Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

چمکتی آنکھوں سے چاروں اوڑھ دیکھتی وہ گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔ اس کے ہاتھ میں دستی بیگ تھا جسے پکڑے وہ خوشی کے بےپایاں احساس کے ساتھ جلدی سے اندر کی جانب بڑھی۔۔
سیاہ شلوار قمیض کے ہمراہ سیاہ ہی شال لیے وہ پہلے کی طرح ہی دکھتی تھی فرق بس عمر کے چکر نے ڈالا تھا۔۔
پہلے وہ کم سن چنچل سی تھی اب چہرے سے ذرا سنجیدہ لگتی تھی وہ الگ بات تھی طبیعت میں اب بھی وہی شوخ پن تھا۔۔
“السلام علیکم ویلکم می ۔۔۔!”
کھلے دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی وہ بلند آواز میں پرجوش سی بولی۔۔ بارات کی تیاریوں میں مصروف لاؤنج میں تہلکہ مچے ماحول میں سکوت ٹھہرا۔۔ سب مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔۔
نوشین نے کچن سے گردن نكالی۔۔ “ارے ۔۔یہ کیا بلا ہے جو بتیسی نکالے ہوئے ہے۔۔۔!”
خود کلامی کرتی وہ آنکھیں گول گول گھماتی اسے سر تا پیر دیکھنے لگی۔۔
مشائم نے جونہی اسے دیکھا اس کا ہاتھ بےساختہ دل کے مقام پر پڑا۔۔ “اللّه ۔۔۔ نگہت ۔۔۔؟”
وہ ہاتھ میں پکڑے کپڑے وہیں چھوڑتی بھاگنے کے انداز میں اس تک پہنچی۔۔ ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر اس نے اسے خود میں بھینچا تھا۔۔ اس کے اتنے گرمجوشی سے ملنے پر نگہت بےحد خوش ہوئی۔۔
“کیسی ہیں آپ مشی بی بی۔۔؟”
اس کے ساتھ اندر آتی وه چمکتی آنکھوں سے چاروں اوڑھ دیکھنے لگی۔۔
“میں بلکل ٹھیک ۔۔ تم کہاں غائب ہوگئی تھی اچانک سے ۔۔؟”
اسکا مختصر تعارف کرواتی وه اسے ساتھ لیے گیسٹ روم میں آئی۔۔
“بس مشی بی بی کیا بتاؤں ۔۔۔ شادی ہوگئی تھی اچانک سے، بندہ بڑا برا تھا میرا ۔۔۔ اماں بھی گزر گئی پھر تو اسے جیسے کوئی کچھ کہنے والا نہیں تھا۔۔ آخر تنگ آ کر میں علیحدہ ہوگئی، بچے تھے نہیں ۔۔!
بس پھر کیا تھا یونہی گھر گھر کام کر کے گزارا کر رہی تھی۔۔ کسی جاننے والے نے یہاں دو تین گھروں کا بتایا تھا وہیں سے مجھے آپ کا پتہ چلا ۔۔ اللّه میں بتا نہیں سکتی کتنی ہےپی ہوں میں ۔۔۔!”
آخر میں وہ کھلکھلائی۔۔ جانتی تھی اب وہ کیا کہے گی ۔۔!
“ہےپی نہیں ہیپی۔۔!”
مشی نے ایک چپت اس کے سر پر لگائی۔۔
“اتنا کچھ ہوگیا تمہارے ساتھ مجھے بہت برا لگ رہا ہے تمہارے لیے۔۔!”
وه افسردہ ہوئی تھی۔۔ نگہت نے آنکھیں سکیڑیں پھر تنک کر بولی ۔۔
“کیوں جی میرے لیے کیوں برا لگ رہا ہے؟ قسمت پھوٹی اس کی جس نے میری قدر نہیں کی ۔۔۔ ایسی نایاب اور خوبصورت دوشیزہ ہر کسی کو نہیں مل جاتی۔۔!”
وه زندہ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے بولی تھی۔۔ ہر بار عورت کیوں برداشت کرے۔۔؟ ہر دوسرے کا غم خود پر مسلط کرنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا عورت ذات نے ۔۔۔!
“بہت اچھے ۔۔اسی لیے تو مجھے تم بہت اچھی لگتی ہو ۔۔۔!”
مشائم نے اس کے ہاتھ تھامتے نرمی سے کہا۔۔ وه کوئی جواب دیتی اس سے پہلے اس کی نگاہ یونہی کمرے کی چوکھٹ پر ظاہر ہونے والے اس شخص سے ہوتی واپس مشی پر آ کر ٹھہری ۔۔
ایكاایکی اس نے جھٹکے سے چہرہ اس کی جانب موڑا۔۔ اس قدر تیزی پر کمرے کی خاموش فزا میں ہڈی چٹخنے کی آواز آئی۔۔ اس کی آنکھیں پھیلی تھیں ۔۔
مشائم نے اس کے ہونق تاثرات پر مسکراہٹ دبائی وہیں صالح نے آنکھیں سکیڑتے اسے دیکھا۔۔ یہ کہاں سے ٹپک پڑی ۔۔؟
داڑھی كهجاتا وه اندر کمرے میں آیا۔۔ سیاہ ٹرٹل نیک سویٹر جینز میں وه ایک نظر مشائم کو دیکھتا ترچھی نظر سے نگہت کو دیکھنے لگا جو اٹھ کر اسے ہونق بنی منہ کھولے دیکھ رہی تھی۔۔
“ہائے اللّه جی ۔۔۔! رج کے کھڑوس صالح یوسف۔۔۔؟ میری آنکھیں کہیں مجھے دھوکہ تو نہیں دے رہیں ۔۔؟”
آہستہ آہستہ اس کے مقابل آتی وہ آنکھیں سکیڑ کر بڑی کرتی اسے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر گئی۔۔
“تمہارا دماغ آج بھی گھٹنوں میں ہے۔۔!”
سڑے لہجے میں کہتا وه سائیڈ ٹیبل سے کیز اٹھا کر پلٹتا مشائم سے مخاطب ہوا ۔۔
“یہیں رہنے کا ارادہ ہے کیا آپ کا۔۔؟ فنکشن کے بعد ہم واپس اپنے گھر چلیں گے۔۔۔!”
نرمی سے کہتا وه اچٹتی نظر اس پر ڈالتا باہر نکل گیا۔۔
“مشی بی بی یہ ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا یہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔؟” وه سر بار بار نفی میں ہلاتی روہانسی ہوئی ۔۔
“سب پتہ لگ جائے گا ابھی وقت نہیں ہے ان سب باتوں کا۔۔! شادی والا گھر ہے بہت کام ہیں اب تم آ گئی ہو تو سنبهالو تم بھی کچن ۔۔۔ مجھے بہت حوصلہ ملتا ہے تمہاری موجودگی سے ۔۔!”
اسکا ہاتھ تھپتھپاتی وه جلدی سے بولی ۔۔ نگہت نے خوش ہوتے فٹ سے سر ہلایا۔۔۔
“جی اب آپ فکر ہی نہ کریں میں دیکھتی ہوں۔۔!!”
🍁🍁🍁
جونہی وه کچن میں داخل ہوئی نوشین نے مڑ کر اسے دیکھا ۔۔ دیدے نچاتی وه اس کے مقابل آئی ۔۔ نگہت نے آنکھیں سکیڑتے اس کا انداز دیکھا۔۔
“نون فار نوشین ۔۔۔ ہوں میں ۔۔!”
پراندہ جھٹک کر کمر پر ڈالتی وه اپنا تعارف کروانے لگی۔۔ نگہت نے سر ہلایا تو یہ مجھے تیور دکھائے گی ۔۔؟ ہونہہ ۔۔۔!!
“نون فار نگہت ہوں میں ۔۔! نگہت ۔۔!! اب سے تم سب کے کاموں کی نگرانی میں کروں گی اس لیے ‘ص’ سے صحیح طرح ‘ک’ سے کام کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔۔!”
بشیر اور نوشین کو حکم دیتی وه ہدایات دینے لگی تھی۔۔ نوشین منہ بناتی دل ہی دل میں اسے کوس رہی تھی ۔۔
“لچھو باندری کہیں کی ۔۔۔!!!”
🍁🍁🍁
اس کی ہمراہی میں ریڈ کارپٹ پر دھیرے سے قدم بڑھاتے وه خود کو عجیب کیفیت میں مبتلا محسوس کر رہی تھی۔۔ یہ احساس خوش کن تو بلکل بھی نہیں تھا۔۔
اسے جھنجھلاہٹ سی ہورہی تھی کس قدر ضدی شخص تھا وه جو اس کے ساتھ گرے تھری پیس میں ملبوس سرمئی مغرور نگاہوں میں فتح کی چمک لیے ازلی مغرور انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔۔
حیان صالح کو ساتھ لیے سب سے متعارف کروا رہا تھا۔۔ ان دونوں کی انٹری پر وه صالح کے ساتھ انٹرنس پر آ گیا جہاں ابراھیم اور ماہ بیر ان کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔۔
سب لڑکے براؤن تھری پیس میں ملبوس ایک سے بڑھ کر ہینڈسم لگ رہے تھے۔۔ جانے کتنی لڑکیوں کی نظریں حیان پر ٹکی تھیں جو اپنی شاندار پرسنالٹی کی وجہ سے سب میں نمایاں تھا۔۔
گھنی مڑی ہوئی مونچھیں اور بڑھی ہوئی داڑھی اس پر بے حد جچتی اس کے روعب و دبدبے میں اضافہ کرتی تھی۔۔ پیشانی پر لاپرواہ انداز میں گری لٹ میں نوخیز کلیوں کے دل الجھتے محسوس ہوتے تھے۔۔
عرش کو پھر سے غائب دیکھ کر ماہ بیر کی پیشانی شکن زدہ ہوئی۔۔ ارشیہ اور بدر کے سٹیج پر سجے ماڈرن صوفوں پر بیٹھنے کے بعد وه ابراھیم سے اس کی بابت پوچھنے لگا۔۔
ابراھیم نے آنکھ بچاتے اس کے پیچھے جھانکا جہاں سے وہ لاپرواہ انداز میں چلتا آ رہا تھا۔۔ اس وقت اس کا دل کیا تھا رکھ کر ایک اس نواب کی اولاد کو لگائے۔۔
“آ گیا ہے آپ خود پوچھ لیں ۔۔۔! میں ذرا بابا کے پاس جا رہا ہوں ۔۔!”
پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا وه کھڑوس تاثرات چہرے پر سجائے وہاں سے چلا آیا۔۔ اس کی نگاہیں اپنی حسین بیوی کو بےتابی سے تلاش رہی تھیں جو بلڈریڈ ساڑھی میں کھلی زلفوں کے پھندے اس پر ڈالتی اس کے دل کی دنیا میں حشر برپا کر کے نگاہوں کی قید سے اوجھل تھی۔۔
حاضرین ان سب لڑکوں کو دیکھ کر الجھ رہے تھے ۔۔ وه سب بلا کے ہینڈسم تھے لیکن ان میں زیادہ کھڑوس کون تھا ۔۔۔ یہ اندازہ لگانا مشکل تھا ۔۔۔۔
یوں بھی ایسی وجاہت پر ایسا ایٹیٹیوڈ بھی کسی کسی کو جچتا ہے خاص کر وه جو صالح یوسف کی اولاد ہو یا ماہ بیر سلطان کے انوکھے نوابزادے ۔۔۔!
🍁🍁🍁
“ہیلو۔۔۔!”
نسوانی آواز پر رمل نے مڑ کر دیکھا۔۔ نیوی بلیو ٹشو کی شارٹ كیپری شرٹ میں گھٹنوں تک جاتے مہرون کرلی بالوں کو دائیں کاندھے پر ڈالے ہری کانچ سی آنکھوں میں چمک لیے وه دوستانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اس کی دودھیا رنگت بےحد نمایاں ہورہی تھی۔۔
رمل نے جواباً مسکراتے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا جسے اس نے نرمی سے تھام لیا۔۔ اف رمل کو ‘کوئی’ یوں مسکراتے دیکھ لیتا تو ان لمحات کو حیات کا حاصل سمجھتا جن میں وه یوں مسکرائی تھی۔۔
“کیسی ہو تم ۔۔۔؟ مجھے امید نہیں تھی تم آؤ گی ۔۔۔!”
دونوں آگے بڑھتیں صوفوں پر ایک دوسرے کے مقابل بیٹھ گئیں۔۔ اس کے بلا جھجھک کہنے پر غزل نے ستائش میں ابرو اچکائے ۔۔ اسے رمل کا سیدھا دو ٹوک بات کرنے کا انداز پسند آیا تھا۔۔
“ویل ۔۔۔ سب نے بہت اسرار کیا خاص کر تمہاری مدر نے ۔۔۔ اسی لیے چلی آئی ۔۔ شی از ریلی نائس ۔۔۔!”
عادت سے مجبور چاروں جانب کا سیکنڈ میں جائزہ لیتی وه اسے دیکھتی مسکرائی جو سکون سے بیٹھی اسے نوٹ کر رہی تھی۔۔
“پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ ویسے تمہارا ایٹیٹیوڈ صالح سے ملتا ہے!” بالوں میں ہاتھ چلاتی وه مزے سے بولی۔۔ رمل نے سر کو خم دیا۔۔ بلیک ٹشو کی لمبی قمیض کے ساتھ كیپری اور سیاہ ہیلز پہنے سیاہ چمکدار بال دونوں کاندھوں پر بكهیرے وه دلکش لگ رہی تھی۔۔
کسی مصور کی تصویر جو اس کی سیاہ غزالی آنکھوں میں کھویا اس میں محبت کے رنگ بكهیر بیٹھا تھا جو اس کی آنکھوں میں جھلکتے ان سے چاہ رکھنے پر مجبور کر دیتے تھے۔۔!
کچھ ایسی ہی مقناطیسی کشش رکھتی تھیں یہ سیاہ غزالی آنکھیں۔۔
“تھینک یو۔۔! ویل ہم دونوں کی خاصیت یہ ہے کہ ہم اپنے اسی ایٹیٹیوڈ کے لیے جانے جاتے ہیں ، آؤ تمہیں باقی کزنز سے ملواتی ہوں ۔۔! آخر خاص مہمان ہو ہماری،، آ جاؤ ۔۔۔!”
اس کا ہاتھ تھام کر اٹھاتی وه خوشگوار لہجے میں بولی تو غزل بھی اس کے خلوص سے متاثر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
کیسے لوگ تھے یہ۔۔؟ خلوص کی مٹی سے گندھے ہوئے۔۔۔!
🍁🍁🍁
سردیوں کی شام پل میں ڈھلتی رات کو خوش آمدید کہنے لگی تھی۔۔ رات بھی ایسی سرد۔۔۔!
تمام رسومات جلد از جلد ختم کر کے وه سب شاہ ہاؤس پہنچ چکے تھے۔۔ دلہن کو اس کے کمرے میں بھیجنے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے۔۔
مشائم صالح کے ساتھ بیرونی دروازے سے باہر نکلتی اپنے بنگلے کی طرف بڑھی جہاں چوکس بیٹھا گارڈ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا وہیں غزل بھی جانے کے لیے نکلی تھی۔۔
اسے کافی وقت ہو چکا تھا سچ تو یہ تھا کہ سب لڑکیوں سے وه اس طرح گھل مل گئی تھی کہ اس کا یہاں سے جانے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا۔۔
صالح کی نظر اس پر پڑی جو کار کا دروازه کھولے فون کان سے لگائے کسی سے محو گفتگو تھی۔۔ مشائم کے اندر جانے کے بعد وہ اس کی جانب چلا آیا۔
نیوی بلیو كیپری شرٹ میں بےپناہ حسن کی ملکہ نے قدموں کی چاپ پر مڑ کر دیکھا۔۔ بلیک تھری پیس اس کے دراز قد پر بےحد جچ رہا تھا۔۔ پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا وه اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔۔
“میں چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔! رات بہت ہورہی ہے۔۔!”
لاپرواہ انداز میں کہتے اس نے سر اٹھاتے آسمان کی جانب دیکھا۔۔ غزل نے آنکھیں سکیڑیں۔۔
“دومره سا يسته مه کیرہ” ۔۔۔ لکه زہ تاسو نه پیثنم۔۔۔۔!”
(اتنے اچھے نہ بنو جیسے میں تمہیں جانتی نہیں۔۔!)
اس کے جلے کٹے لہجے پر صالح نے مسکراہٹ دبائی۔۔
“تاسو واقعیا ما نه پیژنئ” ۔۔۔
(تم واقعی مجھے نہیں جانتی۔۔!)
بےنیازی سے کہتا وه پلٹ گیا۔۔
اس نے پیشکش کی، اس نے انکار کیا۔۔! اب اس کی بلا سے چاہے راستے میں ہی وہ جہان فانی سے کوچ کر جائے۔۔!
وه جا چکا تو غزل نے ایک ٹانگ گاڑی کو رسید کی۔۔ !
“زخر بچیا۔۔!”
دانت پیس کر کہتی وه گاڑی میں بیٹھی۔۔
🍁🍁🍁
“آپ کہاں رہ گئے تھے۔۔۔؟”
وه کچن میں کھڑی پانی کا گلاس بھر رہی تھی جب وه آہستہ سے اس کے پیچھے آ کھڑا ہوتا اسے بانہوں کے حصار میں لے گیا۔۔ وه نظریں جھکاتی مدهم آواز میں بولی تھی۔۔
“غزل مل گئی تھی ۔۔ کچھ کہہ رہی تھی وه۔۔۔!”
اسکا رخ اپنی جانب کرتا وه شرارت سے لب دبا گیا۔۔
“کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔؟”
بھوری آنکھیں اٹھاتی وه اس کی جذبات کے سمندر سے بھیگی سیاہ آنکھوں میں دیکھنے لگی تھی۔۔ صالح نے اس کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کرتے اسے قریب کیا۔۔ چہرہ اس کی جانب جھکاتا وه مدھم بھاری لہجے میں بولا تھا۔۔
“کہہ رہی تھی تمہاری بیوی بہت ہاٹ لگ رہی ہے آج۔۔!”
کہتے ساتھ اس نے گہری سانس خارج کی۔۔ وه مزید جھکنے لگا تھا اس پر۔۔ مشائم نے سٹپٹاتے اس کے لبوں پر گلابی نرم گرم سی ہتھیلی رکھی۔۔
“یہ اس نے نہیں کہا آپ نے کہا ہے۔۔! ویسے اس عمر میں بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے آپ کو شرم نہیں آتی۔۔؟”
آنکھیں بار بار جھپکتی وه اسے شرم دلانے کو بولی۔۔ وه بھی چاہتی تھی اس کی قربت، اس کے احساس کو محسوس کرنا لیکن ایک جھجھک سی محسوس ہوتی تھی۔۔!
صالح نے جھٹکے سے اسے خود سے لگاتے اس کی گردن پر لب رکھے۔۔ اس کے پرشدت لمس پر مشائم کی جان لبوں پر آئی۔۔ کچن میں اگر کوئی آ جاتا تو۔۔؟
“ہجر کاٹا ہے ہم نے ۔۔! ابھی تو ایک دوسرے کو بھرپور محسوس کرنا ہے، میں ہر پل ہر لمحہ آپ کو اپنی سانسوں سے بھی قریب چاہتا ہوں۔۔!”
اس کے پرشدت لہجے پر وه لجا گئی۔۔۔کچن سے باہر جھانکو تو زنیشہ ڈھیلی سی گلابی شرٹ ٹراؤزر میں سستی سے چلتی اسی جانب آ رہی تھی۔۔
اسے بھوک محسوس ہورہی تھی سوچا کچھ ہلکا پهلكا کھا لے ۔۔ وه کچن سے کچھ دور ہی تھی جب اس کی نگاہ ان دونوں پر پڑی۔۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں ۔۔ سٹپٹاتی وه فٹ وہاں سے بھاگی ۔۔ اس سے پہلے وه کمرے میں گھستی رمل کمرے سے باہر نکلی۔۔
“تم کہاں جا رہی ہو اس وقت۔۔۔؟”
ہڑبڑاتی وه اس کے سر پر پہنچ گئی۔۔ رمل نے ابرو اچکاتے اسے دیکھا ۔۔۔
“بابا اور ماما سے ایک بات کرنی تھی ۔۔ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔؟” وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“وہ ۔۔۔ وه دونوں بزی ہیں ۔۔ مم ۔۔میرا مطلب سوگئے ہیں۔۔! میں وہیں سے آ رہی ہوں تم صبح بات کر لینا ٹھیک ہے۔۔۔؟”
اس کا چہرہ تھپتھپاتی وه جلدی سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ وه منظر بار بار اس کی نگاہوں کے سامنے آ رہا تھا جب صالح مشائم کے لبوں پر جھکا ہوا تھا۔۔
اسے بےحد شرم محسوس ہورہی تھی۔۔ ابراھیم نے اوندھے لیٹے سر اٹھاتے اسے دیکھا جو شرمگیں مسکان لبوں پر سجائے اپنی سائیڈ لیٹنے لگی تھی۔۔ وه کروٹ اس کی طرف لیتا بازو سر کے نیچے رکھتا نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“ابراھیم کچھ خدا کا خوف کریں اتنی ٹھنڈ میں بھی بغیر شرٹ کے سو رہے ہیں!”
کروٹ کے بل لیٹنے سے اس کے کسرتی سینے سے بلینکٹ سرکی تھی جس پر وه جھجھری لیتی بولی تھی۔۔ پیشانی پر بکھرے بالوں میں اس کی جانب دیکھتے اس نے لبوں کو جنبش دی۔۔
“تم کیوں مسکرا رہی تھی۔۔۔؟”
اس کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔۔ زنیشہ نے لب دبائے، اس کی طرف کھسکتی وه جھک کر اس کے کان کے قریب ہلکی آواز میں کہنے لگی۔۔
“میں کچن میں جانے لگی تھی کھانا کھانے وہاں میں نے دیکھا کہ ۔۔۔ بابا نہ ماما کو لپ کسنگ کر رہے تھے ۔۔۔!”
جلدی سے اسے بتاتی وه سیدھی ہوئی۔۔ اسے بتاتے ہوئے بھی کتنی حیا محسوس ہورہی تھی۔۔
وه مسکراہٹ دباتا تھوڑا سا اٹھا۔۔ اس کی کلائی پكڑتا اپنے اوپر گرا کر کروٹ بدلتا وه اس پر سایہ کر گیا۔۔
“کیا تم مجھے کس کر کے بتاؤ گی میں سمجھ نہیں پا رہا۔۔!”
معصوم انداز میں کہتا وه اس کے لبوں کو دیکھنے لگا تھا جو وہ وقتاً فوقتاً کاٹ رہی تھی۔۔
“آپ بھی ۔۔۔ بہت بےشرم ہوگئے ہیں۔۔! سو جائیں اور مجھے بھی سونے دیں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔!”
اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر دهكیلتی وه جلدی سے اٹھنے کی تگ و دو کرنے لگی۔۔ ابراھیم نے اس کے ہاتھ پكڑتے اوپر تکیے سے لگا دیے۔۔
“تم اب مجھ سے دور مت جایا کرو،، تمہاری طلب بڑھتی جاتی ہے ہر روز، ہر منٹ، ہر سیکنڈ ۔۔! پہلے سے زیادہ، کہیں زیادہ۔۔!”
اس کی مزاحمت کو نظر انداز کرتا وه پوری شدت سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے گیا۔۔
اس کے رحم و کرم پر پڑی اس کی شدتوں سے بےحال ہوتی وه آنکھیں سختی سے میچے ہوئے تھی۔۔ اس کی حالت پر رحم کھاتے وه ناچاہتے بھی اسے آزاد کرتا پیچھے ہٹا۔۔
ہاتھ مار کر سائیڈ ڈرار سے انہیلر پکڑتے اس نے اسے تھمایا جس کی سانس سینے میں اٹکنے لگی تھی۔۔
🍁🍁🍁
جیسے ہی ارشما اسے بیڈ پر بٹھا کر باہر گئی وه لہنگا گول مول کر کی بیڈ پر کھڑی ہو کر نیچے چھلانگ لگاتی فٹ سے دروازے کو لاک کر کے واپس آئی۔۔
نیلی بلی سی تیكهی آنکھوں کی چمک قابل دید تھی۔۔ سرخ تراشیدہ لبوں پر قاتل مسکراہٹ تھی۔۔ اس کے انداز بتا رہے تھے وه اپنی عادت سے مجبور پھر سے اسے تپانے جا رہی تھی یا اب یہ کہنا زیادہ بہتر تھا کہ اس کی زندگی جہنم بنانے کا اس نے عہد کر لیا تھا۔۔
جلدی سے شاور لے کر کپڑے بدلتی وه ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر جوڑا کھولنے لگی۔۔ گھٹنوں تک جاتے بھورے گھنگریالے بالوں کو کھول کر بالوں میں انگلیاں چلاتی وه خود کو ریلیکس کرنے لگی۔۔
بلیک نائٹ گاؤن میں کھلی زلفوں کو سہلاتی وه جمائی لیتی بیڈ کے پاس آئی۔۔ گلابی لبوں کا پاؤٹ بناتی وه سائیڈ ٹیبل پر دھرا پانی سے بھرا جگ اٹھا کر سیدھی ہوئی۔۔
“اپس۔۔۔!”
آنکھیں پٹپٹا کر کہتے اس نے پورا جگ بیڈ کی ایک طرف انڈیل دیا۔۔ مزے سے اپنا کارنامہ انجام دیتی وه دوسری سائیڈ آتی تکیہ دبوچ کر بلینکٹ میں گھس گئی۔۔
پرسکون ہو کر مسکراتے اس نے آنکھیں موندیں۔۔ چند سیکنڈز میں ہی وه نیند کی وادیوں میں جا چکی تھی۔۔
🍁🍁🍁
اس کے مکمل نظر انداز کرنے پر ایرا تپی بیٹھی تھی۔۔ وه خود موبائل پر مصروف بلینکٹ اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔۔ بےبی پنک باربی ٹراؤزر شرٹ میں بھورے سلکی بال کمر پر کھلے چھوڑے وه گال تلے ہاتھ رکھے اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی اسے گھور رہی تھی۔۔
آخر وه اسے یوں اگنور کیوں کر رہا ہے؟ نہ بات کر رہا نہ دیکھ رہا۔۔! جبکہ وه خود کو موبائل میں مصروف کیے اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔۔
بلڈ ریڈ ساڑھی میں وه آج جس قدر دلربا لگ رہی تھی اس کے آتشی حسن نے اس کے دل میں آگ سی لگا دی تھی جس کی حدت پر قابو پاتا وه خود کا امتحان لے رہا تھا جیسے۔۔۔!
“آپ مجھے دیکھ کیوں نہیں رہے کیا اتنی بری ہوں میں۔۔؟”
بالاخر وه لب کاٹتی بول اٹھی۔۔ عرش نے وقت دیکھا، گھڑی بارہ بجا رہی تھی۔۔ کیوں اسے چھیڑ کر وه خود کے تیره بجانا چاہتی تھی۔۔
“عرش ۔۔۔ اپنے بےبی کی کیوٹ سی ماما کو اگنور کریں گے آپ۔۔۔؟” وه اس کے کسرتی چوڑے بازو کو انگلی سے ٹچ کرتی بچکانہ حرکتیں کرنے لگی تھی۔۔
اسے اپنی بےوقوفی پر بےحد ہنسی آئی تھی جب اس نے یہ بےبی والی بات ارشیہ سے شیٔر کی تو اس نے مناسب الفاظ میں اسے سمجھا دیا تھا۔۔ اب بھی وه محض اسے تنگ کرنے کو کہہ رہی تھی۔۔
وه موبائل ایک طرف رکھتا سر گھما کر اسے گھورنے لگا۔۔ گہری بھوری آنکھوں سے گہری نظر اس پر ڈالتا وه سینے پر ہاتھ لپیٹ گیا۔۔
“تم سچ میں اتنی بےوقوف ہو یا ڈرامہ کرتی ہو بےوقوف بننے کا۔۔۔؟”
اس کے بھورے سلکی بالوں کو دیکھتا وه ابرو اچکا گیا۔۔ ابرو پر لگا ترچھا کٹ مزید نمایاں ہوا۔۔ وه ایک پل کو رک کر اس کے ابرو کو دیکھنے لگی۔۔ ساتھ ہی اس کی نگاہ کان میں پہنے چاند کی شکل کے سیاہ ٹاپس پر اٹکی۔۔
اس کی آنکھوں میں جھانکتے اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ابرو پر لگے کٹ کو چھو لیا۔۔ عرش ساکت لیٹا تھا۔۔ اس کی انگلیوں کے لمس نے ایک سکون سا بخشا تھا۔۔
وه اپنی بے خودی پر خفت زدہ ہوتی پیچھے ہٹی جب عرش نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔
“تمہیں میں کیسا لگتا ہوں۔۔۔؟”
مدھم لہجے میں پوچھا گیا۔۔ ایرا نے اس کے اس سوال پر نظریں جھکائی تھیں۔۔ دل میں میٹھا سا احساس جاگا تھا۔۔
“آپ اچھے لگتے ہیں مجھے ۔۔ اور اب پیارے بھی لگتے ہیں۔۔۔!”
لبوں پر امڈتی مسکان چھپاتی وه ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔ عرش دھیما سا مسکرایا۔۔ اف کتنا وجیہہ لگتا تھا وه مسکراتے۔۔
وه اس کے نرم گرم ہاتھ کو اپنی جانب کھینچتا اسے خود پر جھکا کر گویا ہوا۔۔
“تم مجھے پسند کرتی ہو۔۔؟” بھاری آواز ایرا کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔
“پتہ نہیں۔۔۔!”
اس کی قربت اسے عجیب سے احساسات میں مبتلا کر رہی تھی۔۔ “مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے لگی ہوں۔۔۔!”
جلدی سے کہتی وه اس پر سے اٹھی۔۔
“لیکن مجھے نیند نہیں آئے گی سر درد ہو رہا ہے بہت۔۔!”
آنکھیں بند کرتا وه مدهم لہجے میں بولا۔۔ وه بس دیکھنا چاہتا تھا وه کیا کرتی ہے۔۔ ایرا نے تفکر سے اسے دیکھا۔۔
“میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں۔۔۔!”
بالوں کو جوڑے میں لپیٹتی وه اس کے ساتھ لگ کر بیٹھی۔۔ بلینکٹ کھینچتی وه ایک ہاتھ اس کے سر کے نیچے سے گزارتی دوسرے سے اس کا سر دبانے لگی۔۔
عرش نے بےساختہ آنکھیں موندیں۔۔ اس کا ہاتھ ہٹا کر اس نے سر پر رکھا جس پر وه سمجھتی اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔
اس کے نرم حصار میں وه جانے کب سو چکا تھا۔۔ ایرا نے سر اٹھاتے اسے دیکھا اسے سوتا محسوس کر کے وه وہیں بیٹھی بیٹھی خود بھی سوگئی۔۔