No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
کھڑکیاں بجنے کی آواز پر وہ کسمسائی تھی۔ کروٹ بدل کر وہ پھر سے گہری نیند میں چلی گئی۔۔
باہر چلتی طوفانی ہوا کسی اور طوفان کی آمد سے آگاہی بخش رہی تھی!
خاموش کمرے میں ہلکی سی بتی جل رہی تھی جس میں مشکل سے ہاتھ کو ہاتھ سجھائی دیتا تھا۔ وہ اپنے کشادہ بیڈ پر کمفرٹر اوڑھے سمٹ کر سو رہی تھی۔۔
باہر سے آتی ٹھنڈی ہوا کے باعث اسے ہلکی ہلکی ٹھنڈ محسوس ہونے لگی تھی۔ سیاہ ریشمی بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
بالوں کی آبشاری لٹوں سے شیمپو کی دهیمی دهیمی مہک سی اٹھ رہی تھی۔ ہر وقت تنے تیکھےنقوش سوتے میں معصوم لگ رہے تھے۔۔
پردے زور سے پھرپھرائے۔۔ اس کی گھنی پلکیں لرزیں۔۔ پھر یکا یک زور سے کھڑکی کے پت بند ہو کر کھلے۔۔
اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں سیاہ غزالی آنکھوں میں نیند کا خمار تھا۔۔ ادھ کھلی آنکھوں سے اس نے کھڑکی کی جانب دیکھا۔۔
ابھی رات کو تو وہ بند کر کے سوئی تھی پھر یہ۔۔؟ سر جھٹکتی وہ اٹھ بیٹھی۔۔ سیاہ گھنے بال دونوں شانوں پر بکھر گئے۔۔
اس کے حواس بحال ہونے لگے تو اس کی سماعتوں سے ایک آواز ٹکرائی۔ مسلسل ہوتی وائیبریشن کی آواز!!
اس نے چونک کر موبائل تھاما جو تکیے کے پاس پڑا تھا۔ “آدھی رات کو کون فون کر رہا ہے؟”
الجھ کر اس نے موبائل تھاما۔ سڑسٹھ میسڈ کالز! اس کی پیشانی پر بل پڑے۔ اس نے جلدی سے کال بیک کی جو اس کے ٹیم ممبر نے کی تھیں!!
“ہیلو ہاں کیا ہوا اس وقت اتنی کالز کیں خیریت ہے؟؟” رابطہ جڑتے ہی وہ جلدی سے بولی۔۔ دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جس سے وہ الجھ کر اٹھی۔۔
اس نے دیوار پر نصب ایل سی ڈی آن کر کے مطلوبہ نیوز چینل لگایا۔ ہیڈ لائن دیکھ کر اس کا رنگ فق ہوا۔۔
سکرین پر واضح الفاظ میں لکھا تھا۔۔
“رمل یوسف جو کہ صحافت کے حلقے کا جانا مانا نام ہیں ان کی نازیبا حرکات کرتے ویڈیو وائیرل ہوئی ہے!!”
ساتھ ہی سکرین پر دهندلی سی ویڈیو چل رہی تھی جس میں شکل واضح نہیں تھی لیکن پشت سے وہ ہوبہو رمل لگ رہی تھی۔۔
رپورٹر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔۔
“یہ ہے ان کااصل چہرہ دوسروں کو ایکسپوز کرتے کرتے خود ایکسپوز ہوگئی ہیں! عوام کو فلاح کا سبق پڑھانے والی کس طرح اخلاق سے گری حرکتیں کرتی منظر عام پر آ گئی ہیں ان کے ماسک کے پیچھے چھپا اصلی چہرہ آج ۔۔۔۔”
وہ مزید نہ سن سکی!! اس نے جلدی سے بند کر دیا۔۔ کانپتے ہاتھوں سے کال کاٹ کر وہ بیڈ پر آ بیٹھی۔۔ ہمیشہ مضبوط دکھنے والی رمل آج ٹوٹنے لگی تھی!
حلق تر کرتے اس نے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کیا کسی کی آواز کانوں میں گونجی تھی!
“آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے گی!!!”
کس طرح نخوت سے اس نے کہا تھا۔۔ “کبھی نہیں!!”
گہری سانس کھینچتی وہ اس کے کال اٹھانے کا انتظار کرنے لگی۔
🍂🍂🍂
وہ بیڈ پر اوندها لیٹا سو رہا تھا۔ کسرتی جسم شرٹ کی قید سے آزاد تھا۔ سرد ٹھٹھرتی رات کے سناٹے میں اس کے قریب آواز بلند ہوئی۔۔
بیپ بیپ کی آواز نے کمرے میں قائم گہرے سکوت کا گلا گھونٹا تھا۔ مندی آنکھیں کھول کر اس نے ہاتھ سے ٹٹولا۔ اوندھے لیٹے، بغیر دیکھے اس نے کال ریسیو کر کے فون کان سے لگا لیا۔۔
رمل کی بھیگی آواز سن کر وہ آنکھیں مل کر کھولتا اٹھ بیٹھا۔۔
“رمل ۔۔۔ آپ ٹھیک ہیں؟؟”
اس کے خوبرو چہرے پر تفکر نمایاں ہوا تھا۔۔ لب بھینچ کر وہ اٹھا۔۔ اس کے کان میں پہنا ڈائمنڈ ٹاپس چمکا تھا۔۔!
ٹی وی پر جو خبر اسے دیکھنے کو ملی اس نے میر حاصل کا دماغ بھک سے اڑا دیا۔۔ اس کا چہرہ از حد سرخ ہوا تھا۔ جبڑے بھینچتے اس نے دوبارہ فون کان سے لگایا۔۔
“میں کچھ دیر تک بات کرتا ہوں!!”
بے تاثر لہجے میں کہتا وہ کال کاٹ گیا۔۔ شہد رنگ آنکھوں کا رنگ گہرا ہوا تھا۔۔ گردن کو دائیں بائیں جھٹکتے اس نے سائیڈ ڈرار کھول کر سگریٹ نکالا۔۔
سگریٹ سلگاتے اس نے موبائل پر ایک نمبر تلاشا۔ آنکھیں سکیڑتے وہ فون کان سے لگا گیا۔۔
“کون بول رہا ہے؟”
سپیکر سے سوئی سوئی مردانہ آواز ابھری۔ میر کی پیشانی پر بے انتہا بل پڑے!
“تیرا باپ بول رہا ہوں!!!”
سگریٹ کا دهواں چھوڑتے وہ داڑھا تھا۔ اتنی ٹھنڈ میں بغیر شرٹ کے وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا اس کے اندر اس وقت آگ لگی تھی کسی کو بھی بهسم کر کے رکھ دینے والی آگ۔۔۔!
شاید اس لیے باہر کا سرد ٹھٹھرتا موسم اس پر اثر نہیں کر رہا تھا۔۔
“ایک منٹ میں ہر نیوز چینل سوشل سائیٹس۔۔ ‘ہر جگہ’ سے رمل یوسف کی وائیرل ویڈیو ہٹ جانی چاہیے!! کیسے کرنا ہے یہ تم بہتر جانتے ہو۔۔ اور جس نے یہ ویڈیو لیک کی ہے وہ کل دوپہر تک زندہ ہونا چاہیے بس!
اس سے اعتراف کرواؤ کہ اس نے بدلے کے لیے کیا ہے یہ! پھر اس کو اسکی “آخری آرام گاہ” میں بھیج دو۔ کیا کرے گا وہ اس ظالم دنیا میں رہ کر! سمجھ گئے نہ؟”
درشتگی سے کہہ کر کال کاٹتا آخر میں وہ مسکرایا۔۔ وہ مسکان دلکش نہیں تھی۔۔ خطرناک تھی خوفزدہ کر دینے والی۔۔۔!
میر حاصل کو انہوں نے سمجھا کیا ہے۔ اب میں بتاؤں گا یہ چند دن کا نیا “وزیراعظم” پرانے کھلاڑیوں کو کیسے گیم سے نکال باہر کرتا ہے!!
‘میر حاصل’ کس بلا کا نام ہے سب جان جائیں گے!!!”
🍂🍂🍂
ٹھیک ایک منٹ بعد ہر جگہ سے ویڈیو ہٹ چکی تھی۔ رمل نے موبائل پر نظریں جمائیں جہاں میر کا میسج چمک رہا تھا۔۔
احساس تشکر سے اس کی سیاہ آنکھیں نم ہوئیں۔
شکریہ کا مختصر پیغام بھیج کر اس نے ٹائیپ کیا۔۔
“کیا ہم مل سکتے ہیں؟”
گال پر پهسلتے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی وہ دھندلائی نظروں سے سکرین کو دیکھنے لگی جہاں فوراً اس کا جواب چمکا تھا۔۔
“کیا آپ کو پوچھنے کی ضرورت ہے؟؟” ۔۔
وہ چند پل خاموشی سے دیکھتی رہی پھر موبائل بیڈ پر پھینک کر پیروں میں چپل اڑستی باہر نکل آئی۔ ایک ہلکی سی شال اس نے اپنے گرد لپیٹ رکھی تھی۔ کھلے سیاہ بالوں کی جوڑے میں لپیٹتی وہ لان میں چلی آئی۔۔
تیزی سے گرتی دهند میں وہ کسی کا عکس تلاش رہی تھی۔ سیاہ آنکھوں کے کانچ نم و سرخ تھے۔۔
یہ رمل کی آنکھیں نہیں تھیں۔ یہ بھیگی آنکھیں، غمزدہ چہرہ رمل کا نہیں تھا یہ تو صالح یوسف کی بیٹی کا تھا۔۔
“بابا؟؟” ۔۔۔۔
آسمان میں دور کہیں کھوئی وہ سرگوشی میں بولی۔ آنکھوں کا دامن چھوڑ کر آنسو گال پر لڑھکا تھا۔۔
“کیا آپ مجھے دیکھ رہے ہیں؟ آئی مس یو سو مچ، آئی نیڈ یو!!”
سسکتی ہوئی وہ سرد ہوا سے سرگوشیاں کرنے لگی۔
“رمل؟؟” ۔۔
مشائم کی پریشان آواز پر وہ اپنی جگہ فریز ہوئی۔ مڑنے کی سکت نہ تھی وہ کسی کے سامنے نہیں روتی تھی اپنی ماما کے سامنے تو بلکل نہیں۔۔
وہ بابا کے بعد اپنی ماما کا “بہادر بیٹا” تھی اپنے بابا کا فخر۔۔۔!!
“تم رو رہی ہو؟”
اس کے مقابل آتی وہ اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔ سرد ٹھٹھرتی رات میں دهند کی چادر میں لپٹیں وہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑیں بت بنی تھیں۔۔
خاموش ساکت مجسمہ!! لیکن کچھ تو پگھل رہا تھا شاید ان کے احساسات۔۔۔!
وہ بغیر ایک لفظ کہے مشی کے گلے لگی تھی۔ اس کے ہچکیاں بھرتے وجود کو تهپکتی وہ خاموش کھڑی تھی۔ چند لمحوں بعد وہ اس کا ہاتھ تھامے لاؤنج میں آ گئی۔ ہیٹر آن کر کے وہ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئیں۔۔۔
“کیا ہوا ہے رمل؟؟”
اس کے بال سنوارتی وہ نرمی سے بولی البتہ بھوری گہری آنکھوں میں تفكر کی پرچھائیاں تھیں۔۔ رمل نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا مختصراً اسے گزرے قیامت خیز لمحات بتا کر وہ خاموش ہوگئی۔۔
مشائم کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔
“اللّه غارت کرے ان کو!!” ۔۔۔۔ اس کے دل سے بددعا نکلی۔۔ ایک ماں کے دل سے نکلی بددعا رد ہوئی ہے کبھی؟؟
رمل اس کی گود میں سر رکھ کر صوفے پر ہی لیٹ گئی۔
“ماما ۔۔ بابا یاد آ رہے ہیں!!!”
بھیگی آواز میں کہتی وہ چہرہ اس کی گود میں چھپا گئی۔ اس کے بالوں میں چلتا مشائم کا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔۔
سینے میں درد سا اٹھا تھا۔ رات کے اس پہر کیا کچھ نہ یاد آیا تھا۔۔
“آپ تو مجھے پاگل کر رہی ہیں!!”
اس کا بھاری دهیما سا لہجہ سماعت میں گونجنے لگا تھا۔ اس نے تو عشق کی انتہا کردی تھی اس شخص پر! جس کے ساتھ کو زندگی بھر محسوس کرنا تھا وہ چلا گیا تھا۔۔
بیچ راہ میں تنہا چھوڑ کر۔۔ دل کو اس کی یادیں روز ٹکڑے ٹکڑے کرتی تھیں۔۔
“یوسف آپ کی مشی مر رہی ہے ہر پل ہر روز !!”
اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی وہ آنکھیں موند گئی۔
🍂🍂🍂
انگڑائی لے کر وہ اٹھ بیٹھا۔ رات کو وہ دیر سے تھانے سے لوٹا تھا۔۔”نور مقدم” کا کیس بہت مظبوط تھا وہ آج کل اسی پر کام کر رہا تھا۔۔
اس بار اسے ضرور سزا ملے گی اس نے خود سے عہد کر رکھا تھا۔۔
“قانون کی عدالت میں نہ سہی۔۔! ایس پی حیان شاہ کی اپنی عدالت تھی جہاں جج، گواہ، جلاد سب کچھ وہ خود تھا!!”
اس کی داڑھی مونچھیں پہلے سے بڑھ چکی تھیں جو اس کے رعب اور دبدبے میں بے حد اضافہ کرتی تھیں۔ ماتھے پر گری لٹ کو اس نے پیچھے کیا پھر اٹھ کر شاور لینے چلا گیا۔
جب وہ واپس آیا تو پولیس کی خاکی وردی میں تھا۔ شرٹ کے آدھی آستینوں سے کسرتی پھولے بازو نمایاں ہو رہے تھے۔ موبائل کی ٹون بجنے پر وہ ہموار قدم لیتا بیڈ تک آیا۔۔
“میجر ابراھیم کالنگ” دیکھ کر اس نے فورا کال اٹینڈ کی۔
“ہیلو ۔۔”
اس نے ابھی کہا ہی تھا جب دوسری جانب وہ گرجا۔۔
“میری بہن کا دیهان رکھو حیان۔۔ تم سب کے پاس چھوڑ کر گیا تھا میں اسے۔ تین تین بھائیوں کے ہوتے بھی “شی واز اِن میس” ۔۔
اگر اسے کچھ ہوا تو آگ لگا دوں گا میں سب کو!!!”
بھاری سرد لہجے میں کہتا وہ کال کاٹ چکا تھا۔ حیان کا دماغ کھٹکا۔۔
لب سختی سے بھینچ کر وہ والٹ اور كیز اٹھاتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر آیا اور بغیر کسی کی جانب دیکھے گھر کی دہلیز پار کر گیا۔۔
اسے یوں باہر جاتا دیکھ کر ماہ بیر ناشتہ چھوڑ کر پریشانی سے اس کے پیچھے لپکا۔۔
🍂🍂🍂
ایک ہفتے بعد۔۔۔
پیروں میں ڈبل ساکس پہنتی وہ بلینکٹ سے باہر نکلی۔۔ ٹھنڈ محسوس کرتے اس نے جھرجهری لی۔۔
“ابراھیم؟ یہاں کچھ زیادہ ہی ٹھنڈ نہیں!!”
لانگ گرے سویٹر کی لمبی آستینوں میں ہاتھ چھپاتی وہ جھرجهری لے کر بولی۔ وہ کل ہی واپس آئے تھے۔۔
سب کے والہانہ پیار پر وہ اندر تک سرشار ہوگئی تھی۔ یہی سب تو وہ مس کررہی تھی۔۔
ابراھیم نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے اسے دیکھا۔۔ دوپٹے سے بےنیاز ڈھیلے ٹراؤزر شرٹ پر لانگ سویٹر میں اس کا نازک سراپا نمایاں تھا۔۔
“یو وانٹ ہییٹ؟؟”
سر کے نیچے دونوں بازو رکھتا وہ گھمبیر آواز میں بولا۔ اس کا آنچ دیتا لب و لہجہ محسوس کرتے زنیشہ کا چہرہ گلابی ہوا۔۔ دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھیں۔۔
“نو!! میں ایسے ہی ٹھیک ہوں! آپ کو شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے؟؟”
وہ شہد رنگ آنکھیں سکیرتی معصومیت سے بولی۔۔
ابراھیم نے لب دبائے۔۔۔
“کسی باتیں؟ میں نے ایسا ویسا کچھ نہیں کہا۔ تم ویسا کیوں سمجھی؟”
مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا وہ شرٹ نکالنے لگا۔۔
زنیشہ کی آنکھیں پھیلیں وہ سرعت سے پلٹی ۔۔
“یہ ۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ اکیلے نہیں ہیں روم میں۔۔”
دل کے مقام پر ہاتھ رکھتی وہ تیز ہوتی دھڑکنوں پر پریشان ہوئی۔۔
کانوں سے جیسے دهواں نکلنے لگا تھا ابراھیم کو اس طرح دیکھنے کا خیال بھی اسے شرم سے پاگل کر رہا تھا جبکہ وہ شرٹ نکال کر آرام سے بلینکٹ اوڑھتا اس کی پشت پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔۔
سیاہ گہری نظریں اس کے شہد رنگ سلکی بالوں سے پهسلتی کمر پر ٹھہریں۔۔ دهیما سا مسکرا کر وہ آنکھیں موند گیا۔۔
خاموشی محسوس کرکے وہ پلٹی۔ اسے آنکھیں موند کر مسکراتا دیکھ کر آنکھیں سكیڑتی واپس اپنی جگہ آ بیٹھی۔ بلینکٹ سینے تک کھینچ کر اس نے مشکوک نظروں سے ابراھیم کو دیکھا۔۔
پیشانی کے بل غائب ہوجاتے تھے اس کی موجودگی میں! بھری بھری سیاہ داڑھی مونچھوں کو دیکھ کر انہیں چھونے کی خواہش ہوئی تھی۔۔
یکایک ابراھیم نے آنکھیں کھول کر کروٹ اس کی طرف لی۔۔ زنیشہ سٹپٹا گئی وہ آنکھیں زور سے میچے آگے ہوئی اور بلینکٹ سے اس کے جسم کو ڈھانپ دیا۔۔
“ایسے نہیں کرتے نہ۔۔ گندے بچے ہوتے ہیں!!”
مطمئن ہوتی وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔ اس کی آنکھیں چپکے چپکے ابراھیم کے خوبرو چہرے کو حفظ کر رہی تھیں۔۔
“شرٹ اتارنے سے بچے “گندے” ہوتے ہیں؟؟”
اس کے بے دھڑک کہنے پر وہ شرم سے ڈوب مڑنے کو ہوئی۔ اس کا چہرہ دیکھ کر ابراھیم سر پیچھے پهینکتا دل کشی سے ہنس پڑا۔۔
وہ اپنی خفت بھلائے بے خود سی اسے دیکھے گئی۔۔ سمجھ نہیں آتی تھی اس کی مسکراتی آنکھوں کو دیکھے، مغرور ناک کے قریب چمکتے تل کو یا ہر چیز کی چمک ماند کرتی اس مسکراہٹ کو۔۔!
“کیا ہوا؟”
اس کی گہری کھوئی سی نظروں کے ارتکاز پر وہ ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اس کے گال کو چھو گیا۔۔
وہ اس کے لمس پر ایک پل کو آنکھیں موند گئی۔۔
“آپ۔۔بہت پیارا ہنستے ہیں!!”
تکیے پر سر رکھتی وہ معصوم اقرار کر گئی۔۔
“پہلے بھی تو یوں ہنستا تھا!!”
مدهم بھاری لہجے میں کہا گیا۔۔ وہ نظریں جھکا گئی کمرے میں بنتا ماحول اس کی سانسوں پر بھاری پڑنے لگا تھا۔۔
“پہلے اس نظر سے دیکھا کب تھا!!”
ہلکی آواز میں کہتی وہ كروٹ بدل گئی ابراھیم کے لب آپ ہی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔
“تو تمہیں میں اچھا لگنے لگا ہوں اب۔۔ یعنی اس نظر سے!!!”
🍂🍂🍂
