My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
ٹیکسا بس کے پیلے روغن شدہ دروازے سے نیچے کودتی وه کھل کر مسکرائی۔۔ نیلی آنکھیوں میں ہیروں جیسی چمک تھی۔ ہوا کے تهپیرے اسکے چہرے اور بالوں پر پڑتے لانبے سلکی بالوں کو اسکے شانوں پر بکھیر گئے ۔
چاکلیٹ براؤن چیک کے لانگ کوٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتی وه پلٹی۔ اسکے لانگ بوٹس نے تارکول کی صاف ستهری سڑک پر چاپ پیدا کی تھی۔
ایرا کے دیکھتے دیکھتے وه سب بس کے دروازے سے باہر نکلتے دکھائی دیے۔ زنیشہ ، ابراھیم ، عرش ، بدر ، رمل ، ارشیہ ، حیان ، غزل اور آخر میں میر حاصل بس سے اترا۔
سب لانگ کوٹس اور جینز میں ملبوس خوبصورتی کے ہر معیار کو مات دیتے آج کی تاریخ میں میكسیکو کو تسخیر کرنے نکلے تھے۔
” یونائیٹڈ میکسیکن سٹیٹس ” کے شہر میكسیکو کی خوشگوار میٹھی فضاؤں نے حسن کے شاہکاروں کو اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہا تھا۔
یونائیٹڈ میكسیکن سٹیٹس جو 32 ریاستوں سے مل کر بنا سعودی عرب کے بعد عالمی سطح پر تیرہواں بڑا ملک ہے قریباً ” 19,72,550 ” مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ ایسا مقام ہے جو سیاحت کے لیے بےحد مشہور اور قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال ہے ۔ وه سب ملک کے سب سے بڑے شہر ” میکسیکو ” کی سرزمین پر اترے تھے جہاں سے حسین مقامات کی سیاحت کرتے انھیں اگلی منزل کی جانب روانہ ہونا تھا۔
ٹیکسا سے اتر کر وه ایک دوسرے کی ہمراہی میں آگے بڑھتے قریبی ہوٹل کی تلاش میں نکلے تھے جہاں کچھ وقت آرام کے بعد انہیں سیاحت کے لیے نکلنا تھا۔
🖤🖤🖤
اسکی سنگت میں چلتے گلابی لانگ بوٹس میں مقید اس کے پیر سست پڑے تھے۔ گلابی لب ذرا سے وا ہوئے تھے جبکہ نیلی کانچ سی نگاہیں جامنی آسمان پر جمی مبہوت ہوئی تھیں۔
نیلے کانچ سے نینوں میں آسمان پر تیرتی جامنی بدلیوں کا عکس بڑا واضح تھا۔ ہوا کے زور سے اسکی بےبی پنک لانگ سکرٹ دائیں جانب اڑ رہی تھی۔
زیب تن گلابی ڈھیلے سے سویٹر کی آستینوں نے اسکی ہتھیلی تک کو ڈھانپ رکھا تھا۔
سفید سویٹر پینٹ میں ملبوس عرش کا ہاتھ تھامتی وه آسمان کی جانب نگاہیں ٹکائے پرجوش سی آگے بڑھی تو گلابی رومال میں بندھے اسکے سلکی بھورے بال لہرا کر پشت پر بکھرے تھے۔
” اٹس لائک میریکل ۔۔۔!!! “
عرش کو اپنی جانب متوجہ پا کر وه دھیمے سے کہتی اسکے مظبوط ہاتھوں میں نازک گلابی انگلیاں الجھاتی سیدھ میں پوری شان سے کھڑے اس محل کی جانب بڑھی جو سونے کا لگتا تھا۔
” گوانا جواٹو ” کا یہ خوبصورت مقام حقیقتا اسے پریوں کی کہانی میں لے اڑا تھا جس کی گہری جامنی خوشگوار فضاؤں میں اپنے شاہزادے کے ہمراہ وه اپنے ” Castle ” کی جانب بڑھ رہی تھی۔
” یو لک پرنسز آف مائے ہارٹ ۔۔ مائے باربی ڈول ۔۔۔!!! “
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے ساتھ قدم بڑھاتا وه اسکے کان میں سرگوشی کر گیا جس پر وه اسکی بھوری آنکھوں میں ایک پل کو دیکھتی مسکراہٹ دباتی رخ موڑ گئی۔
” ایک پری جو ایک کھڑوس جن کے دل کی ملکہ بن گئی ۔۔۔!”
اسکے مقابل آتی ہاتھ پھیلا کر الٹے قدم لیتی وه اٹھلائی تھی۔ دل تتلی کی طرح اڑنے لگا تھا جیسے۔۔۔!
وہ سر جھکاتا دھیرے سے ہنس دیا گھنے بال پیشانی پر بکھر سے گئے تھے۔ اسکے گلے میں وہی پینڈنٹ تھا جسکے سیاہ نگینے میں عقاب کی آنکھ چمک رہی تھی۔
کان میں سیاہ ٹاپس جبکہ بھوری آنکھوں میں سامنے الٹے قدموں چلتی اس چھوٹی لڑکی کا عکس تھا جو اسے زندگی کو جینے پر مجبور کرتی تھی۔
دفعتاً وه پلٹ کر اس سنہری محل کی چمکتی چوڑی سیڑھیوں پر چڑھتی اسکی طرف پلٹی۔ سیاہ مڑ مڑ کر اس ایشین بیوٹی کو دیکھ رہے تھے جس پر نگاہ پڑے تو ٹھٹھک جائے۔
” عرش میری پكچر بنائیے گا جلدی سے ۔۔۔! “
کمر سے لپٹا چھوٹا سا پرس نکال کر اسکے بازو میں ڈالتی وه جھٹ سے پیچھے ہٹتی پوز بنانے لگی۔ وه حیران نظروں سے اپنے بازو کو دیکھ رہا تھا جس میں اسکا گلابی پرس لٹک رہا تھا۔
خفت سے پرس نکالتا وه اسکی باریک ڈوری کو ہاتھ کے گرد لپیٹ گیا۔ یہ لڑکی بھی نہ ۔۔۔!!!
اس نے موبائل کا كیمره آن کرتے اس پر فوکس کیا جو ایک ہاتھ فضا میں بلند کئے دوسرا ہاتھ کمر پر ٹکاتی ایک ٹانگ اوپر اٹھاتی پیچھے کو موڑ گئی۔
وه جھک کر پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔ پیچھے سنہری قلعہ نما محل جبکہ اوپر جامنی آسمان نظر آ رہا تھا۔ کیمرے نے اس پرستان سے بھٹک آئی پری کو منظر میں مقید کیا تھا۔ وه مسکراتی آنکھوں میں نرم سا تاثر لیے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھامتا آگے بڑھ گیا۔
” اب ہم کہاں جا رہے ہیں مجھے كیسل میں جانا تھا نہ ۔۔۔! “
وه منہ پھلاتی اسکا بازو دونوں ہاتھوں میں جکڑتی سر اٹھا کر کہنے لگی۔ وه ایک نظر اسکے پھولے چہرے کو دیکھتا گہری سانس بھر کر رہ گیا دل چاہ رہا تھا گلابی پھولے گالوں کو دانتوں میں دبا لے۔
” یوں مت کرو میں پبلک پلیس کا بھی لحاظ نہیں کروں گا ۔۔۔! “
اسکے کیوٹ سے چہرے کو دیکھتا وه ناک کی سیدھ میں دیکھتا بےتاثر لہجے میں بولا۔ اسکے تاثرات دیکھتے وه خفگی سے اسکا ہاتھ چھوڑتی اس سے الگ ہو کر چلنے لگی۔
حد ہے جب مرضی کھڑوس بن جاتے ہیں ۔۔۔!!!
دیدے گھما کر سوچتی وه سینے پر ہاتھ باندھ گئی۔ بھورے سلکی بال شانوں پر پهسل رہے تھے۔
اسکے قدموں کو اچانک بریك لگا وه آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑے عرش کو دیکھنے لگی جس نے ہاتھ میں تھامے بےشمار گلابی بلونز اس کی طرف بڑھائے تھے۔
مبہوت وه بلونز دیکھ کر نہیں ہوئی تھی اسکی بھوری آنکھوں کی چمک کچھ نئی سی تھی ۔۔۔ سلگتے جذبات کا پہاڑ جیسے آتش فشاں تھا۔۔ اس پر امڈنے کو بیتاب ۔۔۔
وه ایسی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ ایرا کو اس سے حیا آئی تھی ۔۔ بے حد !! اس نے آہستہ سے بالونز کی ڈور تھامی تھی جو بہت اوپر بلندی پر ہوا سے اٹھکیلیاں کرنے لگے تھے۔
سفید پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر کھینچتا وه پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا تھا۔ سفید سویٹر میں پیشانی پر بکھرے بال لیے اسے دیکھتا وه اتنا وجیہہ لگ رہا تھا ایرا نے بےساختہ دل میں اسکی نظر اتاری تھی۔
قریب گزرتے سیاہ رک کر دلچسپی سے انہیں دیکھنے لگے تھے جہاں ایک بھرپور مرد ایک کم سن نازک لڑکی کے سامنے جھکا بیٹھا تھا۔ اسکی لو دیتی آنکھوں میں محبت کا پیغام باآسانی پڑھا جاسکتا تھا ۔۔
ہاں آج عرشمان شاہ نے اجازت دی تھی ان آنکھوں کو کہ وه چھلکا سکیں ان جذبات کو جو اس لڑکی کے لیے اسکا دل محسوس کرنے لگا ہے۔۔۔!
” محبت ہے تم سے ۔۔۔ بےحد ۔۔۔ بےشمار ۔۔ آج پھر سے اقرار کرتا ہوں ۔۔۔! تم شفاف ہو بلکل آسمان پر تیرتے ان بادلوں کی طرح ۔۔۔! تمہاری ناراضگی میرے دل کو بےچین کرتی ہے ۔۔۔
تم اچھی لگتی ہو بہت اتنی کہ دل چاہتا ہے نگاہیں بس تمہیں دیکھتی رہیں ۔۔۔! محبت پر یقین نہیں تھا مجھے مگر تم نے میرے دل کو سمجھایا کہ تم محبت ہو ۔۔۔! جسے عرشمان شاہ کے دل پر قابض ہونے کے لیے اتارا گیا ہے ۔۔۔!
زندگی کی راہوں پر ، جاڑ و گرم حالات کی سختیوں نرمیوں سمیت ۔۔۔ میرے مزاج کی شدتوں کا بوجھ اٹھائے ۔۔۔ پھول سی گستاخیوں کے ساتھ ۔۔ . میرے ساتھ تاحیات چلو گی ۔۔۔؟ “
دهیمے بھاری لہجے میں بولتا سر اٹھاۓ ۔۔۔ اسکی نیلی آنکھوں میں جھانکتا وه پشت پر کیا ہاتھ سامنے لاتا سرخ گلابوں کا مہکتا گلدستہ اسکی جانب بڑھا گیا۔ دل اسکے لبوں سے ادا ہونے والے الفاظ کا منتظر تھا۔
وه آہستہ آہستہ پلکیں جھپكتی گرد و پیش سے بیگانہ اسکی آواز کے سحر میں خود کو جکڑتا محسوس کررہی تھی۔
” کوئی اتنا پیارا ۔۔ اور وه بھی سارے کا سارے کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔؟ ” دل نے میٹھی سی سرگوشی کی تھی۔
” ہمیشہ ۔۔ جب تلک سانس رہی ۔۔۔! “
اسکے ہاتھ سے بکے تھامتی اسکے کھڑے ہونے پر وه اسکے گلے میں بانہیں ڈالتی سرعت سے اسکے مظبوط کسرتی سینے سے لگی تھی۔ دونوں کے دل بےہنگم انداز میں دھڑک رہے تھے۔
لمحوں کا فسوں جیسے ٹوٹا تھا۔ لوگوں زور سے تالیاں پیٹتے ہوٹنگ کرنے لگے تھے۔
وه جھینپتی اسکے سینے میں چہرہ چھپائے خود کو سب کی شرارتی نگاہوں سے محفوظ کررہی تھی جیسے۔
سر جھکائے اسکی میچی آنکھوں کو دیکھتا وه اسکے گرد مظبوط بازوؤں کا حصار بنا گیا۔
🦋🦋🦋
کینکن ماين ریوی ایرا میں بھیگی شام اتری تھی۔ میكسیکن سٹٹس کے اس پرفضا مقام پر دریا کی لہروں کا شور سماعتوں کو بہت بھلا محسوس ہوتا تھا۔
تاحد نگاہ تک پھیلا نیلا دریا جس کا پانی بےحد شفاف بلکل شیشے کی طرح لگتا تھا۔
یہاں کی خاصیت یہ تھی کہ شفاف پانی میں اکثر ڈولفنز دیکھنے کو مل جاتی ہیں ۔۔
وه ابراھیم کا ہاتھ تھامے کشتی سے اتری تھی جو انہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے لے آئی تھی۔
زنیشہ نے ابراھیم کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جو ٹرٹل نیک سیاہ سویٹر جینز میں کوٹ بازو پر ڈالے ہوئے تھا…
جبکہ وه سیاہ پنڈلیوں تک آتی گرم فراک کے ہمراہ مہرون لانگ بوٹس پہنے ہوئے تھی۔ شہد رنگ بال كرل کر کے اونچی پونی میں مقید کئے وه بےحد حسین لگ رہی تھی۔
” میجر ۔۔۔ آپ یہاں کیوں لے آئے مجھے ۔۔؟ رمل اور میر کو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔! “
وه اسکا ہاتھ پورے حق سے تھامتی اسکے ساتھ قدم بڑھانے لگی جو اسے ایک سرپرائز کا کہتے اس طرف لے آیا تھا جہاں سبزے سے ڈھکے اطراف میں چھ فٹ چوڑی صاف ستهری پگڈنڈی بنی تھی۔
” ان کو اچھا لگے گا یقین کرو ۔۔۔! جیسے اب ہمیں اچھا لگے گا ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا جانِ ابراھیم ۔۔۔! “
گہری سیاہ آنکھوں میں مسکراتا تاثر لیے وه ایک دم جھکتا اسے بانہوں میں اٹھاتا آگے بڑھ گیا۔
اس اچانک افتاد پر زنیشہ کے منہ سے ہلکی سے چیخ نکل گئی۔ اس نے ابراھیم کے گلے میں بازوؤں کا ہار ڈالا پھر اچانک بولی۔
” مجھے اپنی دونوں پرنسز یاد آ رہی ہیں بہت ۔۔!!! “
اسکے سینے پر سر رکھتی وه اداس ہوئی تھی۔۔ ابراھیم نے مطلوبہ مقام پر پہنچ کر قدم روکے۔ اسے آہستہ سے نیچے اتارتا وه دهیما سا مسکرایا۔
” مس میں بھی کررہا ہوں دل لیکن ماما بابا نے اچھا کیا انہیں ساتھ رکھ لیا۔ خود سوچو اگر وه بھی ساتھ ہوتیں اور بیمار پر جاتیں تو ۔۔؟ “
اسکا کاندھوں پر ہاتھ رکھتا وه سر جھکائے سمجھانے والے انداز میں بولا تو نچلا لب دائیں جانب سكیڑتی سر ہلا گئی۔
” یہ رہا سرپرائز ۔۔۔!!! “
اسکے کاندہوں سے پکڑ کر دوسری جانب گھماتا وه مسکاتے لہجے میں کہتا زنیشہ کو آنکھیں پھیلانے پر مجبور کر گیا۔
زمین سے کچھ اوپر گھاس کے فرش کے بی چوں بیچ لکڑی کا چھوٹا سا گھر بنا تھا جسکے دروازے کے پاس سے آگے، نیچے کی طرف گھاس کاٹ کر بل کھاتا راستہ بنا تھا بلکل ایسا گھر تھا جیسا ہم کتابوں میں بنا دیکھتے ہیں ۔۔۔
حقیقت کے پار ، جہاں چھوٹے سے گھر کے پاس اطراف میں درختوں پھولوں کا ڈھیر ہوتا ہے ، سامنے خوبصورت دریا بہہ رہا ہوتا ہے اور خوبصورت پرندے اس تصویر میں نظر آنے والے سکون کا پتہ دیتے ہیں ۔۔!!!
” یہ ۔۔۔ یہ کیا مطلب ؟ “
وه شہد رنگ آنکھوں میں پسندیدگی اور حیرانی بیک وقت سمائے دقت سے بولی تھی۔ حقیقت جیسے خواب لگ رہی تھی۔
” مطلب یہ کہ مسز ابراھیم اب سے یہ گھر آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔۔!!!”
وه اسے پشت سے گلے لگاتا اسکی کمر کے گرد توانا بازو لپیٹ گیا۔ کالی گہری آنکھیں موندتے اسکے سلکی بالوں سے اٹھنے والی دهیمی مہک سانسوں میں اتارتا وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
” بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ بلکل بلکل ۔۔۔۔!!! “
وه اسکے بازو پر ہاتھ رکھتی مسمرائیز سی کہہ رہی تھی جب وه بیچ میں بول پڑا۔
” بلکل تمہاری طرح ۔۔!!! “
بےایمان ہوتے دل کو سنبهالتا وه اسکا ہاتھ تھامتا دروازے کی طرف بڑھ گیا جس پر لکڑی کی چھوٹی سی تختی لٹک رہی تھی جہاں خوبصورت پھولوں سے ویلکم ہوم لکھا تھا۔
وه سر اٹھا کر ساتھ چلتے اس شخص کو دیکھنے لگی جس نے اسے دل میں بسانے کے ساتھ سر پر بھی چڑھا رکھا تھا۔ اسکی عنایتیں وارفتگياں بس اسی کے لیے تھیں۔
اسے رشک آیا تھا اپنے آپ پر ۔۔۔ میجر ابراھیم کی بیوی ہونے پر ۔۔۔! لکڑی کے دروازے سے اندر آتے چھوٹی سی تنگ راہداری تھی جسکے آگے چھوٹا سا صحن اور اطراف میں دو کمرے تھے۔ ہر چیز لکڑی کی تھی۔ فرش ، سلیب ۔۔ ڈیکوریشن پیسز ۔۔۔!
ابراھیم ایک کونے کی جانب بڑھا جہاں چھوٹا سا ڈیپ فریز رکھا تھا۔ اس نے اندر سے دو آئس کریمز نکالیں، سیدھا ہوتا وه اسکی طرف آیا جو دیوار سے کمر ٹکائے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی اسے دیکھ کر مبهم سا مسکرا رہی تھی۔
آئس کریم اسکی جانب بڑھاتے ابراھیم ایک ہاتھ اسکے قریب دیوار پر ٹکا کر آئس کریم کھانے لگا نظریں اسکے لبوں پر تھیں۔
” اس موسم میں آئس کریم کھانے کا بھی اپنا مزہ ہے ۔۔!!! “
مزے سے کہتی وه کون لبوں سے لگا گئی۔ اس کی آدھی ختم ہوئی تھی ابھی جب ابراھیم نے ہاتھ میں پکڑی کون اسکے گال پر لگا دی ۔۔
وه سٹپٹاتی آنکھیں سکیڑ گئی اسنے ابراھیم کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دور دهكیلنا چاہا مگر وه ٹس سے مس نہ ہوا۔ اسکی کوشش پر وه مزید فاصلہ کم کر گیا۔
” تنگ نہیں کرو ۔۔۔ آئس کریم کھانے دو ۔۔۔! “
لب دبا کر کہتا وه اسکے گال پر جھک گیا۔ اگلا نشانہ اسکی گردن تھی۔ گردن پر ٹھنڈی ٹھار آئس کریم لگتے وه ایک پل کو کانپ کر رہ گئی۔
وہ جھکا تو زنیشہ کے دل کی دھڑکن سست پڑی تھی۔ نرم لبوں کا لمس گردن پر محسوس کرتی وه آنکھیں میچتی اسکے جھکے سر پر ہاتھ رکھ گئی۔
وه دونوں ایک دوسرے میں مگن خوبصورت لمحات کی چاشنی میں جیسے گھلنے لگے تھے۔ باہر ڈھلتا دن دریا کے دوسرے پار رفتہ رفتہ جذبات کی حدت سے پگھلتے دو نفوس کو دیکھتے مسکرایا تھا۔
🌻🌻🌻
پنڈلیوں تک آتے کھلتے سرخ رنگ کے لانگ گرم فراک جینز میں وه ڈھلتے سورج کی جانب پشت کئے کھڑی تھی۔ سیاہ چمکیلے بال موٹے رف سے جوڑے کی شکل میں پتلی گردن پر نمایاں تھے….
سینے پر ہاتھ لپیٹے وه مقابل کھڑے یاور سے کچھ بات کررہی تھی جب قدموں کی چاپ پر اس نے لب دبائے۔
” اوکے یاور ہم بعد میں ڈسکس کریں گے ، خیال رہے یہ بات بس تمہارے اور میرے درمیان رہے۔۔۔! “
وہ اسے آنکھ سے اشارہ کرتی لب دبا کر مسکراہٹ روک گئی۔ یاور نے آنکھیں سکیڑتے پشت پر نظر آتے میر حاصل کو دیکھا جو دانت پیس کر انہیں دیکھتا اسی طرف آ رہا تھا…
ہاں البتہ رمل کی آواز اتنی ضرور تھی کہ اسکے کانوں کو سننے کا شرف بخش دیا گیا تھا۔ یاور نے سر کو خم دیا ، ایسا ہے تو ایسا صحیح ۔۔۔!
” اوکے مس ، میں باس کو بھی نہیں بتاؤں گا ۔۔! “
روبوٹک انداز میں کہتا وه كندھے اچکاتا چند قدم پیچھے ہٹا پھر اچانک مڑ کر تیز قدم اٹھاتا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
رمل نے پلٹ کر دیکھا وه سرخ ٹرٹل نیک سویٹر کے ساتھ سفید جینز پہنے ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا۔
شہد رنگ بال بکھر کر پیشانی پر پڑے تھے جبکہ کان کا ڈائمنڈ ٹاپس ہمیشہ کی طرح چمکتا اسکی کِلر لُکس میں اہم کردار ادا کررہا تھا۔
” کیا بات کررہی تھیں آپ اس سے ۔۔۔؟ “
اس کے مقابل آتا دو قدموں کے فاصلے پر رکتا وه آنکھیں سکیڑتا پوچھنے لگا۔۔ رمل نے کمال بےنیازی سے بازو پر رکھا سفید لانگ کوٹ اتار کر پہننا شروع کیا۔
” کچھ نہیں ۔۔ آپس کی بات ہے ۔۔! “
کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی وه دل جلانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی۔ سیاہ آنکھوں کے انداز ہی نرالے تھے۔ میر ایک قدم مزید آگے بڑھتا درميانی فاصلہ کم کر گیا۔
” آپس کی باتیں کسی اور وقت کے لیے بچا رکھیں ۔۔ ہم تو یہاں رومینس کرنے آئے ہیں ۔۔۔! “
اسکی کمر سے کوٹ ہٹا کر دونوں ہاتھ پورے حق سے جماتا وه جھٹکے سے اسے قریب کر گیا اتنا کہ سانسیں سانسوں میں الجھنے لگی تھیں۔
رمل کے گلاب چہرے پر گلال بکھرنے لگا اس نے حلق تر کرتے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ کیا کیا پیغام نہ دے رہی تھیں وه شہد رنگ آنکھیں۔ چمکتی آنکھیوں میں تكمیل محبت کی بیتابی چھلکتی تھی۔
وه لب سیئے اسکی نگاہوں کو پڑھنے لگی تھی۔ موسم بھی مہربان ہوا تھا ان پر ۔۔۔! گہرے آسمان سے شفاف پانی کی بوندیں ان پر گرنے لگی تھیں۔
جہاں میر حاصل کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی وہیں رمل کی نگاہیں جامد ہوئی تھیں۔
یہ محبوب کا ہر انداز انوکھا کیوں لگتا ہے ؟ ہر ہر ادا خاص لگنے لگتی ہے۔ یہ محبت بھی نہ ۔۔! بصارت ہی بدل دیتی ہے…!
” آج موسم بھی ساتھ دے رہا ہے ،،، ان ہواؤں کو محسوس کریں کیا پیغام دے رہی ہیں ۔۔۔! “
ٹپ ٹپ گرتی بوندوں کی پرواہ کیے بغیر وه ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر موبائل نکالتا اپنا پسندیدہ گانا لگا کر اس کے کان پر جھکا ۔
“کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کریں گی ۔۔۔؟ “
نرمی سے اسکے کان کی لو چھوتا وه بھرپور مسکراہٹ سے دیکھتا اسکے سامنے ہاتھ پھیلا گیا۔ رمل نے نچلا لب دانتوں میں دبايا۔
” مگر مجھے ڈانس کرنا نہیں آتا ۔۔۔! “
اسکے خالی ہاتھ پر اپنا نرم سا ہاتھ رکھتی وه کندھے اچکا گئی۔ انداز میں لاپرواہی تھی۔
بوند بوند میں۔۔۔۔ گم سا ہے ۔۔۔۔ !!!
برستی بارش میں ٹھنڈی ہواؤں کے شور میں گانے کے بول دل کی کیفیت عجیب کر گئے تھے۔
میر حاصل نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے كندهوں پر دھرتے اسکی کمر کو مظبوطی سے تھامتے اسے اوپر اٹھا لیا یوں کہ رمل کے پیر میر کے پیروں پر آ جمے تھے۔
بوند بوند میں گم سا ہے ۔۔۔۔
یہ ساون بھی تو تم سا ہے ۔۔۔
قدم آگے پیچھے لیتا وه اسکی گردن میں چہرہ چھپا گیا۔ رمل نے بےهنگم ہوتی دھڑکون پر هلكان ہوتے اسکی گردن کے گرد بازو حائل کر لیے۔
اک اجنبی احساس ہے ۔۔۔
کچھ ہے نیا کچھ خاص ہے ۔۔۔
قصور یہ سارا۔۔۔۔
موسم کا ہے ۔۔۔۔
اچانک اسے خود سے جدا کرتے اس نے اسے زمین پر اتارا تھا۔ رمل کے بال گیلے ہو کر چہرے اور گردن پر چپكنے لگے تھے۔ میر نے ہاتھ بڑھا کر اسکا جوڑا کھول دیا ، کالے گھنے بال پشت کو مکمل ڈھانپ گئے ۔
رمل نے فورا سے اسکی جانب سے رخ بدلا ٹھنڈی بارش اور اسکی گرم گرم نگاہوں کی حدت سے وه کانپنے لگی تھی۔ وه جانتی تھی وه آج اسے نہیں روک پائے گی ۔۔
وه ایسا کر ہی نہیں سکے گی ، اسکی رفتہ رفتہ بڑھتی وارفتگیاں اسے موم کی طرح پگھلا دیں گی۔
اسکی پشت پر پھیلی سیاہ بالوں کی آبشار کو دیکھتے میر کی آنکھوں میں کئی رنگ اترے تھے۔ وه ایک دم آگے بڑھتا اسے بانہوں میں اٹھا گیا۔
سر جھکا کر اسکے مومی چہرے کو آنکھوں کے راستے دل میں اتارتے وه دریا میں کھڑی شپ کی جانب بڑھا تھا۔ شپ میں بنے چھوٹے سے روم میں آتے اس نے رمل کو نیچے اتارا۔ وه دونوں بهیگ چکے تھے۔
” چینج کر لیں اس روم میں جا کر ۔۔۔! “
گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وه اٹیچ ڈریسنگ روم کی جانب اشارہ کر گیا۔ اسکے جانے کے بعد وه کمرے کا ایک نظر میں جائزہ لے گیا جسے گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔
ان کی مہک ٹھنڈی ہوا میں مدغم ہوتی عجیب س احساسات میں مبتلا کررہی تھی۔ سیٹی پر رومانوی دھن بجاتا وه ہیٹر آن کرتا واش۔روم کی جانب بڑھ گیا۔
جب وه باہر نکلا تو محض سیاہ ٹراؤزر پہنے تھا۔ کسرتی سینہ بےحد نمایاں تھا۔ ٹاول سے سر پونچھتے وه ڈریسنگ روم کے بند دروازے کو دیکھنے لگا۔
“آپ خود باہر آئیں گی یا مجھے لانا پڑے گا ۔۔۔؟ “
کمرے کی گرم فضا میں خود کو ریلیکس کرتا وه گہری سانس لیتا ذرا بلند آواز میں بولا۔ شہد رنگ آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ چند پل خاموشی کی نظر ہوئے پھر دروازه کھل گیا۔
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی وه باہر نکلی۔ میر کی نگاہیں ساکت ہوئی تھیں سانس جیسے مدهم پڑی تھی۔
سیاہ سلک کی پیروں کو چھوتی سلیولیس نائٹی میں سیاہ لمبے بال شانوں پر بکھیرے وه کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔سیاہ گهنی پلکیں سفید عارضوں پر جھکی ہوئی تھیں۔ گلابی لب مسلسل کاٹنے سے سرخ ہورہے تھے۔
بالوں کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے جھٹک کر آگے بڑھتی وه اسکے دل پر ایک اور گہرا وار کر گئی۔
” اب یوں ندیدوں کی طرح مت گھورو مجھے ۔۔۔! “
خود کو کمپوز کرتی وه پرس میں سے لوشن تلاش کر گوری کلائیوں اور ہاتھوں پر لگانے لگی۔
وه خود کو نارمل ظاہر کررہی تھی مگر دل آنے والے لمحات کو سوچتا بےهنگم انداز میں دھڑک رہا تھا۔
” آپ جان بوجھ کر میرے دل کو گھایل کرتی ہیں نہ ۔۔۔؟ ظلم کرتی ہیں ۔۔۔! “
اسکا رخ اپنی جانب کرتا وه آنچ دیتے لہجے میں بولتا اسے نگاہیں اٹھانے پر مجبور کر گیا۔
” میں نے کیا کیا ۔۔۔؟ “
معصومیت سے کہتی وه اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔ کتنی بےنیاز تھی وه۔۔۔!
” آپ ہی نے تو سب کیا ہے ۔۔۔!!! “
اسے ایک دم جھک کر اٹھاتا وه نرم سے بیڈ پر آہستہ سے لٹاتا سیدھا ہوا۔
وه لب سختی سے دباتی ہاتھوں کی مٹھی بنا گئی نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو کسرتی سینے پر نگاہ پڑتے نگاہ آپ ہی جھکتی چلی گئی۔
میر نے پلٹ کر لائٹ آف کرتے فینسی لائٹس جلا دیں۔ کمرے میں مدهم سی رنگ برنگی روشنیاں جلنے لگی تھیں۔ باہر لہروں کا شور سماعتوں سے ٹکرا رہا تھا تو اندر جذبات کا شوریدہ سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔
” رمل ۔۔۔ آپ میری زندگی میں آنے والی پہلی عورت ہیں ، میں نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ وه میرے قریب آ سکے مگر آپ کی قربت کی خواہش مجھے پاگل کرتی ہے ۔۔۔!
آپ سے محبت کی، آپ سے نکاح کیا۔۔۔!
اب میرا دل چاہتا ہے ان دوریوں کو سمیٹ لوں ، مزید دوری برداشت نہیں ہوتی “جانِ میر ” ۔۔۔
کیا آپ مجھے اپنے قریب ہونے کی اجازت دیتی ہیں ۔۔۔؟ “
اسکے بال سمیٹتا وه نرمی سے پوچھنے لگا۔ رمل نے آہستہ سے جھکی پلکیں اٹھائیں اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے لبوں کو حرکت دی۔
” تم بھی ۔۔۔ میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد ہو ، تمہاری محبت نے میرے دل کو مجھ سے چھین لیا ہے میر ۔۔۔! میں ۔۔۔
مجھے تم سے محبت کے بعد تمہاری عادت ہوگئی ہے ۔۔۔! میں ہر پل تمہیں خود سے قریب چاہتی ہوں ۔۔۔! “
اسے اقرار سونپتی وه دهیما سا مسکرا کر آنکھیں موند گئی۔ میر نے گہری سانس لیتے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا جو پاگلوں کی طرح دھڑکتا اسے بھی پاگل کرنے لگا تھا۔
” میں آپ کو یقین دلاتا ہوں آج کے بعد آپ مجھے تم کی بجائے ”آپ “کہا کریں گی ۔۔۔!!! “
اسکے چہرے پر پھونک مارتا وه دلکشی سے مسکرایا گہرا ڈمپل گال میں نمایاں ہوا تھا۔
” دیکھتے ہیں ۔۔۔!!! “
اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دهكیلتی وه مسکان دباتی کروٹ لے گئی۔
میر نے کمفرٹر پھیلاتے اسکی گردن سے بال ہٹائے تھے۔ باہر رات گہری ہوتی جارہی تھی بارش برس برس کر بند ہو چکی تھی مگر جذبات کی بوچھاڑ ابھی باقی تھی۔
