Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

چکاچوند چہار سو روشنیوں میں گھرے ہال میں ایک لمحے کو سکوت چھایا تھا سب حاضرین وسیع اسٹیج پر ڈائس کے پیچھے کھڑے مائک پر جھکے ہوسٹ کے منہ سے نکلنے والے اگلے الفاظ سننے کے لیے بیتاب تھے۔
” اینڈ بیسٹ میل ماڈل ایوارڈ آف دا ایئر گوز ٹو ۔۔۔۔۔ ایز الویز مائی فیورٹ عرشمان شاہ ۔۔۔!!! “
ہوسٹ کا کہنا تھا کہ ہال تالیوں اور زبردست شور کی آواز سے گونج اٹھا۔ عرشمان شاہ کے فینز چیخ چیخ کر اظہارِ مسرت کر رہے تھے…
آج پھر ایوارڈ سرمنی میں ماڈلز نے لوگوں کو عرشمان شاہ کے نام پر پاگل ہوتے دیکھا تھا۔
کچھ آنکھوں میں رشک جبکہ بہت سی آنکھوں میں حسد کی آگ جل رہی تھی۔ آخر کیا تھا ایسا اس میں جو دنیا پاگل تھی اسکے پیچھے۔۔۔؟
بلیک تھری پیس میں حشر سامانياں بکھیرتا وه اپنے ازلی ” نو لفٹ ” اور “گو ٹو ہیل ” ایٹیٹیوڈ کے ساتھ اٹھتا سٹیج کی جانب بڑھا۔
بائیں طرح براجمان لوگوں کو اسکی ابرو میں لگا ترچھا کٹ باندھے ہوئے تھا تو دائیں جانب بیٹھے لوگوں کو کان میں چمکتا سیاہ چاند سا ٹاپس جو اسکے تیكهے مغرور نقوش سمیت عجیب سی جازبيت بخشتا تھا۔
اسکا سٹائل منفرد تھا سب سے ، وه خود بھی اپنے نام کا ایک تھا ایسی دلکشی اور مسحور کردینے والی شخصیت مزید اسکا خواتین سے گریز ۔۔۔! بلاشبہ وه اس قابل تھا کہ اسکی خواہش کی جائے۔
انتہائی قیمتی ایوارڈ تھامتا وه مائک پر جھکا تھا۔ سب دم سادھے اسکے بولنے کے منتظر تھے وه بہت کم بولا کرتا تھا۔
” تھینک یو ۔۔۔! آئی اچیوڈ بكاذ آئی ڈیزروڈ ، اہمم ۔۔۔ ایک بات کہنا چاہتا ہوں ، کسی نے کہا تھا عرشمان شاہ کے سر سے برینڈذ کا سایہ ہٹ جائے تو اسے کوئی پوچھے بھی نہ ۔۔۔! تو میرا جواب یہ ہے کہ ” عرشمان شاہ خود ایک برینڈ ہے اسے کسی کے نام کی ضرورت نہیں ۔۔۔! “
ازلی مغرور انداز میں کہتا وه سٹیج سے اتر گیا۔ سب کی نظریں اسکے ساتھ سفر کررہی تھیں جبکہ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ وه متاثر تھے اس سے اور وه ۔۔
جانتا تھا اسے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا آتا تھا، وه باہر ملنے والے عام لوگوں سے نرمی سے پیش آتا تھا جبکہ عیش و عشرت کا ڈھیر اٹھائے اانا کے خول میں لپٹے لوگوں کو جوتی کی نوک پر رکھتا تھا…
اسی لیے وه عرشمان شاہ تھا۔ ایوارڈ ریسیو کر کے وه وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اسکے جانے سے جیسے سجی محفل کا چارم ختم ہوگیا تھا۔
❤❤❤
نیوی بلیو ڈھیلے سویٹر ٹراؤزر میں سیاہ شال کاندھوں کے گرد لپیٹے وه کمرے سے نکلتی سیڑھیاں اترنے لگی۔ سیاہ ریشمی بال ڈھیلے جوڑے میں مقید گردن پر پڑے تھے جن سے نکلتیں ریشمی چمکدار لٹیں چہرے کے اطراف میں لاپرواہ اندز میں بکھری پڑی تھیں۔
سینے پر ہاتھ لپیٹتی وه سر جھکائے سیڑھیاں اترتی ماربل کے چمکتے فرش پر اتر آئی۔ اسکا چہرہ بجھا سا تھا اس نے ایک پل کو سوچا کوئی کام جو رہ گیا ہو۔۔۔؟
اس نے نفی میں سر ہلایا این جی او کا سارا کام وه کر چکی تھی، آرٹیکلز بھی پروف ریڈ کر چکی تھی صبح سے شام ہو چکی تھی مگر وه اب تک نہیں آیا تھا۔ فون اس کا بند مل رہا تھا آخر اسے بتانا تو چاہیے تھا کہ اسے دیر ہوجائے گی ۔۔
” آخر میں کیوں اسکا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔؟ “
خفگی سے سوچتی وه سر جھٹک کر لان میں چلی آئی جہاں ملگجا اندھیرا چھانے لگا تھا ہلکی گرتی دهند کے باعث لان کے پیڑ پودے دهندلے نظر آتے تھے جبکہ پھولوں کی مہک وہیں تھی۔
گہری سانس کھینچتی وه آگے بڑھنے لگی لان میں آہٹ محسوس کرتے کسی کام سے جاتا یاور کچھ سوچ کر اسکی طرح چلا آیا۔
قدموں کی چاپ پر رمل نے سر اٹھا کر دیکھا تو وه پشت پر ہاتھ باندھے گرے تھری پیس میں بےتاثر چہرے کے ساتھ اسکے سامنے تھا۔
” آپ کو کچھ چاہیے ۔۔؟ “
وہی روبوٹک انداز ۔ رمل نے اداس نظروں سے اسے دیکھا پھر سر جھٹکتی دور سایہ دار درختوں کو دیکھنے لگی۔
” صرف تنہائی ۔۔۔! “
مختصر جواب دیا گیا۔ یاور چند لمحے اسکے بجھے چہرے کو دیکھتا رہا پھر سر اٹھا کر سرد اندھیر ہوتے آسمان کو دیکھا۔
” ٹھنڈ بہت ہے آپ اندر چلی جائیں ۔۔۔! “
اسکا لہجہ محتاط تھا۔ رمل نے ایک بےتاثر نظر اس پر ڈالی جس پر وه سر ہلاتا الٹے قدموں واپس ہو لیا۔
ماحول واپس تنہا ہوچکا تھا اسکے دل کی اداسی بڑھتی جارہی تھی اسے یہ رات بھی اپنی طرح اداس لگی تھی۔
اس کی سوچوں پر بندھ حیان کی فون کال نے باندھا تھا۔ کال ریسیو کرتے اس نے فون کان سے لگایا۔
” وعلیکم السلام ۔۔! ہمم ٹھیک ہوں ۔۔۔! “
وه حتی الامکان لہجہ تر و تازہ رکھتی بولی تھی۔ سپیکر سے آواز ابھری ۔
” پھر آ رہی ہو تم ۔۔؟ سب انتظار کر رہے ہوں گے ، میں بھی بس ابھی پولیس سٹیشن سے نکلا ہوں ۔۔۔! “
وه دوستانہ انداز میں بولا تھا جس پر وه لب کاٹنے لگی۔
” نہیں ، میں کچھ مصروف ہوں آج نہیں آ سکتی ۔۔۔! “
لان کی سیڑھیوں پر بیٹھتی وه نارمل لہجے میں انکار کر گئی۔ حیان ایک لمحے کو چپ ہوا تھا پھر گہری سانس لے کر کہنے لگا۔
” اگر تم کہتی ہو تو میں لینے آ جاتا ہوں مصروفیت تو چلتی رہتی ہے۔۔؟ “
اسکے پیچھے گاڑیوں کی آوازیں آ رہی تھیں یوں لگتا تھا وه ساتھ ڈرائیو کر رہا تھا۔
” نہیں میں پھر کبھی آ جاؤں گی کام بھی ضروری ہے ۔۔! “
ناخن سے فرش رگڑتی وه لہجہ ہشاش بشاش بناتی بولی لیکن وه بھی اپنے نام کا ایک تھا۔
” یار بس کرو ، جیسے میں تمہیں جانتا نہیں ، کیوں اداس ہو؟ “
وه اسے ڈپٹ کر بولا تو وه بےساختہ ہنس دی۔ اس بندے سے وه کچھ نہیں چھپا سکتی۔
” ابھی تک آفیسر کی روح گھسی ہوئی ہے تم میں ، اسے باہر نکال کر گھر جانا ورنہ بیوی سے جوتے پڑیں گے بار بار کی تفتیش پر ۔۔ خیر تم پریشان نہ ہو ، بابا کی وجہ سے اداس ہوں بس ۔۔۔! “
وه اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ دوسری جانب گہری سانس بھرنے کی آواز آئی۔
” بیوی کی بھی کیا خوب کہی پکی پٹھانی گلے پڑی ہے مجھے لگتا ہے پشتو سیکھنی پڑے گی۔ خیر تم اداس مت ہو صالح انکل آ جائیں گے چند دن تک اب فرض بھی تو ضروری ہے اور ابراھیم بھی ساتھ ہے ان کے فکر والی کوئی بات نہیں اور ہاں اگر موڈ بدل جائے تو کال کر دینا ، میں آ جاؤں گا میڈم رمل میر حاصل ۔۔!”
اسکے آخری الفاظ پر وه مسکرا دی پھر اس بدتمیز کی غفلت یاد آئی تو چہرہ یوں ہوگیا جیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔
” ہاں اوکے ، ضرور ۔۔ چلو پھر بات ہوتی ہے سب کو سلام دینا میرا ۔۔ اوکے بائے !”
کال بند ہوتے وه واپس پہلے سے موڈ میں آ گئی۔ اندر جانے کا من نہ ہوا تو وه لان میں چہل قدمی کرنے لگی۔
❤❤❤
پیشانی پر گری لٹ انگلیوں کی مدد سے پیچھے کر کے سیاہ گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وه اندرونی دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔ توقع کے مطابق ٹی وی لاؤنج سے سب کی خوش گپیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
وه اندر جانے کی بجائے کچن کی جانب چلا آیا جہاں ایرا چولہے پر جھکی آنچ ہلکی کر رہی تھی۔
چائے تقریباً تیار تھی وه پلٹی تو حیان کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر مسکرائی۔ پولیس کی خاکی وردی میں سیاہ لیدر کی جیکٹ پہنے وه کچھ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔
” رمل آپی سے ہوئی بات آپ کی۔۔؟
ان کا فون بند جارہا ہے !”
وه سلیب پر بیٹھا تو ایرا نے پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھایا جسے شکریہ کہتے اس نے تھام لیا۔
” ہاں ہوئی تھی ، وه مصروف ہے کچھ اس لیے نہیں آئے گی۔۔! “
خالی گلاس اسے تھماتا وه اٹھ کھڑا ہوا۔ ایرا کا منہ لٹک گیا منہ بناتی وه ٹرے میں کپ سیٹ کرنے لگی۔ حیان نے آگے ہوتے اسکے بال بگاڑے ۔
” کوئی نہیں چھوٹی ، پھر مل لینا ، موڈ ٹھیک کرو ۔۔! “
اسکے سر پر چپت لگاتا وه اسکا منہ غبارہ بنتا دیکھ کر پیچھے ہٹتا ہنس دیا۔
” حیاننن بھائیی ۔۔۔۔ سارے بال خراب کر دیے ، ارے یاد آیا بابا آپ کا پوچھ رہے تھے آپ مل لیں، میں بس چائے لا رہی ہوں ۔۔۔! “
شروع میں جھنجھلا کر کہتی آخر میں سر پر ہاتھ مارتی بولی تو وه نفی میں سر ہلا کر مسکراتا پلٹا۔
اسکی نگاہیں ساکت ہوئی تھیں اسے دیکھ کر جو چوکھٹ میں کھڑی تھی۔ سیاہ شلوار قمیض میں سینے پر دوپٹہ پھیلائے وه مومی مجسمہ لگ رہی تھی۔میدے جیسی رنگت دمک رہی تھی کچھ تو بدلا تھا اس میں ۔۔
ہاں اسکے بال جو کرلی تھے مگر اب انہیں سٹریٹ کیا گیا تھا، گھٹنوں تک جاتے مہرون بال سیدھے ہو کر اور بھی لمبے دکھنے لگے تھے۔ ان کی چمک آنکھوں کو اپنے ساتھ باندھ رہی تھی۔
گالوں پر گلابياں بكهیرے پہلے سے گلابی لبوں کو مزید گلال کیے وه اتنی حسین لگ رہی تھی کہ حیان کو اس پر سے نظریں ہٹانا دنیا کا سب سے مشکل امر لگا تھا۔
وه اسکی نظروں پر شرماتی سر جھکا گئی تو ناک میں پہنی نوز پن چمکی۔ اسکی اس ادا نے حیان شاہ کو گهایل کیا تھا۔ اس نے لب وا کئے پھر بھینچ لیے۔
یکایک اسکے تاثرات بدلے تھے، نگاہوں کی نرمی کی جگہ ہلکے سے غصے نے لے لی۔ وه اس پر سے نظریں ہٹاتا اسے ایک طرف کرتا کچن سے باہر چلا گیا۔
اسکے پل پل بدلتے رویے پر وه ہونق بنی کھڑی رہ گئی پھر تنک کر اسکی پشت کو دیکھا۔
” بدتمیز ۔۔۔!” بڑبڑا کر وه کچن میں آئی۔
” کیا کہہ رہا تھا وه ۔۔۔؟ ” ایرا کی مدد كرواتی وه سرسری انداز میں پوچھنے لگی۔
” کچھ خاص نہیں ، میں رمل آپی کا پوچھ رہی تھی ان سے ۔۔! “
کپوں میں چائے انڈیلتی وه نرمی سے مسکرائی تو غزل نے بھی مسکرا کر سر ہلایا پھر کچھ یاد آنے پر اسکا رخ اپنی جانب کرتی کہنے لگی۔
” تمہیں پتہ ہے عرش کہاں ہے اس وقت ؟ “
اسکی آنکھوں میں کچھ تھا، کچھ خاص! جیسے وه کچھ جانتی تھی۔
” اررے آپی ، ان کو ایوارڈ ملا ہے، مجھے کیا ہوگیا ہے میں نے بتایا ہی نہیں کسی کو ، مجھے ارشیہ آپی نے بتایا تھا۔ اف مجھے بہت خوشی ہورہی ہے ۔۔۔! “
غزل کے ہاتھ تھامتی وه آنکھیں میچتی پرجوش سی بولی۔ غزل نے اسکی معصومیت پر افسوس سے سر ہلایا۔
” تم بہت معصوم ہو یار ۔۔۔ وه ایک انٹیلیجنس آفیسر ہے، ان فضول چیزوں پر وقت ضائع نہیں کرتا، وه اپنا کام کررہا ہے، تمہیں یاد ہے تم نے کہا تھا لوگوں کو ہدایت کیوں نہیں ملتی، تب کچھ تھا تمہارے ذہن میں ۔۔۔ بس اسی کام کو انجام پہنچانے گیا ہے۔۔! تمہاری دوست اور دوسری بہت سی لڑکیوں کو انصاف ضرور ملے گا۔۔! “
پیار سے اسکا گال تهپتھپاتی وه اسے ساتھ لیے چائے اور سنیکس کی ڈش پکڑے کچن سے باہر نکلی۔ ایرا کو خون کی گردش تیز ہوتی محسوس ہوئی۔
دل میں خوشی کا احساس جاگا تھا وه عرش کی واپسی کے لیے بہت بےچین ہوئی تھی۔ ان کے لاؤنج پہنچنے سے پہلے ہی ارشما ان کے پاس چلی آئی۔
” بیٹا حیان کا موڈ کیوں آف ہے؟ سلام کر کے وه کمرے میں چلا گیا۔۔۔!”
وه غزل کو دیکھتی تفکر سے بولی تو وه ایک پل کو بوکھلا گئی پھر سنبهل کر بولی۔
” ماما جانی ان کے سر میں درد ہے میں بس چائے لے کر جا رہی ہوں ۔۔۔! “
اسکے معصومیت سے کہنے پر ارشما مسکرا دی اسے غزل پر بہت پیار آیا تھا وه لگ بھی اتنی پیاری رہی تھی۔ آگے بڑھتے اس نے غزل کی پیشانی چوم لی جس پر وه بےساختہ مسکرا دی۔
” میری بیٹی بہت پیاری لگ رہی ہے ، اللّه تم دونوں کو خوش رکھے۔۔!”
اسے دعا دیتی وه پلٹ کر واپس چلی گئی۔ ایرا نے دانت نکالتے اسے دیکھا۔
“اوہو ۔۔ سب کو بڑا پیار آ رہا ہے آپ پر اب ذرا اپنے شوہر صاحب کو دیکھیں جا کر ہوسکتا وه بھی کچھ مظاہرے کر دیں ۔۔!”
اسے چھیڑتی وه قدم آگے بڑھا گئی۔ غزل نے اپنے سرخ ہوتے گال تهپتھپائے۔
” آخر میں کیوں شرما رہی ہوں ۔۔؟”
ایک ادا سے بال جھٹکتی وه اسکے پیچھے چلی آئی۔
چائے سرو کر کے ایرا زنیشہ کے پاس چلی آئی جو صوفے پر لیٹی قلقاریاں بھرتی اپنی جان کے ساتھ مصروف تھی۔
ابرش نے ننھے ہاتھ میں زنیشہ کی انگلی جکڑ رکھی تھی جسے دیکھتی ایرا بےساختہ جھک کر اسکا گال چوم گئی۔
” ابش کا کر رہی ہے، میلا بےبی ماما شات کھیل لا ہے۔۔؟”
اس نے چٹا چٹ اسکے گلابی پھولے گال چومتے اسے گود میں اٹھا لیا۔
” میری دوسری پرنسز کہاں ہے آپی ؟ “
اس نے شبرہ کے بارے میں پوچھا تو زنیشہ ، ابرش کا منہ رومال سے صاف کرتی کہنے لگی۔۔
” وہ سوگئی تھی تو نگہت اسے کمرے میں لے گئی۔ نوشین بھی ساتھ ہے، بہت پیار کرتی ہیں وه ان دونوں سے ۔۔! “
وه محبت سے اپنی کل کائنات کو دیکھتی اسے بتانے لگی۔ بچوں کی پیدائش کے بعد بھی وه پہلے کی طرح ہی دبلی تھی مگر پہلے سے زیادہ حسین دکھتی تھی، چہرے پر مامتا کا نور پھوٹتا تھا جیسے۔ ایرا اسے دیکھتی مسکرا پڑی۔
“یہ ہیں ہی اتنی پالی کہ سب کو پیار آتا ہے ، ہیں نا ابش ۔۔۔؟ “
وه اسکی ننھی ناک پر انگلی رکھتی پیار سے بولی تو ابرش آنکھیں بند کرتی انگڑائی لینے لگی۔
” چلیں جی اس کے بھی سونے کا وقت ہوگیا ہے، یہ لیں آپی میں شبرہ کو دیکھ کر آتی ہوں۔۔! “
ابرش کو زنیشہ کی گود میں لٹاتی وه لہکتی ہوئی لاؤنج سے منسلک سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ کچھ فاصلے پر فور سٹر صوفے پر بیٹھی وه تینوں چائے کے کپ تھامے اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر خوش ہورہی تھیں۔
” ماشاءالله ، اللّه ہمارے بچوں کو ہر بری نظر سے بچائے ! “
مشی نے ساتھ براجمان اینارا اور ارشما کو دیکھتے کہا تو اینارا نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
” آمین آپی ، ہم سب کی محبت ہمیشہ ایسی ہی رہے ، ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہیں، بچوں کی آپس میں شادی کا فیصلہ بہت اچھا تھا اس طرح ہمارا رشتہ اور بھی مظبوط ہوگیا ہے۔۔!”
ارشما نے خوش دلی سے اسکی حمایت کی۔
” ارشما ، بدر ارشیہ کب تک آ رہے ہیں ؟ “
مشی نے ہاتھ میں پکڑا کپ ٹیبل پر رکھتے کہا۔
” کل تک آ جائے گا، بتا رہا تھا انہیں پراجیکٹ مل گیا ہے، محنت بھی بہت کرتے ہیں دونوں، ہمیشہ کامیاب ہوں ۔۔۔!”
کچھ دیر وه یونہی ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں پھر ڈرائنگ روم میں بیٹھے اورهان اور ماہ بیر کی طرف چلی گئیں جو سیاست پر گفتگو کر رہے تھے۔
❤❤❤
کمرے میں آتے اس نے کمر پر ہاتھ ٹکاتے حیان کو دیکھا جو بغیر چینج کیے ہی بیڈ پر اوندها لیٹا تھا۔ پیر شوز سے آزاد تھے جبکہ جیکٹ قالین پر گری پڑی تھی۔
” یہ کیا حرکت ہے؟ منہ کیوں سوجھا ہوا ہے ماما جانی بھی پوچھ رہی تھیں۔۔!”
جھک کر جیکٹ اٹھاتی وه اسکے قریب کھڑی ہوتی پوچھنے لگی۔ وه لیٹے سے اٹھ بیٹھا خفا نظر اس پر ڈالتے اس نے غزل کی کلائی زور سے جکڑتے اسے اپنی جانب کھینچا۔
” بالوں کو کس کو اجازت سے چھیڑا تم نے۔۔۔؟ “
اسے سامنے کرتا وه پیشانی پر بل ڈالے بولا تھا۔ وه حیرت سے اسے دیکھنے لگی ، تو یہ وجہ تھی اس کی خفگی کی۔۔؟
اسکا دوپٹہ نیچے سرک گیا تو وه اپنی کلائی آزاد کرواتی تیكهی نظروں سے اسے دیکھتی دوپٹہ کاندھے پر پھیلانے لگی۔
” انتہائی بدتمیز ہو تم ۔۔۔ تمہارے لیے کیا میں نے یہ سب ۔۔ مگر تم ۔۔ دور ہٹو۔۔! “
اس کے سینے پر پنچ مارتی وه غصے سے کہتی جانے لگی جب حیان نے اسکی دونوں کلائیاں مظبوط گرفت میں لیتے اسے بیڈ پر جھٹکے سے لٹایا۔
اسکے ہاتھ بلند کرتا وه اس پر سایہ کر گیا جو جنگلی بلی بنی اسکا منہ نوچنے کے در پہ ہوئی تھی۔
” ہاتھ چھوڑو میرے پھر بتاتی ہوں تمہیں ایس پی ۔۔! “
کلائیاں چھڑوانے کی کوشش کرتی وه دانت پیس کر بولی اسکی ہری آنکھوں میں خفگی سی خفگی تھی۔
حیان نے ایک ہاتھ سے اسکی کلائیاں جکڑتے دوسرے سے رکاوٹ ڈالتا دوپٹہ اس سے جدا کر دیا۔ وه خفت زدہ ہوئی تھی مگر پھر بھی غصے سے اسے دیکھتی رہی۔
” خفا مجھے ہونا چاہئے مگر تم ہو رہی ہو، غصہ کس بات پر آ رہا ہے تمہیں؟ کہ میں نے تمہیں سراہا نہیں ہممم ۔۔۔؟”
اسکے چہرے پر پھونک مارتا وه بھاری لہجے میں بولا اسکی سیاہ آنکھیں ہلکی ہلکی سرخ ہورہی تھیں تھکن کے باعث ۔۔۔!
” مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں تم ایک بار میرے ہاتھ چھوڑو میں ۔۔۔ “
اسکی بات مکمل ہونے سے قبل وه اسکے لبوں پر دہکتے لب رکھ گیا، ساری خفگی کہیں دور جا سوئی تھی۔
غزل کو لگا اب وه سانس نہیں لے پائے گی تب جا کر حیان نے اسکے لبوں کو آزادی بخشی۔وه آنکھیں موندے گہری سانسیں لینے لگی جب وه اسکے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کرنے لگا۔
” کس کے لیے سنگهار کیا تم نے ۔۔۔۔؟”
وه پھر سے سننا چاہتا تھا اسکی دھیمی بھاری آواز غزل کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔
چہرے پر اسکی داڑھی کی چبھن محسوس کرتی وه کسمسا کر چہرہ دوسری جانب کر گئی جس سے اسکی شفاف گردن حیان کے سامنے آ گئی اسکی آنکھیں خمار زدہ ہوئی تھیں۔۔
” تمہارے لیے ۔۔۔!”
وه کہتی لب دبا گئی۔ گهنی مونچھوں تلے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
” خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔!”
اسکے کان میں دهیمی آواز میں کہتا وه اسکا گال چوم گیا۔
وه مسکراہٹ دباتی ہاتھ چھڑوانے لگی تو وه بھی سر جھٹکتا اٹھ بیٹھا۔ غزل نے سرعت سے دوپٹہ اٹھاتے سینے پر پھیلا لیا جانے کیوں اسے شرم محسوس ہورہی تھی اس سے۔
” تم نے چینج نہیں کیا ۔۔؟”
خیال آنے پر وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ حیان نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
” کسی نے کروایا ہی نہیں۔۔۔!”
اسکے بےباکی سے کہنے پر وه سٹپٹاتی بیڈ سے اٹھ گئی اس کے لیے چائے لینے کی غرض سے وه باہر جانے لگی جب ایک دم جھکتی اسکا گال چوم گئی۔
” چینج کرو میں چائے لا رہی ہوں ۔۔۔! “
بال کان کے پیچھے اڑستی وه بغیر اسے دیکھے کمرے سے نکل گئی۔
وه گال کو انگلیوں سے چھوتا سر جھکائے ہولے سے ہنس دیا۔ اسکی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ نرم گرم جذبات محسوس کرتا وه بالوں میں ہاتھ پھیرتا چینج کرنے کی غرض سے اٹھ گیا