Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

” ارشیہ ۔۔۔!”
اسکے کانوں نے کسی کی مدھم آواز سنی تھی اپنا وہم خیال کرتی وه سر جھکائے چلتی جا رہی تھی جب تیز ہیڈ لائیٹس کی روشنی اسکی آنکھوں پر پڑی تھی۔
اس نے سر اٹھایا تھا پھر وه سر نہیں جھکا سکی اس نے بھاگنا چاہا لیکن قدم جامد سے محسوس ہوئے۔ تیز بارش سے بهیگتی سڑک پر وه دور جا گری تھی۔
اسکے ماتھے سے کچھ پھوٹ پڑا تھا۔ گاڑھا تیز چمکیلا سا ۔۔۔! رات کے اندھیرے میں برستی بارش میں پیلی ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں چمکتا سرخ خو*ن ۔۔۔! قطرہ قطرہ قطار بن کر بہتا کسی کی سانسیں روکتا ۔۔۔!
وه پاگلوں کی طرح اسکی جانب دوڑا تھا اندھا دھند بھاگنے سے اسکا پیر مڑا تھا۔ وه پورے قد سے بھیگی مٹیالی زمین پر گرا تھا ہتھیلیاں بری طرح چھل گئی تھیں اپنی پرواہ کیے بغیر وه مکمل بارش میں شرابور اٹھتا جلدی سے اس تک آیا۔
” ارشیہ اٹھو….!!”
درد سے بھاری ہوتی آواز میں ایسی تڑپ تھی کہ وه غنودگی میں جاتی ذرا سی آنکھیں وا کرتی اسے دیکھنے لگی جو گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا اسے اٹھا کر سینے میں بھینچتا اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھ گیا جو اسکے خون سے سرخ ہونے لگا تھا۔
وه رو رہا تھا اسکی ازيت پر جو اسی کی سونپی ہوئی تھی۔ اسکے کیچر زدہ چہرے پر بارش کا پانی قطرہ قطرہ پهسلتا عجیب نقش بناتا جارہا تھا ایک قطار سرمئی آنکھوں سے بھی بہہ رہی تھی۔
بند ہوتی آنکھوں سے اسکا دهندلا سا عکس دیکھتے اس نے مشکل سے لبوں کو حرکت دی تھی۔
” آئی ہیٹ یو ۔۔۔!!! “
بیہوش ہوتے اس کا سر بدر کے بازو میں ڈھلک گیا تھا۔ وه اسکے لبوں کی حرکت کو جان چکا تھا سمجھ گیا تھا۔ آواز سماعتوں سے پرے تھی روح فرساں الفاظ دل چیر گئے تھے۔
وه اپنی جیب ٹٹول کر بھیگا ہوا رومال نکال کر اس کی پیشانی پر باندھتا اسے سینے میں بھینچتا سیكنڈ کی دیر کیے بغیر اٹھا تھا۔
لوگ موسم کے تیور دیکھتے بغیر رکے وہاں سے گزرتے جا رہے تھے وه جلدی سے ٹیکسی کو ہاتھ دکھاتا اسکی جانب بڑھا۔
دروازه کھول کر اسے سیٹ پر ڈالتے وه جلدی سے اندر بیٹھ کر اسے گود میں لیتا ڈرائیور کو قریبی ہسپتال لے جانے کا کہتا اسکی طرف متوجہ ہوا۔
” آئی ایم سوری ۔۔۔! “
بھیگے جامنی کانپتے لبوں سے سرگوشی کی صورت نکلا اسکی گود میں بےہوش پڑی وه دہک رہی تھی….
وه اسکی تکلیف کے احساس پر آنسو بہاتی آنکھوں کو رگڑتا اسے کسی قیمتی شے کی طرح دونوں بازوؤں میں اٹھا کر سینے سے لگاتا بےچینی سے بارش کی بوچھاڑ میں دور نظر آتی عمارتوں کو کھوجنے لگا تھا۔
❤❤❤
( چند گھنٹوں بعد ۔۔۔۔۔ )
” آہ ۔۔۔!!! “
سفید جالی دار پٹی میں لپٹی پیشانی پر ہاتھ رکھتی وہ ہولے سے کراہ اٹھی اسے سہارا دے کر کمرے میں لاتے بدر نے سرخ سوجھی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا اسکی تکلیف پر لب بھینچتا وه اسے بیڈ تک لایا۔
اسکے ہاتھ میں موجود اپنا ہاتھ نکال کر اس نے باتھ روم کی جانب قدم بڑھائے۔ ٹاول اسٹینڈ سے تولیہ اتار کر اس نے باہر آتے بیڈ پر پھیلایا وه دونوں اس وقت بھیگے ہوئے تھے۔
تیز موسلا دھار بارش کے پانی نے دونوں کے وجود کو دہکا دیا تھا۔ عرشیہ پہلے ہی بخار کی شدت سے ہلکان تھی مزید سر پر لگی چوٹ نے نڈھال کر دیا تھا۔
وه جب سے ہوش میں آئی تھی خاموش تھی اسکی یہ چپ بدر کو مزید بےچین کر رہی تھی۔ وه بیڈ پر بچھے تولیے پر بیٹھی تو وه اسکے سامنے خاموش کھڑا سرمئی آنکھوں میں محبتوں کا جہاں لیے اسے دیکھنے لگا…
اسے یک ٹک اپنی جانب دیکھتے پا کر ارشیہ نے جھکا سر اٹھایا نیلی آنکھوں کے گوشے سرخ تھے جیسے جھیل کے نیلے پانی کو ہر طرف سے سرخی میں سمو دیا گیا ہو۔
چھوٹی تیكهی ناک بےحد سرخ تھی تو عنابی لب سوجھ کر دہکنے لگے تھے۔ ارشیہ کی نظر اسکے ہاتھ میں موجود باتھ روب پر پڑی اس نے دوبارہ بدر کے چہرے کو دیکھا جو سرخ ہورہا تھا وه اندازہ کر سکتی تھی وه اس وقت بخار میں تپ رہا ہوگا۔
سر جھٹکتا وه آگے بڑھا گیلے بال پیشانی پر موٹی لٹوں کی صورت بکھر گئے تھے۔ لائٹ آف کر کے وه اسکی سمت بڑھا تو وه آہستہ سے گویا ہوئی۔
” میں خود چینج کر لوں گی ۔۔۔! “
آواز میں نقاہت سی تھی۔ اسکے کاندهوں سے کوٹ اتارتا وه مدهم لہجے میں گویا ہوا۔
” کچھ مت کہو ۔۔ مجھے تمہاری پرواہ کرنے دو، ہر اس تکلیف کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو میری وجہ سے تم نے سہی۔۔۔!”
جھک کر اسکا کوٹ جدا کرتا وه اتنی نرمی سے بولا کہ وه ایک حرف نہ کہہ سکی چہرے پر پڑتی اسکی پرحدت سانسوں کو محسوس کرتی وه آنکھیں موند گئی۔
نرمی سے اسے باتھ روب پہنا کر اس نے لائٹ آن کردی اسکے گیلے کپڑوں کو وہاں سے ہٹا کر اس نے دیوار میں لگے سٹینڈ میں موجود فون سے کافی اور سینڈوچز منگوائے..
اس دوران وه سینے پر ہاتھ لپیٹتی تکیے سے کمر ٹکا کر نیم دراز ہوتی اسے دیکھنے لگی اسکے بھیگے کپڑوں کو دیکھتی وه بےچین سی کہہ اٹھی۔۔
” بدر ۔۔۔ تم ۔۔ بھی ۔۔۔چینج کرلو ۔۔!”
اسکی آواز پر وه چونک کر خود کو دیکھنے لگا اپنا آپ تو جیسے وه فراموش کر بیٹھا تھا۔
ایک نظر اسے دیکھتا وه واش روم کی جانب بڑھ گیا چند منٹ بعد وه باہر نکلا تو سفید ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھا تولیے سے بال رگڑتا وه رک کر اسے دیکھنے لگا جس کے گیلے بال اسکے کاندھوں پر لاپرواہ انداز میں پڑے تھے کروٹ کے بل نیم دراز وه خود میں سمٹی ہوئی تھی۔
اسکی پشت دیکھتے اس نے آگے بڑھ کر بالکنی کے پردے برابر کر دیے۔ ہوٹل کے کمرے میں لگے ہیٹر کے باعث باہر کی قہر برساتی ٹھنڈ اتنی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
دروازے پر کھٹکا ہوا تو اس نے دروازه نیم وا کرتے ڈش تھام کر دروازه بند کردیا۔ ڈش ٹیبل پر رکھتے وہ ہموار قدم اٹھاتا بیڈ تک آیا ، گھٹنا موڑ کر اسکے مقابل بیٹھتا وه نرمی سے اسکے بال تولیے سے خشک کرنے لگا۔
وه آہستہ سے آنکھیں کھولتی اٹھ کر بیٹھ گئی وه اپنے کام میں مصروف رہا ایک ہاتھ سے اسکے گال سے بال ہٹاتا دوسرے سے بال خشک کرتا وه جیسے دنیا کا سب سے ضروری کام کررہا تھا۔
اسکے انہماک کو دیکھتی وه تیزی سے پلکیں جھپكتی اسکے ہاتھ کو ہٹا گئی وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
” میں اس سے ملنے نہیں گئی تھی، کبھی نہیں ملی ۔۔۔! “
نرم گرم ہاتھ اسکے گال پر رکھتی وه اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی تھی سرمئی مغرور آنکھوں میں دیکھتے نیلی آنکھوں کی بصارت دهندلائی تھی اس نے آنکھیں جھپک کر نمی اندر دهكیلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
” آئی ایم سوری، مجھے تمہارا اعتبار کرنا چاہیے تھا۔۔۔! “
جھک کر اسکی آنکھوں کو لبوں سے چھوتا وہ سرگوشی کر گیا۔
” میں تمہیں کبھی دھوکہ نہیں دے سکتی، یہ میں نہیں کر سکتی ۔۔۔!”
دونوں ہاتھ اس کے گال پر ركهتی وه اسے یقین دلانے لگی تھی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ گرنے لگے تھے۔
” شش ۔۔۔ مجھے یقین ہے ، ارشیہ بدران مجھے کبھی دھوکہ نہیں دے گی ۔۔۔!”
اسکے سرخ پھولے سے گال پر پهسلتے آنسو کو یکدم جھک کر لبوں سے روکتا وه اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کرتا اسے خود سے قریب کر گیا۔ وه اسکی گردن کے گرد بازو حائل کرتی چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی۔
” کافی ٹھنڈی ہورہی ہے ۔۔۔!”
سفید پٹی میں لپٹی پیشانی پر لب رکھتا وه آہستہ سے جدا ہوا تو وه بھی ہاتھ کی پشت سے گال صاف کرنے لگی۔
دونوں کو اس وقت بہت بھوک محسوس ہورہی تھی خاموشی سے سینڈوچ کھاتے وه گرم گرم کافی حلق میں انڈیلنے لگے۔
فارغ ہو کر بدر نے برتن واپس ٹیبل پر رکھے پلٹ کر وه گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو باتھ روب میں ملبوس ہمیشہ کی طرح اسکے دل کو الٹی چھری سے حلال کرنے کے در پے تھی۔
جو ہوچکا تھا وه سوچنا نہیں چاہتا تھا، خوبصورت لمحات ان کے منتظر تھے تڑا تڑ برستی بارش کی آواز ، سرد رات تھی۔ محرم کا ساتھ اور سر اٹھاتے جذبات ۔۔۔!
اسے خاص نگاہوں سے خود کو تکتے پا کر عرشیہ کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسکے دیکھتے دیکھتے بدر نے شرٹ اتار دی وه فٹ سے چہرہ دوسری طرف کر گئی اسکے کسرتی جسم نے دل کی دنیا میں ہلچل مچا دی تھی پہلے سے سرخ چہرے پر مزید گلال بکھرا تھا۔
اگلے ہی لمحے ارشیہ نے اسے اپنے قریب محسوس کیا تھا اسکے مقابل آتا وه اسکے کاندھوں پر دباؤ ڈالتا اسے لیٹنے پر مجبور کر گیا۔
مٹھیاں کھول کر بند کرتی وه نظریں جھکائے ہوئے تھی حلق تر کرتے اس نے اسے روکنے کی اپنی سی کوشش کی ۔۔
” کک ۔۔۔کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟ “
اسکا ہمیشہ کا پراعتماد لہجہ لڑکھڑا گیا تھا جانے وقت کا اثر تھا یا گزرے واقعے نے اعصاب کو تھکا دیا تھا کہ وه مزاحمت نہ کر پائی۔
اپنی قربت سے اسکی حالت خراب ہوتے دیکھ کر وه دلکشی سے مسکراتا لب دبا گیا۔ نچلا لب دانت تلے دبائے وه سرمئی آنکھوں میں نرم گرم سا تاثر لیے اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھتا اس پر جھکا تھا۔
” وہی جو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔۔۔! “
پیر اسکی پنڈلی پر سہلاتا وه ہاتھ اسکی کمر کے نیچے سے گزارتا اسکے گال پر ناک سہلانے لگا۔ اسکے خطرناک ارادے محسوس کرتی وه رو دینے کو ہوئی جانے اس وقت وه اسے خود پر حاوی ہوتا کیوں محسوس کر رہی تھی۔
” مم ۔۔ میری طبیعت خراب ہے ۔۔۔!”
سوکھے لب تر کرتی وه اسکی لو دیتی آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی۔
” میں ٹھیک کر دوں گا ۔۔۔! “
اسکے اعتراض کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ آنکھوں سے اسکا ہاتھ ہٹاتے بدر نے اسکی گلابی ہتھیلی کو زور سے چوما تھا مونچھوں کی چبھن ہاتھ پر محسوس کرتی وه کسمسائی۔
اسکی پیشانی پر بکھرے بال مٹھی میں لیتی وه اسکا چہرہ بلند کر گئی جسکی گردن کی ابھری ہڈی اب اسکے سامنے تھی۔ وه ہنس دیا اسکے انداز پر ، اب وه کچھ کچھ نارمل لگنے لگی تھی ۔
” تم ٹھیک نہیں کر رہے ۔۔۔ میں ۔۔ میں بڑی ۔۔۔ “
ارشیہ نے لب کاٹتے اسکے وجیہہ چہرے سے نظریں چرائی تھیں اسکا کسرتی سینہ اسکی سانسیں منتشر کرنے لگا تھا۔
بدر نے اس کا ہاتھ بالوں سے ہٹاتے اسے جھٹکے سے الٹا کیا تھا اسکی پشت پر آتا اسکی گردن سے بال ہٹا کر وه چہرہ اس میں چھپا گیا۔
” اس سے کیا ہوتا ہے اگر تم بڑی ہو ؟ میں شوہر ہوں تمہارا بس یہ یاد رکھو ۔۔۔! “
بولتے ہوئے اسکے لب عرشیہ کی گردن کو چھو رہے تھے جس پر اسکا سانس سینے میں اٹکا تھا۔
بدر نے اسکی کمر کے گرد بندھی بیلٹ کو کھولتے اسے سیدھا کیا وه حیا کے بوجھ سے آنکھیں میچے ہوئے تھی دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے آج پسلیاں توڑ کر باہر آ ہی جائے گا۔
” تمہیں ۔۔۔ بھی ۔۔ بخار ہورہا ہے ۔۔۔! “
اسنے آہستہ سے آنکھیں نیم وا کیں تو اسے بلینکٹ کھینچ کر اپنی جانب جھکتے دیکھ کر بول اٹھی۔ وه مسکرا دیا اسکی کوششوں پر ۔۔۔!
” ہونے دو ۔۔۔ “
اس پر سایہ کرتا وه لبوں سے اسکے نقوش کو چھونے لگا۔ وه کچھ کہنے لگی جب وه اسکے لبوں کو قید کر گیا۔ نرمی سے انہیں محسوس کرتا وه ذرا سا سر اٹھا کر اسکی بند آنکھوں کو دیکھنے لگا۔
” پہلے تم میری ضد تھی ، پھر میرا جنون بنی ۔۔۔! مگر اب میری جان بن گئی ہو ، بدران شاہ کے دل میں دھڑکنے لگی ہو ۔۔! آئی لو یو ارشی آئی ایم میڈلی ان لو ود یو ۔۔۔! “
اسکے گالوں کو چومتا وه اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا اسکے الفاظ میں شدت جبکہ انداز میں نرمی تھی۔ وه ہولے سے مسکرائی تھی بند آنکھوں سنگ مسکراتی وہ بدر کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر گئی۔
” مجھ سے ۔۔ کسی اقرار کی امید مت رکھنا ۔۔۔! “
اسکی آنکھوں میں دیکھتی وه جلدی سے بول اٹھی اسے خود کے قریب آنے کی اجازت دے دی تھی یہی بہت تھا۔
” اسکی ضرورت نہیں کیونکہ تمہاری منتشر سانسیں اور میری قربت کے رنگ بڑے دھڑلے سے اقرار کر رہے ہیں کہ عرشیہ صمید کے دل پر بدران شاہ حکومت کرنے لگا ہے۔۔۔! “
آنچ دیتے لہجے میں کہتا وه اس پر قابض ہوتا گیا۔ ارشیہ نے آنکھیں موندتے اپنا آپ اسکے حوالے کر دیا۔