔ اپنی فتح پر مسکراتا وه پلٹ گیا۔۔ چند سیکنڈ بعد وه وہاں سے غائب تھا۔۔ 🍁🍁🍁 جیسے ہی لوگوں کا رش پڑا تھا انھوں نے ان لڑکوں کو ایک اشارہ کیا پھر وه چہرہ ڈھانپے آہستہ آہستہ انکی گاڑیوں کے پیچھے آ کھڑے ہوئے۔۔ وه سڑک چھاپ غنڈے تھے جنھیں ایرا کو اغوا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا نہ وه کورٹ پہنچتی نہ کوئی گواہی ہوتی۔۔
جونہی انہوں نے پسٹل نكالی اچانک سے بلڈنگ میں بلاسٹ ہوگیا جس پر وه بھی ایک پل کو گهبرا گئے۔۔
پھر یوں ہوا کہ لوگوں کی دهكم پیل نے ان کا کام آسان کر دیا۔۔ وه اس بات سے بےخبر تھے کہ ایرا پہلے ہی گاڑی سے نکل چکی تھی۔۔ انہیں کہا گیا تھا کہ دو پولیس موبائل کے بیچ ایک گاڑی ہے اسی میں وه لڑکی ہے!
انھیں تصویر بھی دکھائی گئی تھی اس لڑکی کی۔۔ ایرا کی قسمت اچھی تھی یا ان کا برا وقت تھا کہ دهكم پیل کی وجہ سے رمل کی گاڑی ان پولیس موبائل کے قریب آ چکی تھی جبکہ عرش لوگوں کی گاڑی ذرا پرے ہٹ چکی تھی۔۔
وه جلد از جلد اپنا کام کر کے نکلنا چاہتے تھے۔۔ خود کار کے پاس جانا ان کو سب کی نظروں میں لا سکتا تھا لہذا انہوں نے قریب دوڑتے ایک بچے کو گریبان سے پکڑتے اسکی گاڑی کے قریب پھینکا۔۔
نتیجتاً ان کی توقع کے مطابق وه فورا کار کا دروازه کھول کر باہر نکلی تھی۔۔ اس سے پہلے وہ بچے کو اٹھاتی انہوں نے پل میں اس کے منہ پر رومال رکھا۔۔
کلوروفام کی مہک اسکی سانسوں میں اترتی گئی تھی۔ حواس پل میں سلب ہوئے اسکا جسم ڈھیلا پڑا ہی تھا جب وه نہایت ہوشیاری سے کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی گاڑی میں اسے ڈال کر وہاں سے رفو چکر ہوگئے۔۔
یہ کام اتنی ہوشیاری سے کیا گیا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوسکی۔۔
🍁🍁🍁
نوافل ادا کر کے چہرے کے گرد ہی دوپٹہ لپیٹے وه لاؤنج سے گزرتی کچن میں آئی جہاں نوشین اور نگہت اپنا اپنا کام کر رہی تھیں ساتھ ساتھ وه باتوں میں مصروف تھیں۔۔
انہیں کچھ ضروری ہدایت یات دے کر وه لان میں چلی آئی جہاں سورج ہلکا سا جھلک دکھاتا بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتا اور کبھی اپنا مکھ دکھانے کو بیتاب یکایک دیدار کرا دیتا۔۔
دھوپ چھاؤں کے اس کھیل کو وه فرصت سے دیکھ رہی تھی جب دیوار پھلانگ کر دو ہٹے کٹے آدمی اندر کودے۔۔!
وه آواز پر پلٹی اسکا رنگ اڑا تھا حلق سے آواز نکالنے کی کوشش میں ہلکان وه قدم پیچھے لیتی پلٹی اور دوڑ لگا دی۔۔
“نگہت۔۔؟ نوشین۔۔۔؟”
اندھا دھند اندر کی طرف بھاگتی وه پھٹی پھٹی سی آواز میں چلائی تھی۔۔ وه آدمی پل میں اس تک پہنچے اسکی کلائی دبوچتے وه اسے باہر کی اوڑھ گھسیٹنے لگے۔۔!
اندر ان تک اسکے چیخنے کی آواز پہنچ چکی تھی نگہت نے دہل کر نوشین کو دیکھا جو خود بھی پریشان ہوتی اس کے ساتھ کچن سے باہر نکلی۔۔
چھپ کر لان میں جھانکتے ان کی آنکھیں پھیلیں۔۔ اسی اثنا میں بشیر اوپر کی منزل سے نیچے اترتا دکھائی دیا۔۔
“وے بشیر ادھر آ جلدی سے۔۔۔ باہر دو گینڈے نما آدمی ہیں بی بی جی کو نہ ترو ترو کے۔۔۔”
نوشین نے فل ڈرامائی انداز میں کہنا شروع کیا جب نگہت نے اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا وہاں زنیشہ بی بی مشکل میں ہیں اور اس ناٹنکی کی دکان کو ڈرامے سوجھ رہے ہیں۔۔!
“سٹ اپ۔۔۔!”
اسے گھرکتی وه جلدی جلدی دهیمی آواز میں بشیر سے کہنے لگی “بشیر آج تیری وفاداری کا امتحان ہے وه دو ہیں اور تو ایک۔۔! جا کے ان کا کچومر نکال دے ہم بھی تیرے پیچھے آتے ہیں ذرا کچن سے “گلّی ڈنڈے” کا انتظام کر آئیں۔۔!”
اس کی بات سن کر بشیر میں جوش آیا وه رومال کاندھے پر جھٹک کر ڈالتا شانے اکڑا کر آگے بڑھا جب جاتے جاتے نوشین نے ہانک لگائی۔۔
“وے بشیرے ان کا نَک پَن دئیں باقی پانسے ہم سیک دیں گی۔۔!” بشیر نے سنی ان سنی کرتے باہر لان میں قدم رکھا جہاں وه لان سے منسلک چھ فٹ چوڑی راہداری میں اسے گھسیٹتے لے جا رہے تھے۔۔
زنیشہ نے دائیں کلائی چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہوتے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بشیر کو وہاں پا کر اسے حوصلہ ملا۔۔ اس نے غصے سے الٹے ہاتھ کا تھپڑ ایک کو دے مارا جس پر وه آگ بگولا ہوتا اسکے بالوں کو کھینچنے کی غرض سے ہاتھ بڑھانے لگا جب بشیر سپر مین کی طرح اڑ کر اسکی پیٹھ سے چمٹ گیا۔۔
وه دونوں غنڈے ایک پل کو ہڑبڑا گئے کہ یہ کونسی بلا انہیں چمٹ گئی۔۔ اسی دوران اس کی گرفت زنیشہ کی کلائی پر ڈھیلی پڑی جس سے وه ہاتھ چھڑوا کر پیچھے کو بھاگی۔۔
دوسرے آدمی نے اسے دبوچنا چاہا جب دائیں جانب سے ایک کراڑی چپیڑ اسکے منہ پر پڑی۔۔ وہ اپنے گال پر ہاتھ پھیرتا سلگ کر دائیں جانب دیکھنے لگا جب عین اسی وقت نگہت نے اسکا بایاں گال سینک دیا۔۔
وه زور سے چلاتا پلٹا تو وه دونوں نتھنے پھلائے اسے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگیں۔ نگہت کے ہاتھوں میں دو بیلنے تھے جبکہ نوشین کچھ نہ سوجھتے درميانے سائز کی دیگچی اٹھا لائی تھی۔۔
اگر بیلنے سے کام نہ بنا تو میں نے پوری جان لگا کر یہ پتیلہ اس گینڈے کی گندی سی تون پر دے مارنا ہے! اس سے پہلے کہ وه ان سے دو دو ہاتھ کرتا وه چار چار ہاتھ کرتیں اسکے پانسے سیکنے لگیں۔۔ زنیشہ آنکھیں بڑی کیے ہنسی کنٹرول کرتی انہیں دیکھ رہی تھی جنہوں نے اسے مار مار کر اس کا بھرتا بنا دیا تھا۔۔ وہیں بشیر بھی چھپکلی کی طرح اس سے چمٹا اسے زمین پر گرا کر نوشین کی خواہش کے مطابق اسکا “نک” پن رہا تھا۔۔ جوش و جنون کے آگے طاقت ہار جاتی ہے وه ہٹے کٹے آدمی بھی ان کا مقابلہ نہ کر سکے تھے۔۔ جیسے تیسے کرتے وه اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔۔ زنیشہ خوشی سے ان دونوں سے لپٹ گئی جو اپنی فتح پر بتیسی نکالے کھڑی تھیں۔۔ “شکریہ تم تینوں کا تم سب بہت اچھے ہو میں تم تینوں کو خاص انعام دوں گی۔۔! ابھی مشی ماما کی طرف چلتے ہیں جب سب واپس آ جائیں گے تو تم لوگ بھی واپس آ جانا۔۔” اس سے پہلے وه باہر نکلتے صالح سرد تاثرات لئے گیٹ سے اندر آیا انہیں صحیح سلامت دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا وہیں ان کی بکھری سی حالت پر اس کا دماغ کھٹکا۔۔ “تم سب ٹھیک ہو۔۔؟ یہاں کچھ ہوا ہے۔۔؟” ان کے ہاتھ میں بیلنا اور دیگچی دیکھ کر اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔۔ کالی آنکھوں نے ایک نظر ارد گرد بھی ڈالی تھی۔۔ زنیشہ ہموار قدم لیتی اس کے پاس آئی۔۔ “بابا یہاں دو آدمی آئے تھے دیوار سے کود کر۔۔ وه مجھے لے جانا چاہتے تھے لیکن ان تینوں نے میری مدد کی ہے ان کو بھگا دیا۔۔ آپ اتنی جلدی کیسے واپس آ گئے وہاں سب ٹھیک تو ہے۔۔؟” اس کے چہرے پر تفکر نمایاں تھا۔۔ “شکر ہے میرا بچہ تم ٹھیک ہو۔۔! سب ٹھیک ہے وہاں تم میرے ساتھ آؤ مشائم کے ساتھ رہو آئندہ گھر پر کبھی اکیلے نہیں رہنا۔۔!” اسکے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیرتا وه انہیں ساتھ لیے بلکل سامنے بنے بنگلے میں آیا۔۔ ان کو لاؤنج میں بٹھا کر وه اپنے کمرے میں آیا جہاں وه طبیعت ناسازی کے باعث نیم دراز آنکھیں موندے ہوئے تھی۔۔ آہٹ محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھولیں یوسف کو دیکھ کر وه اٹھ بیٹھی۔۔ اس نے آگےبڑھتے اسکے مقابل بیٹھتے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔ “میں آج بہت ڈر گیا تھا زندگی میں پہلی بار۔۔۔!” اسے شدت سے خود میں بھینچتا وه دهیمے لہجےمیں بولا تھا۔۔ مشائم پریشان سی ہوگئی ابھی کچھ دیر پہلے تو وه بلکل مطمئن سے تھے اب کیا ہوا۔۔؟ “یوسف کیا ہوا ہے آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔؟” اس سے الگ ہوتی وه پرحدت ہاتھ اسکے گال پر رکھتی نرمی سے پوچھنے لگی۔۔ “کچھ نہیں آپ آرام کریں اب طبیعت بہتر ہے۔۔؟” وه خود پر قابو پاتا بات بدل گیا وه اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ مشی نے سر ہلایا ابھی وه کچھ کہتی جب ماہ بیر ارشما کے ہمراہ ناک کر کے اندر آیا۔۔ اسکے تاثرات دیکھ کر صالح فورا سے اٹھا۔۔ “رمل مسنگ ہے یوسف۔۔۔۔!” کنپٹی مسلتا وه مختصراً اسے وہاں درپیش صورتحال سے آگاہ کرنے لگا۔۔ مشی تکلیف سے بےحال ہوتی زور سے رونے لگی تھی اسکی بچی غائب تھی۔۔؟ ان الفاظ نے دل کو جیسے چیر کر رکھ دیا تھا۔۔ “میں ۔۔۔ میں اپنی بیٹی کو لے آؤں گی وہیں ہوگی وه ۔۔ بہت بہادر ہے وه اسے کک ۔۔ کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔۔” لا پرواہ انداز میں کاندھے پر دوپٹہ ڈالتی وه اٹھنے لگی جب ارشما نے فورا سے جا کر اسے گلے سے لگایا۔۔ “یوسف مجھے میری بیٹی لا کر دیں جہاں سے مرضی۔۔!” اسکے زور زور سے رونے پر صالح نے ایک پل کو سختی سے آنکھیں میچیں۔۔ دل میں کہیں اندر تک تکلیف سی سرائیت کرتی محسوس ہوئی تھی۔۔ “اگر میری بیٹی کو خراش بھی آئی تو ساری دنیا کو آگ لگا دوں گا۔۔۔!!!” پتھریلے لہجے میں کہتا وہ باہر نکل گیا۔۔ اب اسے حاوز بننا تھا اپنے سورسز کو کام میں لانا تھا۔۔ انہوں نے سمجھ کیا رکھا ہے ان کے گھر کی بیٹوں کو اٹھوائیں گے؟ انہیں نقصان پہنچائیں گے تو وه معاف کر دیں گے؟ ہر گز نہیں ہر اس ہاتھ کو ٹوٹنا ہوگا جو ان کے گھر کی عورت کی طرف بڑھا تھا۔۔ اگر ان کے حریف جان جاتے کہ بظاہر سیدھے دکھنے والے یہ نواب زادے اندر سے کتنے ٹیڑھے تھے تو کبھی ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتے۔۔ ابراھیم کا بھی اسی دوران فون آ چکا تھا۔۔ اس تک بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔۔ وه ہیڈ کوارٹر سے نکلتا ماہ بیر کے بتائے مقام پر جانے کے لیے نکلا تھا جہاں وه صالح کی جیپ میں اسکے ساتھ روانہ ہوا تھا۔۔ اس کی بہن ۔۔۔ میجر ابراھیم کی بہن کو اٹھوایا تھا۔۔ ان سب کو تو وه آگ لگا کر ہی آئے گا۔۔! وه سب خطرناک ارادوں سے نکلے تھے لیکن اس بار بازی کوئی اور پلٹنے والا تھا۔۔ 🍁🍁🍁 شاندار پیلس میں اس وقت گہری خاموشی کا راج تھا۔۔ میر حاصل اس وقت سٹڈی میں تھا یہ وه خاص وقت ہوتا تھا جب سب ملازم اپنے منہ سی کر رکھتے تھے۔۔ اسے دوران مطالعہ کسی بھی ایسی چیز سے نفرت تھی جو اس کے انہماک کو متاثر کرتی۔۔ چاکلیٹ براؤن سویٹر اور سفید ‘ڈریس پینٹ’ میں وه آرام دہ حالت میں نیم دراز “جیئن آسٹن” کی بک “پرائیڈ اینڈ پریجوڈس” پڑھ رہا تھا۔۔ اسکے انہماک میں خلل یاور نے ڈالا جب وه قدآور لکڑی کا دروزاہ ناک کرتا “بقول یاور کے “قدیم خانے” کی چوکھٹ پر کھڑا تھا۔۔ “مے آئی کم ان سر۔۔۔؟” اس نے پشت پر ہاتھ باندھتے روبوٹک انداز میں پوچھا۔۔ اسکا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا۔۔ میر حاصل نے ٹھنڈے انداز میں اسے دیکھا اسکا چہرہ صاف ظاہر کر رہا تھا کہ اسے اسکا خلل ڈالنا کس قدر ناگوار گزرا ہے۔۔ “گیٹ آوٹ۔۔!” شہد رنگ آنکھیں واپس کتاب پر جماتا وه بےتاثر لہجے میں بولا تھا۔۔ یاور نے ایک نظر اسکے کان میں چمکتے ننھے سے ڈائمنڈ ٹاپس کو دیکھا جو اسے اسکے مالک کی طرح ہی مغرور لگا تھا۔۔ “تھینک یو۔۔۔!” سر کو خم دیتا وه اندر آتا اسکے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔۔ میر نے سلگ کر اسے دیکھا جانے کتنے ڈھیٹ مرے ہوں گے جب یہ پیدا ہوا ہوگا۔۔!
“رمل یوسف مسنگ ہے۔۔۔ مزے کی بات ہے۔۔۔۔”
وه کہہ ہی رہا تھا جب میر حاصل اسکی بات کاٹتا فورا سے اٹھا۔۔ “یہ مزے کی بات ہے۔۔؟”
وه اسکا کالر جھٹکتا اسکے منہ پر غرایا۔۔ یاور نے اسکے ہاتھ اپنے گریبان پر دیکھتے آنکھیں گھمائیں چہرہ البتہ ویسا ہی رہا ۔۔۔سرد و سپاٹ۔۔!
“میری پوری بات سن لیں سر پھر دوبارہ کالر پکڑ لیے گا کہتے ہیں تو شرٹ اتار کر دے دیتا ہوں۔۔۔!”
اسکے سنجیدہ لہجے میں کیے طنز پر میر نے آنکھیں سکیڑتے اسے دور جھٹکا۔۔
“مزے کی بات یہ ہے کہ نعیم بیگ ہماری مدد کرنا چاہتا ہے رمل یوسف کو ڈھونڈنے میں۔۔! يقینا اسکی غرض ہے اس سب کے پیچھے۔۔!”
کالر درست کرتے اس نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔۔ شہد رنگ آنکھیں سکڑی تھیں وه کچھ سوچ رہا تھا۔۔
“ہم ضرور اس سے ملیں گے يقینا وه ایسی انفارمیشن کسی خاص جگہ تنہا بلا کر دینا چاہے گا اور۔۔۔۔!”
جیکٹ پہنتا وه مزے سے کہتا جا رہا تھا۔۔
“اور میں آپ کے ساتھ ضرور جاؤں گا۔۔!” یاور نے بات اچک لی۔۔ “بلکل ۔۔!” میر حاصل ذرا سا مسکرایا جس سے اسکے گال میں ڈمپل نمایاں ہوا۔۔ دل موہ لینے والا۔۔!
“رمل کو واپس لانا میرا فرض ہے۔۔! دوسرا یہ میڈیا پر ٹرینڈنگ ہوگا جس کا فائدہ ہمیں ہوگا۔۔! دیر کس بات کی ہے پھر ۔۔ ملتے ہیں ۔۔”
وه سٹڈی سے باہر نکلا جب یاور بھی اس سے ایک قدم پیچھے چلنے لگا۔۔
“سر آپ اسکی ڈیمانڈ پوری کریں گے۔۔؟”
وه یونہی ایک ترچھی نظر اس پر ڈالتا اپنی معلومات کے لیے پوچھنے لگا۔۔
“بلکل ہم کریں گے۔۔!”
وه لاپرواہ انداز میں کہتا سیڑھیاں اترتا جا رہا تھا۔۔ یاور نے اس سے پیچھے ایک قدم رکتے ایک پل کو اسکی چوڑی پشت کو دیکھا۔۔
“جیسے میں آپ کو جانتا نہیں۔۔!” وه بڑبڑا کر رہ گیا۔۔
🍁🍁🍁
جاری ہے ۔۔۔۔۔