Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

کھردرے تاثرات چہرے پر لیے وہ پولیس سٹیشن میں داخل ہوا ۔۔۔ اس کے ماتحت اسے دیکھ کر گڑبڑا گئے ۔۔۔
علاقے کے آٹھ پولیس سٹیشنز اس کے انڈر تھے ۔۔۔ جن کی سستی دیکھ کر ایس پی حیان شاہ کا پارہ بلند ہوگیا تھا۔۔
اس کی آمد غیر متوقع تھی ۔۔ لكڑی کی میز کے سامنے بیٹھا ہیڈ كانسٹیبل جو سگریٹ پھونک رہا تھا حیان کو دیکھ کر ہڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
اس نے سگریٹ زمین پر پھینکا ۔۔ سیاہ بوٹوں تلے سگریٹ کو مسلتے اس نے حیان کو سلیوٹ کیا ۔۔۔ حیان نے ناگواری سے اسے دیکھا ۔۔۔ لب بھینچ کر وہ آگے آیا اور رکھ کر ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا ۔۔۔
پولیس سٹیشن میں سناٹا چھا گیا ۔۔۔
“کچھ باہر کی خبر بھی ہے کیا ہو رہا ہے ؟؟ ۔۔۔ یہ ۔۔۔یہ ۔۔ وہ کام ہے جو کررہے ہو تم لوگ ؟ سالے حرام کے * ۔۔۔ میڈیا پر بوال مچا ہے ۔۔ پولیس کی نااہلی پر فقرے کسے جا رہے ہیں ۔۔۔ میں کتوں کی طرح بھونک کر گیا تھا کہ انویسٹیگیشن جاری رکھو ۔۔ ہمیں جلد از جلد ثبوت چاہیے اس * چیف کے بیٹے کے خلاف ۔۔۔ آخری بار وارن کررہا ہوں ۔۔۔ اگر دوبارہ یہ سب دیکھا میں نے ۔۔۔ اس نے ارد گرد نظروں سے اشارہ کیا ۔۔۔ “تو سب کو سسپینڈ کر دوں گا ۔۔۔ مجھے “حرا انور” کے ریپ اینڈ مرڈ**ر کیس کی ساری ڈیٹیلز چاہیے آج شام تک ۔۔۔ !!! “
خطرناک تیوروں سے انہیں دیکھتا وہ درشتگی سے بولا ۔۔۔
“يس سر !!! ۔۔۔”
ہیڈ کانسٹیبل گھگھیا کر بولا ۔۔۔
ان پر ایک سرد نظر ڈال کر وہ پولیس سٹیشن سے باہر آیا ۔۔۔اسے جلد از جلد اپنے دفتر پہنچنا تھا ۔۔۔ جو ہیڈ پولیس سٹیشن میں تھا ۔۔۔
🍂🍂🍂
وہ سب میز پر طرح طرح کی فائلز ، تصویریں اور کاغذات پھیلائے ان پر جھکے کھڑے تھے ۔۔ حیان ایک طرف کمپیوٹر کے سامنے کھڑا سکرین پر چلتی ویڈیو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے جھک کر علی کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو اس کے کہنے پر بار بار ویڈیو ری پلے کررہا تھا ۔۔۔ حیان سیدھا ہوا ۔۔۔
” نہیں علی ۔۔۔ یہ ویڈیو ہمارے کسی کام کی نہیں ۔۔۔ بلاشبہ یہ چیف کا بیٹا شاہ رخ ہی ہے لیکن ویڈیو بلر ہے جو قانون کی عدالت میں قابل قبول نہیں ہوگی ۔۔۔ “
لب بھینچ کر وہ مڑا۔۔ باقی انسپیکٹرز کی طرف آتا وہ پر سوچ نظروں سے میز پر بکھری “حرا انور” کی تصویر دیکھنے لگا جو اس کی موت کے بعد لی گئی تھی ۔۔۔
اس کے چہرے پر جا بجا زخموں کے نشان تھے۔۔ حیان کو پر سوچ نظروں سے تصویر کو دیکھتے پا کر علی اس کے پاس آیا ۔۔۔
“کیا سوچ رہے ہیں سر ؟؟” ۔۔۔
اس کی آواز پر باقی انسپیکٹرز بھی سر اٹھا کر حیان کو دیکھنے لگے ۔۔۔
“حرا کی والده ملی تھیں مجھ سے ۔۔۔ انہیں انصاف چاہیے ۔۔ لیکن انہیں کسی سے امید نہیں ہے ۔۔۔ “
بولتے ہوئے اس کی سیاہ آنکھوں کے کانچ کناروں سے سرخ ہو گئے۔۔۔ پیشانی پر پڑی سلوٹوں پر ہمیشہ کی طرح سیاہ لٹ خم کھا کر گری ہوئی تھی۔۔
“سر ہم پوری کوشش کررہے ہیں ۔۔۔۔انشااللہ ضرور کامیاب ہوں گے !!! “
ایک انسپیکٹر نے پوری امید سے کہا ۔۔۔ حیان نے اس کا کندھا تهپتھپایا۔۔
” حرا گرلز ہاسٹل میں رہ رہی تھی جہاں کسی لڑکے کو جانے کی اجازت نہیں ہے ۔۔ تو شاہ رخ کیسے گیا اندر ۔۔۔ ظاہر ہے اندر کے کسی آدمی نے اس کی مدد کی ہے ۔۔۔ جیسے کہ ۔۔۔ “
حیان نے آنکھیں سكیڑتے باقی سب کی جانب دیکھا ۔۔۔
“جیسے کہ چوکیدار ۔۔۔ کیونکہ اسے خریدے بغیر وہ لڑکا اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ “
علی نے حیان کی بات مکمل کی ۔۔۔
“اڑیسٹ کرو اسے جا کر ۔۔۔ اب وہی ہمیں ثبوتوں تک پہنچائے گا ۔۔۔ ! مجھے کچھ دیر میں ہی وہ حوالات میں چاہیے ۔۔۔ ” کوئیک !!! ۔۔۔ “
اس کی ہدایت پر سب سر ہلا کر آفس سے نکل گئے ۔۔۔ حیان نے کنپٹی مسلتے کرسی پر بیٹھتے سر اس کی پشت سے لگایا تھا ۔۔۔
🍂🍂🍂
وہ بیڈ پر نیم دراز تھی جب کمرے میں آہٹ محسوس کر کے مندی آنکھیں کھول دیں ۔۔۔ ابراھیم خاموشی سے اس کے پاس آیا اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔۔۔
مشائم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔
“میرا بچہ !!! ۔۔۔”
اس کے بال سنوارتے اس نے جھک کر ابراھیم کی پیشانی کو چوما ۔۔ وہ دھیما سا مسکرا دیا ۔۔۔
“ماما ۔۔ ؟؟؟ “
سکون محسوس کرتا وہ آنکھیں موند گیا ۔۔۔
“جی ماما کا بچہ ؟؟ ۔۔۔۔ “
مشائم کی نرم آواز سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔۔
“مجھے نئے مشن پر روانہ ہونا ہے کچھ دن تک ۔۔۔ “
ہلکی آواز میں کہتا وہ اٹھ بیٹھا۔۔
اللّه تمہیں کامیاب کرے ۔۔ !
وہ دل سے دعا گو ہوئی۔۔۔
“ابراھیم میں چاہتی ہوں جانے سے پہلے تمہارا نکاح کر دوں ۔۔۔ “
اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھتی وہ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔ ابراھیم نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا ۔۔۔
یوں اچانک آپ کی یہ خیال کیسے آ گیا؟؟ ۔۔۔۔ ٹھوڑی كهجاتا وہ معصوم بننے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔۔ مشی نے بھوری آنکھیں سکیڑیں ۔۔
” اب ایسے نہ بنو جیسے تمہیں کچھ خبر ہی نہیں ۔۔۔ آخری بار گئے تھے تو یہی بات طے پائی تھی نہ کہ اگلی بار آنے پر میں تمہاری شادی کر دوں گی ؟؟ ۔۔۔”
سینے پر ہاتھ باندھتی وہ اسے یاد کروانے لگی ۔۔۔
” آ ۔۔ جی ۔۔۔ کچھ کچھ یاد آ رہا ہے ۔۔۔ “
ابراھیم نے مسکراہٹ دبائی ۔۔ بہت کم وہ یوں مسکراتا تھا۔۔۔
“تو پھر لڑکی دیکھوں میں ؟؟ ۔۔۔ “
وہ اس کی چالاکی خوب سمجھ رہی تھی۔۔۔ ماں تھی آخر اس کی ۔۔ اس کی رگ رگ سے واقف ۔۔۔
“اپنے جیسی کوئی ڈھونڈ دیں پھر !!! ۔۔”
اس نے مشی کا ہاتھ تھام کر عقیدت سے چوما ۔۔۔ وہ مسکرائی ۔۔۔
“ہے نہ میرے جیسی ایک لڑکی ۔۔۔ !!! “
اس کا اشارہ ابراھیم خوب سمجھ گیا۔۔
“اممم ۔۔۔ دیکھ لیں پھر آپ ۔۔۔ جیسا آپ کو ٹھیک لگے ۔۔ میں معصوم تو بس آپ کے حکم پر سر ہی جھکا سکتا ہوں ۔۔۔ “
ماتھے پر بکھرے سیاہ بالوں میں معصومیت سے اسے دیکھتا وہ بہت پیارا لگ رہا تھا ۔۔۔
“شریر کہیں کے ۔۔۔ سب سمجھتی ہوں میں ۔۔۔ !!!”
پیار سے اسے چپت لگاتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
“شام کو چلتے ہیں بھائی جان کی طرف ۔۔۔ میں رمل کو دیکھوں کچھ کھایا یا نہیں ۔۔۔ ہر وقت کام کرتی رہتی ہے !!! ۔۔۔”
ڈھیلے جوڑے کو کھول کر ٹھیک کرتی وہ گویا ہوئی۔۔۔ ابراھیم وہیں نیم دراز ہوگیا ۔۔
“اوکے بیوٹیفل لیڈی ۔۔۔ ! “
خوشگواریت سے کہتا وہ سر کے نیچے بازو رکھتا لیٹ گیا ۔۔۔ اس طرح لیٹنے سے اس کے بازو کے پھولے مسلز مذید نمایاں ہوئے تھے ۔۔۔
مشائم کے جانے کے بعد وہ کچھ سوچنے لگا تھا ۔۔۔ بھائی بھائی کی تكرار کانوں میں گونجی ۔۔
اس نے ایسا کچھ کبھی سوچا نہیں تھا اس کے بارے میں ۔۔۔ اور وہ ۔۔ وہ تو بلکل بھائی سمجھتی تھی اسے ۔۔۔
🍂🍂🍂
ٹرے میں چائے کے تین کپ اور ساتھ کچھ سنیکس رکھتی ٹرے اٹھا کر وہ کچن سے باہر آئی ۔۔۔ وہ آج بھی پہلے جیسی دکھتی تھی ۔۔ بس اب شہد رنگ سلکی بال آدھے کیچر میں بندھے ہوتے تھے ۔۔۔
پر سکون چہرے کے ساتھ وہ ٹی وی لاؤنج میں آئی جہاں حیان اور ماہ بیر بیٹھے کسی موضوع پر گفتگو کررہے تھے۔۔ ارشما نے ٹرے کو میز پر رکھا۔۔۔
چائے کے کپ ان کے سامنے رکھ کر وہ وہیں بیٹھ گئی۔۔۔
“کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہے ہیں آپ دونوں ؟؟۔۔۔”
اپنا کپ تھامتی وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
“نہیں ایسا کچھ خاص نہیں بس کیس کی بات کررہا تھا بابا سے ۔۔۔”
حیان ہلکی مسکراہٹ سے بولا۔۔ اس وقت وہ اور ماہ بیر ڈھیلے سے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھے۔۔۔ دونوں کو دیکھ کر ان کے بھائی ہونے کا گمان ہوتا تھا۔۔
حیان کی پیشانی پر ہمیشہ کی طرح سیاہ گھنے بالوں کی ایک لٹ گری ہوئی تھی ۔۔ گھنی مڑی ہوئی مونچھوں تلے لبوں کو گول کرتا وہ کچھ سوچ رہا تھا۔۔
اسلام علیکم !!! ۔۔۔۔
آواز پر انہوں نے مڑ کر دیکھا۔۔۔ مشائم کے پیچھے آتے ابراھیم اور رمل کو دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔۔۔
وعلیکم السلام !!! خوش آمدید ۔۔۔۔
ارشما اٹھ کر مشائم سے ملی ۔۔۔ازلی گرم جوش محبت بھرا انداز ۔۔۔ ابراھیم اور رمل کو سر پر پیار کرتے اس نے زنیشہ کو آواز دی ۔۔۔
وہ تینوں ماہ بیر اور حیان سے ملے ۔۔۔ ماہ بیر نے مشی کو ساتھ لگا کر اس کا سر چوما ۔۔۔ بہن بھائی کی ایسی محبت بہت کم دیکھی تھی انہوں نے ۔۔۔
“کیسا ہے میرا بہادر بچہ ؟؟ ۔۔۔”
رمل کی پیشانی چوم کر وہ نرمی سے بولا ۔۔۔
“بلکل فٹ ۔۔۔ اپنے ماموں کی طرح ۔۔۔ !!! “
دلکشی سے مسکراتی وہ حیان کے برابر بیٹھ گئی جس کی دوسری جانب ارشما بیٹھی تھی۔۔۔
ان کے مقابل صوفے پر ماہ بیر کے ارد گرد ابراھیم اور مشائم براجمان ہوگئے ۔۔۔
“کیسی ہو؟؟ ۔۔۔”
حیان نے رمل کی جانب رخ کیا ۔۔۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھتی کان میں پہنی چوڑی کے سائز کی سلور بالی کو عادتاً شہادت کی انگلی سے ہلانے لگی۔۔۔
” آئی ایم آلویز فٹ اینڈ فائن الحمدللّہ ۔۔۔ !!! “
وہی بات کرنے کا ازلی نڈر اور دو ٹوک انداز ۔۔۔ حیان نے سر ہلایا ۔۔۔
“تم بتاؤ بڑے چرچے ہورہے ہیں میڈیا پر ایس پی حیان کے آج کل ۔۔۔ بڑے کیس پر ہاتھ ڈالا ہے ۔۔۔ “
وہ مکمل اس کی جانب مڑتی ابرو ستائش سے اوپر اٹھا کر بولی ۔۔۔ حیان دهیما سا مسکرایا ۔۔۔
” بہت پریشر ہے اوپر سے ۔۔۔ ڈمب کالز بھی آنے لگی ہیں ۔۔۔ لیکن ان کو ابھی پتہ نہیں میرا ۔۔۔”
اس کی سیاہ آنکھوں کے کانچ چمکے ۔۔۔ رمل نے آنکھیں گھمائیں ۔۔۔
” عجیب نظام ہے یہاں کا ۔۔۔ اگلی بار کوئی کال آئے نہ تو میری طرف سے کہہ دینا کہ تمہاری کال ریکارڈ ہو چکی ہے ۔۔ رمل یوسف کل میڈیا پر تمہیں اکسپوز کردے گی۔۔”
وہ شرارت سے بولی تو حیان ہنس پڑا ۔۔۔ ” چیف نے خود فون کر کے مجھے دهمكی دی ہے ۔۔۔ “
رمل نے کندھے اچکائے ۔۔ “تو تم نے کیا کہا ؟” ۔۔۔
“کہنا کیا تھا ۔۔ کہہ دیا ۔۔ سر میں تو ڈر گیا ۔۔۔ اس پوسٹ تک تو میں جیسے چھلیاں بیچ کر پہنچا ہوں ۔۔۔ آپ پلیز مجھے اور مت ڈرائیں ۔۔ میرے تو ہاتھ پیر کانپ رہے ہیں !!! ۔۔۔”
حیان مزے سے کہتا گیا ۔۔۔ اس کی بات ختم ہوئی تو وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے ۔۔۔ ماہ بیر نے ابراھیم کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے ان دونوں کو دیکھا ۔۔
“شروع ہوگئیں ان کی باتیں ۔۔۔ یار ویسے تمہاری مامی کچھ زیادہ خوبصورت نہیں ہوتی جا رہی دن بدن ۔۔۔؟”
ارشما کو دیکھتا وہ ابراھیم سے مخاطب ہوا۔۔۔ ارشما کو ماہ بیر کو گھورتے دیکھ کر وہ دهیما سا مسکرایا ۔۔۔
“کوئی حال نہیں آپ کا ۔۔۔ بچوں کے سامنے شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔ !!! “
وہ ماہ بیر کو آنکھوں میں وارن کرتی بولی ۔۔۔
“تو کوئی مسلہ نہیں آپ چاہیں تو اکیلے میں شروع ہوجاتے ہیں !!! ۔۔۔ “
ماہ بیر کے بے دھڑک کہنے پر حیان اور ابراھیم کا قہقہہ پڑا ۔۔۔ جبکہ باقیوں نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔
ارشما کا چہرہ حیا سے سرخ پڑا ۔۔۔ اس نے آخری بار وارن کرتی نظروں سے ماہ بیر کو دیکھا ۔۔۔ جیسے اب وہ کچھ بولا تو وہ سخت خفا ہو جائے گی ۔۔۔ ماہ بیر نے منہ پر انگلی رکھ لی ۔۔۔
“ماموں بہت ڈرتے ہیں آپ ممانی سے؟؟۔۔۔ “
ابراھیم مسکراتی نظروں سے دونوں کو ایک نظر دیکھ کر بولا ۔۔۔
” ہاہ !!! ۔۔۔ جب بیوی خوبصورت اور ماضی کی استانی ہو تو ڈرنا پڑتا ہے مجھ جیسے غریبوں کو !!!۔۔۔”
وہ ٹھنڈی آہ بھرتا مسکینی شکل بنا کر بولا ۔۔۔ ارشما نے مشی کو دیکھتے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔ اتنے میں زنیشہ لوازمات سے بھری ٹرالی لیے آ گئی ۔۔۔
اس نے سب کو مشترکہ سلام کیا ۔۔۔ مشائم نے اٹھ کر اس کا سر چوما ۔۔ وہ ان کی محبت پر مسکرا دی۔۔۔ لوازمات سرو کر کے وہ رمل کے برابر آ بیٹھی۔۔۔ وہ دونوں حال احوال دريافت کرنے لگیں ۔۔۔
ابراھیم نے ایک نظر ڈالی تھی اس پر ۔۔۔ بدلی ہوئی ۔۔۔ گہری نظر ۔۔۔ !!!
وہ کھانے پینے سے فارغ ہوئے تو مشائم زنیشہ سے مخاطب ہوئی۔۔۔
“بیٹا رمل کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی جاؤ ۔۔۔ کچھ بات کرنی ہے بھائی اور بھابھی سے ۔۔۔ “
زنیشہ الجھ کر سر ہلاتی رمل کے ساتھ وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
🍂🍂🍂
سرخ ریشمی پیروں کو چھوتے فراک میں دلہن کا سنگهار کیے وہ اپنے کمرے میں نروس سی بیٹھی تھی۔۔۔ سر پر اوڑھے دوپٹے پر جا بجا سرخ خوبصورت موتی جڑے ہوئے تھے۔۔۔
ہاتھ میں بھر بھر کر سرخ چوڑیاں پہن رکھی تھیں ۔۔۔ جبکہ چہرے پر ہلکا میک اپ تھا ۔۔۔ پورے چہرے پر اس کے سرخ لپ سٹک سے رنگے لب اور شہد رنگ آنکھوں میں لگی کاجل کی موٹی لکیر واضح تھی جس نے شہد رنگ کانچ کو دہکا دیا تھا۔۔۔
اس کے ناک پر نتھلی کا اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔ ننھی سی گولڈن نتھلی جس کی باریک تار میں سرخ ننھا موتی لٹک رہا تھا۔۔۔
سب بہت اچانک ہوا تھا۔۔۔ بہت عجیب لگ رہا تھا سب ۔۔۔ ابراھیم بھائی سے نکاح ہوجائے گا ۔۔۔ وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی ۔۔۔
باہر لاؤنج سے مہمانوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔۔ گھر میں ہی چھوٹا سا فنکشن رکھا گیا تھا۔۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب ارشیہ اندر آئی ۔۔۔
انگوری رنگ کی ریشمی کھلے گھیر کی شلوار اور گھٹنوں سے اوپر تک آتی قمیض پر نیٹ کا پھولا دوپٹہ سینے پر پھیلا کر لیے وہ ٹھٹھکا دینے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
بھورے گھٹنوں تک آتے گھنگھریالے بال پشت پر کھلے تھے ۔۔۔ پیروں میں کھسہ اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے وہ کچھ الجھ رہی تھی خود سے ۔۔۔
کب عادت تھی اسے ایسے مشرقی لباس پہننے کی لیکن ایرا نے ضد پکڑ لی تھی کہ وہ رمل اور ارشیہ ایک جیسے لباس زیب تن کریں گی وہ بھی مشرقی طرز کے ۔۔۔
چارو نہ چار اسے بھی پہننا پڑا ۔۔۔ ان کے برعکس حیان اور عرش نے سفید کرتے کے ساتھ سفید پینٹ پاجامہ پہن رکھا تھا۔۔ بدر سیاہ رنگ کا شیدائی تھا اس لیے اس نے سیاہ کرتا پاجامہ پہننے کو ترجیح دی۔۔
ان سب میں مشترک سیاہ شال تھی جو سب لڑکوں نے گلے میں ڈال رکھی تھی۔۔۔
ارشیہ دوپٹہ ٹھیک کرتی اس کے پاس آئی ۔۔۔
“چلو پھوپھو نے کہا ہے تمہیں باہر لے آؤں ۔۔۔ “
زنیشہ کا دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
” پیاری لگ رہی ہو !!! ۔۔۔”
ہاہ ۔۔۔ بدر اس کا یہ انداز دیکھتا تو غش کھا کر گر جاتا ۔۔۔ نیلی آنکھوں والی اس جنگلی بلی سے وہ ایسے نرم لہجے کی توقع کر ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔
زنیشہ گھبرائی گهبرائی سے اس کے ساتھ باہر آئی ۔۔۔ ارشیہ نے اسے ابراھیم کے برابر لا بٹھایا۔۔۔ مہرون کرتے پاجامے میں کندھے پر سیاہ شال ڈالے وہ کسی ریاست کا حسین اور مغرور شہزاده لگ رہا تھا۔۔۔
اس نے ذرا کی ذرا نظر گھما کر چھوئی موئی بنی اپنی نئی نویلی بیوی کو دیکھا جو کل تک اسے بھائی بھائی کہتے نہیں تھکتی تھی ۔۔۔ بدر کو اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوگیا۔۔۔
اینارہ رمل وغیرہ کوتلاش کرتی لاؤنج میں آئی ۔۔ وہ ایک کونے میں کھڑیں نظر آ گئیں ۔۔۔ وہ مٹھائی کا ڈبہ پکڑے ان کے پاس آئی ۔۔۔
“بیٹا یہ لو ۔۔۔ سب کا منہ میٹھا کرواؤ ۔۔۔”
ان کو ڈبہ تھما کر وہ عجلت میں بھی واپس چلی گئی ۔۔۔
تینوں نے ایک ایک ڈبا تھاما اور مہمانوں کی طرف بڑھیں ۔۔۔ رمل نے حیان کو اشارہ کیا تو وہ اس کی طرف چلا آیا ۔۔۔
“واہ بڑے لشکارے مار رہی ہو !!! ۔۔۔”
سفید پاجامے کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے اس نے ستائشی نظروں سے رمل کو دیکھا ۔۔۔
انگوری شلوار قمیض میں سیاہ کمر سے نیچے جاتے سلکی بال کھولے وہ عام دنوں سے بےحد مختلف اور بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
رمل نے سیاہ آنکھیں گھمائیں ۔۔۔
“بندے بھی مار سکتی ہوں میں ان لشکاروں سے ۔۔۔ کیسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں سب ۔۔۔ دل کر رہا گھونسے مار کر ان کا منہ سوجھا دوں ۔۔۔”
حیان نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔
“ہاں بھئی رمل یوسف ہو ۔۔۔ مار سکتی ہو ۔۔۔!!!”
حیان کا اشارہ اس کی سیلف ڈیفینس ٹریننگ کی جانب تھا ۔۔۔
“اچھا یہ پکڑو مہمانوں کا منہ میٹھا کرواؤ ۔۔۔ میں گئی تو ان کا منہ کڑوا اور سوجھا ہوا ملے گا !! “
پھلجھڑیاں چھوڑتی وہ تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔
🍂🍂🍂
نیلی آنکھیں سکیڑ کر اس نے ہاتھ میں بچا ہوا ایک پیس پکڑا اور تیکھی مسکراہٹ سے بدر کی جانب آئی ۔۔۔
جو سیاہ کرتے پاجامے میں مغرور تاثرات چہرے پر سجائے لاپرواہ سا کھڑا لڑکیوں کے دل لوٹ رہا تھا۔۔
ارشیہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ۔۔۔ بدر نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ ایک پل کو وہ مسمرائز ہوگیا ۔۔۔ پھر سر جھٹک کر اس نے چہرہ پھیر لیا ۔۔۔
ارشیہ تو سلگ ہی گئی ۔۔۔ ناک پھلاتے اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔ پھر تپانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھ کر ہاتھ میں پکڑا مٹھائی کا ٹکڑا اس کے منہ کے سامنے کیا ۔۔۔
“اپنی بڑی بہن کے ہاتھ سے مٹھائی نہیں کھائے گا میرا پالا بے بی ؟؟۔۔۔”
اس کی نیلی آنکھوں کے کانچ چمک اٹھے تھے۔۔۔
بدر نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔ ارشیہ کو لگا وہ ہاتھ مار کر مٹھائی کا ٹکڑا دور پھینک دے گا لیکن ۔۔۔
وہ جھکا ۔۔ ارشیہ کا ہاتھ پکڑ کر مٹھائی کھاتے اس نے اس نرم انگلی منہ میں دبا کر زور سے بائیٹ کیا ۔۔۔
ارشیہ سٹپٹا گئی ۔۔۔ اس نے جلدی سے ہاتھ کھینچا ۔۔۔
“بہت بد تمیز اور بے شرم ہو تم ۔۔۔”
اس کی چادر سے انگلی پونچھ کر وہ تپ کر کہتی پلٹی اور تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی نظروں سے دور ہونے لگی۔۔۔
بدر نے سر گھما کر اس کی پشت پر پھیلے بالوں سے جھانکتی بلدار کمر کو ایک نظر دیکھا ضرور تھا۔۔۔
🍂🍂🍂
جاری ہے !!!