No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔۔ بچے پرشوق نظروں سے اپنے ہینڈسم سے انکل کو دیکھ رہے تھے۔۔ صالح کے ارد گرد ابراھیم اور ماہبیر نے جگہ سنبهالی تھی۔۔ حیان سب سے پہلے آگے بڑھا۔۔
“ہیلو سر ۔۔۔! مائی سیلف ایس پی حیان ۔۔۔!”
اس کے ہاتھ بڑھانے پر صالح نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ کالی آنکھوں کے اوپر پیشانی پر گرتی سیاہ لٹ، بھری بھری داڑھی مونچھوں والا حیان اسے پسند آیا تھا۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھامتا اٹھ کر اس سے بغل گیر ہوا۔۔
“یہ میری وہ اولاد ہے جس پر مجھ بےحد فخر ہے۔۔!”
ماہ بیر کی سرمئی آنکھیں یہ بولتے چمکی سی تھیں۔۔ صالح نے اس کی پشت تهپتھپائی۔۔
” ایس پی حیان کا بہت نام سنا تھا، آج دیکھ بھی لیا۔۔ “
اس نے جیسے اسے شاباشی دی تھی۔۔ پھر عرش آگے بڑھا اس کا چہرہ سنجیدہ سا لگتا تھا باوجود کوشش کے وہ چہرے پر نرم تاثرات نہ لا پا رہا تھا۔۔
سالی یہ کھڑوس طبیعت مروائے گی کسی دن ۔۔! صالح نے ابرو اچکا کر اس کے نو لفٹ ایٹیٹیوڈ کو دیکھا پھر اس سے گلے لگا۔۔
“نائس ٹو میٹ یو ‘ایس اے’۔۔۔!”
عرش نے نرم لہجے میں کہا جس پر صالح نے چونک کر اسے دیکھا۔۔ اسے کس نے بتایا۔۔؟
وہ نرمی سے اسے دیکھتا سر ہلاگیا جس پر عرش چمکتی آنکھوں سے انہیں دیکھتا پیچھے ہٹ گیا۔۔
“یار اس کے تاثرات پر نہ جانا ، اسکی شکل ہی ایسی ہے!”
ماہ بیر نے لقمہ دیا جس پر باقی سب نے عرش کو دیکھتے مسکراہٹ دبائی تھی ۔۔ لیکن ہماری نرالی ایرا صاحبہ اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکیں۔۔
ہنسنے کی آواز پر صالح نے آواز کی سمت دیکھا نیلی آنکھوں والی چھوٹی بچی شرارت سے عرش کو دیکھتی ہنس رہی تھی۔۔ صالح کو اپنی طرف متوجہ پا کر وہ سٹپٹا گئی۔۔
“اورهان یہ تمہاری بیٹی ہے نہ!”
اورهان کو دیکھتے اس نے پوچھا نہیں بتایا تھا۔۔ اس کی سیاہ آنکھیں مسکرائی تھیں۔۔ اس نے نرمی سے ایرا کو بلایا جس پر وہ جھینپتی ہوئی اس کے سامنے آئی۔۔ صالح نے جھک کر اس کی پیشانی چومی جس پر وہ مسکرائی۔۔
“آپ مجھے بہت اچھے لگے ہیں، میں آپ کو بابا کہوں گی اوکے؟” پیر اونچے کرتی وہ ہلکی آواز میں بولی تھی۔۔ صالح نے مسکراہٹ دبائی ۔۔
“اوکے !!” ۔۔۔
یہ چھوٹی سی شرارتی بچی اسے پسند آئی تھی۔۔
“یہ ہمارے عرش کی بیوی ہے!”
ارشما نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا جس پر اسے خوش گوار حیرت ہوئی تھی۔۔ اتنے میں بدر آگے بڑھا۔۔
“مائی نیم بدر۔۔۔ بدران شاہ ۔۔!!”
مغرور سرمئی آنکھیں صالح کی بےحد گہری مغرور سیاہ آنکھوں میں گاڑ کر کہتا وہ ذرا سا مسکرایا۔۔ صالح نے بھی ذرا سا مسکراتے اسے گلے لگایا۔۔
اس کے انداز کچھ کچھ مجھ سے نہیں ملتے ۔۔؟ وہ محض سوچ سکا۔۔
“بابا کہتے تھے کہ میرا غصہ اور انا آپ پر گئی ہے ۔۔!”
بدر نے ماہ بیر کو دیکھتے مزے سے کہا تھا۔۔ صالح نے سر گھما کر ماہ بیر کو گھوری سے نوازا جس پر وہ کندھے اچکا گیا۔۔
“ٹھیک کہا تھا، اس نواب کا غصہ پورے علاقے میں مشہور تھا، سب اس کے غصے سے اتنا ڈرتے تھے کہ بات کرنے سے پہلے بھی سو بار سوچتے تھے۔۔ انتہا کا بدمزاج، ضدی اور کھڑوس طبیعت کا تھا آپ کا یہ ہینڈسم انکل ۔۔۔!”
وہ بھی ٹراؤزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مزے سے کہتا گیا۔۔
“اپنا بھی کہو، کیسے ٹیچر جی پر لائنیں مارتے تھے ۔۔۔!”
صالح نے بھی بدلہ چکایا۔۔ ارشما سٹپٹا کر وہاں سے کھسک گئی جبکہ ماہ بیر بےشرموں کی طرح مسکرا رہا تھا۔۔
“ڈرتا نہیں میں کسی سے ۔۔ كهلم کھلا کرتا ہوں جو بھی کروں ۔۔۔ اور پھر ان کا معاملہ ہی کچھ اور ہے۔۔۔! “
اورهان کو دیکھ کر آنکھ مارتا وہ مزے سے بولا تھا۔۔ اورهان بےچارہ اسے گھور ہی سکا۔۔
ابراھیم نے آنکھ سے زنیشہ کو آگے آنے کا اشارہ کیا جو کنفیوز سی کھڑی تھی۔۔ صالح نے اسے جھجھکتے دیکھا تو خود ہی اس کی جانب بڑھا۔۔
“بابا آپ کی بہو ہے یہ ۔۔۔!!”
ابراھیم مسکراتے لہجے میں بولا تھا جس پر صالح کو بےحد خوشی ہوئی یہ جان کر کہ اس کے جگری یار کی بیٹی اس کی بہو ہے۔۔۔
اس نے محبت سے اسے سینے سے لگایا، نرمی سے اس کا سر چومتا وہ ہلکے پھلکے لہجے میں کہنے لگا۔۔
“سب کے جانے کے بعد ہم باپ بیٹی ڈھیر ساری باتیں کریں گے!!” اس کے یوں بات کرنے پر زنیشہ کو حوصلہ ملا۔۔
“بابا ۔۔ مجھے ابراھیم نے سب سے پہلے بتایا تھا۔۔ میں بہت بہت خوش ہوں۔۔ آپ کو دیکھے بغیر ہی ہم سب آپ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔۔!”
وہ سراٹھاتی نرمی سے بولی تھی جس پر وہ کھل کر مسکرا دیا۔۔
“بھابھی چائے ملے گی ۔۔۔؟”
ایسے سرد موسم میں چائے کی طلب ہوئی تھی۔۔ اینارا کو ایک جانب کھڑا پا کر اس نے مخاطب کیا تو وہ ایک پل کو گھبرا گئی۔۔
“جی جی میں ابھی سب کے لیے بناتی ہوں ۔۔۔!”
خوش دلی سے کہتی وہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔ ابراھیم نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے ارشیہ اور رمل اندر آ رہی تھیں۔۔
ارشیہ نے اسے مختصراً بتا دیا تھا جس پر وہ سمجھی کہ وہ کوئی پرینک کر رہی ہے ۔۔۔! ابراھیم نے صالح کا کندھا دباتے رمل کی جانب نظروں سے اشارہ کیا۔۔
وہ چوکھٹ میں ساکت سی کھڑی یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔ وہ ہمیشہ سوچتی تھی باپ کے ہونے سے تحفظ کا کیسا احساس ہوتا ہوگا باپ کی شفقت کیسی ہوگی؟ بابا پکارنا کیسا لگتا ہوگا؟ اس کا دل دکھتا تھا اس کمی پر ۔۔
آج انہیں یوں اپنے سامنے دیکھ کر وہ موم کا بت بنی رفتہ رفتہ پگھل رہی تھی۔۔ دل کی دھڑکن وہ آسانی سے سن سکتی تھی جو زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔
اس کے لب پھڑپھڑائے تھے یکایک کالی آنکھوں کے چمکیلے کانچ دھندلائے ۔۔ وہ اندھا دھند بھاگتی اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔
بابا ۔۔۔!! زور زور سے بلکتی وہ اسے بار بار پکار رہی تھی۔۔ صالح نے اسے شدت سے خود میں بھینچا۔۔ اس کا چہرہ بار بار چومتے اس کی سیاہ آنکھیں آنسو بہانے لگی تھیں۔۔
“بابا ۔۔ میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔آپ کہاں تھے؟ سب کے بابا تھے لیکن میرے نہیں تھے۔۔!”
اس کے سینے میں چہرہ چھپاتی وہ اس طرح پھوٹ کر روئی کہ صالح کا دل چیر گئی۔۔ مشائم نے منہ پر ہاتھ رکھتے سسکی روکی۔۔
رمل کو پہلی بار یوں روتے دیکھ کر سب لڑکیوں کی آنکھیں نم ہوئی تھیں جب کہ لڑکوں کے چہرے بھی ازحد سنجیدہ ہوئے تھے۔۔ ابراھیم لب سختی سے بھینچے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔
“میرا بیٹا ۔۔ بابا کا فخر ،، میں اب کبھی اپنے بیٹے سے دور نہیں جاؤں گا ۔۔!”
اسے ساتھ لگائے وہ مظبوط لہجے میں بولا تھا۔۔ ماحول کو غمگین بنتے دیکھ کر حیان رمل کے ساتھ آ کر کھڑا ہوتا ہلکے پھلکے لہجے میں کہنے لگا ۔۔
“آپ کی بیٹی نے کئی لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے بڑے بڑے لوگ اس سے ڈرتے ہیں ۔۔۔! میں خود ڈرتا ہوں ۔۔!”
آخر میں وہ شرارت سے بولا۔۔ رمل نے الگ ہو کر آنسو صاف کرتے اسے گھورا۔۔ “جھوٹے ۔۔!”
اتنی دیر میں ارشما اور اینارا چائے اور سنیکس لیے کچن سے باہر نکلیں۔۔
“چلو بھئی آ جاؤ سب ۔۔ بہت انرجی ویسٹ کرلی ۔۔۔!”
وہ سیدھا لاؤنج میں آئیں تو باقی سب بھی جہاں جگہ ملی بیٹھ گئے ۔۔
رمل صالح کا بازو تھامے اس کے ساتھ بیٹھی تھی باقی لڑکیاں بھی صوفوں پر ٹک گئیں جبکہ لڑکے قالین پر آرام دہ حالت میں بیٹھ گئے ۔۔
چائے کے کپ تھامے سب اس کا ماضی جاننے کے لیے متجسس تھے ۔۔ صالح کا چہرہ سپاٹ ہوا تھا۔۔ گہری سانس لیتے وہ دھیمے لہجے میں گزری روداد سنانے لگا۔۔
سب ساکت مجسمہ بنے اسے سن رہے تھے ۔۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ اگر سوئی بھی گرتی تو آواز پیدا کرتی ۔۔ جب وہ خاموش ہوا تو ماہ بیر غصے سے بول اٹھا ۔۔
“میرا بس نہیں چل رہا اس کرنل کو آگ لگا دوں جا کر ۔۔۔ کتنا گھٹیا انسان ہے!”
غصے سے بولتے اس کی گردن کی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔ رمل نے سپاٹ نظروں سے ابراھیم کو دیکھا ۔۔
“انھیں اس کی سزا ضرور ملے گی ۔۔ ہماری خوشیوں کے قاتل ہیں ہم انھیں ہر گز نہیں چھوڑیں گے!”
وہ بلا کے سرد لہجے میں بولی تھی اس شخص کے ذکر پر آنکھوں میں نفرت جھلکنے لگی تھی۔۔
“اسے سزا مل چکی ہے میں اب اس کے بارے میں کسے کے منہ سے کچھ نہ سنوں ۔۔ میں اس کا ذکر بھی نہیں چاہتا ۔۔۔!”
وہ قطعی انداز میں بولا جس پر سب فلحال خاموش ہوگئے ۔۔
کچھ دیر بعد سب نارمل سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔
“تم بڑے چھپے رستم نکلے!!”
حیان نے ابراھیم کو دیکھتے گھورا جو میسنا بنا سب کچھ اکیلے کر گیا تھا۔۔ ابراھیم اسے دیکھتا کندھے اچکا گیا۔۔ انداز ایسا کہ میں ایسا ہی ہوں۔۔! بدر نے آنکھیں سکیڑتے حیان کو دیکھا ۔۔
“تم ہی پر گیا ہے برو، چھپ چھپ کر لڑکی پٹا لی اور ہمیں بھنک بھی نہ لگنے دی۔۔”
آنکھیں سکیڑتے اس نے ایسا انکشاف کیا کہ رمل کا منہ کھل گیا جبکہ ماہ بیر نے افسوس سے سر ہلایا۔۔
“چھپ چھپ کر پٹا لی؟ اپنے باپ سے کچھ سیکھو ۔۔ بہت افسوس ہوا سن کر ۔۔!”
اس کے یوں کہنے پر حیان کو چھوڑ کر باقی سب نے مسکراہٹ دبائی ارشیہ البتہ نیلی آنکھیں سکیڑتی تیكهی نظروں سے بدر کو دیکھ رہی تھی جو خوامخواہ شوخا ہورہا تھا۔۔
حیان سٹپٹا گیا ۔۔ روعبدار شخصیت کے مالک ایس پی حیان کی اپنی فیملی کے ہاتھوں اچھی درگت بن رہی تھی۔۔
“بکواس کر رہا ہے یہ،، سالے جھوٹ کیوں بول رہا ہے؟؟” ۔۔۔
اس نے بدر کو گھسیٹا جس پر وہ دھڑام سے نیچے گرا۔۔ حیان نے رکھ کر ایک اس کی گردن پر ماری جس پر ارشیہ کی آنکھیں چمکیں۔۔
“ایک میری طرف سے بھی حیان۔۔!”
وہ دانت پیستی جلدی سے بولی جس پر صالح نے اس کی جانب دیکھا۔۔ تیز نیلی آنکھوں والی ارشیہ بدر کو یوں کچا چبا جانے والی آنکھوں سے کیوں دیکھ رہی تھی؟
اس کی نظروں کے ارتکاز پر عرشیہ نے اسے دیکھا پھر وہ نرمی سے مسکرائی ۔۔ اف۔۔۔! وہ یوں نرمی سے مسکرا بھی سکتی تھی؟ وہ تو ہمہ وقت بس تیكهی نظروں اور قاتل مسکان کے وار کرتی تھی۔۔
“میری اور بدر کی شادی ہورہی ہے!”
اس نے صالح کی معلومات میں اضافہ کیا۔۔
“اوہ ۔۔۔! آئی سی۔۔ لگتا ہے بہت محبت ہے دونوں میں ۔۔۔!”
بولتے ہوئے وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔۔ ارشیہ اس کی بات کا پس منظر سمجھ گئی اسے زور کی ہنسی آئی تھی۔۔
“بلکل ۔۔ اس محبت کے ایسے ایسے مظاہرے ہوں گے کہ تاریخ میں لکھے جائیں گے!”
اس کے خطرناک الفاظ پر صالح نے سر کو خم دیا۔۔
نیچے قالین پر بدر اب حیان کو دبوچے اس پر چڑھ کر بیٹھا تھا۔۔ دونوں کسرتی جسم کے مالک ایک ہی نواب خاندان کے ،، پیچھے ہٹنے پر تیار نہ تھے۔۔
“اپنا کیا مجھ پر نہ ڈال موٹے! وہ مہرون بالوں والی حسینہ ملی تھی مجھے، تمہاری بےوفائیوں کے رونے رو رہی تھی۔۔! کس قدر پتھر دل انسان ہو تم یار۔۔۔!”
وہ تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھتا بظاہر حیران کن انداز میں بولا تھا۔۔ حیان کا دماغ بھک سے اڑا ابھی کچھ دن پہلے ہی تو وہ بدتمیز مہرون کرلی بالوں والی لڑکی اس سے ملی تھی۔۔
“کیا نام تھا اس کا۔۔۔؟”
بدر اور حیان بیک وقت ایک دوسرے سے پوچھ بیٹھے۔۔ عرش نے موبائل پر جھکا سر اٹھایا۔۔
“غزل خانزادی۔۔!!”
مصروف سے انداز میں کہتا وہ اٹھا اور لاپرواہ مغرور انداز میں چلتا لاؤنج سے باہر نکل گیا۔۔
بدر اور حیان حیران نظروں سے اس کی پشت کو دیکھ رہے تھے۔۔ صالح نے بھی سر گھماتے ایک گہری نظر اس پر ڈالی تھی۔۔
“اسے کس نے بتایا؟”
🍂🍂🍂
اگلی صبح وہ جلد بیدار ہوگیا۔۔ فریش ہو کر اس نے پولیس کی خاکی وردی پہنی جو اس پر بہت جچتی تھی۔۔ بالوں کو برش سے پیچھے کی اوڑھ سیٹ کرتا وہ جھک کر ڈرار سے پیپرز نکالنے لگا جس سے وہی مخصوص لٹ پیشانی پر آ گری۔۔
والٹ اور کیز اٹھاتا وہ سیدھا لان کی طرف آیا۔۔ اسے کوئی ضروری کال کرنی تھی۔۔ کچھ دیر موبائل پر مصروف رہنے کے بعد وہ گیٹ کی طرف بڑھا جہاں سے وہ اندر داخل ہورہی تھی۔۔
مہرون گھٹنوں تک آتے کرلی بال کمر پر کھلے چھوڑ رکھے تھے! گرین ڈھیلے سے سویٹر کے ساتھ بلیو جینز اور لانگ بوٹس پہنے وہ ہری آنکھوں میں حیرانی لیے اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے مقابل آ کر کھڑا ہوتا کالی آنکھیں سکیڑتا سگریٹ سلگانے لگا تھا۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟”
ہری کانچ سی آنکھوں میں ناگواری لیے وہ تیکھے لہجے میں بولی۔۔ یوں بولنے سے اوپرے ہونٹ کے خم پر موجود تل نمایاں ہوا تھا۔۔ حیان نے ایک نظر تل پر ڈالی۔۔
“یہ تو مجھے پوچھنا چاہیے تم میرے گھر میں کیا کر رہی ہو؟ پیچھا کر رہی ہو میرا ؟”
گہرا کش لے کر دهواں اس کے منہ پر چھوڑتا وہ بھاری آواز میں بولا تھا۔۔
صبح کی سرد صبا میں ان دونوں کی آوازیں مدغم ہونے لگی تھیں۔۔ غزل نے سینے پر بازو باندھتے اسے دیکھا جب بولی تو لہجہ پرسکون تھا۔۔
“تم میں ایسا ہے کیا کہ تمہارا پیچھا کرے گی غزل خانی۔۔! میں حاوز ۔۔۔ آئی مین صالح سے ملنے آئی ہوں ۔۔۔!”
روانی سے بولتی وہ حاوز کہتے اٹکی تھی۔۔ حیان چونک کر اسے دیکھنے لگا اس کے بلانے کے انداز پر وہ ناگواری سے بولا تھا۔۔
“تمیز نہیں ہے تمہیں ؟ کس طرح ان کا نام لے رہی ہو تمهارے باپ کی عمر کے ہوں گے وہ ۔۔!”
وہ تپ اٹھا تھا۔۔ غزل نے ناک سے جیسے مكهی اڑائی۔۔
“میرے باپ سے تو خیر بہت چھوٹا ہے۔۔ کرنل عصام کی بیٹی ہوں غزل خانی۔۔۔! انفارچونیٹلی۔۔! صالح کی عمر سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ میں تب سے اسے پسند کرتی ہوں جب ان جذبات کو سمجھتی بھی نہیں تھی ۔۔ میں ایسے ہی بلاتی ہوں اسے ۔۔ خیر اسے بلا دو مجھے ملنا ہے ۔۔۔!”
وہ سپاٹ لہجے میں اسے بہت کچھ باور کروا گئی۔۔ حیان نے بےتاثر نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔اسے اندر ہی اندر صالح انکل کے لیے اس کی پسندیدگی پر حیرت بھی ہوئی تھی۔۔
بغیر جواب دیے وہ اس کی سائیڈ سے گزرنے لگا جب غزل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دهكیلا۔۔
“میں کچھ کہہ رہی ہوں مسٹر ۔۔!”
حیان نے ایک نظر اپنے کندھے کو دیکھا ۔۔ دوسری نظر اس کی ہری آنکھوں پر ڈالی۔۔
“پولیس والے پر ہاتھ اٹھانے کے جرم میں اندر کروا سکتا ہوں میں تمہیں ۔۔۔! اپنی حد میں رہو۔۔!”
اس کی کہنی تھام کر جھٹکتا وہ اسے آگ لگا گیا۔۔
“کرنل کی بیٹی کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے جرم میں تمہیں اٹھوا بھی سکتی ہوں میں ۔۔۔!”
انگلی اٹھاتی وہ درشتگی سے بولی تھی۔۔ اپنی اصل شناخت وہ فلحال بتانے سے قاصر تھی۔۔
حیان نے سگریٹ نیچے پھینکتے بھاری بوٹوں تلے مسلا۔۔ یوں کرتے اس نے سر جھکائے ایک ترچھی نظر اس پر ڈالی۔۔
“وہ ہاتھ ابھی پیدا نہیں ہوئے جو ایس پی حیان کو اٹھوا سکیں ۔۔۔!”
کیا مغرور انداز تھا۔۔ وہ ابرو اچکا گئی۔۔
“اتنا غرور خود پر ۔۔؟”
حیان نے بیزار نظر اس پر ڈالتے کلائی میں بندھی گھڑی پر وقت دیکھا۔۔ “یقین ہے خود پر ۔۔!”
مختصراً کہتا وہ اسے ایک طرف دهكیلتا گیٹ سے باہر نکل گیا۔۔ غزل نے غصے سے اس کی پشت کو دیکھا۔۔
“زخر بچیا” ۔۔۔! (گدھے کا بچہ) منہ میں بڑبڑاتی وہ لان سے منسلک چھ فٹ چوڑی صاف ستهری راہداری پر چلنے لگی۔۔ کسی کام سے جاتی نوشین نے اسے دیکھا تو آنکھیں گھماتی اس کے پاس آئی۔۔
“جی آپ کون؟”
پراندہ جھلاتی وہ سر تا پیر اسکا جائزہ لینے لگی۔۔ غزل نے ایک اکتاہٹ بھری نظر اس پر ڈالی ۔۔
“صالح کو بلاؤ، کہنا غزل آئی ہے۔۔!”
نوشین نے ہونق بنتے سر ہلایا وہ فٹ سے اندر بھاگی۔۔ اس کے جانے کے بعد وہ لان میں چلی آئی ۔۔ چہرے کو چھوتی سرد ہوا کے ساتھ اطراف میں کھلے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو روح کو فرحت بخش رہی تھی۔۔
وہ آنکھیں موندے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی جب وہ لان میں آتا دکھائی دیا۔۔
غزل نے اسے دیکھا لیمن کلر ڈھیلی سی فل سلیو شرٹ کے ساتھ سیاہ ٹراؤزر پہنے بکھرے بالوں میں وہ اس کے حاوز سے بلکل مختلف کوئی اور ہی لگ رہا تھا۔۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں البتہ کوئی تاثر نہیں تھا۔۔
“کیسے ہو۔۔؟”
وہ اس کے مقابل آتی سر اٹھا کر بولی لہجہ آپ ہی دهیما ہوا تھا۔۔ صالح نے ایک نظر اس کے اداس چہرے پر ڈالی پھر وہ نظریں پھیر گیا۔۔
اس کے پیچھے دور وہ درخت کی جھکی شاخوں پر ہلتے پتوں کو دیکھنے لگا تھا۔۔ “ٹھیک ہوں۔۔۔!” مختصر جواب دیا گیا۔۔
غزل نے سر ہلایا پھر گہری سانس لیتی یونہی دائیں بائیں دیکھنے لگی۔۔
“مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیسی ہوں۔۔؟”
بولتے ہوئے حلق میں کچھ اٹکا تھا۔۔ تکلیف سی گلے میں کہیں اندر تک محسوس ہوئی تھی۔۔ صالح نے اب کہ نظریں اس کے چہرے پر جمائیں ۔۔
“میں وہ سوال کیوں پوچھوں جس کا جواب میں جانتا ہوں ۔۔۔!” اس کا چہرہ کھوجتے وہ ہموار لہجے میں بولا تھا۔۔ وہ اس کی اداسی بھانپ چکا تھا۔۔ غزل نے سر ہلایا۔۔
“صالح ۔۔؟ یہ نام کہتے بھی عجیب لگ رہا ہے۔۔ خیر میں کہنا چاہتی ہوں کہ ۔۔ کیا کبھی کبھی میں تمہیں ملنے آ سکتی ہوں؟؟ ایک دوست کی حیثیت سے۔۔؟”
اس نے نظریں چرائی تھیں۔۔ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی شاید آنکھوں کی نمی۔۔۔! صالح نے لب بھینچتے اسے خود سے نظریں چراتے دیکھا تھا وہ تو کبھی نظریں نہیں چراتی تھی!
“میں نے تم سے کہا تھا چھوٹی لڑکی مجھ سے دور رہو ۔۔۔ ہمیشہ کہا لیکن تم ۔۔! خیر ، میری ایک بیوی ہے جس سے میں بےحد محبت کرتا ہوں۔۔! میرے دو بچے ہیں۔۔! اگر اس حقیقت کے ساتھ بھی تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔
آؤ تمہیں سب سے ملواتا ہوں ۔۔۔! میری زندگی کے گزرے باب میں تم نے میرا خیال رکھا تھا۔۔ تمهارے لیے میں اتنا تو کر ہی سکتا ہوں ۔۔!”
مدھم لہجے میں کہتا وہ پلٹا تھا جب ماہ بیر کو پیچھے کھڑے دیکھ کر وہ دونوں ٹھہرے جو سنجیدگی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ غزل کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔۔
“اب آپ کو مجھ سے نفرت ہورہی ہوگی یہ جان کر کہ میں کرنل کی بیٹی ہوں ۔۔!”
اس کے لہجے کی تلخی پر ماہ بیر نے اسے دیکھا۔۔ آہستہ سے وہ اس کے مقابل آیا۔۔
“ہمارے گھر میں خوش آمدید۔۔! آج میرے بیٹے کا نکاح ہے۔۔ تم بھی ضرور آنا ۔۔! ہمارے دل تنگ نہیں ہیں بیٹا،، جو قصور تمہارے باپ نے کیا اسکی سزا ہم تمہیں کیسے دے سکتے ہیں۔۔!”
اس کے سر پر ہاتھ رکھتا وہ خوش دلی سے بولا۔۔ غزل کی آنکھیں جھلملا گئیں ۔۔۔ صالح نے دهیمے سے مسکراتے اسے ساتھ چلنے کا کہا ۔۔ وہ تینوں لان سے گزرتے اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گئے۔۔
🍂🍂🍂
جاری ہے !
