No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
“حیان۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟؟”
دلہن کے جوڑے میں وہ شاک سی کھڑی تھی۔ بند دروازه کھلنے پر جو چہرہ سامنے آیا تھا اس نے رمل کو کچھ کہنے لائق نہ چھوڑا تھا۔۔
شاک سے نکلتی وہ بجلی کی سی تیزی سے اس تک پہنچتی اس کا کالر دبوچ کر چلائی۔۔
“تم ۔۔ نے مجھے اغوا کروایا؟ حیان تم نے؟ آج نکاح تھا میرا۔حیان۔۔ تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا؟ یہ ۔۔ کیا کر دیا تم نے؟”
اس کے سینے پر دونوں ہاتھ مارتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ویران عمارت کے اس ٹوٹے پھوٹے کمرے میں چوڑیوں کی کھنک زور سے گونجی تھی۔۔
اس کی روتی آواز غم سے پھٹنے لگی تھی سیاہ آنکھوں میں بےيقینی ہی بےيقینی تھی۔۔۔!
اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا جبکہ پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔۔
خشک لبوں پر زبان پھیرتی وہ اٹھ بیٹھی، سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر وہ ایک سانس میں پی گئی۔۔
“یا اللّه یہ کیسا خواب تھا؟”
جھرجهری لیتی وہ بلینکٹ ہٹا کر نیچے اتری۔ سردی محسوس ہوتے اس کا جسم کپکپایا تھا۔۔
“حیان ناراض ہے مجھ سے شاید اس لیے ایسا خواب آیا ہے، آج بات کروں گی اس سے!”
دل میں کہتی وہ فریش ہونے چلی گئی۔
🍂🍂🍂
اس کی گاڑی تارکول کی ٹھنڈی سنسان سڑک پر رواں دواں تھی۔ وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس آن ڈیوٹی تھا۔۔ اس کے پیچھے دو پولیس موبائل گشت پر نکلی تھیں۔۔۔
علاقے کا چکر لگا کر اب وہ آئی جی کے گھر جا رہا تھا جبکہ باقیوں نے تھانے کا رخ کرنا تھا۔۔
اس کا جبڑا تنا ہوا تھا۔۔ سیاہ آنکھوں میں بلا کی سردمہری تھی۔۔ کشادہ پیشانی پر گری سیاہ لٹ اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش میں ہلکان نظر آتی تھی۔۔۔
لیکن اس کا ذہن بس “سی ایم” کی تازہ نشر ہونے والی گفتگو کو سوچ رہا تھا۔۔ اسے ‘ڈی آئی جی’ سے بات کرنے کی ضرورت تھی۔۔ یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔!
“نور مقدم” کا کیس میڈیا پر بہت ہائی لائیٹ کیا جا رہا تھا۔ پولیس پر بہت پریشر تھا نوجوان نسل اس کے لیے انصاف مانگنے سڑکوں پر نکل آئی تھی۔۔۔
تیزی سے آتی سوچوں کو جھٹکتا وہ ڈی آئی جی کے گھر کے سامنے رکا۔۔ گارڈ اسے پہچانتا تھا، اس لیے اسے اندر جانے دیا۔ سپاٹ چہرے سے وہ لاؤنج میں بیٹھ گیا جب کچھ دیر بعد وہ لاؤنج میں داخل ہوئے۔۔
گرے تھری پیس میں وہ کہیں جانے کے لیے تیار لگتے تھے۔ ان کے سر سے سفید بال جگہ جگہ سے جھانکنے لگے تھے۔ ہلکی داڑھی مونچھوں میں سنجیدہ چہرہ لیے وہ اس کے مقابل آ بیٹھے۔۔
حیان کی طرح ان کا چہرہ بھی سپاٹ اور گہری سنجیدگی لیے ہوئے تھا۔۔۔
“بولو۔۔ مجھے کہیں جانا ہے!!”
ان کی بھاری آواز لاؤنج میں گونجی تھی۔۔
حیان نے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ دونوں ہاتھ باہم پھنساتے وہ ٹھنڈے لہجے میں گویا ہوا۔۔
“چار لڑکوں نے اس کا ریپ کیا ہے۔۔ رپورٹ کے مطابق اسے پہلے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ معصوم لڑکی ان چار درندوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی تھی سر؟؟” اس کے لہجے میں ایسا درد اور ٹھنڈک تھی کہ انہیں اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑتی محسوس ہوئی۔۔ مزید اس کے الفاظ سے ان کی آنکھوں میں بےچینی سے نمایاں ہوئی۔۔ انہوں نے بےاختیار پہلو بدلا۔۔۔ “ان کی درندگی کا نشا۔۔نہ بننے کے بعد بھی اس میں سانسیں بچی تھیں۔۔ وہ بچ سکتی تھی لیکن انہوں نے اس کا گلا کاٹ دیا۔۔!”
بولتے ہوئے اس کی آنکھوں میں سرخی آئی تھی۔۔ ڈی آئی جی نے پہلو بدلا۔ اب کہ وہ خاموش نہ رہ سکے۔۔
“تو تم مجھے کیوں بتا رہے ہو یہ سب؟”
ان کا دل بےحد بےچین ہونے لگا تھا۔۔
“آپ کی بھی بیٹی ہے سر! آپ کی بیٹی کو اغوا کروایا جا چکا ہے۔ یہ آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان سب کے پیچھے کون ہے۔۔ اب تک جانے کتنی لڑکیاں اس کی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں!!”
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھے گئے۔۔
“پہلے میں خاموش تھا، لیکن جب اس نے میری بیٹی کو اٹھوا لیا، وہ میری زندگی کے بدتر لمحات تھے۔ تب مجھے ان والدین کا درد محسوس ہوا جن کی بیٹیاں انہیں کبھی واپس نہ مل سکیں۔۔
تم سمجھ رہے ہو نور والے کیس پر بھی میں خاموش بیٹھا ہوں۔۔ میں اس پر کام کر رہا ہوں۔۔ میں اپنے ہاتھ مضبوط کر رہا ہوں حیان۔۔ جو ان دیکھی بیڑیاں میرے ہاتھ میں جکڑی تھیں انھیں کھلوا رہا ہوں۔۔
اپنی بیٹی کو میں باہر بھجوا چکا ہوں۔۔ بااثر شخصیات سے ملاقات کررہا ہوں۔ میں خاموش نہیں بیٹھا ہوں حیان! تم اپنی ڈیوٹی کرو۔۔
جو کرنا پڑے کرو،، تمہیں اجازت ہے کسی کے دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں اب یہ معاملہ کورٹ تک جائے گا!!”
ان کے مظبوط لہجے پر وہ دهیما سا مسکرایا۔۔ ایک بوجھ سا دل سے ہٹتا محسوس ہورہا تھا۔۔
“تھینک یو سو مچ سر۔۔! آپ کی سپورٹ میرے لیے بےحد ضروری تھی۔۔!”
چمکتی آنکھوں سے انہیں دیکھتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ آئی جی نے سر ہلایا “آل دا بیسٹ!!” ۔۔
🍂🍂🍂
کف لنکس بند کرتے اس نے موبائل کی چمکتی سکرین کو دیکھا جس پر نئے پیغام کا نوٹیفیکیشن چمک رہا تھا۔۔ بلیک ٹیکسیڈو میں نک سک سا تیار وہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔
کان میں چمکتا ڈائمنڈ ٹاپس بےحد جچتا تھا اس پر۔۔ اپنی تیاری پر تفصیلی نظر ڈالتا وہ ذرا سا مسکرایا۔۔ گال میں گڑھا سا پڑا تھا اس کی مسکان بہت دلکش تھی۔۔
وہ اب تک کی تاریخ کا سب سے وجیہہ اور کم عمر ‘پرائم منسٹر’ تھا۔۔
اسے قائل کرنا آتا تھا لوگوں کو اپنے لفظوں سے، گہری باتوں سے!
آدھا کام تو اس کی مسکان کر جاتی تھی، جب وہ مسکراتا تھا گال میں پڑتا ڈمپل کسی مقناطیس کی طرح مقابل کی نظروں کو اپنی جانب کھینچتا تھا۔۔
دروازہ ناک ہوا تو۔۔
اس کے لب خفیف سے حرکت میں آئے۔۔
” آجاؤ یاور!! ” ۔۔۔
اسے اندر آنے کی اجازت دیتا وہ خود پر پرفیوم چھڑکنے لگا۔ چھن سے کمرے میں دلآویز سی مہک پھیلی تھی،، کمرہ معطر ہوا تھا۔۔
یاور نے میز پر کچھ فائلز رکھیں پھر پیچھے ہٹتا کمر کی پشت پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔۔
“سر گاڑی تیار ہے!!”
سر جھکائے وہ روبوٹک لہجے میں بولا۔۔ وہ میر حاصل کا خاص آدمی تھا وہ اس پر اعتبار کرتا تھا۔۔
“ہمم ۔۔ میں اکیلا جاؤں گا تم باقی کام سنبهال لینا، میری غیر موجودگی میں کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے! الیاس قریشی (سابق وزیر اعلیٰ) آئے تو اسے ٹرخا دینا۔۔ سب کے بڑے پر پرزے نکل رہے ہیں انہیں کاٹنے کا انتظام کرو یاور۔۔۔!!”
فون پر رمل کا میسج دیکھتا وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔۔ شہد رنگ آنکھوں میں سردمہری تھی۔۔ یاور نے بےچینی سے اسے دیکھا پھر نظریں جھکا کر بولا۔۔
“سر آپ اکیلے نہ جائیں۔۔!!”
اس کی آواز میں التجا تھی۔۔ میر کی پیشانی پر بل پڑے۔۔ وہ بھاری قدم لیتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
“یاور۔۔ مجھے مت بتاؤ مجھے کیا کرنا ہے آئندہ ایسی جرات کی تو میں بھول جاؤں گا تم میرے خاص آدمی ہو۔۔۔!”
ہاتھ بڑھا کر اس کے کوٹ سے ان دیکھی گرد جھارتا وہ کوٹ جھٹک کر باہر نکل گیا کمرے میں اس کی موجودگی کا احساس اب بھی باقی تھا۔۔۔
یاور نے گہری سانس فضا میں چھوڑتے کندھے اچکائے یوں جیسے وہ عادی تھا اس لہجے کا۔۔!
🍂🍂🍂
مہرون لمبی قمیض چوڑی دار پاجامے میں کاندھوں پر مہرون ہی شال پھیلائے وہ اپر کلاس ہوٹیل میں ریزروڈ ٹیبل پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔
سیاہ لمبے بال کس کر اونچے جوڑے میں بندھے تھے وہ باہر جاتے وقت کبھی بال نہیں کھولا کرتی تھی اس کے نزدیک یہ سیاہ لمبی زلفیں فتنہ تھیں۔۔!
ایسی زلفوں کے بڑے اسیر ہوا کرتے ہیں وہ نہیں چاہتی تھی وہ کسی کی نگاہوں کو خود سے باندھ لے۔۔
وہ اپنے نام کی ایک، کام کی ایک تھی۔۔!
اس کا نام اس پر جچتا تھا، کام اس پر سجتا تھا۔۔
لیکن وہ اس بات سے بھی باخبر تھی کہ اس کی سادگی بھی لوگوں کو اپنی اوڑھ کھینچتی تھی۔ اس کا ڈریسنگ سٹائل، بالوں کو اونچے جوڑے میں باندھنے کا انداز مقبول تھا۔۔
آج یہاں وہ میر سے ملاقات کے لیے آئی تھی وہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی سابقہ ملاقاتیں گو خوشگوار نہیں تھیں لیکن اس کا ظرف بڑا تھا جو وہ خود چلی آئی تھی۔۔
وہ صالح کی بیٹی تھی، کسی عام شخص کی نہیں۔۔۔!
سر جھکا کر کلائی میں بندهی گھڑی پر وقت دیکھتی وہ اس کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
🍂🍂🍂
“بورن وائٹ” کار کو وہ تیزی سے سڑک پر دوڑا رہا تھا تارکول کی صاف ستهری سڑک ہلکی ہلکی نم تھی کچھ دیر پہلے بوندا باندی ہوئی تھی جس نے ہوا کو مزید سرد کر دیا تھا۔۔
ٹھنڈی ہوا کے باعث اس کی مغرور سی ناک سرخ پڑ گئی تھی اس کی شہد رنگ آنکھوں میں مسرور سا تاثر تھا۔۔
“سو فائنلی رمل ۔۔ وی آر گونا میٹ!”
عنابی لبوں کو حرکت دیتا وہ سپیڈ مزید تیز کر گیا۔ سپیڈ بریکر کے آتے اس نے کار کی سپیڈ ہلکی کی جب گاڑی ایک جھٹکے سے ٹریک سے ہٹی۔۔
ٹائیر برسٹ ہوا تھا جس سے خاموش سنسان سڑک پر ٹائروں کے چرچرانے کی آواز دور تک گئی تھی اس نے حواس قائم رکھتے بریك لگائی۔۔
وہ ابھی باہر نکلتا جب اچانک کار دروازه کھلا اور ماسک سے چہرہ چھپائے ایک اونچا لمبا شخص اس پر جھپٹا۔۔
اس نے چاقو سے وار کیا تھا میر حاصل نے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس کا ہاتھ پکڑ لیا چاقو محض سینے سے ایک انچ کے فاصلے پر رکا تھا۔۔
وہ شخص اپنی پوری جان لگاتے اس پر جھکا ہوا تھا میر نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے زور سے گھٹنا اس کے پیٹ میں مارا جس سے مقابل کا ہاتھ ہلا اور چاقو میر کے کندھے سے کچھ نیچے گھستا چلا گیا!
اس کا رنگ زرد پڑا تھا۔۔ مقابل نے چاقو جھٹکے سے نکال کر دوسرا وار کرنا چاہا جب کسی نے اسے گردن سے پکڑ کر باہر کھینچا!! میر نے کندھے پر رومال رکھتے کار سے باہر دیکھا جہاں یاور اسے بری طرح پیٹ رہا تھا۔۔ اس کا کام تمام کر کے ہاتھ جھاڑتا وہ جھک کر کار میں جھانکنے لگا۔۔ “ہیلو سر ۔۔۔! مائی نیم یاور، نائس ٹو میٹ یو!!” اندر بیٹھ کر وہ فرسٹ ایڈ باكس نکالتا وہ اس کی شرٹ کے اوپر والے بٹن کھولنے لگا میر نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔ ایک نمبر کا ڈھیٹ انسان تھا وہ۔۔۔! “میری بیوی نہیں ہو تم سمجھے؟” اس کا ہاتھ جھٹک کر وہ خود کندھے سے شرٹ کھسکانے لگا تکلیف سے آنکھوں کے شہد سے کانچ سرخ پڑنے لگے تھے۔۔ یاور نے كندھے اچکائے،، بغیر اثر لئے وہ روئی سے خون صاف کرتا دوا لگا کر پٹی کرنے لگا۔۔ میر نے تپ کر اس ڈھیٹ نسل کو دیکھا جسے اس کے غصے سے کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔
“میں نے کہا تھا میرے ساتھ کوئی نہیں آئے گا!!”
تند نظروں سے اسے دیکھتا وہ باور کروانے لگا۔۔ کندھے میں اٹھتی تکلیف پر ضبط کئے وہ لب بھینچ گیا۔۔
“میں آپ کے ساتھ نہیں تھا سر ۔۔ آپ سے پیچھے تھا، آپ کہیں یا نہ کہیں آپ کی حفاظت کرنا میرا فرض تھا!”
فرسٹ ایڈ باکس بند کرتا وہ ہینڈ سینیٹائیز کرنے لگا۔۔ میر کا چہرہ آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگا تھا،، دوا اپنا کام کر رہی تھی۔۔
“اور تمہیں یہ فرض چا*قو لگنے کے بعد یاد آیا؟”
لہجہ تیکھا ہوا تھا یاور نے سکون کی سانس لی، مطلب وہ اب نارمل تھا اس کے نزدیک دنیا میں دو ابنارمل انسان تھے۔ ایک رمل اور دوسرا میر!!
دونوں کے ستارے ملنے لگے تھے، گڈ!!
“راستے میں گرل فرینڈ مل گئی تھی۔۔!!”
بےنیازی سے کہتا وہ باہر نکل آیا مجال ہے جو وہ سیدھی طرح جواب دے۔۔
میر نے کار کی حالت پر لعنت بھیجی، باہر نکل کر اس نے یاور کے ہاتھ سے اس کی کار کی چابی جھپٹی۔۔
“اگر اپنی حکم عدولی پر میں تمہیں ابھی شوٹ کرددوں؟”
گردن دائیں بائیں جھٹکتا وہ ایک انداز سے مسکرایا جانتا تھا جواب کیا ہوگا۔۔
“تو میں مر جاؤں گا۔۔!”
کندھے اچکا کر کہتا وہ جا چکا تھا،،، میر حاصل نے موبائل پر چمکتا میسج کھولا۔۔
“آئندہ کبھی مجھے نظر آئے تو تمہارا منہ توڑ دوں گی۔۔ جا رہی ہوں میں۔۔۔! ایڈیٹ۔۔!!”
میر نے گردن پر ہاتھ پھیرا۔۔ لب دباتا وہ جلدی سے کار میں بیٹھا،، اسے ملنا تھا رمل سے،، وہ روٹھ کر گئی تھی۔۔
وہ کس طرح چین سے رہ سکتا تھا۔۔! لب دبا کر اس نے زندگی میں پہلی بار “سوری” ٹائیپ کیا تھا۔۔
