Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37


دروازے پر کھٹکا ہوا تو وه کچی نیند سے جاگ گئی ۔۔ ہری آنکھوں میں لال ڈورے نمایاں سے تھے۔۔ “آہ ۔۔۔!!! ” ایک ہی سائیڈ لیٹے رہنے سے اس کے نیکلیس کی چین گردن کی سائیڈ پر گہرا نشان چھوڑ گئی تھی۔۔
سیدھی ہو کر بیٹھتے اس نے گردن پر ہاتھ رکھا تو اس کے لبوں سے بےساختہ آہ نکلی تھی۔ ہاتھ میں پنج آنگلہ ، گلے میں نیکلیس ، ناک میں نتھ اور مانگ میں ماتھا پٹی۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں اتارا تھا اس نے۔
عروسی لباس میں وه نیم دراز کب سوگئی اسے پتہ ہی نہ چلا تھا۔ دوبارہ کھٹکا ہوا تو وه نیم خوابیدہ آنکھوں سے دروازے کی سمت دیکھتی آہستہ سے اٹھی اس کے ذہن سے نکل چکا تھا کہ اس نے دروازہ خود ہی بند کیا تھا تا کہ ایس پی کو تنگ کر سکے۔ کھڑے ہوتے وه ذرا سا لڑکھڑائی تھی منہ بناتی وه نیچے گرتے دوپٹے کی پرواہ کیے بغیر دروازے کی جانب بڑھی۔
سست روی سے دروازه کھولتے وه سوئی سوئی آنکھوں سے معصومیت سے اسے دیکھنے لگی جو ایک ہاتھ اسکی پتلی کمر میں ڈال کر اسے اندر دهكیلتا دروازه بند کر کے اسے دروازے سے پن کرتا اس کے لبوں کو پرشدت گرفت میں لے گیا۔
ایک ہاتھ دروازے پر ٹکائے دوسرا ہاتھ اسکی کمر پر رکھے اسے دروازے سے لگائے وه لمبا چوڑا وجود اس پر قابض ہوچکا تھا۔ غزل کی نیم خوابیدہ آنکھیں پوری کھل گئیں۔
اسکے زور سے دهكیلنے پر اسکی کمر میں درد سا اٹھا تھا۔ اسکی سانس اٹکنے لگی تو اس نے حیان کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دهكیلنا چاہا مگر وه ٹس سے مس نہ ہوتا اسکے لبوں پر جھکا جانے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا۔
غزل نے غصے سے اسکے بالوں میں ہاتھ ڈالتے اسکا سر بلند کیا تو حیان نے اسکے لبوں کو آزاد کرتے اس کی آنکھوں میں دیکھا ہری کانچ سی آنکھوں میں سرخ ڈوروں کے علاوہ دبا دبا سا غصہ تھا۔ آنکھوں سے سفر کرتی اس کی کالی آنکھیں بےحد سرخ ہوتے لبوں پر ٹھہری تھیں اوپر والے لب کے خم پر موجود تل پر اسکی نگاہ ٹھہری تھی۔
اس کے بےحد قریب اسکی گرفت میں گہری گہری سانس لیتی غصے سے اسکی جانب دیکھتی وه یہ فراموش کر بیٹھی کہ وه بغیر دوپٹے کے ہے اسکا نازک دلکش سراپا دیکھتے حیان کی آنکھوں میں خمار اترا تھا۔
” تم آخر چاہتے کیا ہو ۔۔؟ اگر میں مر جاتی ۔۔۔؟ “
وه اس وقت غصے کے زیر اثر تھی وگرنہ اسکی خمار زدہ نظروں اور پرحدت گرفت کے اثر سے نگاہیں تک اٹھانے کے قابل نہ رہتی ۔۔ ” تمہیں چاہتا ہوں اس وقت ۔۔۔ مکمل ، صرف تمہیں ۔۔۔!!! “
اس کے بہکےبہکے لہجے پر وه غزل نے حلق تر کیا اسے امید نہیں تھی کہ ایس پی یوں شدتیں لٹانے پر اتر آئے گا۔ وه نکاح کے بعد وقت دینے کی بات پر یقین نہیں رکھتا تھا، یہ دوریاں بے معنی تھیں ۔۔۔ اور وه بھی خوب سمجھتی اس رشتے کے تقاضوں کو ۔۔۔!!!!
” تم ۔۔۔ تم نے سگریٹ پیا ہے ۔۔۔؟ “
اپنی سانسوں میں سگریٹ کی مہک شامل ہونے کے احساس پر وه اچانک بولتی اسکی گرفت سے نکلی تھی۔ اس نے دوپٹے کی تلاش میں نگاہیں کمرے میں دوڑائی تھیں وه اسے زمین پر گرا نظر آ گیا۔ اس سے پہلے وه دوپٹے تک پہنچتی حیان نے جست میں اس تک پہنچتے اسے مظبوط کسرتی بانہوں میں اٹھایا تھا۔ سگریٹ والی بات نظر انداز کرتے اُس نے لبوں کو حرکت دی۔۔
” میرے سامنے تمہیں خود کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔!!! ” اسکے کان میں جھک کر سرگوشی کرتا وه بیڈ کی جانب بڑھا۔ نرمی سے اسے بیڈ پر بٹھاتے وه سیدھا ہوا تھا۔ مہرون کوٹ کو سٹینڈ پر لٹکاتے وه کبرڈ سے اسکا گفٹ نکالنے کے لیے آگے بڑھا۔ سفید جسم سے چپکی شرٹ میں اسکا کسرتی چوڑا وجود بےحد نمایاں ہورہا تھا جسے دیکھتے وه خود میں سمٹی تھی اسکی سرگوشی پر منتشر ہوئی دھڑکنیں معمول پر آنے سے گریزاں تھیں۔ وه پلٹ کر مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا اس کے سامنے آ بیٹھا۔ خوبصورت پیکنگ میں باكس کھولتے اس نے سونے کی پازیب باہر نکالی ۔۔
وه یک ٹک اسے دیکھے گئی جو اسکے پیر سے لھنگا ہٹا کر پنڈلی تک سرکاتا اسکے پیروں میں پازیب پہنانے لگا تھا۔ جھکے سر کے باعث اسکے گھنے سیاہ بال پیشانی پر بکھر گئے تھے۔ وه یک ٹک اسے دیکھے گئی جس کے ہر انداز میں عزت اور محبت جھلکنے لگی تھی۔
” میرے دل کی دہلیز پر اترنے والی پہلی عورت ہو تم ۔۔۔! تمہارے سوا کسی کو میں نے خاص نظر سے نہیں دیکھا ۔۔ تمہارا ماضی کیا تھا اس کی مجھے پروا نہیں ۔۔۔ فقط اتنا کہوں گا کہ ۔۔۔ ” پازیب کی ہک بند کرتے وه اسکا ہاتھ چہرے کے قریب لاتا مهندی کی خوشبو سانسوں میں اتارتا آنکھیں موندے دهیمی آواز میں کہہ رہا تھا جب اسکا ہاتھ آزاد کرتا دوسری ننھی چوکور ڈبی سے نوز پن نکالتا وه اس کے قریب ہوتا اس کی ناک سے نتھ اتارنے لگا جس پر وه بےساختہ آنکھیں موند گئی۔ نوز پن پہنا کر وه اس کی جھکی پلکوں کو قریب سے دیکھتا وہی دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔۔
” فقط اتنا کہوں گا کہ تم وفادار رہنا ،،، میں تابعدار رہوں گا ۔۔۔!!! ” الفاظ سماعتوں میں اترتے اس لڑکی کو سحر زدہ کر گئے تھے کب سنی تھی یہ سرگوشیاں ، یہ عزت و محبت کی چاشنی بھیگے رفتہ رفتہ دل کو موم کرتے الفاظ ۔۔۔!!!
” تم مجھے تاعمر وفادار پاؤ گے ،، ماضی کی تلخیاں سمیٹ کر محبت کے بدلے میں محبت لٹانے کا حوصلہ ہے غزل میں۔۔۔!!! “
وه آہستہ آہستہ اسکا زیور اتار رہا تھا۔ نیكلس کی ہک کھولتے وه افسوس سے نازک سی گردن پر نقش ہوئے چین کے نشان کو انگلی کی پور سے سہلانے لگا تھا۔ وه گم صم بیٹھی نظریں جھکائے ہوئے تھی دمکتی رنگت میں گلابیاں سے گھلنے لگی تھیں۔
اسکے سرخ ہوئے کانوں سے آویزے جدا کرتا وه سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسکی جانب پھر سے متوجہ ہوا۔ اسکے گالوں پر کھلتے گلال نے حیان شاہ کی دھڑکنوں کو پہلی بار منتشر کیا تھا۔ وه اس سے شرما رہی تھی یہ احساس ہی بہت دلکش تھا یعنی ۔۔۔ اسکا دل بھی جڑنے لگا تھا اسکے دل سے ۔۔۔؟
” تم نے کبھی چاہا کوئی تمہیں یوں چاہے ۔۔۔؟ تمہاری جھکی پلکوں کے سائے میں گھر کر جائے ۔۔۔؟ تمہاری شبنمی مسکراہٹ کی برسات میں بهیگ جائے ۔۔۔؟ تمہارے پنکھڑی سے لبوں کا جام پینے سے پہلے ہی ہوش کھو جائے ۔۔۔؟ تمہاری ان بل کھاتی زلفوں میں کو سنوارے ۔۔۔! تمیں محبتوں کا اک نیا جہاں دکھائے ۔۔۔؟ “
ایک ہاتھ کالر پر رکھ کر پہلا بٹن کھولتا وه دوسرے ہاتھ سے اسے آہستہ سے پیچھے دهكیلتا اس پر جھکتا سرگوشیاں کرتا جا رہا تھا ۔۔۔! وه نچلا لب دانتوں تلے دبائے آہستہ سے جھکتی بیڈ پر چت لیٹ گئی۔ وه اس سے کچھ فاصلے پر جھکا اسکے جواب کا منتظر تھا۔ اسکی ناک میں چمکتی لونگ کو انگلی کی پور سے چھوتا وه بےساختہ جھک کر اپنے لبوں سے چھو گیا۔
وه خود میں سمٹی تھی نظریں جھکائے اس نے نازک لبوں کو حرکت دی تھی جن کے خم پر چمکتا تل حیان شاہ کو پاگل کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔
” میری زندگی میں کوئی تھا ہی نہیں جو مجھے ایسی خواہشات کرنے کا حوصلہ بخشتا ۔۔۔!!! “
مدهم لہجے میں کہتی وه جھکی پلکیں اٹھا گئی ہری کانچ سی آنکھیں ایک پل کو کالی گہری آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔
” میں تمہیں پور پور محبت میں یوں بگھو دوں گا کہ ساری تشنگی مٹ جائے گی ۔۔۔! تم خود پر اتراؤ گی غزل ۔۔۔! حیان شاہ نے اپنا آپ فقط تمہارے لیے وقف کر دیا ہے ۔۔! “
وه ہولے سے مسکرائی تھی زندگی نے اگر بہتر چھینا تھا تو بہترین عطا کر دیا تھا۔ وه بےساختہ ہاتھ اٹھا کر اسکی بڑھی ہوئی داڑھی پر رکھ گئی۔۔
” میں محبت کے دعوے تو نہیں کر سکتی ہاں مگر ایک اقرار کر سکتی ہوں ۔۔۔! تم ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہو ۔۔۔!!! “
اس کی مونچھوں کے کنارے کو ٹریس کرتی وه شرمگیں مسکان لبوں پر سجاتی گالوں پر پلکوں کی جھالر گرا گئی۔ وه فدا ہوا تھا اس انداز پر ۔۔۔! محبوب کی ادائیں یوں ہی تو بےخود نہیں کرتیں ۔۔ کچھ تو ہے جو سیغہ راز میں ہے۔۔۔!
” میری خانی ۔۔۔!!! ” جھک کر وه اسکا گال نرمی سے چوم گیا۔ وہ اسکے گلے میں بانہیں ڈالے اپنا آپ اسکے حوالے کر گئی تھی جو اسے قطرہ قطرہ محبت کی بارش میں بھگو رہا تھا۔ اندر کا ماحول جذبات کی شدت سے مہک رہا تھا جبکہ باہر ۔۔۔۔ سرد قہر برساتی رات چاند کی ٹھنڈی چاندنی گراتی چہار سو پھیلے بدلیوں کے سرخ و سرمئی ٹکڑوں کو خود میں سمیٹتی جا رہی تھی۔
❤❤❤
ولیمے کا فنکشن بھی باخوبی انجام پا چکا تھا ایک تھکا دینے والے دن کے بعد رات بھی پنکھ لگا کر اڑتی اگلی صبح کو خوش آمدید کہنے لگی تھی لیکن عرش اب تک نہ لوٹا تھا۔ شاہوں کے بنگلے میں ماحول سنگین تھا ارشما لاؤنج کے چکر لگاتی اسے بار بار کال کر رہی تھی لیکن جواب موصول نہیں ہورہا تھا۔
اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے ماہ بیر نے نظر بچاتے بدر کو دیکھا جو خود بھی سینے پر ہاتھ باندھے دیوار سے کمر ٹکا کر کھڑا اسکی يقینی شامت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔
” السلام علیکم ۔۔۔!!! ” گلا کھنکارتا وه سلام کر کے اندر آیا اس نے عام سے انداز میں ان تینوں کو دیکھتے کمرے کی جانب قدم بڑھائے جب ارشما کو تیز آواز پر اسکے قدم تھمے۔۔
” کہاں سے آ رہے ہو تم ۔۔۔؟ “
وه اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی تیكهی نظروں سے اسے دیکھنے لگی اسکی شہد رنگ آنکھوں میں ایسا غصہ عرش نے پہلی بار دیکھا تھا۔
” کام تھا کچھ ۔۔۔!!! “
بےتاثر چہرے سے انہیں دیکھتا وه مختصر بولا تھا اسکی گہری آنکھیں سرخ ہورہی تھیں وه دو دن سے نہیں سویا تھا سر تھا کہ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ کمرے کی دھلیز میں کھڑی ایرا نے اسے تفکر سے دیکھا تھا۔
” کون کام ہیں تمہارے جو ختم نہیں ہوتے ۔۔؟ جواب دو ۔۔ فیملی سے زیادہ ضروری ہیں ۔۔؟ تمہاری بھائی کی شادی سے زیادہ ضروری تھے ۔۔۔؟ “
وہ اسکے ہمیشہ کے لاپرواہ انداز پر سلگ کر گویا ہوئی عرش نے لب بھینچے تھے۔
” ارشما آپ آرام سے بات کریں پلیز ہو سکتا واقعی ۔۔۔۔۔”
ماہ بیر نے ماحول کو ہلکا کرنا چاہا جب وه بیچ میں اسکی بات کاٹ گئی ۔۔
” آج آپ درمیان نہیں بولیں گے ماہبیر ۔۔۔! ہاں بولو تم جواب دو مجھے ۔۔۔!!! “
ماہ بیر کو ٹوکتی وه غصیلی نظروں سے عرش کو دیکھنے لگی ۔۔ ” جی یہ کام ہر چیز سے زیادہ ضروری تھا ۔۔۔!!! “
ڈھکا چھپا انداز البتہ لہجے میں غصہ ضبط کرنے کا تاثر تھا۔ وہ بےحد تھکا ہوا تھا ذہن پر بوجھ تھا مزید ارشما کا تلخ لہجہ اسکا دماغ خراب کر رہا تھا۔
اس کے اس جواب کو ارشما نے بدتمیزی جانا تھا زندگی میں پہلی بار اسکا ہاتھ اٹھا تھا اور پہلی بار عرش نے بےيقینی سے انہیں دیکھا تھا۔ ایرا نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا وه سرعت سے کمرے میں ہوئی تھی جبکہ بدر ٹیک چھوڑتا یکدم سیدھا ہوا۔
” ماما کام ڈاؤن پلیز ۔۔۔!!! “
آگے بڑھ کر ان کے کاندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالتا وه عرش سے نظروں میں منت کرنے لگا کہ وه خاموش رہے۔ ماہ بیر البتہ شاک سے ارشما کو دیکھ رہا تھا جو بےحد نرم طبیعت کی مالک تھی لیکن آج ۔۔۔ ! وه سرعت سے عرش کے قریب آیا تڑپ کر اس نے عرش کا سر چوما۔ اسکے اس بیٹے جیسا کوئی تھا ہی نہیں ۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔!!!
” یہ آپ نے کیا کیا ہے ارشما ۔۔۔؟ آپ جانتی بھی ہیں آپ نے زیادتی کی ہے ۔۔ آپ کو جاننا ہے نہ کہ وه کیوں اکثر گھر سے غائب رہتا ہے میں بتاتا ہوں آپ کو ۔۔۔!”
وه اب چپ نہ رہ سکا تھا عرش نے بےاختیار ان کا بازو تھام کر جیسے روکا تھا لیکن وه آج چپ رہتا تو بڑی زیادتی ہوتی ۔۔۔
” یہ آپ کا بیٹا جانتی ہیں کون ہے ۔۔۔؟ اینٹیلیجنس آفیسر ہے ۔۔۔! جو کام یہ کرتا ہے نہ اس پر اسے پلکوں پر بٹھانا چاہیے۔۔” اسکے لہجے میں فخر نمایاں ہوا تھا۔
“آپ نے اسے تھپڑ مار دیا ۔۔۔؟ اگر وه نہ جاتا تو جانے کتنی زندگیاں ضائع ہو جاتیں۔۔ بتائیں کیا اسکی شادی میں شرکت ان ہزاروں لوگوں کی زندگیوں سے زیادی ضروری تھی ۔۔۔؟ “
وه بغیر رکے کہتا جا رہا تھا۔ عرش سر جھکائے کسی مجرم کی طرح کھڑا تھا جیسے ماما کو اس مقام تک لانے کا ذمہ دار بھی وه خود تھا، ان کی نم آنکھیں اسے بےچین کر رہی تھیں۔ بدر حیرت بھری نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھ رہ تھا وه اسے کیوں جان نہ سکا ۔۔۔؟ شاید یہ وه مخصوص فاصلہ تھا جو اس نےسب سے بنا رکھا تھا۔
“آئی ایم سوری میرا بچہ ،،، ماما کو معاف کر دو ۔۔۔!!!”
وه آنسو بہاتی اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی ۔۔ عرش نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھامے تھے۔
” آپ مجھے کیسا بھی رکھیں ماما میں اف تک نہیں کروں گا ۔۔! ایک ماں باپ ہیں جن کے سامنے عرشمان کبھی اف نہیں کرے گا۔۔! آپ کے ہم پر بہت احسان ہیں آپ کا حق ہے مجھ سے بازپرس کرنے کا ، ہاتھ اٹھانے کا ۔۔۔!!! آپ کو میں کبھی روتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا ، یہ منظر مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ دکھ دے گا ۔۔۔!” انہیں ساتھ لگاتا وه انکا سر چوم کر دهیمے لہجے میں کہتا جا رہا تھا۔ ماہ بیر نے گہری سانس لیتے بدر کو دیکھا جو خود بھی دهیمے سے مسکرا دیا تھا۔
” ماما میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔!!! “
وه ان سے الگ ہوتا اجازت طلب نظروں سے دیکھنے لگا تو ارشما نے سر ہلایا۔۔
” ٹھیک ہے جاؤ ” ۔۔ وه اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جہاں اسکی چھوٹی سی بیوی بےچینی سے ٹہل رہی تھی۔ اسے دیکھے بھی تو کتنا وقت ہوچکا تھا۔ وه زیر لب مسکراتا کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔۔
” اور کسے معلوم تھی یہ بات ۔۔۔؟ “
اس کے جانے کے بعد وه شاکی نظر سے اپنے مزاجی خدا کو دیکھنے لگی ۔۔۔
” اہم ۔۔۔ یوسف کو ۔۔۔!!! “
وه لب دبا کر اسکے ناراض چہرے کو دیکھنے لگا۔۔ ارشما کی آنکھوں میں خفگی مزید نمایاں ہوئی ۔۔
” آج کس طرح آپ نے بات کی ہے مجھ سے اب دوبارہ کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔! “
اسے وارن کرتی وه پلٹ گئی تھی۔ بدر نے ہنسی چھپانے کی رخ موڑ لیا۔
” یار ۔۔۔ میں نے ایسا بھی کیا کر دیا ۔۔۔؟ “
ماہ بیر بدر کو دیکھ کر دانت پیستا لمبے ڈگ بھرتا اسکے پیچھے گیا تھا۔ بدر سیٹی کی دھن بجاتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا کیونکہ ابھی صبح کا وقت تھا تو يقینا وه جنگلی بلی سو رہی تھی۔۔ اسے تنگ کرنے کا ارادہ کرتے وه قدم بڑھا گیا۔۔ اس کی سرمئی آنکھوں کی چمک تیز ہوئی تھی۔۔
❤❤❤
کمرے کی دہلیز سے اندر قدم رکھتے ہی اسکی نگاہوں نے ایرا کو تلاشا جو بالکنی کے بند دروزاے کے سامنے کھڑی اس لی جانب پشت کئے ہوئے تھی۔ آہٹ پا کر وه پلٹی تھی۔
سنہرے دن کی چھن سے پڑتی روشنی اس کے چہرے کو واضح کر رہی تھی نیلی آنکھوں میں نرم تاثر لیے وه چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اسکی جانب بڑھنے لگی جو جیکٹ اتار کر صوفے پر رکھتا پیروں کو سفید جوگرز سے آزاد کر رہا تھا۔
زیب تن کیے سفید سویٹر کے بازو کہنیوں تک موڑ کر وه تھکن سے گردن دائیں بائیں گھماتا بیڈ کی جانب بڑھا۔ وه آہستہ سے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی جو بیڈ پر ٹانگیں نیچے لٹکائے بیٹھا جیب سے والٹ اور موبائل نکال رہا تھا۔ اسے سامنے پا کر وه ہاتھ روک کر سر اٹھاتا اسے دیکھنے لگا۔
سکائے بلیو شلوار قمیض میں نیٹ کا دوپٹہ سینے پر پھیلائے لمبے بھورے بالوں کی ریشمی چوٹی آگے کو ڈالے وہ اس کے مقابل کھڑی تھی۔ نیلی آنکھوں میں نرم گرم سا تاثر لیے وه جھکی تھی۔۔ اس کے پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہی اسے بخار کی حدت محسوس ہوئی تھی جو اس کے چہرے پر تفکر نمایاں کر گئی۔
” آپ کو تو بخار ہورہا ہے آپ لیٹ جائیں میں میڈیسن دیتی ہوں ۔۔۔!!! “
وه معصومیت سے اسے دیکھتی سیدھی ہوئی اس پر نظریں ٹکائے عرش بستر پر دراز ہوگیا اس کے جانے سے قبل ہی اس نے ایرا کی نازک کلائی تھامی تھی جس پر وه رکتی ایک نظر اپنی کلائی پر جبکہ دوسری نظر اس پر ڈالتی نیلی آنکھوں میں سوال لیے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔
” میں کھا چکا ہوں ۔۔۔ تم یہیں رہو ۔۔۔!!! “
نیند سے بوجھل آنکھیں لیے وه دهیمی آواز میں گویا ہوا تھا۔ وه سر ہلاتی مسکرا کر اس کے برابر بیٹھ گئی۔
” آپ ۔۔۔ سچ میں انٹیلیجنس آفیسر ہیں۔۔۔؟ “
وه اس کے گال پر نظریں جمائے ذہن میں کھلبلی مچاتے سوال کو زبان پر لے آئی۔
” ہمم ۔۔۔!!! ” نیند سے بوجھل بھاری لہجہ ۔۔۔!
” آپ کی جاب کیا ہے ۔۔؟ ” اگلا بےتکہ سوال ۔۔۔!
” شوہر کا خیال نہ رکھنے والی بیویوں کو سزا دیتا ہوں ۔۔۔!!! “
اس کے جواب پر وه سٹپٹا گئی پھر اسکے گال کو دیکھتی نرمی سے دو انگلیوں سے چھو گئی۔
” آپ کو تھپڑ پڑا ، مجھے اچھا نہیں لگا ، درد ہوا ہوگا نہ ۔۔۔؟ “
وه جھک کر اس کے گال کو نرمی سے چوم گئی۔ وه مسکرایا تھا اس کے اندازِ الفت پر ۔۔!
وه نیم دراز ہوئی تو عرش نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ اس کی نیم وا بوجھل سی آنکھیں سکون محسوس کرتے بند ہوئی تھیں۔ وه شرمگیں مسکان لبوں پر سجاتی اس کے گرد حصار قائم کر گئی۔ کیسا میٹھا احساس تھا جو وه اس وقت محسوس کر رہی تھی۔
” آپ کو پتہ ہے جب آپ کسی بچے کی طرح مجھ سے لپٹ جاتے ہیں تو مجھے آپ پر بہت پیار آتا ہے۔۔۔! “
اسکی بھاری ہوتی سانسوں سے اس کے سونے کا اندازہ کرتی وه سرگوشی کر گئی تھی اس بات سے بے خبر کہ ہلکی ہلکی سانسیں لیتے آنکھیں موندے پڑے عرش کے لب ذرا سے مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔
❤❤❤
” ٹھیک ہے سر ہم اب نکلتے ہیں ۔۔۔!!! “
چائے کا کپ میز پر رکھتے وه نرمی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ سفید پینٹ شرٹ پر ہلکا بھورا سویٹر پہنے جس کے گلے سے شرٹ کے کالر باہر نکالے ہوئے تھا وه ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا۔ وه رمل کو لینے آیا تھا کل وه یہاں ٹھہر گئی تھی ان کی رسم کے مطابق لیکن میر حاصل کو بہت کام کرنے ہوتے تھے اس لیے اس کے لئے رکنا ممکن نہ تھا۔
اس نے رمل کی جانب دیکھا تو وه ایک منٹ کہہ کر کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ اس نے جلدی سے پرس میں موبائل اور اپنے کچھ ضروری ڈاکومنٹس رکھے جن کی اسے بعد میں ضرورت پڑ سکتی تھی جاب سے پہلے ہی وه چار دن کی چھٹیوں پر رہ چکی تھی لہذا اب واپس کنٹینیو کرنے کا ارادہ تھا۔
اس نے یونہی سرسری نظر خود پر ڈالی۔ سفید رنگ کی شیفون کی شارٹ فراک اور كیپری میں سفید شال کندھوں پر پھیلائے کھلے سیاہ ریشمی بالوں میں وه بہت دلکش لگ رہی تھی۔ تنگ آستینوں کو ٹھیک کرتے وه پرس کا سٹریپ کندھے پر ڈالتی باہر آئی جہاں وه صالح سے بغل گیر ہورہا تھا ۔۔
” میری بیٹی کا خیال رکھنا ۔۔۔!!! “
صالح نے کہتے اسکا کندھا تهپتھپایا تھا جس پر میر نے سر کو خم دیا۔ ” خود سے زیادہ ان کا خیال رکھوں گا ۔۔۔!!! “
ایک مسکراتی نظر اپنی دلربا پر ڈال کر وه مشائم کے آگے سر جھکا گیا جس پر اس نے پیار سے اس کے سے پر ہاتھ رکھا۔
” خوش رہو ۔۔!!! ” میر کے دل میں بےساختہ ایک خیال آیا جو وه زبان پر لے آیا۔
” آپ بہت ینگ لگتی ہیں دل چاہ رہا تھا آپ کی تعریف میں کچھ کہوں لیکن سر کا خیال مجھے روک دیتا ہے ۔۔۔!!! “
صالح کو آنکھ بچا کر دیکھتا وه محظوظ سا مسکرا دیا۔ رمل نے اس کے انداز پر آنکھیں سکیڑی تھیں ۔۔
” بہت ہے برخوردار ۔۔۔! اپنی بیوی کی تعریف کرنے کا پرمٹ بس میرے پاس ہے ۔۔۔!!! “
نرم مگر جتاتا لہجہ تھا اسکی مشی تھی بس اسی کا حق تھا اسے سراہنے کا ۔۔ میر حاصل خوش دلی سے مسکراتا رمل کو آنے کا اشارہ کرتا لان کی طرف کھلنے والے دروازے سے باہر نکل گیا جہاں لمبی راہداری بیرونی دروازے سے ملتی تھی۔
” میں آپ دونوں کو بہت مس کروں گی ۔۔۔!!! “
وه اس کے جانے کے بعد ایک ساتھ دونوں کے گلے لگی تھی۔۔ آنکھوں کے سیاہ کانچ ذرا سے دھندلائے تھے جسے اس نے کمال مہارت سے چھپایا تھا۔
” میرا بچہ ہم بھی بہت مس کریں گے تمہیں ۔۔! روز بات ہوگی نہ ، تم پریشان مت ہونا ۔۔۔!!! “
رمل نے اسے خود میں بھینچا تھا جبکہ صالح نے اسکا سر چومتے اسکے گرد حصار باندھا تھا۔۔
” ارے بھئی کیوں پریشان ہوگی میری بیٹی بہت بہادر ہے اور اگر کوئی مسلہ ہوا بھی تو اس کا باپ ہے نہ ۔۔۔؟ پلک جھپكنے سے پہلے پہنچے گا ۔۔۔! “
وه پورے دل سے مسکراتی ان سے الگ ہوئی۔۔ “میں چلتی ہوں میر ویٹ کر رہا ہوگا۔۔! “
اجازت لیتی وه باہر چلی آئی بیرونی دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی وه سفید کار کے ساتھ کمر ٹکائے کھڑا نظر آ گیا۔ سنہری دھوپ کی نرم گرم سی کرنوں کے حصار میں کھڑا وه شاہزادہ لگ رہا تھا۔ شہد رنگ آنکھوں کی چمک ہر چیز کو ماند کرتی معلوم ہو رہی تھی۔ وه سینے پر ہاتھ باندھتی اس کے پاس چلی آئی ۔۔
” ابراھیم اور زنیشہ سے مل لیں ۔۔؟ کچھ دیر ہی لگے گی بس ۔۔۔!!”
وه دونوں اس وقت شاہ ہاؤس کے لان میں جمی محفل کا حصہ بنے ہوئے تھے رمل بھی جا رہی تھی کہ میر لینے آ گیا۔ اب وه چاہ رہی تھیں ان سے مل آئے اسی بہانے باقی سب کو بھی گڈ بائے کہہ پائے گی ۔۔! میر نے سر کو خم دیا ۔۔
” کیا میں آپ کو انکار کر سکتا ہوں ۔۔۔؟ “
گمبھیر لہجے میں کہتا وه سیدھا ہوا تو رمل نے مسکراہٹ دبائی وه اب قدرے بہتر محسوس کر رہی تھی پہلی رات اسکی موجودگی میں جس قدر وه نروس ہوئی تھی اس لحاظ صد قدرے بہتر تھی شاید اپنوں میں آ کر اسکا اعتماد واپس لوٹ آیا تھا ہاں اپنا تو اب وه بھی تھا لیکن اپنائیت کے اس راستے کچھ مسافت طے کرنی تھی۔
وه اس کے ساتھ سامنے بنے بنگلے کے بڑے سے گیٹ سے اندر داخل ہوئی جہاں موجود چوکیدار نے ان دونوں کو سلام کیا تھا۔ وہ اسے جواب دیتے سیدھا لان میں چلے آئے جہاں عجب سماں بندها نظر آ رہا تھا۔ لان کے بیچوں بیچ سنہری دھوپ کے بلکل نیچے قالین بچھا کر اس پر گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے جن سے کمر ٹکا کر آرام دہ حالت میں بیٹھے وه سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
ان کے سامنے چائے کی کیتلی کے ساتھ بڑی سی ڈش میں سنیکس رکھے تھے۔ لان کی فضا میں گھلی گلاب اور موتیے کی مہک اور ایسے سرد موسم میں اچانک سے ابھر آتے سورج کی نرم گرم سی کرنیں جو جسم کے ساتھ روح تک کو تراوت بخش رہی تھیں۔
” واہ خوب مزے ہورہے ہیں ۔۔۔! “
وه میر کے ساتھ چلتی ان کے قریب ٹھہر گئی۔ ” ارے ماشاءالله بڑے لوگ آئے ہیں ۔۔!”
ابراھیم کے ساتھ بیٹھی ہلکے گلابی کیپری شرٹ میں شال اچھی طرح پھیلائے زنیشہ اٹھنے لگی تو میر نے بےساختہ اسے روکا تھا۔
” ارے پلیز آپ بیٹھی رہیں ۔۔۔!!! “
رمل نے بھی اسکی تاكید کرتے زنیشہ کو آگے بڑھ کر واپس بٹھا دیا۔ وه خوش دلی سے اس کے گلے لگی تھی۔
” ارے کیا ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو ۔۔؟ آؤ بیٹھو آپ بھی آ جائیں میر ۔۔ ابراھیم ان کو بولیں نا ۔۔۔! “
اس نے گرے سویٹر شرٹ میں ملبوس ابراھیم کو ساتھ ملانا چاہا۔ ” آؤ میر بیٹھو ۔۔۔! رمل آ جاؤ ، اتنی جلدی تھوڑی جانیں دیں گے ۔۔! ” ۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر میر کو بازو سے تھامتے ساتھ بیٹھنے کی جگہ دی تو وه ایک پل کو سوچتا بیٹھ گیا۔
حیان کے ساتھ بیٹھی غزل نے کیتلی سے چائے کپ میں انڈیلتے ساتھ سنیکس حیان کو تھمائے جس نے ابراھیم کی طرف بڑھائے۔ میر نے تکلفات پرے کرتے چائے کا کپ تھام لیا۔ رمل بھی ارشیہ بدر کے ساتھ بیٹھ چکی تھی جو نوک جھونک کرنے میں لگے تھے۔
” اوہو میچنگ ۔۔۔! ابھی سے ۔۔۔؟ “
رمل نے چائے کا گھونٹ بھرتے حیان کو چھیڑا جس پر وه مسکرا دیا۔ اس نے اور غزل نے سیاہ رنگ کے کپڑے زیب تن کر رکھے تھے حیان سیاہ ٹرٹل نیک سویٹر اور پینٹ میں کسی ایکشن مووی کا مغرور سا ہیرو لگ رہا تھا ایسی ہی کلر لکس تھیں اسکی اور جب وه کالی آنکھیں سکیڑتا تھا تو غضب ڈھاتا تھا۔ وہیں غزل نے سیاہ سردیوں کے سٹف کی سٹائلش سی گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ كیپری پہن رکھی تھی۔ شال کی بجائے اس نے سیاہ تنگ بازو کا سویٹر پہن کر دوپٹہ ایک طرف ڈالتے مہرون بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنا رکھا تھا۔
” ہمیں چھوڑو اپنا بتاؤ ایک ہی رات میں کیا جادو کر دیا شوہر صاحب نے ۔۔۔؟ “
وه بےدھڑک لاپرواہ انداز میں بولا تو رمل کے منہ سے چائے نکلتے نکلتے بچی وہیں میر نے دلچسپی سے اسے دیکھا تھا۔ بدر کا قہقہہ بلند ہوا تھا وہیں ارشیہ نے اسکی پشت پر ہاتھ جڑتے اسے گھورتے مسکراہٹ دبائی تھی۔ زنیشہ نے حیان کو گھورا جو کندھے اچکاتا مسکرا دیا۔
” تم چھوڑو اسے یہ بتاؤ میر کیسا لگا تمہیں ۔۔؟ “
زنیشہ کے دھیمے لہجے میں کہنے پر رمل نرمی سے مسکراتی اس سے باتوں میں مشغول ھوگئی۔ کچھ وقت بعد میر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
” اب چلتے ہیں مجھے کچھ کام ہے ۔۔۔! ” باقی سب اٹھ کر ان دونوں سے بغل گیر ہوئے پھر وه دونوں اندر جا کر سلام کرتے واپسی کے لیے نکل گئے۔
❤❤❤
سفید کمرے میں چہار سو موتیے کے پھولوں کی بهینی بهینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مہک سفید ڈریسنگ ٹیبل پر دھرے گجروں سے اٹھ رہی تھی جو کچھ دیر پہلے تک رمل کی کلائی کی زینت بنے ہوئے تھے۔ باتھ روم کا سفید دروازہ کھلا تھا۔ سفید باتھ روب میں وه گیلے بال تولیے میں لپیٹے باہر نکلی۔
اسکی دودھیا پنڈلیاں نمایاں ہو رہی تھیں۔ میر کسی کام سے گیا تھا اس لیے وه قدرے ریلیکس تھی۔ بند دروازے پر نگاہ ڈالتے وه بالکنی کے دروازے کے سامنے آ کھڑی ہوئی جس کے پار دیدہ زیب منظر نگاہوں کو خود پر ساکت کر دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حد نگاہ تک نظر آتے اونچے درخت جن کے زرد پتے عجیب طرح سے نگاہوں کو خود سے باندھ دیتے تھے۔
اطراف میں جلتی روشنیاں دهند کے باعث مدهم سی نظر آتی تھیں۔ وه باہر کا منظر دیکھتی گہری سانس خارج کرتی الٹے قدموں پیچھے ہٹی اس نے ہاتھ بلند کرتے زور دار انگڑائی لی جسے آہستہ سے اندر داخل ہوتے میر نے گہری نظروں سے دیکھا تھا۔
وه اس وقت بلیک تھری پیس میں ملبوس تھا جس کا کوٹ اتار کر اس نے بیڈ پر پھینکا۔ وه فورا پلٹی تھی اسے کمرے میں پا کر اسکا چہرہ سرخ پڑا ۔ چہرہ واپس سیدھا کرتی وه وارڈروب کی جانب بڑھی اسکی گہری نظریں اسے اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔
اس سے پہلے وه وارڈروب کھولتی وه اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا اس نے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ پر اپنا مظبوط ہاتھ رکھ دیا۔ وه سانس روکے وہیں جم گئی ہمت نہ تھی کہ ایک قدم بھی پیچھے لیتی ورنہ اس کے چوڑے کسرتی سینے سے ٹکرا جانا يقینی تھا۔
” میر مجھے چینج کرنا ہے ابھی ، پلیز ۔۔! “
وه ایک ہی سانس میں بول گئی۔ وه ایک پل کو سوچتا پیچھے ہٹا۔
” اوکے پھر یہیں سے کنٹینیو کریں گے ۔۔۔! “
وه اسے پیچھے ہٹتا محسوس کر کے وارڈ روب سے ٹی شرٹ ٹراؤزر نکال کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔ وه سویٹر اتارتا خود بھی چینج کرنے چلا گیا۔ جب باہر آیا تو وه گیلے بالوں کو تولیے سے آزاد کرتی بیڈ کی دوسری سائیڈ پڑے موبائل کو اٹھانے بڑھی تھی۔ وه اچانک رکی اس نے اسے اپنے بےحد قریب محسوس کیا تھا۔
” تمہیں ناک کر کے آنا چاہیے تھا ۔۔! “
اس کے بازو کمر کے گرد محسوس کرتی وه خود کو نارمل رکھتی بولی تھی۔
” تم نہیں ۔۔۔ آپ کہا کریں مجھے ، بولیں ‘ آپ ‘ ۔۔۔!!!”
اس کے کاندھے پر ٹھوڑی ٹکاتا وه مدھم لہجے میں بولا تھا۔
” نہ بولوں تو ۔۔؟ ” اس کے سینے سے لگی وه پورے اعتماد سے بولی تھی جس پر وه مسکراتا جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف کر گیا۔ رمل کی نظر بےساختہ اس کے گال میں ابھرتے ڈمپل پر ٹھہر گئی۔
” میں بلوا لوں گا ۔۔!! “
اسکے جتاتے انداز پر وه اس کی گرفت سے نکلتی بال جھٹک کر پلٹی ۔۔
” دیکھتی ہوں کیسے ۔۔۔! ” اس کا جملہ منہ میں ہی تھا جب میر نے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔
” کچھ بھی کر لیں لیکن آئندہ میرے منہ پر گیلے بال مت جھٹکنا ۔۔! “
سر جھکا کر وه اسے دیکھتا گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔
” کیوں ۔۔۔؟ ” وه حیرت سے اسے دیکھنے لگی اسے اس بات کی منطق سمجھ نہیں آئی تھی۔
” جذبات جاگ جاتے ہیں ۔۔! ” مدھم لہجے میں کہتا وه اسکی جانب قدم بڑھانے لگا۔
” میر۔۔۔ گو ، آوے ۔۔! ” وه گھبراتی جلدی سے کہتی نظریں جھکا گئی۔
” ابھی نہیں ۔۔۔ پلیز ، آئی وانا فیل یو ۔۔۔! “
وه آہستہ سے اسے سینے سے لگاتا اس کی گیلی زلفوں میں چہرہ چھپا گیا۔ وه اس کے سینے سے لگی بےساختہ آنکھیں موند گئی۔ لبوں پر شرمگیں مسکراہٹ سجاتے وه آہستہ سے ہاتھ اس کے گرد باندھتی اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔۔