My Kharoos Mister By Mirha Khan Readelle50253 Episode 35 ( part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35 ( part 1)
( ایک سال بعد ۔۔۔۔۔۔۔ )
” لاؤ نیں لاؤ مینوں شگناں دی مهندی۔۔۔!!! “
نارنجی چنٹ کے دوپٹے کو ایک انداز سے گھماتی وہ سنک کی ٹونٹی کھولے شوخ ادا سے گنگنا رہی تھی جب بشیر نے سلیب پر بڑے دیگچے رکھتے آنکھیں چھوٹی کرتے اسے گھورا تھا۔
وه آہستہ آہستہ اسکے ساتھ آ کھڑا ہوا سر ترچھا کرتے اس نے اس کی آواز کی نقل کرنی شروع کردی۔
” لاؤ جی لاؤ اینوں دو کلو مهندی ۔۔۔او وی بوتھی تے۔۔۔!!!”
شروع میں گنگناتے اس نے آخری الفاظ چبا کر ادا کیے۔
” مہارانی یہاں سروں کا نیست مارنے میں لگی ہے۔۔! کچھ خیال بھی ہے تمہیں شادی والا گھر ہے سو کام ہیں پر نہیں جی “نون سے نوشین” کو “ش سے شوخیاں ” مارنے کی پڑی ہے بس ۔۔۔! “
اسکے موڈ کا ستیاناس کر کے وه ہاتھ میں پکڑا رومال جھٹک کر کاندھے پر ڈالتا بڑبڑاتا ہوا کچن سے باہر چلا گیا۔
” ٹٹ مرنا کہیں کا ۔۔۔! ہنہ جلتا ہے شودا مجھ سے ۔۔!! اب یہ اِنّا سوہنا سوٹ ڈال کر نوشی کام کرتی اچھی لگے گی کیا۔۔؟”
ا
س نے ایک شوخ نگاہ اپنے نئے سلک کے نارنجی شلوار قمیض پر ڈالی جسکے گلے پر شیشوں کا کام تھا۔ وه اس سوٹ کو زیب تن کیے خیالات کے جہاں میں تتلی بنی اڑ رہی تھی جب باہر سے ارشما کی آواز آئی ۔۔۔
“نوشین ۔۔۔۔؟”
نوشین نے زبان دانتوں تلے دباتے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
“مر گئی اوئے ۔۔۔! آئی بی بی جی ۔۔۔!!!”
خود کلامی کرتی وه آخر میں بلند آواز سے کہتی باہر کو بھاگی تھی۔۔
❤❤❤❤
شاہوں اور یوسفز کے آمنے سامنے بنے بنگلے رات میں بھی دن کا سماں پیدا کر رہے تھے کچھ ایسے ہی روشنیوں میں نہائے وه رنگ و بو میں سمائے تھے۔
یوسفز کے ہاں برقی قمقموں اور پھولوں سے مزین وسیع و عریض لان میں سامنے کی اوڑھ بلندی پر بڑا سا تختہ نصب تھا دیوار پر جس پر واضح الفاظ میں ” رمل ویڈز میر” کندھا کیا گیا تھا الفاظ یوں چمک رہے تھے جیسے ان میں سے روشنیاں پھوٹ رہی ہوں۔۔!
بلکل اسی انداز میں شاہوں کے بنگلے میں بھی لان رنگ و روشنیوں میں نہایا تھا۔۔ مہمانوں کا تانتا بندها تھا لان میں داخل ہوتے ہی ایک چوکور سے بورڈ پر نظر ٹھہرتی تھی جسے ایک سٹینڈ کے اوپر لگایا گیا تھا بورڈ پر سنہری روشنی سے دل بنا تھا جس کے بیچوں بیچ ” حیان ویڈز غزل ” جگمگا رہا تھا۔
مہمانوں کی کثرت کے باعث طے یہ پایا تھا کہ کھانا وغیرہ یوسفز کے بنگلے میں کیا جائے گا جبکہ دیگر رسومات شاہوں کے بنگلے میں کیونکہ یہاں کا لان زیادہ وسیع تھا۔
سامنے والے بنگلے میں جھانکو تو سیاہ کڑھائی والے کرتا شلوار میں ہمیشہ کی طرح ہینڈسم صالح یوسف کار کا دروازه کھول کر باہر نکلا تھا عین اسی وقت پچھلی سیٹوں سے غزل اور رمل چادر لپیٹے باہر نکلیں ۔۔
خوبصورت لهنگوں میں وه اس وقت پارلر سے تیار ہو کر آئی تھیں۔۔ صالح راستہ بناتے انہیں اندر لے گیا۔۔
چونکہ فنکشن کمبائین تھا اور غزل کی جانب سے کوئی تھا نہیں اس لیے مشائم نے خود جا کے اسے کنونس کیا تھا کہ وه بھی اسکی بیٹی کی طرح ہے اس لیے اسے رمل کی طرح وداع کرنا چاہتی ہے۔۔ اسکی اتنی محبت کے سامنے بےبس وه انکار نہ کرپائی تھی۔۔
وہیں میر حاصل کو کچھ مناسب نہ لگا تھا ان کے ہاں آنا ، اسکی اپنی گیدرنگ تھی سو لوگوں کو مدعو کرنا تھا لہٰذا اسکی رائے کو اہمیت دیتے بڑوں میں طے پایا کہ ہال میں مهندی کا فنکشن تھوڑی دیر کے لیے کیا جائے…
یوں کہ میر حاصل اپنے مہمانوں سے ان سب کو متعارف کروا سکے یوں بھی وه اپنے قریبی لوگوں کو بس ہال لے جانے والے تھے بعد میں وہاں سے فراغت پا کر وه اپنے گھروں میں طے شدہ پروگرام پر عمل کرتے۔۔
تھا تو یہ پروگرام کافی وقت طلب لیکن ان موقعوں پر دیر سویر تو ہوہی جاتی ہے۔۔! دلہنوں کے آتے ہی پروگرام کے مطابق چند لوگ ہال کے لیے روانہ ہوگئے جہاں میر حاصل ان کا انتظار کر رہا تھا۔۔
❤❤❤❤
پستہ رنگ ٹشو کی شلوار قمیض میں پھولا دوپٹہ ایک کاندھے پر ڈالے بالوں کا سائیڈ جوڑا بنائے وه آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
بھاری جھمکوں سے اس کے کان دکھنے لگے تھے اس لیے وه انہیں اتار کر ہلکے سے سنہری ٹاپس پہن رہی تھی۔
جلدی سے اس کام سے فارغ ہوتے وه کمرے سے باہر جانے کو پلٹی جب اچانک اسکے قدم تھمے تھے۔
” یوسف آپ یہاں ۔۔۔؟ میں بس آ ہی رہی تھی۔۔۔!!!”
اسکے سامنے آ ٹھہرتی وه نرمی سے بولی تھی وه اس کے مکھ پر نگاہیں ٹکائے لب دبائے کھڑا تھا۔
سیاہ کرتا شلوار میں پیشانی پر بال بكهیرے یوں تکتے وه اس قدر پیارا لگا کہ مشائم کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔
” کوئی سادگی میں بھی اتنا حسین کیسے لگ سکتا ہے ۔۔۔!!!”
اسے جھٹکے سے ساتھ لگاتے وه سر جھکائے مدھم لہجے میں بولا تھا۔ مشائم کا سانس اٹکا تھا مہمانوں سے گھر بھرا پڑا تھا اگر کوئی آ جاتا۔۔۔!
” کیا کر رہے ہیں ۔۔ یوسف !! باہر سب ہماری راہ تک رہے ہوں گے۔۔!”
وه اسے آنکھیں دکھاتی بولی تھی اسکی تنگ ہوتی گرفت پر حیا کی لالی اس کے چہرے پر بکھرنے لگی تھی وه آج بھی اتنا ہی رومانوی تھی اور وه اتنی ہی دلکش جسے اسکی قربت پر حیا آتی تھی۔
” ہاہ ۔۔۔ ہم تو بس آپ کی راہ تک رہے ہیں لیکن آپ ہیں کہ ذمانے کی پڑی ہے۔۔!”
دھیمی آواز میں کہتا وه اس پر جھکنے لگا جب اس نے مسکراہٹ دباتے اسکے سینے پر مکا مارا ۔۔۔۔
” شرم کر لیں کچھ، بیٹی کی مهندی ہے آج اور آپ ہیں کہ اس وقت بھی رومانس سوجھ رہا ہے۔۔!”
اسکے مسکراہٹ دبا کر کہنے پر وه سینے پر ہاتھ دھرے ایک قدم پیچھے ہوئے تھا۔
“اف ۔۔!!! مار دیا ان ظالم اداؤں نے۔۔!”
اسکے مکا مارنے پر وه آنکھ مار کر بولا تھا۔۔
” چلیں بھی اب ۔۔۔! اس بات کا جواب بعد میں دوں گی ۔۔۔! ” آنکھیں سكیرتی وه اسکا بازو تھام کر باہر چل دی ۔۔۔
❤❤❤❤
شاہوں کے بنگلے میں وه سب داخل ہوئے تو ماحول میں تہلکہ سا مچ گیا تھا سب ایک دوسرے سے ملتے خوشی کے اس بے پایاں احساس کو بانٹ رہے تھے۔
پیلی سلک کی قمیض کے ساتھ مختلف رنگوں کی کھجوری شلوار پہنے پراندہ آگے ڈالتی نگہت نے مشی کے ساتھ چلتے اسے مخاطب کیا ۔
” مشی بی بی ۔۔۔ اس چھنو باندری کو تو دیکھیں گھر کے ہانڈسم منڈوں پر لائینیں مار رہی ہے ۔۔۔میں ابھی آئی ذرا ۔۔۔!”
وه آنکھیں گھماتی تنک کر کہتی نوشی کی جانب بڑھ گئی۔۔ مشائم نے مسکراہٹ دباتے نفی میں سر ہلایا اب يقینا دونوں چار چار ہاتھ کریں گی ۔۔
ان کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔! سر جھٹکتی وه آگے بڑھ گئی جہاں سب بچے ایک دائرے میں کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
❤❤❤❤
مهندی رنگ شیشوں سے بھری کرتی اور مهندی رنگ ہی پھولے ہوئے لهنگے میں سفید پھولوں کی ماتھا پٹی اور سفید ننھے پھولوں کی نتھ جس کی لڑی پر گلاب کی پتیاں لپیٹی گئی تھیں پہنے وه نگاہوں کو ساکت کر دینے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
نارنجی اور گلابی کے امتزاج کی ہلکی سی لپسٹک لگائے گالوں پر گلال بكهیرے وه کالی آنکھوں میں اعتماد لیے ناک کی سیدھ میں دیکھ رہی تھی۔
کانوں میں دمکتے سفید موتیے کے ٹاپس انوکھے سے لگ رہے تھے کیونکہ ان میں مہندی رنگ کا ننھا سا موتی نصب تھا۔
سر پر نیٹ کا پھولا دوپٹہ ٹھیک کرتے اس نے ترچھی نظر میر حاصل پر ڈالی جو مهندی رنگ کے کرتے پاجامے میں آف وائٹ شال تہہ لگا کر گلے میں ڈالے محفل پر چھایا ہوا تھا۔
اسکے لبوں پر موجود دلکش مسکراہٹ اسکی خوشی کا منہ بولتا ثبوت تھی شریر ڈمپل تھا کہ گالوں میں بار بار ابھر آتا تھا۔
اسکی شہد رنگ آنکھوں کی چمک کان میں چمکتے ڈائمنڈ ٹاپس کو مات دیتی معلوم ہورہی تھی۔ اس کے برابر بیٹھتا وه کھنکارا ۔۔!!!
” آج کی یہ رات کب گزرے گی۔۔؟ کسی کو قریب سے دیکھنے کی خواہش ہونے لگی ہے۔۔۔!!! “
سامنے دیکھتا وه غیر محسوس انداز میں بولا تھا۔ اسکے گہرے الفاظ پر ایک پل کو اسکا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔
“کوئی میرے قریب بھی آیا تو اسکا منہ توڑ دوں گی۔۔۔! کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بابا کو امپریس کر کے اسنے مجھے بھی جیت لیا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔۔!!!”
وه اسے تپانے کو جھٹ سے بولی تھی ورنہ دل تو اسکا قائل تھا اسکی محبت کا، اسکی دیوانگی و پاگل پن سے واقف تھی وه…..
لیکن خود کے دل کو بےاختیار ہونے کب دیا تھا اس نے ۔۔۔؟ اب اختیار ملنا تھا تو بےاختیاری بھی يقینی تھی۔۔۔!!!
اسکی بات پر وه لب دبا گیا چہرہ موڑتے وه بغیر کسی کی پرواہ کیے اسکی جانب دیکھے گیا۔
اسے خود کو دیکھتے پا کر وه چند پل تو نظر انداز کرتی رہی پھر تپ کر چہرہ اسکی طرف موڑا ۔۔
میر کی نظریں بلاارادہ ہی اسکے لبوں پر ٹھہریں جنہوں نے حرکت کی تھی۔
” کیا ندیدوں کی طرح دیکھ رہے ہو ۔۔۔ پہلے کبھی لڑکی نہیں دیکھی ۔۔۔؟” وه بھی بلا لحاظ بولی تھی۔
” آپ جیسی نہیں دیکھی نہ ۔۔!!! “
اسکی سیاہ آنکھوں میں شہد رنگ گہری آنکھیں گاڑتا وه دهیمے بہکتے انداز میں بولتا سرعت سے چہرہ سیدھا کر گیا۔۔
” ویسے ۔۔۔ ندیدے والی بات کا جواب ہے میرے پاس ۔۔۔ بھوک بہت لگ رہی ہے ۔۔۔!!!”
وه خوامخواہ ہی زوروں سے امڈ آنے والی مسکان دبانے لگا تھا جس کے چکر میں گال میں گڑھا سا پڑ گیا تھا۔
” بھوک لگ رہی ہے تو کھا لو مجھے کیوں گھور رہے ہو۔۔؟ “
وه اسکی بات کا مطلب نہیں سمجھی تھی لہٰذا عام سے لہجے میں بولی تھی۔
” ابھی نہیں ۔۔۔ کل ۔۔۔!!!”
اسکے مدهم ہوتے لہجے پر وه ایک پل کو ناسمجھی سے اسے دیکھے گئی۔۔
اوہ ۔۔۔!!! اسکی بات کا مطلب سمجھتے کسی سے نا دبنے والی مظبوط اعصاب کی مالک رمل یوسف کا چہرہ پل میں سرخ پڑا ۔۔ اسے کانوں سے دھوئیں نکلتے محسوس ہوئے تھے۔
” بد تمیز ۔۔۔!!! “
بڑبڑا کر وه سٹیج پر آتی ایرا کی جانب متوجہ ہوئی جو سارے فنکشن میں اپنی نا سمجھی کے باعث عرش کو نظر انداز کر گئی تھی اب اس سے چھپتی پھر رہی تھی۔۔
سیاہ ٹشو کے گھٹنوں تک آتے فراک اور سیاہ ہی سلک کے شرارے میں میں ملبوس جس پر سنہری نگینوں کا بارڈر بنا تھا لمبے بھورے بالوں کا اونچا جوڑا بنائے جس سے نکلتی بےشمار لٹیں اسکے چہرے کے اطراف میں بکھری پڑی تھیں۔۔
وه میر کو دیکھ کر سمائل پاس کرتی رمل سے مخاطب ہوئی تھی ۔۔ نیلی آنکھیں بار بار جھپكتی وه اس سے محو گفتگو تھی جب دور کزنز میں کھڑے عرش نے اسے گہری مگر سنجیدہ نظر سے دیکھا تھا۔
❤❤❤❤
لائٹ اورینج ریشمی غرارا اور شارٹ شرٹ میں ملبوس مہرون گهنگهریالے بالوں کی فرانسیسی طرز کی چوٹی آگے ڈالے سر پر دوپٹہ سیٹ کیے وه گود میں دھرے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جن پر ایس پی حیان کے نام کی مهندی لگی تھی۔
کلائی میں موجود گجروں سے اٹھتی گلاب کی خوشبو صوفے پر بلکل ساتھ براجمان حیان کو مسحور کر رہی تھی۔
اس نے زیادہ سنگھار نہیں کیا تھا بس کانوں میں گلاب کے پھولوں سے بنی بڑی بڑی بالیاں تھیں جو اسکے ذرا سا سر ہلانے پر جھولنے لگتی تھیں۔
اس کے علاوہ ایک چیز کا اضافہ ہوا تھا اسکے چہرے پر ۔۔! اس نے ناک چھدوایا تھا جس میں سفید ننھی سی پھول کی کلی نوز پن کے طور پر ڈالی ہوئی تھی۔
اس سے پہلے اس نے سیاہ نگینے سے مزین نوز پن ڈال رکھی تھی لیکن مهندی کے فنکشن کی مناسبت سے اس نے سفید ننھی کلی ڈالنے کو ترجیح دی تھی۔
اسے سنگھار کی ضرورت اس لیے بھی نہیں تھی کہ وه ویسے ہی خطرناک حد تک حسین تھی۔ میدے جیسی رنگت پر اسکے ہرے نین ، پنکھڑی سے لب اور خاص کر لبوں کے خم پر چمکتا تل ۔۔!
وه بلاشبہ حسین ترین تھی۔ اسے یوں سر جھکائے خاموش بیٹھے پا کر وه کھنکارا تھا ۔
” اداس ہو ۔۔۔؟” وه سمجھتا تھا وه اپنے بابا کو یاد کر رہی ہوگی ۔۔۔ اسکے لبوں سے جدا ہوئے الفاظ پر غزل نے اسے دیکھا ۔۔
سفید کرتے پاجامے میں سفید ہی شال گلے میں ڈالے وه ہینڈسم لگ رہا تھا۔ سیاہ گھنے بالوں سے پیشانی پر گرتی لٹ اسے مغرور بنا رہی تھی ۔۔
” نہیں تو ۔۔۔!!! ” گہری سانس لیتی وه گویا ہوئی جس پر حیان نے سر کو خم دیا ۔۔
” تم اس شادی پر خوش ہو ۔۔؟ ” اس نے پتہ نہیں کیا جاننا چاہا تھا ۔۔
” مطمئن ہوں ۔۔۔!!!” وه سرجھکائے مختصراً بولی تھی۔۔
” میں نہیں جانتی صالح نے تمہیں کس طرح کنوینس کیا ورنہ جتنی ہماری ناگوار ملاقات رہی تھی مجھے اندازہ تھا تم کبھی نہیں مانو گے ۔۔۔!!! “
وه جی میں آئی بات زبان پر لے آئی تھی ۔۔ حیان دهیما سا مسکرایا تھا۔۔
“آئی ایم سوری ۔۔۔ میں دوبارہ کہتا ہوں اس دن کے لیے ۔۔!! مجھے بابا یا انکل نے کنوینس نہیں کیا ۔۔ میں نے خود انہیں کہا تھا ۔۔!
تم مجھے چیلنج کرتی تھی اور چیلنجز پسند ہیں مجھے ۔۔۔!!!
اور میں سمجھتا رہا کہ وه میری بات مان رہے ہیں جبکہ حقیقت میں، میں ان کی بات مان رہا تھا۔۔”
کہتا ہوا وه سر جھٹک گیا ۔۔! غزل ذرا سا مسکرائی تھی۔ اتنا بھی برا نہیں تھا وه ۔۔۔
بس کچھ وقت چاہیے تھا، دل میں گنجائش تو نکلنے لگی تھی مگر ہاں ۔۔ یہاں پختہ احساسات کی عمارت تعمیر کرنا اسکا کام تھا جو آج رات کے بعد اسکا شوہر کہلایا جانا تھا۔
❤❤❤❤
” دل ۔۔۔۔ “
ٹی پنک غرارہ شرٹ میں ٹشو کا دوپٹہ سینے پر پھیلائے وه ہاتھ سے پهسل کر نیچے گرتے پاؤچ کو اٹھانے کے لیے جھکنے لگی تھی جب ابراھیم کی آواز پر ٹھہری۔
سیدھے کھڑے ہوتے اس نے آگے آ جانے والی شہد رنگ بالوں کی چوٹی کو پیچھے جھٹکا جس پر موتیے کے پھولوں کی سفید لڑی آخر تک جڑی تھی۔
اس نے ابراھیم کو دیکھا جو سیاہ کرتا شلوار میں ہو بہو صالح کی کاپی لگ رہا تھا۔۔
” کیوں جھک رہی تھی تم ۔۔ جب میں نے منع کیا تھا۔۔!!! “
وه اسکے جسم میں نمایاں ہوتی تبدیلی پر نظر ڈالتا اسے ڈانٹنے لگا تھا۔۔
اسکے تیور دیکھتے زنیشہ کا منہ بن گیا۔ دوپٹہ کو پیٹ پر اچھی طرح پھیلاتے وه منہ پھلا کر گویا ہوئی۔
” میرا پاؤچ گر گیا تھا ۔۔۔!!! “
اسکے بدلتے موڈ کو دیکھ کر گہری سانس لیتا وه جھک کر پاؤچ اٹھاتا اسے تھما گیا۔۔
” میں کس لیے ہوں مادام۔۔؟ یہ خادم آپ ہی کے لیے ہی تو ہے ۔۔۔!!! “
اس کے گال کو نرمی سے چھوتا وه لہجہ خوشگوار بنا گیا۔
اب وه جس کنڈیشن میں تھی اسکے لیے غصہ بلکل ٹھیک نہیں تھا۔ وه اس کے پل پل بدلتے موڈ کو نہایت صبر و تحمل سے برداشت کرتا تھا۔۔
” مجھ پر غصہ کیوں کیا آپ نے ۔۔؟ مجھے نہیں پتہ مجھے گول گپے کھانے ہیں ۔۔!!!”
اسکے ضدی انداز پر ابراھیم نے کنپٹی مسلی ۔۔
” دل ۔۔ تمہاری ہیلتھ کے لیے یہ ۔۔۔!!”
اس سے پہلے وہی بات ہزارویں بار دہراتا وه تپ گئی۔۔
“مجھے ابھی کے ابھی کھانے ہیں ۔۔!!!”
اس کے سپید چہرے پر غصہ جھلک دكهلانے لگا تھا۔۔
” دل تمہیں سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کہہ رہا ہوں ۔۔۔!!! “
وه دبے لہجے میں امڈ آتا غصہ ضبط کرتے بولا تھا اسے بے حد غصہ آتا تھا لیکن کبھی اس نے اپنی فیملی پر ظاہر نہیں کیا تھا اب اپنی بے جا ضد سے وه اسے غصہ دلانے لگی تھی۔
یکایک زنیشہ کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں ۔۔ عین اسی وقت صالح ادھر آ گیا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر وه فٹ سے ان کے پاس آیا۔
” کیا ہوا میری بیٹی کو ۔۔۔؟” اسکا کہنا تھا کہ وه جھٹ سے اس کے ساتھ لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔!
” بابا ۔۔۔ ابراھیم نے مجھے ڈانٹا ہے اور مجھے گول گپے بھی نہیں لا کر دے رہے ۔۔۔!!!”
صالح نے اسکے گرد بازو پھیلاتے اسکا سر چوما ۔
” بس میرا بیٹا، روتے نہیں ہیں ۔۔۔ ابراھیم ۔۔؟ غلط بات ہے عورت غصہ نکالنے کے لیے نہیں ہوتی، تمیں برداشت سے کام لینا چاہیے جانتے بھی ہو اسکی کنڈیشن کیسی ہے جاؤ لا کر دو میری بیٹی کو جو بھی کہہ رہی ہے۔۔۔!!!”
نرمی سے زنیشہ کو کہتا وه ابراھیم سے سخت لہجے میں مخاطب ہوا۔ وه شدید شرمندہ ہوا تھا بابا کے سامنے آخر اس نے کیوں غصہ کیا دل پر جو اسکی اولاد کے لیے جانے کن کن تکلیفوں سے گزر رہی ہے۔۔۔!
” سوری بابا ۔۔ میں لاتا ہوں ۔۔!!! “
اس پر ایک نظر ڈالتا وه باہر کی جانب بڑھ گیا۔
“جاؤ بیٹا روم میں جاؤ ۔۔ تم بھی اپنا بہت خیال رکھا کرو ۔۔ وه فکر کرتا ہے تمہاری، کبھی کبھی یہ چیزیں نقصان نہیں دیتیں لیکن زیادہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے ۔۔!! میرا بیٹا سمجھ رہا ہے نہ بابا جو کہہ رہے ہیں ۔۔۔؟”
وه کمال شفقت سے گویا ہوا تھا کوئی یوں سمجھائے تو کیوں نہ سمجھ آئے ۔۔۔!
“جی بابا ۔۔۔ !!!”
آنکھیں ٹشو سے تهپتهپاتی وه اسکی اجازت پر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
❤❤❤❤
کمرے کا دروازه کھولتے اسکی نظر بیڈ پر بیٹھی اپنی روٹھی بیوی پر پڑی جو منہ پھلائے تکیے سے کمر ٹکائے بیٹھی تھی۔ وه اسکے پاس چلا آیا اسکے ہاتھ میں درميانے سائز کی ڈش دیکھ کر وه اٹھ بیٹھی جس میں ایک باؤل اور پلیٹ دهری تھی۔
اسکے منہ میں پانی آیا تھا۔ ایک ناراض نظر اس پر ڈالتی وه اس سے ٹرے لیتی سامنے رکھ کر ایک سیکنڈ رکے بغیر ایک ایک کر کے گول گپے کھانے لگی۔
” مرچی کم ہے ۔۔۔!!! “
کھٹے پانی سے بھرا گول گپا منہ میں ڈالتے اس نے جیسے خود کلامی کی تھی۔
” آئی ایم سوری دل ۔۔!!! “
ابراھیم کی مدھم آواز پر اس نے سر اٹھایا گول گپے سے بھرے منہ سے ٹکر ٹکر خود کو دیکھتے پا کر اسے بےساختہ اپنی ناراض بیوی پر پیار آیا تھا۔
وه جھک کر اسکا پھولا گال چوم گیا جس پر وه خفگی سے پیچھے ہٹی۔
” آپ نہ ۔۔۔ بس مجھ سے بات نہ کریں ۔۔ پہلی بار اتنی زور سے ڈانٹا ہے مجھے ۔۔ آپ کی وجہ سے ہورہا یہ سب ۔۔ بار بار میرا دل خراب ہوتا….
کبھی فضول میں غصہ آ جاتا ہے اور جب کچھ کھٹا کھانے کا دل کرتا ہے تو آپ ڈانٹ دیتے ہیں ۔۔۔! یہ سب نہ آپ کی وجہ سے ہے اچھا ۔۔۔ نہ آپ وه ۔۔۔”
روانی سے بولتے اسکی زبان کو بریک لگا تھا وه خفت مٹانے کو چھٹا گول گپا اٹھانے کو جھکی جب ابراھیم نے کہنی کے بل نیم دراز ہوتے اسکا ہاتھ تھاما ۔۔
” جی جان ۔۔ میرا ہی قصور ہے ۔۔۔!!!”
اسکے طرز تخاطب پر وه حیا سے سرخ پڑی تھی۔
” کافی ہے ۔۔!!! “
ٹرے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے وه اٹھ کھڑا ہوا وه چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
” سونا ہے ۔۔؟ “
اسکے گال کو انگلی کی پوروں سے سہلاتے وه اسکی آنکھوں میں دیکھتا دهیما سا مسکرایا تھا۔ زنیشہ نے نفی میں سر ہلایا اسکی سیاہ آنکھوں کے سحر میں وه پھر سے کھونے لگی تھی۔
وه کھڑے کھڑے جھکا تھا اسکا چہرہ بلند کرتے اسکے لبوں کو قید کر گیا۔ چند پل بعد وه سیدھا ہوا تھا۔ اسکے لبوں کو صاف کرتے وه دهیما سا مسکرایا تھا۔
” آرام کرو اب باہر نہیں آنا، کوشش کرو سو جاؤ ۔۔۔!!!”
اسکے بال سنوارتا وه اسے ہدایات دے کر کمرے کا دروازه کھولتا باہر چلا گیا۔
اسکے جانے کے بعد وه میکانکی انداز میں بیڈ پر لیٹی تھی بلینکٹ اوڑھ کر وه آنکھیں موند گئی۔۔
کیا عشق سے بڑا بھی کوئی سحر ہے ۔۔۔؟
❤❤❤❤
جاری ہے ۔۔۔!!!
