Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38 Part 1& 2

Part 1:

ہیڈ کوارٹر سے نکلتا وه تارکول کی صاف ستهری ٹھنڈی سڑک پر چلنے لگا۔ آرمی کے یونیفارم میں خاکی رنگ کے لانگ بوٹس پہنے وه سپاٹ تاثرات لئے کچھ دور جالی دار گیٹ کے سامنے کھڑی اپنی گاڑی کی طرف قدم بڑھانے لگا۔
ناک کی سیدھ میں دیکھتے اسکی سیاہ سرد آنکھوں میں یکایک نرم سا تاثر آیا۔ اس نے خاکی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے فون نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا جونہی کال ریسیو ہوئی وه ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر سر جھکائے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔
” کیسی ہو، دل….؟ “
جواباً سپیکر سے آواز ابھری ” ٹھیک ہوں آپ کہیں کیسے کال کی، کیا بیوی کی یاد آ رہی تھی…؟ “
اسکا لہجہ پرشرارت تھا یوں لگتا تھا ساتھ ساتھ وه کوئی کام کر رہی تھی۔
” بیوی بھولتی ہی کب ہے ، تم مصروف لگ رہی ہو…..؟”
وه گاڑی کے قریب رکتا دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیا۔ دریافت کرتے لہجہ محتاط تھا۔
” جی وه کپڑے پریس کر رہی ہوں آپ کے….! “
اسکا لہجہ لاپرواہی لیے ہوئے تھا جیسے بہت عام بات ہو۔ ابراھیم کی پیشانی پر بل پڑے موبائل کو کان سے لگائے وه جھک کر گاڑی میں بیٹھا۔
” تمہیں منع کیا تھا میں نے کوئی کام نہیں کرنا ، کیا میری بات سمجھ نہیں آتی ۔۔؟ “
بیک ویو مرر میں دیکھتے انگیشن میں چابی گھما کر اس نے گاڑی ریورس کی۔ اسکے سختی سے کہنے پر وه ایک پل کو چپ ہوگئی پھر منہ بناتی آرام سے بولی۔
” اچھا نہ سوری…. اب نہیں کر رہی آپ بتائیں نہ واپس کب آ رہے ہیں صبح بتائے بغیر ہی چلے گئے آپ….!”
اس کے ناز سے کہنے پر ابراھیم کی پیشانی کے بلوں میں کمی آئی خود کو پرسکون کرتا وه دهیما سا مسکرا دیا۔
” گھر آ رہا ہوں تمہیں دیکھنے، صبح جلدی میں جانا پڑا اس لیے تمہیں فرصت سے دیکھ بھی نہ سکا…! “
گاڑی نارمل سپیڈ پر ڈرائیو کرتے وه ساتھ ساتھ سڑک پر بھی نگاہ کیے ہوئے تھا جبکہ سماعت اسکی طرف متوجہ تھی۔
” اچھا…. اہم اہم تو ایسا کہیں نہ مجھے دیکھے بغیر آپ کا دن نہیں گزرتا…! “
سپیکر سے اس کی اٹھلاتی آواز ابھرتی اس کے چہرے پر مسکان بكهیر گئی۔ دهیمی سی مسکان سنگ کالی گہری آنکھوں میں ایسا نرم گرم سا گہرا تاثر…. وه یونہی تو فدا نہیں تھی اس پر ، سب سے منفرد تھا وه ، اسکا میجر ابراھیم….!
” دن تو گزر جاتا ہے مگر تمیں دیکھے بغیر میرا وقت رک جاتا ہے، وقت نہیں گزرتا نہ۔۔۔! “
کیا حسین انداز تھا وه کھلکھلائی تھی پھر یکایک اس کے منہ سی عجیب سی آواز نکلی۔ وه ٹھٹھکا تھا اس نے فورا اسے پكارا مگر جواب ندارد…..!
” ابر….اھیم…. آہ ….! “
وه تکلیف سے زور زور سے رونے لگی تھی۔ زنیشہ کے رونے کی آواز سنتے اسکا سانس سینے میں الجھا وه بےساختہ بلند آواز میں چلا اٹھا۔
” دل….. کیا ہوا ہے جواب دو….! “
جواب نہ پا کر گاڑی کی سپیڈ تیز کرتے اس نے کال کاٹ کر جلدی سے مشائم کا نمبر ملایا تھا۔
❤❤❤
ہسپتال کے کاریڈور میں وہ ہاتھ کی مٹھی بنا کر منہ پر رکھے دیوار سے لگا کھڑا تھا قریب ہی زمین میں نسب کرسیوں کی قطار پر مشائم اور ارشما پریشان سی بیٹھی تھیں۔
ان کے سامنے کچھ فاصلے پر کھڑے صالح کی نظر دروازے کی جانب اٹھی جہاں سے لیڈی ڈاکٹر باہر نکل رہی تھی اس کے چہرے پر نرم مسکراہٹ تھی۔ ماہ بیر جلدی سے ڈاکٹر کی طرف آیا۔
” کیسی ہے میری بیٹی ۔۔۔؟ “
اسکی سرمئی آنکھوں میں بےچینی ہی بےچینی تھی۔
” وه ٹھیک ہے مبارک ہو اللّه نے دو جڑواں بیٹیوں سے نوازا ہے۔۔۔! ” انہیں زندگی کی نوید سناتی وه آگے بڑھ گئیں۔
” الحمداللہ ” ابراھیم کے منہ سے بےساختہ نکلا وه نہ سنبهلتی خوشی کا احساس لیے جلدی سے کمرے میں داخل ہوا جہاں نرس کمبل میں لپٹی دو ننھی پریاں اٹھائے ان کی جانب پلٹی۔
کھلے دروازے سے وه چاروں بھی خوشی سے دمکتا چہرہ لیے اندر داخل ہوئے۔ ارشما فورا اپنی جان سے پیاری بیٹی کی طرف آئی جو دواؤں کی وجہ سے نیم غنودگی کی کیفیت میں تھی۔
اس نے جھک کر اسکی پیشانی چومتے اس کے بکھرے بال سنوارے۔ اسکا چہرہ بہت کمزور لگ رہا تھا۔ ابراھیم نے آنکھوں کی نمی پیچھے دهكیلتے اپنی ننھی پریوں کو ایک ساتھ تھاما تھا۔
گلابی ننھے سے گالوں پر اس نے باری باری ہولے سے لب رکھے تھے جس پر وه کسمسا کر آنکھیں کھول گئیں۔
واللہ یوں لگتا تھا ساری دنیا کا حسن اور تمام ساحروں کا سحر سمٹ کر ان میں آن سمایا تھا۔ بڑی بڑی گرے آنکھوں سے پٹر پٹر وہ اسے دیکھ رہی تھیں خود پر جھکا شخص انہیں پسند نہیں آیا تھا۔
بیک وقت دونوں کے گلابی ننھے سے لب باہر کو نکلے۔ سرمئی کانچ سے نین کٹوروں میں شفاف پانی ابھر آیا۔ ایک سیکنڈ کی خاموشی تھی پھر وه دونوں نچلا لب مزید باہر نکالتیں ننھے ہاتھوں کی مٹھیاں منہ میں ڈال کر زوروں سے رونے لگیں۔
انکی حرکات بلکل ایک سی تھیں۔ مشائم نے فورا آگے آتے ایک بچی اس سے پکڑی جبکہ دوسری کو ارشما نے سنبهال لیا۔ صالح اور ماہبیر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے وه ننھی پریوں کی نظر اتارتے دل میں ان کے اچھے نصیب کے لیے دعا گو تھے۔
ابراھیم پلٹ کر زنیشہ کی طرف آیا سنگل بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتے اس نے اسکا ڈرپ لگا ہاتھ تھاما، جھک کر اس نے نرمی سے اسکی پیشانی چومی۔
” میرا سکون…..!!! ” اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلاتا وه آنکھوں میں محبت سموئے اسے دیکھنے لگا۔ وه اسے بےحد عزیز تھی ہمیشہ سے اور آج اس کی بدولت اسے دو ننھی پریوں سے نوازا گیا تھا، دل تھا کہ شکر سے سجده ریز تھا۔
اسکے دل میں وه عورت احترام کی اور بھی اونچی مسند پر جابیٹھی تھی جو زندگی کے سفر میں اسکے ہمقدم تھی۔ زنیشہ نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں وه اسے خود پر جھکا دیکھ کر ذرا سا مسکرائی۔
اپنے وجود میں خالی پن محسوس کرتے اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو ابراھیم نے نظروں سے اشارہ کیا وه مشائم اور ارشما کی جانب دیکھنے لگی ذہن اب مکمل بیدار ہونے لگا تھا۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی چہرے پر تکلیف بھرے تاثرات آئے۔ ابراھیم نے اٹھ کر اسے سہارا دیتے تکیوں کے سہارے بٹھا دیا یوں کہ وه نیم دراز تھی۔
مشائم نے اسکی بےچینی محسوس کرتے آگے بڑھ کر انگلی منہ میں ڈال کر ٹکر ٹکر دیکھتی اسکی ننھی سی جان کو اسکے ہاتھ میں دے دیا۔ ایک آنسو لڑھکا تھا زنیشہ کے گال پر…..
کپکاتے لبوں کو بھینچ کر وه ذرا سا جھکی تھی۔ اس نے گلابی نرم سی ناک پر لب رکھے، اسکی پلکوں کو لبوں سے چوما، وه بےاختیار ہوتی اس کے دونوں گال چوم کر اسے سینے سے لگاتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
” ماما ۔۔ یہ ۔۔ میری بیٹیاں ۔۔ ہیں ۔۔! “
سینے سے لگی عجیب سی آوازیں نکالتی اپنی جان کی چھوٹی سی گلابی مٹھی کو جھک کر اس نے نرمی سے چوما تھا۔ ابراھیم نے اٹھتے اسے ساتھ لگایا تھا۔
” جی ماما کی جان یہ تمہاری بیٹیاں ہیں ، ماشاءالله ، اللّه ہر بری نظر سے بچائے۔۔۔! “
ارشما اس کے پاس آ بیٹھی جس کے ہاتھوں میں ویسی ہی ننھی پری تھی۔ ماہ بیر اور صالح نے باری باری آگے ہوتے اس کے سر پر پیار کیا۔
” اب میری بیٹی نے رونا نہیں ہے خوشی کا موقع ہے، خیر سے اب تمہارا باپ نانا اور میں دادا بن گیا ہوں، ہاہاہا ۔۔۔! “
صالح نے ماہ بیر کو سر تا پیر دیکھتے قہقہہ لگایا جو اسکی طرح جینز شرٹ میں ملبوس تھا۔ دونوں اتنے فٹ تھے کہ انھیں دیکھ کر کہا ہی نہیں جاسکتا تھا۔
زنیشہ ہنس پڑی تھی اس نے ہاتھ میں پكڑی اپنی بیٹی کو احتیاط سے پہلو میں لٹایا جو اوں آں کرتی ہلنے سے کروٹ اس کی جانب کرتی اسکی کمر میں منہ چھپا گئی۔
ابراھیم بےساختہ مسکرایا تھا اسے دیکھ کر اس نے احتیاط سے اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ اولاد کو سینے سے لگا کر کیسا سکون محسوس ہوتا ہے یہ وه باخوبی محسوس کر چکا تھا۔
زنیشہ نے ارشما کے ہاتھ سے دوسری بیٹی کو پكڑا پھر اسے بھی والہانہ پیار کرنے لگی۔ ننھی پری ماں کا لمس محسوس کر کے مس کرائی تھی جس سے گال میں گول مٹول سا ڈمپل ابھرا۔
گلابی ننھے سے چہرے پر گرے بڑی بڑی آنکھوں سے پٹر پٹر دیکھت، بغیر دانتوں والے ننھے سے منہ پر مسکراہٹ لیے وه ننھی سی پری اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ وه بےساختہ دل میں اسکی نظر اتار گئی۔
” ابراھیم سب سے پہلے ان کا صدقہ دیں ، یہ اتنی پیاری ہیں کہ مجھے ڈر ہے کسی کی نظر نہ لگ جائے۔۔۔! “
وه اسے ساتھ لگاتی اس کی جانب انگلی بڑھا گئی جسے غوں غاں کرتے اس نے تھام لیا۔ زنیشہ بےساختہ مسکرائی تھی۔
” ہاں بیٹا ٹھیک کہہ رہی ہے زنیشہ ۔۔۔! گھر جاتے ہی پہلے صدقہ دو ان کا، کسی کی بری نظر کس طرح دنیا اجاڑ دیتی ہے یہ ہم سے بہتر کون جانتا ہے۔۔! “
بولتے ہوئے مشائم کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی، کندھے پر یوسف کا ہاتھ محسوس کرتے وه اپنا ہاتھ اس پر رکھتے سر جھٹک گئی۔
خاموشی میں ارشما کے موبائل کی رنگ ٹون بجی، اینارا کالنگ دیکھ کر اس نے فورا کال اٹینڈ کرتے فون کان سے لگایا تھا۔
” ہاں اینارا ، اللّه کا شکر ہے جڑواں بیٹیاں ہوئی ہیں، ہاں ماشاءالله ۔۔۔! دو دن بعد ڈسچارج کریں گے ۔۔ ” کچھ دور ہوتی وه اسے صورتحال سے آگاہ کرنے لگی۔
❤❤❤
یوسفز کے بنگلے میں جھانکو تو لاؤنج ہر سو گلابی سفید غباروں سے سجا ہوا تھا۔ لاؤنج کی انٹرنس پر گولڈن دل کی شکل کے غبارے سنہری لڑیوں سے باندھ کر لٹکائے گئے تھے جن پر ویلکم ہوم لکھا تھا۔
لاؤنج کا جائزہ لیتی ایرا نے حیان کو دیکھا جو ابھی پولیس سٹیشن سے سیدھا یہیں آیا تھا وه صوفے پر گرے بالونز اٹھا کر جگہ بناتا وہیں بیٹھ گیا۔
اس نے ساکس میں مقید پیر پھیلا کر نیچے قالین پر رکھا تو گلیٹر سے بھرا سفید غبارہ ٹھا کی آواز سے پھٹ گیا۔ ایرا کا منہ کھل گیا ، ناک منہ چڑاتی وه اس کے سامنے کمر پر ہاتھ ٹکا کر کھڑی ہوگئی حیان نے معذرت خواہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” حیاننننن بھائیییی۔۔۔۔! یہ کیا کیا آپ نے۔۔؟ اتنی محنت سے میں نے سارے بالونز پھلائے تھے میرا رنگ دیکھیں کیسے زرد ہورہا ہے اور آپ نے ایک سیکنڈ میں اسکا کچومر نکال دیا۔ مجھے نہیں پتہ آپ یہاں سے اٹھ جائیں یہاں زنیشہ آپی اور بےبیز بیٹھیں گے! “
وه اپنے چہرے کی گوری چٹی رنگت کو زرد کہتے منہ پر ہاتھ رکھتی بےچارگی سے کہتی پھر دونوں ہاتھ کمر پر ٹکاتی قطعی انداز میں بولی۔ وه اس کے انداز دیکھتا ابرو اچکا گیا۔
” نہیں چھوٹی میں تو یہیں بیٹھوں گا ۔۔! “
اسے پچکارتا وه مزید پھیل کر بیٹھ گیا۔ اسی وقت گرے پینٹ سویٹر میں پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وه نواب بھی آ کر حیان کے ساتھ پھیل کر بیٹھ گیا۔
اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے سامنے کھڑی اپنی بیوی کو دیکھا جو غصیلی نظروں سے دونوں کو گھور رہی تھی۔ لائٹ پرپل گھٹنوں تک آتے فراک اور چوری دار پاجامے میں دوپٹہ سینے پر پھیلائے سلکی بالوں کی چوٹی آگے کو ڈالے وه پریوں کی کہانی کی کوئی پری ہی لگ رہی تھی۔
عرش نے ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلایا تو بازو کے وزن سے ایک اور غبارہ انتہائی ڈراؤنی آواز سے پھٹ گیا۔
” غزل آپی ۔۔۔۔!!! “
روہانسی ہوتی وه زور سے چلائی تو وه کچن سے جلدی سے باہر آئی۔ بلیو جینز پر ملٹی کڑھائی کی سفید افغانی قسم کی چنٹ والی فراک میں ملبوس سٹالر رول کر کے گلے میں ڈالے وه مہرون بالوں کی چوٹی بنا کر آگے ڈالے ہوئے تھی جو گھٹنوں تک پہنچ رہی تھی۔
” کیا ہوا ؟ ” ……
ان کے پاس آتی وه حیرانگی سے گویا ہوئی۔
” اپنے شوہر کو سنبهالیں ، بہت بگڑ گئے ہیں اور آپ ۔۔۔! “
دانت کچکچا کر کہتے اس نے پورے استحقاق سے عرش کا ہاتھ تھاما۔
” آپ میرے ساتھ آئیں ذرا ۔۔۔! “
اسے زور لگا کر اٹھاتی وه مشائم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وه مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا اس کے ساتھ کھنچا چلا گیا۔
ان کے جانے کی دیر تھی کہ حیان نے غزل کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔ وه کھڑے کھڑے اس پر جھکی تھی اس کے کاندھوں کا سہارا لیتی وه آنکھیں پھیلاتی اسے دیکھنے لگی جس نے ایک پل کو اسکی جان ہی نکال دی تھی۔
” کیا ۔۔۔کر رہے ہو ۔۔۔ چھوڑو مجھے ، کوئی آ جائے گا ۔۔۔! “
وه دانت پیس کر بولی تھی۔ حیان پر رتی برابر اثر نہ ہوا ۔۔ وہ اسکے گال کو ہاتھ کی پشت سے چھوتا اسے گود میں بٹھا گیا۔ وه شرم سے سرخ پڑی تھی۔
” ٹھیک کہہ رہی تھی وه تم بہت بگڑ گئے ہو ۔۔۔! “
اسے دور دھکیلتی وه ارد گرد نگاہ دوڑاتی سٹپٹا کر بولی تھی۔ اسکے یوں مسلسل ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر وه جھنجھلا گئی۔
” اب ایسے کیوں دیکھ رہے ھو ۔۔۔! “
وه اس کی ہری آنکھوں سے نظروں کا سفر کرتا اسکے لبوں پر ٹھہرا ، بےچینی سی ہوئی تھی دل میں کوئی خواہش سی جاگی تھی۔
” جی چاہ رہا ہے ۔۔۔! ” دهیمی سرگوشی پر وه حلق تر کرتی نظریں جھکا گئی۔
” کیا چاہتا ہے ۔۔؟ “
ارد گرد کا ہوش بھلائے وه ایک دوسرے میں گم تھے۔
” کہ تمہارے لبوں ۔۔۔! ” ادھورے الفاظ کہتا وه بےساختہ جھکا تھا۔ غزل نے شرم پر لعنت بھیجتے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھے۔
” مارا تم کو تنہائی میں رومینس ہی سوجھتا ہے۔۔؟ ام کو غصہ مت دلاؤ اتنا کام پڑا ہے ۔۔! “
خالص پٹھانیوں کے انداز میں کہتی وه فورا اٹھی تھی۔ اس نے ناک سکیڑ کر اسے دیکھا تو وه داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اسے دیکھنے لگا۔
” مجھے چیلنج مت کرو ۔۔! میں سب کے سامنے بھی تمہارے ساتھ یہ رومینس جھاڑ سکتا ہوں ۔۔! “
وه اس انداز میں بولا کہ وه سٹپٹاتی بےساختہ رخ موڑتی وہاں سے واپس کچن میں چلی گئی جہاں ارشیہ پہلے سے موجود اسکی مدد کروا رہی تھی۔
❤❤❤
کمرے میں آ کر اسکا ہاتھ چھوڑتی وه خفگی سے اسے دیکھنے لگی بچاری صبح سے گھر سجانے میں لگی تھی اور اب اسے ساری سجاوٹ غارت ہوتی محسوس ہورہی تھی۔
وه اس کے ساتھ کھنچا چلا آتا سر جھکائے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا چہرے پر مبہم مسکراہٹ تھی۔ اسکا استحقاق بھرا انداز اسے اچھا لگا تھا۔
” آپ کی طبیعت ابھی مکمل ٹھیک نہیں ہے آپ کو ریسٹ کرنا چاہئے۔۔۔ “
گرے سویٹر سے جھانکتی سفید شرٹ کا کالر درست کرتی وه اب کہ نرمی سے بولی تھی۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔! “
اسکی چوٹی سے نکلتی سلکی لٹوں کو انگلی سے پیچھے کرتا وه دھیمے لہجے میں گویا ہوا اسکا یوں فکر کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ ایرا نے نیلی آنکھیں سکیڑتے ذرا سے پیر اوپر اٹھاتے اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھا جو اب بھی ہلکی حدت لیے ہوئے تھی۔
” اونہوں ، ابھی مکمل ٹھیک نہیں ہوا آپ یہیں بیٹھیں میں آپ کے لیے سوپ لاتی ہوں ، آپ کو اچھا لگے گا پھر میڈیسن بھی کھانی ہے نہ ۔۔۔ اوکے ؟ “
اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ کی طرف بڑھی وه سر جھکائے اپنے ہاتھ کو اسکے چھوٹے سے ہاتھ میں دیکھتا بغیر ایک لفظ کہے اسکے ساتھ چل پڑا۔ کبھی کبھی یوں کسی کا خود پر حق جتانا بہت اچھا لگتا ہے خاص کر تب جب وه دل کی سرزمین پر اتر چکا ہو۔
پیروں کو شوز سے آزاد کر کے وه بیڈ پر نیم دراز ہوگیا۔ اسکی طرف سے اطمینان کرتی وه آگے ڈھلک آتی چوٹی کو پیچھے کمر پر پھینکتی ہموار قدم چلتی چوکھٹ عبور کر گئی۔ اسکی یہ ادا بھی عرشمان شاہ کے دل میں کہیں نقش ہوئی تھی۔
❤❤❤
زنیشہ لوگ جونہی گھر میں داخل ہوئے وہاں موجود سب کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مشائم زنیشہ کو ساتھ لیے لاؤنج میں آئی جہاں اسکی سجاے صوفے پر اسے بٹھا دیا گیا۔
اسکے چہرے پر ممتا کو نور پھیلا تھا ابراھیم تو خدا کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتا تھا۔ سب اشتیاق سے ننھی پریوں کو گود میں لے کر پیار کرنے لگے۔
ڈھکے چھپے الفاظ میں ارشما نے بدر اور عرش کو بھی خوش خبری دینے کا کہا جس پر ایرا سٹپٹا کر وہاں سے بھاگ گئی جبکہ بدر نے بغیر کسی کا لحاظ کیے ٹکا کر کہہ دیا کہ ہم تو تیار ہیں آپ کی بہو مانے تب نہ ۔۔۔!
یونہی نوک جھونک چلتی رہی، ایرا کا تو بس نہ چل رہا تھا وه ان دونوں پرنسز کے گول مٹول سے گالوں پر دانت گاڑ دیتی۔ اسکی خوشی دیکھ کر صالح نے عرش کا کاندھا تھپتھپایا تھا جس پر وه مسکراہٹ دبا گیا، وه خوب سمجھ گیا تھا۔
حیان رمل کو ویڈیو کال پر سارا منظر دکھا رہا تھا وه ہسپتال میں تو مل گئی تھی لیکن آج بہت دل کے باوجود آ نہ سکی۔ جاب شروع ہوئی تو مصروفیت بھی بڑھ گئی تھی۔
غزل سب کی خوشی دیکھ دیکھ کر خوش ہورہی تھی۔ ننھی کلکاریاں ، سب کی ایک دوسرے کے لیے محبت ، اسے رشک آیا تھا اس خاندان کا حصہ بننے پر۔۔۔! وه صالح کے ساتھ بیٹھی اس سے ڈھکے چھپے انداز میں اگلے مشن کی بابت پوچھ رہی تھی۔
خوشیوں کے سنگ ہنستے مسکراتے وه سب آپس خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ جب کھانے کی خوشبو نے سوئی بھوک کو جگا دیا تھا۔
نگہت اور نوشین نے کھانے کی میز پر کھانا لگا کر اطلاع دی تو سب کھانے کے لیے اٹھ گئے۔ ارشما ، زنیشہ کو آرام سے اٹھاتے اسے اسکے کمرے میں لے گئی جہاں ابراھیم اس کے آرام کے خیال سے کھانا لے آیا۔
ان دونوں کو سر پر پیار کرتی وه روم سے باہر آتی کھانے کی میز کی طرف بڑھ گئی۔
❤❤❤
فون کان سے لگائے وه ڈرار کھول کر جھکی اندر سے کچھ پیپرز کھنگال رہی تھی دوسری جانب سے اپنی کولیگ کی بات غور سے سنتی وه ایک پیپر ہاتھ میں لیے سیدھی ہوئی۔
” نتاشہ میں تمہیں ڈاکومنٹس میل کرتی ہوں کچھ دیر تک ۔۔۔ ہاں بات ہوئی تھی نعیم بیگ سے، کچھ خاص نہیں کہا اس نے، مگر وه ملنا چاہتا ہے کچھ اہم بات کرنی ہے۔ اونہوں میں نہیں جاؤں گی میر نے منع کیا ہے، تمہیں تو پتا ہے ایک نمبر کا گھٹیا انسان ہے وه، میر خود دیکھ لے گا۔۔ “
ہاتھ میں پکڑے پیپرز پر نظر دوڑاتی وه چلتی ہوئی کبرڈ تک آئی جہاں قدرے کونے میں بنے چوکور خانے میں ایک ساتھ کئی فائلز رکھی تھیں۔ اس نے نیلے کور والی فائل نکال کر پیپرز اس میں لگائے۔
فائل واپس رکھتی وه کبرڈ بند کرتی فون دوسرے ہاتھ میں لیتی کان سے لگائے پلٹ کر واپس آئی وه بہت غور سے نتاشہ کی بات سن رہو تھی جو اسے ان کے حالیہ لکھے گئے آرٹیکلز کے بارے میں اپڈیٹس دے رہی تھی۔
اسکی نگاہ میر پر پڑی جو گرے تھری پیس میں بال جیل سے پیچھے کو جمائے ہاتھ میں قیمتی گھڑی پہنے نک سک سا تیار چوکھٹ سے اندر داخل ہوا تھا۔
اس کے کلون کی مہک نے کمرے کی فضا کو معطر کر دیا تھا۔ بائیں کان میں پہنے ڈائمنڈ ٹاپس کو انگلی سے چھوتا وه اس کے پاس چلا آیا۔
” امپورٹنٹ میٹنگ کے لیے نکل رہا ہوں دیر ہوجائے گی ۔۔۔!”
اسکے ہاتھ سے فون لے کر کال کاٹتا وه فرصت سے اسے دیکھتا آگاہ کرنے لگا۔ اسکی پوزیسیو نیچر سے وه واقف ہونے لگی تھی جب وه اس کے پاس ہوتا تب اسے اسکی مکمل توجہ خود پر چاہئے ہوتی تھی۔
اس لیے فون کاٹنے پر بغیر برا منائے وه غور سے اسکی بات سننے لگی جو اسے مختصراً آج کی میٹنگ میں ڈسکس ہونے والے پراجیکٹ کے بارے میں بتا رہا تھا۔ وه اسکی پرفیکٹ لک کو بظاہر عام سے انداز میں دیکھتی دل ہی دل میں اسکی نظر اتار گئی تھی۔
” سر دیر ہورہی ہے ۔۔! “
جہاں روم کے باہر کھڑے یاور کی بےتاثر آواز آئی وہیں میر کے چہرے کے زاویے بگڑے۔ رمل نے مسکراہٹ دباتے اسے دیکھا جو غصے پر قابو پاتا ایک پل کو آنکھیں موند گیا۔
” ٹھیک ہے چلتا ہوں ، باہر گارڈز موجود ہیں آپ کو کہیں جانا ہو تو ان کے ساتھ جائیے گا پلیز۔۔۔! “
آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر لب رکھتا وه پلٹ گیا۔ وه نرمی سے اس کی پشت کو دیکھتی بےساختہ پکار گئی۔
” میر ۔۔۔۔ “
اسکی پکار پر وه پلٹ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
” اپنا خیال رکھنا ۔۔۔! “
اسکی سیاہ آنکھیں کسی احساس سے چمک رہی تھیں جیسے محبت کا احساس قطرہ قطرہ سمندر بننے کے لیے بیتاب سا ۔۔۔
وه ہولے سے مسکرایا پھر سر جھکاتے آپ ہی ذرا سا ہنس دیا۔ دل میں یک دم ہی خوشی کا بےپایاں احساس پیدا ہوا تھا۔
” آپ جو کہہ دیں تو خیال کو بھی میرا خیال آ جائے….! “
دونوں کے چہروں پر محظوظ مسکراہٹ تھی۔
” سر…..؟؟ ” جھنجھلائی ہوئی آواز سماعت سے ٹکرائی میر کے تاثرات پل میں بدلے اس نے جلے کٹے انداز میں دروازے کو یوں گھورا جیسے اس پار کھڑے شخص کو نظروں کے شعلوں سے ہی اڑا دے گا۔
رمل نے ہاتھ سے باہر کی جانب اشارہ کیا تو وه بڑبڑا کر قدم بڑھا گیا۔ یہ خبیث واقعی مر*ے گا….!
اسکے جانے کے بعد رمل شہادت کی انگلی دانتوں میں دباتی گزرے خوبصورت لمحات کو سوچنے لگی پھر یاور کی وجہ سے میر کے تاثرات یاد کرتی ایک دم کھلکھلائی۔ ہاں اب زندگی مزید اچھی لگنے لگی تھی….!
❤❤❤
جاری ہے….

Part 2;

بیگ پیک کرتے اس نے دیوار پر نصب گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ انہیں نو بجے تک دوسرے شہر میٹنگ کے لیے نکلنا تھا۔ گیارہ بجے تک میٹنگ شروع ہوجانی تھی لہٰذا وہاں جلد پہنچنا ضروری تھا۔
ضروری چیزیں اور ایک دو جوڑے پیک کر کے اس نے بدر کو دیکھا جو اسکی طرح ہی بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا۔ ارشیہ نے البتہ لانگ کوٹ اور براؤن لانگ بوٹس پہن رکھے تھے۔
بالوں کا اونچا جوڑا بنائے وه ہمیشہ کی طرح مغرور لگ رہی تھی۔ تیاری مکمل کرتے وه بدر کے ساتھ باہر نکلی۔ پہلے سے تیار کھڑے ڈرائیور نے ان کا سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھ دیا۔
ارشما اور ماہبیر کے کمرے میں ناک کر کے جاتے انہوں نے خیر باد کہا اور سفر کے لیے نکل پڑے آج کی میٹنگ بہت ضروری تھی ان کے لیے، وه پر امید تھے۔
بدر کی سرمئی آنکھیوں میں دهند کے باعث ہلکی سی نمی آئی تھی جس سے آنکھوں کے کانچ دهندلا گئے، سرخ پڑتے ناک کو سہلا کر گہری سانس کھینچتے اس نے چہرے پر سیاہ ماسک چڑھا لیا۔
اسکے برابر بیٹھی ارشیہ چہرہ دائیں جانب کیے بند کھڑکی کے پار تیز دوڑتی سڑک پر نیلی تیكهی آنکھیں ٹکائے گہری سوچ میں تھی۔ اس کی چھٹی حس اسے بےچین کر رہی تھی وه خود کو پرسکون کرتی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گئی۔
❤❤❤
لگزری ہوٹیل کے سامنے اترتے وه گارڈ کو اپنا کارڈ دکھا کر اندر چلے آئے۔ ریسیپشن کی جانب آتے انہوں نے پہلے سے ریزرو روم نمبر پوچھتے کمرے کی چابی لی جو اس عالیشان ہوٹل کی دوسری منزل پر تھا۔
لفٹ میں داخل ہوتے وه دوسری منزل پر جانے لگے۔ قریب پانچ منٹ بعد وه اپنے روم کے سامنے تھے جہاں ان کا سامان پہنچ چکا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ارشیہ نے چاروں جانب نگاہ دوڑائی لائٹ گرے تھیم تھی۔
دیواروں پر گرے سلک کے پردے گرے تھے کمرے کے ایک طرف ڈبل بیڈ تھا جس پر سفید اور گرے کے امتزاج کی بیڈ شیٹ تھی۔ دوسری جانب باتھ روم تھا جس کا دروازه بھی گرے تھا۔
جبکہ تیسی جانب بالکنی تھی جس کے بند دروازے کے پار باہر کا منظر باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔
بدر کو کوٹ اتار کر قدرے کونے میں رکھے سٹینڈ پر لٹکاتے دیکھ کر وه بھی دروازے بند کر کے قدم بڑھاتی بیڈ کی سیدھ میں رکھے صوفے پر آ بیٹھی۔ وه دونوں میٹنگ کے ضروری پوائنٹس ڈسکس کرنے لگے تھے۔
❤❤❤
ہینڈسم سٹائلنگ کی شاندار عمارت سے باہر نکلتے ان کے چہرے پر فتح کی مسکراہٹ تھی۔ اتنی کمپنیوں میں سے محض ان کی کمپنی کو پراجیکٹ مل چکا تھا اس کمپنی کے ساتھ کام کرنا انہیں مستقبل میں عروج کی بلندیوں پر پہنچانے والا تھا یہ وه جانتے تھے۔
بدر نے آنکھیں سکیڑتے بلند آسمان کو دیکھا جو اس کی آنکھوں کی طرح ہی سرمئی ہورہا تھا۔ بادلوں کے سائے نے شام کو رات کے اندھیرے میں بدلنے کا پورا انتظام کر رکھا تھا۔ ممکن تھا کسی بھی وقت موسلادھار بارش برسنے لگتی۔
ارشیہ کے دانت سردی سے آپس میں بجنے لگے تھے۔
” تم نے مسٹر جان کا منہ دیکھا تھا کس طرح جل گئے تھے؟ اف اففف ۔۔۔ میرے تو ۔۔۔! “
اس کے ساتھ چلتے اس نے اس نے ہاتھوں میں پھونک مارتے منہ پر رکھا تھا۔
” میرے تو دل میں ٹھنڈ پڑ گئی کیا سمجھتا تھا وه کہ ہم پاکستانی لوگ کسی کام کے نہیں ، اب دیکھے گا ہم کیسے کیسے کام کرتے اسے مارکیٹ سے ہی آؤٹ کرتے ہیں ۔۔۔! “
سینے پر ہاتھ باندھ کر اسکے ساتھ تیز تیز چلتی وه تیكهے انداز میں بول رہی تھی۔ ناک بری طرح سرخ پڑ چکی تھی جسم بھی ہلکا ہلکا دکھنے لگا تھا۔
بدر نے اسکی بات پر سائیڈ سمائل دیتے اسے ایک نظر دیکھا۔۔۔ ” وی ڈیزرو اٹ۔۔۔! “
مغرور انداز میں کہتے اس نے کار کا دروازه کھولا جو ڈرائیور ان کے لیے چھوڑ کر کیب سے واپس جا چکا تھا۔
” ہائے ۔۔۔! “
اس سے پہلے وه اندر بیٹھتے کسی جانی پہچانی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔ قہر برساتی ٹھنڈ میں ویسا ہی ٹھنڈا تاثر آنکھوں میں لیے شاہان خان براؤن براؤن جینز شرٹ پر سفید اوور کوٹ پہنے ان کے سامنے تھا۔
اسکا گورا چٹا رنگ بےحد سرخ ہورہا تھا۔ ارشیہ نے اسے دیکھ کر کچھ کہنا ضروری نہ سمجھا البتہ بدر نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالتے لبوں کو حرکت دی۔
” ہیلو مسٹر خان ۔۔۔! “
اسکے بےتاثر لہجے پر شاہان خان نے سر کو خم دیا۔
” کونگریٹسس نیو پراجیکٹ کے لیے اینی وے لكنگ گارجیئس مس ارشیہ ۔۔۔! “
بدر کو مبارک دیتے وه اچانک ارشیہ کی طرف مڑا۔
بدر نے مٹھیاں سختی سے بھینچتے اسے سرد نظروں سے دیکھا۔ ارشیہ نے اسے اس قابل ہی نہ سمجھا کہ اسکی بات کا جواب دے۔ وه ڈھیٹوں کی طرح مسكرايا۔
” اس ڈنر کے لیے اور اس کے بعد ان خوبصورت لمحات کے لیے آپ کا شکریہ ۔۔۔! “
معنی خیز نظروں سے ارشیہ کو دیکھتا وه آگ لگا کر جا چکا تھا۔ بدر کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑا جبکہ آنکھیں لال انگارا ہوتی دہکنے لگی تھیں۔
” بدر اس کی بات کا ۔۔۔۔! “
وہ اسکے پاس آتی وضاحت دینے لگی جب وه داڑھتا اس سے دور ہوا۔
” گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔! “
وه لب بھینچ کر گاڑی میں بیٹھی تو وه ڈرائیونگ سیٹ پر آتا تیز سپیڈ پر ڈرائیو کرنے لگا۔
❤❤❤
ہوٹل کے روم میں آ کر دروازه بند کرتے اس نے کوٹ اتار کر پوری قوت سے زمین پر مارا۔ اسکا دماغ کھول رہا تھا غصے سے ۔۔۔!
وه ایک پل کو دہل گئی اسکے غصے سے ۔۔ وه اسکی طرف آتا جھٹکے سے اسکے بازوؤں میں اپنی انگلیاں گاڑ گیا۔
“کیا بکواس کر رہا تھا وه جواب دو ۔۔۔!”
اسکی داڑھ پر وه جیسے اندر تک ہل گئی تھی بخار آہستہ آہستہ گرفت پکڑ رہا تھا اسے جسم شدید درد کرتا محسوس ہورہا تھا سر تھا کہ جیسے منوں بوجھ آ پڑا تھا مزید اسکا لب و لہجہ سر پر جیسے ہتھوڑے برسانے کا کام کر رہا تھا۔ اس نے زور سے اپنے بازو اسکی گرفت سے آزاد کیے۔
” جب تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں تو جو مرضی سوچو مجھے پروا نہیں ۔۔! “
خطرناک حد تک سرد لہجے میں کہتی وه پلٹ کر بیڈ کی جانب بڑھی اسے آرام کی شدید ضرورت تھی۔۔
بدر نے غصے سے پاگل ہوتے اسکا بازو پكڑتے اپنی جانب کھینچا ارشیہ نے ایک پل کو آنکھیں میچتے نمی اندر دهكیلی اسکے یوں کھینچنے سے جسم میں شدید درد اٹھا تھا۔
” میں جو بکواس کر رہا ہوں اسکا جواب دو ۔۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود تم اس سے کیوں ملی ۔۔۔؟ “
اسکا چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑ چکا تھا جبکہ کنپٹی پر نسیں ابھر آئی تھیں۔ اسکی جارہانہ گرفت پر اور انداز پر وه بھی چٹخ گئی۔
” ہاں گئی تھی میں ملنے کیا کر لو گے ؟ دوبارہ ملوں گی۔۔!!”
” چٹاخ !!! ” ۔۔۔۔
وه مزید کچھ کہتی جب بدر کا بھاری ہاتھ اسکے سرخ گال پر نشان چھوڑ گیا۔
” جاؤ دفعہ ہوجاؤ پھر اسی کے پاس ، میرے ساتھ تو زبردستی کا رشتہ ہے تمہارا جاؤ جاتی کیوں نہیں۔۔۔! “
غصے سے گرجتے اس نے سائیڈ ٹیبل سے گلدان اٹھا کر دیوار میں دے مارا۔
وه اسکے اتنی بڑی بات کہنے پر منہ پر ہاتھ رکھے ساکت کھڑی رہ تھی۔ نیلی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے۔ بغیر کچھ سوچے وه ایک لمحے کی دیر کیے بغیر کمرے کا دروازه کھول کر باہر نکل گئی۔
وه بےحس بنا کھڑا رہا اسکی شرٹ پینٹ سے نکل گئی تھی حلیہ بےترتیب تھا۔ بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے جبکہ سرمئی آنکھیں دہک رہی تھیں۔ وه بالکنی کی جانب رخ کیے کھڑا تھا جہاں سے تیز بارش کی آواز تواتر سے آرہی تھی۔۔
بالکنی کا گلاس ڈور ترچھی ہوتی بارش کے قطروں سے بھیگ چکا تھا۔ وه گلاس ڈور پر پهسلتے قطروں کے کھیل کو چند لمحے دیکھتا رہا غصہ آہستہ آہستہ وجود سے کسی دهند کی طرح اڑنے لگا تو اسکے حواس بھی بحال ہونے لگے۔
اس نے پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھا جو ادھ کھلا تھا۔ وه خالی خالی نظروں سے دروازے کو دیکھتا رہا پھر ایک دم لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
ہوٹل سے باہر نکلتے سرد موسم کی ٹھٹھرتی بارش کی پرواہ کیے بغیر وه محض پینٹ شرٹ میں بارش میں نکلتا اسے ڈھونڈنے لگا۔
بهیگنے سے اسکی شرٹ مکمل سینے سے چپک چکی تھی جبکہ لب جامنی پڑ گئے تھے وه دیوانوں کی طرح بھاگتا ہوا دوسری سڑک پر اتر گیا فٹ پاتھ پر چلتے وه اسے قدرے دور تیز دوڑتی گاڑیوں کے ہجوم میں سینے پر ہاتھ باندھے چلتی ہوئی نظر آئی۔
مکمل بھیگی ہوئی بخار کی شدت سے ہلکان وه بےحس بنی چلتی جا رہی تھی۔ یہ منظر دیکھتا وه اسکی جانب بھاگا تھا۔ بس ایک بار وه اس تک پہنچ جائے ، بس ایک بار ،، پھر کبھی خود سے دور نہیں جانے دے گا۔
” ارشیہ ۔۔۔!”
اسکے کانوں نے کسی کی مدھم آواز سنی تھی اپنا وہم خیال کرتی وه سر جھکائے چلتی جا رہی تھی جب تیز ہیڈ لائیٹس کی روشنی اسکی آنکھوں پر پڑی تھی۔
اس نے سر اٹھایا تھا پھر وه سر نہیں جھکا سکی اس نے بھاگنا چاہا لیکن قدم جامد سے محسوس ہوئے۔
تیز بارش سے بهیگتی سڑک پر وه دور جا گری تھی۔ اسکے ماتھے سے کچھ پھوٹ پڑا تھا۔ گاڑھا تیز چمکیلا سا ۔۔۔!
رات کے اندھیرے میں برستی بارش میں پیلی ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں چمکتا سرخ خو*ن ۔۔۔! قطرہ قطرہ قطار بن کر بہتا کسی کی سانسیں روکتا ۔۔۔!
❤❤❤
میں اکثر اسے کہتا ہوں
تم شور بہت مچاتی ہو
تب وه مجھ سے کہتی ہے
جب کلائی میری پکڑو تم
چوڑی تو میری کھنکے گی
چوری کا شور تو ہوتا ہے
جب پیار سے مجھے بلاؤ گے
دوڑ کے میں تو آؤں گی
پھر پائل میری کھنکے گی
پائل کا شور تو ہوتا ہے
زلف میری سلجهاتے ہوئے
جب گھگرے کو بکھراؤ گے
تب سانسیں میری مہکیں گی
سانسوں کا شور تو ہوتا ہے
پیار سے اپنی بانہوں میں تم
مجھ کو جب بساؤ گے
تب دل تو میرا دھڑکے گادھڑکن کا شور تو ہوتا ہے….!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤
سرخ گھٹنوں تک آتے ڈھیلے سے سویٹر کے ہمراہ سیاہ جینز اور لانگ بوٹس میں سیاہ اوور کوٹ بازو پر ڈالے وه مبہوت سی لکڑی کی دیواروں کو چھوتی لکڑی کا بڑا سا دروازه دهكیلتی اندر داخل ہوئی تھی۔
داخل ہوتے ہی اسکی نظر دروازے کے پاس رکھے لکڑی کے شوز ریک پر پڑی۔ اس نے پیروں کو لانگ بوٹس سے آزاد کرتے بوٹس اٹھا کر شوز ریک میں رکھ دیے۔
وه مبہوت سی چاروں اوڑھ دیکھتی چھوٹے چھوٹے قدم بڑھا رہی تھی۔ زمین پر لکڑی کی دیوار کے ساتھ نرم سا بستر بچھایا گیا تھا جس کے اطراف میں پھول ہی پھول بکھرے تھے۔
قریب رکھی چھوٹی تپائی پر تین موم بتیاں روشن تھیں جو کمرے کے ماحول کو خوابناک بنا رہی تھیں۔ بستر کے بلکل سامنے آتش دان روشن تھا جس کے قریب ہی دو لکڑی کی کرسیاں پڑی تھیں۔
باہر کی ٹھنڈ کی نسبت اندر کا ماحول کافی پرحرارت تھا۔ اس نے کوٹ کرسی پر ڈالتے یونہی سر اٹھا کر لکڑی کی چھت کو دیکھا جہاں ونڈ چائم لٹک رہا تھا جس میں لٹکتے دو چاند اور چار ستارے سنہری روشنی سے جگمگا رہے تھے۔
گلاب اور موتیے کی بھینی بهینی مہک ، آتش دان میں چٹختی لکڑیوں کی آواز ، باہر اٹھتے سمندر کا شور جیسے ہر چیز کو خوابناک بنا رہا تھا۔
وه ایک طرف گرے پردے کی جانب تجسس سے بڑھی اس کی پشت پر پھیلے بھورے آبشاری بال آگ کی زرد روشنی سے آتشی لگنے لگے تھے۔
سرخ لپسٹک سے رنگے لبوں کو ذرا سا وا کرتے اس نے پردہ ہٹايا تو منظر نے نیلی آنکھوں کو مبہوت کیا تھا۔ تا حد نظر پھیلا سمندر جو کنارے لگی روشنیوں سے کسی حد تک نمایاں ہورہا تھا۔
اس کی نگاہ اس پر پڑی جو اسکی طرح ہی سرخ سویٹر اور سیاہ جینز میں اسی جانب بڑھتا نظر آ رہا تھا۔
اسکے لاکٹ میں شاہین کی آنکھ کی چمک دور سے بھی دیکھی جاسکتی تھی۔
وہ پردہ برابر کرتی ویسے ہی کھڑی رہی۔ لب دباتے اس نے ہاتھ میں پہنی سیاہ کانچ کی چوڑیوں کو چھیڑا جو عرش نے راستے میں دلائی تھیں۔
اس نے گھر کیا بتایا وه نہیں جانتی تھی مگر جب اس نے ساتھ چلنے کو کہا وه بغیر ایک لفظ کہے چلی آئی تھی۔ جہاں اعتبار کا معاملہ ہو وہاں اگر مگر کی گنجائش ہی کہاں رہتی ہے۔۔۔!
کھلے دروازے سے وه اندر داخل ہوا تھا وه پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جو شوز ریک میں رکھتا دروازہ بند کر رہا تھا۔ ایرا کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
وه اس کے قریب آ کر کچھ فاصلے پر رکتا خاموشی سے اسے دیکھنے لگا سرخ گھٹنوں تک آتے ڈھیلے سویٹر میں ریشمی بال پشت پر بكهیرے وه مومی گڑیا لگ رہی تھی نازک تراشیدہ لبوں پر سرخ لپ سٹک نے اسکے حسن کو دو آتشہ کر دیا تھا۔
وه ایک دم آگے بڑھتا اسے مظبوط بانہوں میں اٹھا کر زمین پر بچھے بستر کی جانب بڑھا۔ نرمی سے اسے لٹاتے وه کہنی کے بل نیم دراز ہوگیا۔
” تمہیں بھوک لگی ہے۔۔۔؟ “
اس کی گھنی پلکوں پر پھونک مارتا وه دهیمے لہجے میں گویا ہوا۔
” نہیں ۔۔۔! “
پیٹ پر رکھے ہاتھ سے کلائی میں پہنی چوڑیاں چھوتی وه نظریں جھکائے گویا ہوئی۔
” میں اس لیے پوچھ رہا ہوں کہیں بعد میں تم بھوک کا بہانہ نہ کر پاؤ۔۔۔! تم جانتی ہو ہم کیوں یہاں ہیں ۔۔؟”
اس کے گال کو دو انگلیوں سے چھوتا وه لب رکھ گیا۔
وه شرما کر رخ بدل گئی۔ ریشمی بال بستر پر بکھر گئے تھے جنہیں سمیٹ کر ہاتھوں میں لیتا وه جھک کر ان کی مہک سانسوں میں اتارنے لگا۔ اسے محبت تھی اس کے بالوں سے ، حق تھا انہیں چھونے کا۔۔۔!
” تم نے ایک بار پوچھا تھا مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی ۔۔۔؟ “
وه اسکی پشت کو دیکھتا چت لیٹ گیا ایرا کی سماعتیں پوری طرح متوجہ ہوئی تھیں۔ وه واپس سیدھی ہوتی سر گھما کر اسے دیکھنے لگی جو چہرہ سیدھا کیے آنکھیں موندے مسکرا رہا تھا۔ وه یک ٹک اسے دیکھے گئی۔
” اور آپ نے کہا تھا اس فضول چیز کی آپ کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں ۔۔۔! “
عرش نے اچانک آنکھیں کھول کر دونوں ہاتھ بڑھاتے اسے خود پر جھکا لیا۔
وه اچانک پڑتی افتاد پر بوکھلاتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ گئی اسکے بال عرش کے چہرے پر گرے تھے جنہیں ایک ہاتھ سے ہٹاتے وه سیدھا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو گہری بھوری آنکھوں میں پنپتے جذبات کی تاب نہ لاتی فورا نظریں جھکا گئی۔
اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا اس نے جھکی پلکیں اٹھائی تھیں۔ یہ گہری بھوری آنکھیں ۔۔۔؟ یہ آنکھیں تو اس رات ۔۔۔! اسکے ذہن میں ایک ساتھ بہت کچھ کلک ہوا تھا۔
” اس رات آپ نے مجھے بچایا تھا ۔۔۔؟ “
وه خواب کی سی کیفیت میں بولی تھی عرش نے گہری سانس کھینچتے اقرار کر لیا۔
” میں ہمیشہ سے تمہارے لیے فکرمند تھا تم دنیا کو نہیں سمجھتی تھیں مجھے ڈر تھا تم خود کو نقصان نہ پہنچا لو ۔۔۔! جب مجھے محبت نہیں تھی تب تمہاری اتنی پرواہ کرتا تھا اور اب تو ۔۔۔۔ “
وه مسکراتے لہجے میں کہتا بات ادھوری چھوڑ گیا وه بےچین ہوئی تھی۔
” اب کیا ۔۔۔؟ “
بےساختہ لبوں سے جدا ہوا تھا۔ اسکی بےتابی پر وه لب دبا گیا۔
” اب مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے ۔۔۔! “
اس کے اقرار پر وہ پل میں اٹھ بیٹھی اسکی جانب پشت کیے چہرے پر ابھرنے والی مسکان چھپاتی وه دل کے مقام پر ہاتھ رکھ گئی جو زوروں سے دھڑکنے لگا تھا لبوں پر مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپتی تھی۔
وه اسکے خود سے شرمانے پر محظوظ ہوتا اٹھ بیٹھا پشت سے اسکی کمر کے گرد ہاتھ باندھتے وه ٹھوڑی اسکے کاندھے پر ٹکا گیا۔
” آج تمہارے فرار کی سب راہیں بھی مجھ تک محدود ہیں تم جانتی ہو جب تم نگاہوں کے سامنے نہیں ہوتی تو دل یوں تمہیں ڈھونڈتا ہے جیسے لوگ سکون۔۔۔! “
کندھے پر اسکی داڑھی کی چبھن سے وه کسمسائی تھی آنکھیں البتہ حیا کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں دل تھا کہ آنے والے حسین لمحات کے خیال سے ہی تیز تیز دھڑکتا جا رہا تھا۔
” عرش ۔۔۔! ” اسکے لبوں کا لمس گردن پر محسوس کرتی وه بےساختہ پکار اٹھی اسکی قربت پر ہاتھوں کے ساتھ لب بھی کانپنے لگے تھے۔
” جی جانِ عرش کہیں آپ کو سنوں یا آپ کی دھڑکنوں کو ؟؟” ۔۔۔
اس کے ہاتھ سے ایک ایک کر کے چوڑیاں اتارتا وه اسکی گوری کلائی پر لب رکھ گیا وه لجا کر آنکھیں موند گئی۔۔
” تمہارے ان لبوں سے اقرار سننا چاہتا ہوں کہ دل کو قرار آ جائے ۔۔۔! “
اس پر سایہ کرتا وه اس سے اظہار محبت سننے کو بےتاب ہوا تھا۔ اس کی گردن سے بال ہٹاتے وه جھک کر گہری سانس بھر گیا ایرا کا سانس سینے میں اٹکا تھا اس شخص کی قربت برداشت کرنا بلکل بھی آسان نہ تھا جان جیسے لبوں پر آنے لگی تھی۔
” میں کبھی سمجھ نہیں پائی کون سی بات ایسی ہے جس نے مجھے آپ سے محبت کرنے پر مجبور کر دیا ۔۔ عرش میں آپ سے بے حد محبت کرتی ہوں خود سے بھی زیادہ ۔۔ مرتی ہوں آپ پر ۔۔ مر جاؤں گی آپ کے بغیر ۔۔۔! “
اسکی شدتوں پر ہلکان آنکھیں میچے وه اپنے اقرار سے اسے مزید دیوانہ کر گئی۔
” تمہیں آج خود میں یوں چھپا لوں گا کہ پھر تم میں، میں ہی نظر آؤں گا، آئی ایم ان لو ود یو ایرا عرشمان شاہ۔۔۔! میں حد میں رہ کر بےحد چاہوں گا تمہیں اتنا کہ چاہتوں کو بھی یوں چاہے جانے کی خواہش ہوگی۔
عرشمان شاہ کو یہ مان لینے میں کوئی عار نہیں کہ تم میری پہلی اور آخری محبت ہو ۔۔۔! “
بلینکٹ کھینچتے اس نے سرخ سویٹر کو مومی کندھوں سے سرکایا تھا۔ کمرے میں پھیلی حرارت میں جذبات کی حدت بھی شامل ہوگئی تھی۔ آتش دان کی روشنی نے دیوار پر پڑتے دو سایوں کو قریب ہوتا محسوس کیا تھا۔
بات وه آدھی رات کی رات وه پورے چاند کی ۔۔۔۔
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی ۔۔۔۔ ❤🔥
🌺🌺🌺
جاری ہے ۔۔۔۔۔!!!